سراب راہیں
by , 03-23-2012 at 02:35 AM (593 Views)
سراب راہیں
" اس کی آنکھوں سے دل تک کا " سفر
..بہت حسین رہا
مگر ان منزلوں کا راستہ نہیں تھا
کہ جن پہ بکھرے ہوے پھولوں کی پتیاں
..یوں روندتے ہوے
بےخیالی میں اس قدر دور آ گنے ہم
کہ کسی خوشی کی اب تمنا نہ رہی
سامنے غموں کا سمندر ہے
اور پیچھے دور تک کوئی ساحل نہیں
کوئی آواز نہیں
کوئی آسرا نہیں
بس سراب ہیں امیدوں کے
- جن پہ میری مسافتوں کے نقش باقی ہیں
مرزا




