Latest Episodes of Dramas - Latest Politics Shows - Latest Politics Discussions

Results 1 to 9 of 9
Discuss Dead reckoning... in Current Affair Talks Shows and Debate forum, in Desi Dramas / Media / Pakistani Politics Shows and Entertainment category.
      
   
  1. #1
    suave's Avatar
    suave is offline Expert Member
    Cosmopolitan!
     
    Join Date
    Dec 2008
    Location
    Luxemburg
    Posts
    5,474
    Quoted
    775 Post(s)

    Lightbulb Dead reckoning...

    بنگالیوں پر جنگی جرائم کے الزامات



    چالیس سال قبل ایک مختصر مگر پر تشدد خانہ جنگی کے بعد پاکستان سے علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش ایک آزاد ملک بنا۔

    کتاب کے مطابق دونوں جانب سے انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا



    اس خانہ جنگی میں ممکنہ طور پر اندازاً تیس لاکھ لوگ ہلاک ہوئے۔
    بی بی سی کے نامہ نگار ایلسٹیئر لاسن کے مطابق بنگلہ دیش کی آزادی کی مناسبت سے سامنے آنے والی ایک نئی کتاب میں اس واقعے کے حوالے سے شدید متنازعہ نتائج پیش کیے گئے ہیں۔
    شرمیلا بوس کی کتاب ’ ڈیڈ ریکننگ‘ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ نصف صدی میں ہوئی سب سے خونی جنگوں میں ایک کی داستان صرف فاتح فریق کی جانب سے بیان کی گئی ہے جو کہ سنہ انیس سو اکہتر میں پاکستان سے آزادی حاصل کرنے والے بنگلہ دیشی قوم پرست ہیں۔
    مصنفہ نے لکھا ہے کہ ’اس لڑائی کے فریقین اب بھی جنگ کی مخالفانہ اساطیر میں قید ہیں‘۔
    کتاب کے تعارف میں انہوں بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے کی گئی خونی جدوجہد کے دوران پاکستانی فوج کو قتل کے واقعات سے بری الزمہ قرار نہیں دیا لیکن اس کتاب کے حوالے سے بنگلہ دیش میں جس چیز کو سب سے زیادہ متنازعہ مانا جائے گا وہ یہ ہے کہ اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ آزادی کے حق میں اور اس کے خلاف لڑنے والے بنگالیوں نے بھی ’قابلِ نفرت مظالم ڈھائے‘۔
    مصنفہ شرمیلا بوس نے جنگ سے متعلق شائع دستاویزی مواد کا مطالعہ کیا، بنگلہ دیش کے معمر دیہاتیوں کے انٹرویوز کیے اور پاکستان کے ریٹائرڈ فوجی افسران سے سوالات کیے۔


    اس کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر بوس آکسفرڈ یونیورسٹی میں ایک سینئیر تحقیق کار ہیں اور انہوں نے ماضی میں بی بی سی کے لیے بھی کام کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آزادی کے لیے لڑنے والوں نے پاکستانی فوج کا تاثر کسی’خوفناک بلا‘ جیسا بنا دیا اور اس پر ’خوفناک الزامات عائد کیے جن کے کوئی ثبوت بھی نہیں تھے‘ جبکہ بنگالیوں کو ’مظلوم‘ ظاہر کیا گیا۔
    ان کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے’علیحدگی پسند بنگالیوں کی جانب سے کیے گئے تشدد اور مظالم کی نہ صرف نفی کی گئی اور ان کی شدت کم دکھائی گئی بلکہ انہیں صحیح بھی قرار دیا گیا‘۔
    بنگلہ دیش اور بیرونِ ملک مقیم بنگالی دانشور پہلے ہی اس کتاب پر تنقید کر رہے ہیں۔ امریکہ میں مقیم بنگلہ دیشی مصنف نعیم مہیمن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کتاب کی مصنفہ نےیہ کہہ کر کہ جنگ دو برابر کے ظالم فریقین میں لڑی گئی اور پاکستانی فوج نے صرف ضروری اور معتدل انداز میں جوابی کاروائی کی، ’اپنے من گھڑت نتائج کو انتہا پر پہنچانے کی غلطی کی ہے۔
    نعیم مہیمن نے کہا کہ ’مصنفہ نے انیس سو اکہتر کے پیچیدہ مسائل کو دوبارہ اجاگر کرنے کے لیے ناکافی تجسس کا مظاہرہ کیا۔ یعنی یہ ہلاکتیں کیوں شروع ہوئیں، پاکستانی کی حکومت نے کیونکہ ا س قدر ظالمانہ رویے کا مظاہرہ کیا اور بنگالیوں نے کیونکہ اتنا پر تشدد ردِعمل دیا‘۔
    تاہم یہ کسی مغربی مصنف کی جانب سے اس جنگ سے متعلق لکھی جانی والی یہ پہلی کتاب ہے جس میں حالات کا آزادانہ طور پرجائزہ لیا گیا۔
    کسی مغربی مصنف کی جانب سے اس جنگ سے متعلق لکھی جانی والی کم و بیش یہ پہلی کتاب ہے جس میں حالات کا آزادانہ طور پرجائزہ لیا گیا۔



    اس کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر بوس نے یہ کتاب لکھنے سے قبل اس جنگ سے متعلق شائع دستاویزی مواد کا مطالعہ کیا۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے دوردراز علاقوں میں جا کر معمر دیہاتیوں کے انٹرویوز کیے۔ اس کے بعد انہوں نے پاکستان کا بھی سفر کیا اور کئی ریٹائرڈ فوجی افسران سے سوالات کیے۔
    دھچکا پہنچانے والی حیوانیت


    اس کتاب کے مطابق بنگالی قوم پرستوں کی بغاوت، مشرقی پاکستان میں غیر بنگالیوں کے خلاف ناقابلِ برداشت تشدد میں تبدیل ہوگئی۔ خاص طور پر مغربی پاکستان کے شہریوں اور ان میں بھی زیادہ تر اردو زبان بولنے والوں کو نشانہ بنایا گیا جو تقیسمِ ہند کے وقت بھارت سے ہجرت کرکے مشرقی پاکستان آئے تھے اور انہیں بہاری کہا جاتا تھا۔
    ڈاکٹر بوس کا کہنا ہے کہ ’ بنگالی قوم پرستی کے نام پر ہونے والے اس نسلی تشدد میں غیر بنگالی مرد، عورتوں اور بچوں کا قتلِ عام کیاگیا‘۔ ان کے مطابق یہ ہلاکتیں چٹاگانگ، کھلنا، سانتاہر اور جیسور میں جنگ کے دوران اور اس کے دس ماہ بعد تک ہوتی رہیں۔
    مصنفہ لکھتی ہیں کہ ’نسل پرست قتلِ عام کا شکار ہونے والے غیر بنگالیوں کو سینکڑوں اور بعض واقعات میں ہزاروں کی تعداد میں ہلاک کیا گیا۔۔۔ مرد عورتوں اور بچوں کو نسل پرستی کی بنیاد پر قتلِ عام کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں انتہائی المناک حیوانیت سے قتل کیاگیا‘۔
    ڈاکٹر بوس کہتی ہیں کہ بعض بدترین ظلم تو بنگالیوں نے اپنے ہی لوگوں پر کیے اور یہ مظالم پاکستان کے اتحاد کا دفاع کرنے والوں اور بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے لڑنے والوں نے ایک دوسرے پر کیے۔
    پاکستانی فوج کے ہاتھوں تیس لاکھ بنگالیوں کے قتل کی مقبولِ عام باتیں کسی سرکاری رپورٹ کا حوالہ نہیں دیتیں
    ڈاکٹر شرمیلا بوس


    ان کا کہنا ہے کہ ’جنگ کے آخری دنوں میں حکومت کے حامیوں کے ہاتھوں آزادی کے حامیوں کی ہلاکتیں اس لڑائی کے دوران کیا جانے والا بدترین جرم تھا۔ تاہم ظالمانہ کارروائیاں اور مختلف سیاسی طرز فکر رکھنے والوں کو راستے سے ہٹانا قوم پرست بنگالیوں کی بھی خاصہ رہا ہے‘۔
    ڈاکٹر بوس کہتی ہیں کہ ’اس چیز کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ غیر بنگالی بنگالیوں کے نسل پرستانہ تشدد کا نشانہ بنے‘۔
    وہ لکھتی ہیں کہ ’جب پاکستانی فوج بنگالی مردوں کو نشانہ بنانے کے لیے وہاں آئی تو زمین لاشوں سے بھری پڑی تھی اور دریا میں لاشوں کی وجہ سے پانی رک گیا تھا اور یہ ان غیر بنگالیوں کی لاشیں تھیں جنہیں بنگالی باغیوں نے ہلاک کیا تھا‘۔
    غیر معمولی افواہ

    بعض بدترین ظلم تو بنگالیوں نے اپنے ہی لوگوں پر کیے


    ڈاکٹر بوس ان اطلاعات کا بھی جائزہ لیا ہے کہ پاکستانی فوج نے تیس لاکھ بنگالیوں کو قتل کیا تھا۔ اس تعداد کو ایک بہت بڑی افواہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ تعداد کسی گنتی یا جائزے کی بنیاد پر مبنی نہیں ہے۔
    ان کا کہنا تھا ’پاکستانی فوج کے ہاتھوں تیس لاکھ بنگالیوں کے قتل کی مقبولِ عام باتیں کسی سرکاری رپورٹ کا حوالہ نہیں دیتیں‘۔
    نعیم مہیمن ڈاکٹر بوس کے اس لڑائی کے دوران ہلاکتوں کے اندازوں کو رد کرتے ہیں۔’ جنید قاضی جیسے محققین نے ذرائع ابلاغ میں دیے گئے ہلاکتوں کے بارہ مختلف اندازے پیش کیے ہیں۔ تاہم کسی بھی صورت میں چاہے ہلاکتیں تیس لاکھ تھیں یا تین لاکھ کیا اس سے یہ ایک کم درجے کی نسل کشی بن جاتی ہے۔‘
    ڈاکٹر بوس نے اپنی کتاب پاکستان اور اس کے حامیوں کے مظالم کو نظر انداز نہیں کیا ہے اور ان کی کتاب میں اس پر کئی ابواب موجود ہیں۔ وہ اپنی کتاب میں یہی نتیجہ نکالتی ہیں کہ پاکستانی فوج نے سیاسی اور ماورائے عدالت قتل کیے جو کہ کچھ معاملات میں نسل کش بھی تھے۔
    بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے اب تک اس کتاب پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے لیکن اس ملک میں سنہ انیس سو اکہتر کی جنگ کے بارے میں معترضانہ خیالات رکھنے کا نتیجہ رواں برس اپریل میں اس وقت سامنے آیا تھا جب اس لڑائی کے دونوں میں ایک خاتون کی پاکستانی فوجی سے
    محبت کی کہانی پر مبنی فلم کی نمائش ان الزامات کے بعد روک دی گئی تھی کہ وہ تاریخ مسخ کرنے کی کوشش ہے۔


    http://www.amazon.com/Dead-Reckoning-Sarmila-Bose/dp/1849040494






    › See More: Dead reckoning...

    2 Not allowed!

  2. #2
    iamamuslim's Avatar
    iamamuslim is offline video
    Edit>
     
    Join Date
    Apr 2010
    Location
    Lahore
    Posts
    1,093
    Blog Entries
    1
    Quoted
    387 Post(s)

    Thumbs up بنگالیوں پر جنگی جرائم کے الزامات

    بنگالیوں پر جنگی جرائم کے الزامات


    چالیس سال قبل ایک مختصر مگر پر تشدد خانہ جنگی کے بعد پاکستان سے علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش ایک آزاد ملک بنا۔
    فائل فوٹو

    کتاب کے مطابق دونوں جانب سے انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا

    اس خانہ جنگی میں ممکنہ طور پر اندازاً تیس لاکھ لوگ ہلاک ہوئے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار ایلسٹیئر لاسن کے مطابق بنگلہ دیش کی آزادی کی مناسبت سے سامنے آنے والی ایک نئی کتاب میں اس واقعے کے حوالے سے شدید متنازعہ نتائج پیش کیے گئے ہیں۔

    شرمیلا بوس کی کتاب ’ ڈیڈ ریکننگ‘ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ نصف صدی میں ہوئی سب سے خونی جنگوں میں ایک کی داستان صرف فاتح فریق کی جانب سے بیان کی گئی ہے جو کہ سنہ انیس سو اکہتر میں پاکستان سے آزادی حاصل کرنے والے بنگلہ دیشی قوم پرست ہیں۔

    مصنفہ نے لکھا ہے کہ ’اس لڑائی کے فریقین اب بھی جنگ کی مخالفانہ اساطیر میں قید ہیں‘۔

    کتاب کے تعارف میں انہوں بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے کی گئی خونی جدوجہد کے دوران پاکستانی فوج کو قتل کے واقعات سے بری الزمہ قرار نہیں دیا لیکن اس کتاب کے حوالے سے بنگلہ دیش میں جس چیز کو سب سے زیادہ متنازعہ مانا جائے گا وہ یہ ہے کہ اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ آزادی کے حق میں اور اس کے خلاف لڑنے والے بنگالیوں نے بھی ’قابلِ نفرت مظالم ڈھائے‘۔
    فائل فوٹو

    مصنفہ شرمیلا بوس نے جنگ سے متعلق شائع دستاویزی مواد کا مطالعہ کیا، بنگلہ دیش کے معمر دیہاتیوں کے انٹرویوز کیے اور پاکستان کے ریٹائرڈ فوجی افسران سے سوالات کیے۔

    اس کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر بوس آکسفرڈ یونیورسٹی میں ایک سینئیر تحقیق کار ہیں اور انہوں نے ماضی میں بی بی سی کے لیے بھی کام کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آزادی کے لیے لڑنے والوں نے پاکستانی فوج کا تاثر کسی’خوفناک بلا‘ جیسا بنا دیا اور اس پر ’خوفناک الزامات عائد کیے جن کے کوئی ثبوت بھی نہیں تھے‘ جبکہ بنگالیوں کو ’مظلوم‘ ظاہر کیا گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے’علیحدگی پسند بنگالیوں کی جانب سے کیے گئے تشدد اور مظالم کی نہ صرف نفی کی گئی اور ان کی شدت کم دکھائی گئی بلکہ انہیں صحیح بھی قرار دیا گیا‘۔

    بنگلہ دیش اور بیرونِ ملک مقیم بنگالی دانشور پہلے ہی اس کتاب پر تنقید کر رہے ہیں۔ امریکہ میں مقیم بنگلہ دیشی مصنف نعیم مہیمن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کتاب کی مصنفہ نےیہ کہہ کر کہ جنگ دو برابر کے ظالم فریقین میں لڑی گئی اور پاکستانی فوج نے صرف ضروری اور معتدل انداز میں جوابی کاروائی کی، ’اپنے من گھڑت نتائج کو انتہا پر پہنچانے کی غلطی کی ہے۔

    نعیم مہیمن نے کہا کہ ’مصنفہ نے انیس سو اکہتر کے پیچیدہ مسائل کو دوبارہ اجاگر کرنے کے لیے ناکافی تجسس کا مظاہرہ کیا۔ یعنی یہ ہلاکتیں کیوں شروع ہوئیں، پاکستانی کی حکومت نے کیونکہ ا س قدر ظالمانہ رویے کا مظاہرہ کیا اور بنگالیوں نے کیونکہ اتنا پر تشدد ردِعمل دیا‘۔

    تاہم یہ کسی مغربی مصنف کی جانب سے اس جنگ سے متعلق لکھی جانی والی یہ پہلی کتاب ہے جس میں حالات کا آزادانہ طور پرجائزہ لیا گیا۔
    کسی مغربی مصنف کی جانب سے اس جنگ سے متعلق لکھی جانی والی کم و بیش یہ پہلی کتاب ہے جس میں حالات کا آزادانہ طور پرجائزہ لیا گیا۔

    اس کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر بوس نے یہ کتاب لکھنے سے قبل اس جنگ سے متعلق شائع دستاویزی مواد کا مطالعہ کیا۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے دوردراز علاقوں میں جا کر معمر دیہاتیوں کے انٹرویوز کیے۔ اس کے بعد انہوں نے پاکستان کا بھی سفر کیا اور کئی ریٹائرڈ فوجی افسران سے سوالات کیے۔
    دھچکا پہنچانے والی حیوانیت

    اس کتاب کے مطابق بنگالی قوم پرستوں کی بغاوت، مشرقی پاکستان میں غیر بنگالیوں کے خلاف ناقابلِ برداشت تشدد میں تبدیل ہوگئی۔ خاص طور پر مغربی پاکستان کے شہریوں اور ان میں بھی زیادہ تر اردو زبان بولنے والوں کو نشانہ بنایا گیا جو تقیسمِ ہند کے وقت بھارت سے ہجرت کرکے مشرقی پاکستان آئے تھے اور انہیں بہاری کہا جاتا تھا۔

    ڈاکٹر بوس کا کہنا ہے کہ ’ بنگالی قوم پرستی کے نام پر ہونے والے اس نسلی تشدد میں غیر بنگالی مرد، عورتوں اور بچوں کا قتلِ عام کیاگیا‘۔ ان کے مطابق یہ ہلاکتیں چٹاگانگ، کھلنا، سانتاہر اور جیسور میں جنگ کے دوران اور اس کے دس ماہ بعد تک ہوتی رہیں۔

    مصنفہ لکھتی ہیں کہ ’نسل پرست قتلِ عام کا شکار ہونے والے غیر بنگالیوں کو سینکڑوں اور بعض واقعات میں ہزاروں کی تعداد میں ہلاک کیا گیا۔۔۔ مرد عورتوں اور بچوں کو نسل پرستی کی بنیاد پر قتلِ عام کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں انتہائی المناک حیوانیت سے قتل کیاگیا‘۔

    ڈاکٹر بوس کہتی ہیں کہ بعض بدترین ظلم تو بنگالیوں نے اپنے ہی لوگوں پر کیے اور یہ مظالم پاکستان کے اتحاد کا دفاع کرنے والوں اور بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے لڑنے والوں نے ایک دوسرے پر کیے۔

    پاکستانی فوج کے ہاتھوں تیس لاکھ بنگالیوں کے قتل کی مقبولِ عام باتیں کسی سرکاری رپورٹ کا حوالہ نہیں دیتیں

    ڈاکٹر شرمیلا بوس

    ان کا کہنا ہے کہ ’جنگ کے آخری دنوں میں حکومت کے حامیوں کے ہاتھوں آزادی کے حامیوں کی ہلاکتیں اس لڑائی کے دوران کیا جانے والا بدترین جرم تھا۔ تاہم ظالمانہ کارروائیاں اور مختلف سیاسی طرز فکر رکھنے والوں کو راستے سے ہٹانا قوم پرست بنگالیوں کی بھی خاصہ رہا ہے‘۔

    ڈاکٹر بوس کہتی ہیں کہ ’اس چیز کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ غیر بنگالی بنگالیوں کے نسل پرستانہ تشدد کا نشانہ بنے‘۔

    وہ لکھتی ہیں کہ ’جب پاکستانی فوج بنگالی مردوں کو نشانہ بنانے کے لیے وہاں آئی تو زمین لاشوں سے بھری پڑی تھی اور دریا میں لاشوں کی وجہ سے پانی رک گیا تھا اور یہ ان غیر بنگالیوں کی لاشیں تھیں جنہیں بنگالی باغیوں نے ہلاک کیا تھا‘۔
    غیر معمولی افواہ

    بعض بدترین ظلم تو بنگالیوں نے اپنے ہی لوگوں پر کیے

    ڈاکٹر بوس ان اطلاعات کا بھی جائزہ لیا ہے کہ پاکستانی فوج نے تیس لاکھ بنگالیوں کو قتل کیا تھا۔ اس تعداد کو ایک بہت بڑی افواہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ تعداد کسی گنتی یا جائزے کی بنیاد پر مبنی نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’پاکستانی فوج کے ہاتھوں تیس لاکھ بنگالیوں کے قتل کی مقبولِ عام باتیں کسی سرکاری رپورٹ کا حوالہ نہیں دیتیں‘۔

    نعیم مہیمن ڈاکٹر بوس کے اس لڑائی کے دوران ہلاکتوں کے اندازوں کو رد کرتے ہیں۔’ جنید قاضی جیسے محققین نے ذرائع ابلاغ میں دیے گئے ہلاکتوں کے بارہ مختلف اندازے پیش کیے ہیں۔ تاہم کسی بھی صورت میں چاہے ہلاکتیں تیس لاکھ تھیں یا تین لاکھ کیا اس سے یہ ایک کم درجے کی نسل کشی بن جاتی ہے۔‘

    ڈاکٹر بوس نے اپنی کتاب پاکستان اور اس کے حامیوں کے مظالم کو نظر انداز نہیں کیا ہے اور ان کی کتاب میں اس پر کئی ابواب موجود ہیں۔ وہ اپنی کتاب میں یہی نتیجہ نکالتی ہیں کہ پاکستانی فوج نے سیاسی اور ماورائے عدالت قتل کیے جو کہ کچھ معاملات میں نسل کش بھی تھے۔

    بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے اب تک اس کتاب پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے لیکن اس ملک میں سنہ انیس سو اکہتر کی جنگ کے بارے میں معترضانہ خیالات رکھنے کا نتیجہ رواں برس اپریل میں اس وقت سامنے آیا تھا جب اس لڑائی کے دونوں میں ایک خاتون کی پاکستانی فوجی سے محبت کی کہانی پر مبنی فلم کی نمائش ان الزامات کے بعد روک دی گئی تھی کہ وہ تاریخ مسخ کرنے کی کوشش ہے۔

    0 Not allowed!

  3. #3
    coolguy1234 is offline Senior Member
    Edit>
     
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    620
    Quoted
    53 Post(s)

    Re: Dead reckoning...

    The same thing is currently going on in balochistan. Basically, balochs are killing settlers and occupying their properties in broad daylight and doing attacks on pak army on the backing of india. They take weapons, money and training from india and attack the non-balochs and army and the whole media presents them as innocents while the pak army and punjabis as the biggest culprits.

    1 Not allowed!

  4. #4
    P0!s0N !vy's Avatar
    P0!s0N !vy is offline ! @m WhO ! @m .. :D
    I apologize 4 nt replying to
    msgs and vms...I aint ignoring
    u guys m just so damn heck bz
    dese days
     
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Dubai, U.A.E
    Posts
    4,733
    Quoted
    3064 Post(s)

    Re: Dead reckoning...

    thanks to god dat dey r not a part of pakistan .. ....... !!!

    0 Not allowed!

  5. #5
    Death_magnetic's Avatar
    Death_magnetic is offline Senior Member
    Edit>
     
    Join Date
    Mar 2010
    Posts
    544
    Quoted
    38 Post(s)

    Re: Dead reckoning...

    Must have been paid by Isi to improve their image, everyone knows thaqt they raped and killed in bangladesh.

    0 Not allowed!

  6. #6
    m.omair's Avatar
    m.omair is offline The Stranger
    Sick of this secular world
     
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    Saudi Arabia
    Posts
    2,057
    Quoted
    34 Post(s)

    Re: Dead reckoning...

    Quote Originally Posted by P0!s0N !vy View Post
    thanks to god dat dey r not a part of pakistan .. ....... !!!
    u will be saying the same for baluchi then for Sindhi but what u care u live ur dirty life in dubai what u care about pakistan

    1 Not allowed!

  7. #7
    P0!s0N !vy's Avatar
    P0!s0N !vy is offline ! @m WhO ! @m .. :D
    I apologize 4 nt replying to
    msgs and vms...I aint ignoring
    u guys m just so damn heck bz
    dese days
     
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Dubai, U.A.E
    Posts
    4,733
    Quoted
    3064 Post(s)

    Re: Dead reckoning...

    And u live ur GORGEOUS PEACEFUL life in Saudia caring a LOT about Pakistan isnt it ?? .. ...
    I dont get into non fruitful argument ........ I think RATOINALLY .... And den Comment ... What i feel is right .. WDOUT GIVING A DAMN ABOUT OTHERS THINK .. !! ...


    Quote Originally Posted by theomi View Post
    u will be saying the same for baluchi then for Sindhi but what u care u live ur dirty life in dubai what u care about pakistan

    0 Not allowed!

  8. #8
    m.omair's Avatar
    m.omair is offline The Stranger
    Sick of this secular world
     
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    Saudi Arabia
    Posts
    2,057
    Quoted
    34 Post(s)

    Re: Dead reckoning...

    Quote Originally Posted by P0!s0N !vy View Post
    And u live ur GORGEOUS PEACEFUL life in Saudia caring a LOT about Pakistan isnt it ?? .. ...
    I dont get into non fruitful argument ........ I think RATOINALLY .... And den Comment ... What i feel is right .. WDOUT GIVING A DAMN ABOUT OTHERS THINK .. !! ...
    Al least saudia is not like UAE the house of prostitutes

    0 Not allowed!

  9. #9
    P0!s0N !vy's Avatar
    P0!s0N !vy is offline ! @m WhO ! @m .. :D
    I apologize 4 nt replying to
    msgs and vms...I aint ignoring
    u guys m just so damn heck bz
    dese days
     
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Dubai, U.A.E
    Posts
    4,733
    Quoted
    3064 Post(s)

    Re: Dead reckoning...

    @theomi

    Dear brother/sister ..

    I m not da kind of person who willl criticize other countries be it Saudia or b it Uae .... every country has its own pos and cons .. I m not in favour of any of dem .. And i dont feel da reason to reply back in favour of Uae ... cuz its not my country watever happens here or anywhere is not my concernnn ..

    I m most concerned wid my own country dat is Pakistan .. and dat is exactly wat I will tell u also .. dat instead of criticizing others on useless issues ... v shud develop da patience to hear and analyze ever one's opinions on any issue which deals wid our Country .. nd actually make sure .. dat da language v use shows our dignity ...

    the only reason y I m telling dis to u is cuz i realize dat u dont like my OPNION about Bangladesh and hence u loose ur control and give such statments ... however u have nothing personally against me Still u shud have directly asked me the reason for such an opinion rather den giving a statment which only leads to hatred in between individuals ... !! ..

    and Dis is da only reason y Pakistan is going down ... Becuz we all have lost da power of listening.. !! vr going against each other ....

    I hope u understand ...
    and refrain from any kind of personal attacks in future ..

    1 Not allowed!

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •