1
یہ 2008 میں عیدالالضحی سے ایک رات پہلے کا واقعہ ہے، جب مروا اپنی ماں اور اپنی دادی اماں کی چیخوں کی وجہ سے نیند سے اٹھ گئی۔
مروا بتاتی ہے" کوئی 12 آدمی تھے جنہوں نے بندوقیں اور چھریاں پکڑ رکھی تھیں، ان کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے، ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور میرے ابا، چچا اور دادا کو لے گئے" ہماری امی نے ہمیں چھپا دیا تھا لیکن ہم پھر بھی انہیں نکڑ سے دیکھ سکتے تھے"
اس کے کچھ گھنٹوں بعد گھر والوں کو اطلاع ملی کہ تینوں کو ذبح کر کے ان کی لاشوں کو قریبی کھیت میں پھینک دیا گیا ہے۔ طالبان پر اس بات کی کوئی حیرانگی ظاہر نہیں ہوتی تھی کہ عید الالضحی پر لوگوں کو نہیں بلکہ جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے۔ مینگورہ کے بالوگرام گاؤں میں یہ بیچارا خاندان تین لوگوں کے جنازے کی تیاری کر رہا تھا جبکہ باقی سارا گاؤں عید منا رہا تھا۔
کسی کو معلوم نہیں کہ ان تین بےگناہ جانوں کو کیوں قتل کیا گیا تھا۔ ان میں سے تو صرف ایک ہی شخص بدقسمتی سے حجام تھا جو کہ طالبان کو قابل قبول نہ تھا کیونکہ ان کے نزدیک لوگوں کا داڑھی منڈوانا خلاف اسلام عمل تھا اور انہوں نے اس پر پابندی لگائی ہوئی تھی۔
2008 میں جب سوات میں عسکریت پسندی عروج پر تھی، اس وقت حماموں پر حملے کیے جاتے تھے، اور حجاموں کو بے دردی کے ساتھ قتل کردیا جاتا۔
10 سالہ مروا جس نے یہ خواب دیکھا تھا کہ وہ بڑے ہوکر اپنی انگریزی کی ٹیچر کی طرح بنے گی۔ لیکن اس کے بعد اس کے گھر والوں کے پہلے جیسے حالات نہ رہے اور اب وہ اپنے بہن اور بھائی سمیت سکول کو خیرباد کہہ چکی ہے۔
اس کا کہنا ہے" ہم مینگورہ اپنے رشتہ داروں کے ہاں منتقل ہوگئے جہاں میری امی نے ہمسایوں کے گھروں میں کام شروع کردیا۔ میں امی کو رات کے وقت آہستہ سے روتے ہوئے سنتی ہوں جب وہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ زندگی بے مقصد ہوگئی ہے"۔
ثانی گل، جو کہ متاثرہ خاندان کا رشتہ دار ہے، نے بتایا کہ پہلے طالبان نے قتل کا اعتراف کیا تھا اور بعد میں یہ کہہ کر تردید کر دی کہ یہ قتل ذاتی دشمنی کی بناء پر ہوا تھا، حالانکہ یہ تین لوگ بیچارے غریب گھر سے تھے اور ان کی کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ گل نے مزید کہا " ایک کی میٹھائی کی دکان تھی اور دوسرے کا حمام تھا۔"
جہاں ہر گھر کی تقریبا ایک جیسی ہی کہانی ہے، وہاں بہت کم لوگوں کو امداد ملتی ہے، یہ چار لوگ خوش قسمت نہ تھے، نا ہی گورنمنٹ اور نا ہی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کی مدد کی۔ یہ لوگ بہت مشکل زندگی بسر کرتے ہیں اور ہمسایوں کی مدد سے گزارا کر رہے ہیں۔
ٹرائبیون ایکسپریس-
fairy1128 (12-08-2011), pakistaniwatch (12-03-2011)