9
جب ان کے دل میں محبّت نہیں رہی
کہہ دو مجھے بھی انکی ضرورت نہیں رہی
کہنے کو جی رہا ہوں میں دنیا کی بھیڑ میں
ویسے مجھے بھی جینے کی حسرت نہیں رہی
بے لوس تو کسی کا بھی کوئی ساتھ نہ دے
دنیا میں نام کو محبّت نہیں رہی
میں نے اٹھاۓ راہ محبّت میں دکھ بہت
اب اور زخم کھانے کی طاقت نہیں رہی
مٹ کر ہی راہ عشق میں ملتی ہے زندگی
دنیا میں کون کہتا ہے الفت بہیں رہی
احباب نے بھی چھوڈ دیا مشکلات میں
انکو وحید تیری ضرورت نہیں رہی
عبدل وحید قریشی
Ishq ibadat hai isay khonay mat dena...! Bewafai gunnah hai isay honay mat dena...!
anz3611 (03-24-2012), Daniel-7 (03-24-2012), maheen khan (03-24-2012), R oC k iN (03-24-2012), Savi Abbas (03-25-2012), seerat123 (03-25-2012), STUNNER (03-24-2012)