سراب راہیں " اس کی آنکھوں سے دل تک کا " سفر ..بہت حسین رہا مگر ان منزلوں کا راستہ نہیں تھا کہ جن پہ بکھرے ہوے پھولوں کی پتیاں ..یوں روندتے ہوے بےخیالی میں اس قدر دور آ گنے ہم کہ کسی خوشی کی اب تمنا نہ رہی سامنے غموں کا سمندر ہے اور پیچھے دور تک کوئی ساحل نہیں کوئی آواز نہیں کوئی آسرا نہیں بس سراب ہیں امیدوں کے - جن پہ میری مسافتوں کے نقش باقی ہیں مرزا
وہ جو ملتا نہیں اب ہر کسی سے تنہائیوں میں قید ہے سنا ہےاس دیوانےکا کبھی محفلوں کی جان ہوا کرتا تھا مرزا
http://www.friendskorner.com/forum/f...%D8%B1-236069/
زندگی اس قدر تلخ کبھی پہلے تو نہیں تھی جیسے گزر رہی ہے یہ اب پہلے تو نہیں تھی !کس کو دیں الزام اپنی تباہی کا اے دوستو ہوئی سرزدزبان جدائی بنی داستان لب پہلے تو نہیں تھی محسوس تو ہوتی ہے کمی اپنے کوچہ گلستان کی بکھرے ہوے گلوں میں کاٹی ایسی شب پہلے تو نہیں تھی لوٹ جائیں گے کسی روز پھر انہی راستوں کی طرف صدائیں زخمی پرندوں کی بھی آنے لگی اب پہلے تو نہیں تھی " اب کے ہم بھی نہ کریں گے انتظار بہار " مرزا ...