3
ابو صالح ایک مرتبہ جوانی کے عالم میں سفر پر روانہ ہوئے راستہ میں ایک مقام پر بھوک کی شدت ہوئی دیکھا کہ ایک ندی میں ایک سیب بہتا جا رہا ہے۔ آپ نے اٹھا کر کھانا شروع کیا۔ آدھا سیب کھانے کے بعد خیال آیا کہ مالکِ سیب کی اجازت کے بغیر یہ سیب کھا رہا ہوں۔ گناہ کا خیال آیا اور اس طرف چلنا شروع کردیا جس طرف سے سیب آ رہا تھا آخرکار ایک باغ کی طرف پہنچے سیب کے مالک کے بارے میں دریافت کیا معلوم ہوا کہ عبداللہ مومعی اس کے مالک ہیں آپ ان کے پاس تشریف لے گئے اور کہا، اے بزرگ میں نے آپ کے باغ کا سیب کھا لیا ہے۔ مجھے معاف فرما دیں۔ عبداللہ مومعی نے جواب دیا، دو شرطیں ہیں۔
پہلی شرط یہ کہ دس سال ایک باغ کی باغبانی کرو۔ دوسری شرط بعد میں بتاؤں گا۔ اور جب ابو صالح دس سال باغ کی پرورش کرنے کے بعد عبداللہ مومعی کے پاس گئے تو آپ نے فرمایا ایک سیب لاؤ تاکہ ہم دیکھیں کہ تم نے کس طرح باغ کی پرورش کی ہے۔ آپ نے ایک سیب لاکر دیا وہ پھیکا نکلا۔ عبداللہ مومعی نے فرمایا، تم کو دس سال میں یہ بھی پہچان نہ ہو سکی کہ سیب کونسا میٹھا ہوتا ہے ؟
ابو صالح بولے میں دس سال باغبانی کرتا ر
ہا ہوں، حضور! سیب نہیں کھاتا رہا۔ ابھی تو آدھا سیب بھی نہیں معاف کرا سکا۔ اور سیب کھا کر مذید گناہ گار ہوتا۔ یہ تھا ایمان اس وقت کے پاکباز جوان کا۔
عبداللہ مومعی نے دوسری شرط یہ بتائی کہ تم میری لڑکی سے شادی کرلو جو کہ اندھی لنگڑی اور بہری ہے۔ آپ نے یہ شرط بھی منظور کرلی۔
جب ابو صالح رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی شادی ہو گئی تو پہلی رات آپ نے یہ مہلت مانگی کہ آج رات بھر قرآن پڑھنے دیا جائے ابو صالح تمام رات قرآن پڑھتے رہے۔ آدھی رات کے قریب نگاہ اٹھی تو سامنے ایک حسین و جمیل عورت جو شرم و حیاء کی پتلی تھی ایک چادر میں لپٹے دیکھا۔ ایک نگاہ کے بعد دوسری نگاہ نہ اٹھائی اور فوراً عبداللہ مومعی کے پاس گئے فرمایا، حضور ابھی تو ایک غلطی معاف نہ ہوئی تھی آج دوسری خطا سرزد ہوگئی۔ میری نگاہ ایک غیر عورت پر پڑ گئی۔
عبداللہ مومعی مسکرائے اور فرمایا بیٹا۔ وہ غیر عورت نہیں میری بیٹی اور تیری بیوی تھی۔ آپ یہ سن کر خوش ہوئے۔ فرمایا حضور وہ تو بالکل صحیح و سالم تھی اندھی یا لنگڑی تو نہ تھی۔ عبداللہ مومعی نے فرمایا میں نے اس کو اندھا اس لئے کہا تھا کہ آج تک اس نے کسی غیر مرد کو نہ دیکھا اور لنگڑا اس وجہ سے کہا تھا کہ اس کے پاؤں آج تک کسی بُری جگہ کی طرف نہیں اٹھے اور بہرا اس لئے کہا کہ اس کے کان میں آج تک کسی غیر مرد کی آواز نہیں گئی۔
نئی تہذیب کے علم بردارو سنا آپ نے یہ تھے باپردہ لوگ اور سنت نبوی کے پیرو۔ قرآن پر عمل کرنے والے۔ آپ کو معلوم ہے اس باپردہ خاتون نے کس ہستی کو جنم دیا۔ وہ ہستی کہ جس پر زمانے کے اولیاء ناز کرتے رہے جس کی غلامی زمانے کے قطبوں نے کی۔
یعنی شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔
Jellyfish (01-17-2013), khalid jamil malik (11-09-2012), laws (11-10-2012), patriot19472001 (01-01-2013), Sai-e-Lahasil (12-05-2012), طارق راحیل (01-01-2013)