دل نہیں کرتا ہاتھ نہیں لکھتے وقت نہیں ملتا غم نہیں مٹتے پھر اداسی ہے موسم گلابی ہے برف نہیں پگھلتی ہنسی نہیں آتی لفظ ساتھ نہیں دیتے الجھن سی رہتی ہے کاغذ پر حا شیے کھینچنے کو دل کرتا دل تو کرتا ہے کچھ لکھوں مگر بے ترتیب سا کوئ اچھوتا ...
نظم ** کتنا سہل جانا تھا خوشبوؤں کو چُھو لینا بارشوں کے موسم میں، شام کا ہر اِک منظر گھر میں قید کر لینا روشنی ستاروں کی، مٹھیوں میں بھر لینا کتنا سہل جانا تھا خوشبوؤں کو چھو لینا جگنوؤں کی باتوں سے، پھول جیسے آنگن میں روشنی سی کر لینا اس کی یاد کا چہرہ، خواب ناک آنکھوں کی جھیل کے گلابوں پر، دیر تک سجا رکھنا کتنا سہل جانا تھا اے نظر کی خوش فہمی! اس طرح نہیں ہوتا تتلیاں پکڑنے کو ...
تم یہ کہتے ہو اب کوئی چارہ نہیں تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی جس میں رکھا نہیں ہے کسی نے قدم کوئی اترا نہ میداں میں، دشمن نہ ہم کوئی صف بن نہ پائی، نہ کوئی علم منتشرِ دوستوں کو صدا دے سکا اجنبی دُشمنوں کا پتا دے سکا تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چُکی جس میں رکھا نہیں ہم نے اب تک قدم تم یہ کہتے ہو اب کوئی چارہ نہیں جسم خستہ ہے، ہاتھوں میں یارا نہیں اپنے بس ...
مشکلات اور حل نہ ہونے والی مشکلات یا انسان کو خدا سے دُور کر دیں گی یا خدا کے قریب کر دیں گے۔ اگر مشکل آپ کو اللہ سے دور کر رہی ہےتو یہ مشکل کسی قدیم ُبرے عمل کی سزا ہے، تو یہ مشکل ایک سزا ہے!۔ وہ آدمی جو مشکل میں بھی خدا کے پاس نہیں گیا اس کے لئے مشکل ایک سزا ہے۔ اور اگر مشکلات میں کسی نے اپنے آپ کو خدا کے قریب کر دیا تو ایسی مشکلات تو ہزار بار ...
"اذیت" کتنے چہرے دن بھر دھوکہ دیتے ہیں کتنی آنکھیں دن بھر دھوکہ کھاتی ہیں کتنے دل ہر روز نئی ویرانی سے بھر جاتے ہیں مر جاتے ہیں لیکن تُو سب کچھ دیکھتا رہتا ہے خاموشی سے !!۔۔
Updated 12-10-2012 at 03:43 AM by Sai-e-Lahasil