2
سزاآخری وقت اشاعت: منگل 13 مارچ 2012 ,* 12:35 GMT 17:35 PST
ہیٹی میں سنہ دو ہزار چار سے اقوام متحدہ کی امن فوج تعینات ہے
ہیٹی میں تعینات اقوام متحدہ کی امن فوج میں شامل دو پاکستانی فوجیوں کو جنسی زیادتی کے جرم میں ایک سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
ان دونوں فوجیوں کو امن فوج سے برطرف بھی کر دیا گیا ہے۔
ان پر رواں سال جنوری کے مہینے میں گونیوز کے علاقے میں ایک چودہ سالہ لڑکے سے جنسی زیادتی کا الزام تھا۔
انہیں ایک پاکستانی فوجی عدالت نے سزا سنائی اور وہ یہ قید پاکستان میں گزاریں گے۔ یہ پاکستانی فوجی ٹربیونل اس مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی طور پر ہیٹی بھیجا گیا تھا۔
ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اقوام متحدہ کے امن فوجیوں پر مقدمہ اسی ملک میں چلا ہے جہاں یہ واقعہ سرزد ہوا تھا۔
ہیٹی کے وزیرِ انصاف میگوئل بروناش کا کہنا تھا کہ انہیں اس فیصلے کے بارے میں پاکستانی اور اقوام متحدہ کے حکام سے زیادہ امیدیں تھی تاہم یہ فیصلہ درست سمت میں ایک قدم ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اقوامِ متحدہ کی امن فوج میں شامل فوجیوں پر اس قسم کے الزامات لگے ہوں۔
ماضی میں کانگو اور آئیوری کوسٹ جیسے ممالک میں تعینات امن فوج پر بڑے پیمانے پر جنسی زیادتیوں اور استحصال کے الزامات لگائے گئے تھے اور اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ نے باقاعدہ تحقیقات بھی کیں تھیں۔
گزشتہ سال یوروگوئے سے تعلق رکھنے والے پانچ امن فوجیوں پر ہیٹی میں ہی ایک نوجوان لڑکے پر اقوام متحدہ کے ایک فوجی اڈے پر جنسی حملہ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
اس واقعے میں حملے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر شائع کر دی گئی تھی جس کی وجہ سے ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے اور اقوام متحدہ کے فوجیوں سے ملک چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کا استثنیٰ ختم کر کے ان پر ہیٹی کی عدالتوں میں چلانے کے مطالبات بھی کیے گئے تھے۔
خیال رہے کہ ہیٹی میں سنہ دو ہزار چار سے اقوام متحدہ کی امن فوج تعینات ہے۔
lexkhan (03-13-2012), rotomia2002 (03-13-2012), __QanOOn__ (03-14-2012)
اس بیماری کا مذہب سے کوئی تعلق نہی۔ قوم لوط تو مذہب سے باغی اور پیغمبر کی انکاری تھی۔
اور غیر مسلمانوں میں یہ بیماری زیادہ ہے۔ اب یہ بیماری مغربی معاشرے میں عزت کی نگاہ حاصل کرچکی ہے۔
گرجا گھروں اور مندروں سے اسطرح کی خبریں عام سنی جاتی ہے۔
لہذا اس کو مدرسوں سے جھوڑنا غلط ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہاں ایسے کام ہوتے ہیں۔
لیکن کہاں نہی ہوتے ۔ شیطان ہر درسگاہ میں ہے۔
ہر جگہ ہے۔
ایسے فعل کو روکنے کے لئے صرف اخلاقی تعلیم ہی کام آسکتی ہے۔
i guess you forgot to mention the country
mullah kissing boy.jpgnijad.jpeg
The problem with the army is the gulf between the tullas and the so called 'Officers'. Its repugnant to see the separate eating places and even the toilets in Army garrisons. This cannot be tolerated in a Muslim country. This attitude has even seeped into the civil organisations and is repulsive to say the least. Apparently their is an Afsarr class and a nokerr class and the nokerrs are not even humans to be given the privilege of sharing the places to eats and the bathrooms - DISGUSTING !!!!!!!!!!!!