مرے دل کا سمندر کھا گیا ہے ۔۔ از راشد فضلی
by , 03-28-2012 at 09:11 AM (215 Views)
غزل
بدن سارا ہی اُس کا جاگتا ہے
مری آنکھوں میں جو بھی سو رہا ہے
چمن میں آج جو نغمہ سرا ہے
یہ اک غمگین موسم کی ہوا ہے
مجھے رشتے کی ڈوری سے نہ جوڑو
مجھے ٹوٹے ہوئے عرصہ ہوا ہے
کسے آواز دیتے ہو یہاں تم ۔۔۔۔ !
یہ انسانوں کا شہرِ بے صدا ہے
جسے سایہ سمجھتا تھا میں اپنا
وہ میرے سامنے آکر کھڑا ہے
ابھی تک تیرے میرے درمیاں بھی
تری حدِ نظر کا فاصلہ ہے
مرے جذبات کا سارا طلاطم!
مرے دل کا سمندر کھا گیا ہے
محبت ریت کا کچا مکاں ہے
گری دیوار تو سب نے کہا ہے
بہت ہی شوروغل کے درمیاں ہے
اسی ڈر سے وہ تنہا ہو گیا ہے
یہ راشد فاصلوں کا درد لے کر
بہت سی قربتوں میں جی رہا ہے
(راشد فضلی)




