10
حسن خلق کا تعلق ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ بھی ہے اور بندوں کے ساتھ بھی، ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ حسن خلق یہ ہے کہ مذکورہ پورے شرح صدر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی پر عمل کرے، محرمات تو کیا بعض مباحات کو بھی اللہ کی رضا کے لئے چھوڑ دے اور دوسری طرف اس کا حال یہ ہو کہ فرائض اور واجبات کے علاوہ نفلی عبادات بھی خوب رغبت اور محبت کے ساتھ ادا کرے۔
لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک یہ ہے کہ ہر کسی کے ساتھ نیکی کرنے کی کوشش کرے اور اپنے قول و عمل سے کسی کو تکلیف نہ دے، احسان کرنے والوں کو بہتر سے بہتر بدلہ دے اور زیادتی کرنے والوں کو معاف کردے اگر کوئی مسلمان بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے، تنگدست ہو تو اس کی امداد کرے، مقروض ہو تو اسے مہلت دے، یہ نہ دیکھے کہ دوسرے میرے ساتھ کیا کرتے ہیں، یہ دیکھے کہ مجھے اللہ کی رضا کے لئے دوسروں کے ساتھ کیسا معاملہ کرنا چاہئے، اس کی گفتگو میں محبت اور اپنائیت کی خوشبو ہو، قرآن کریم کی وہ تمام آیات حسنِ اخلاق ہی سے تعلق رکھتی ہیں جن میں اعزاء و اقربا، یتیموں، مسکینوں، بیواﺅں مسافروں اور عام انسانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا گیا ہے یا وہ آیات جن میں ظلم کی مذمت اور عدل کی تعریف ہے، متکبرین کی برائی اور متواضعین کی مدح ہے، سیہ کے جواب میں حسنہ اور زیادتی کے جواب میں احسان کرنے کا حکم ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حسنِ اخلاق کی تاکید فرمائی ہے اور اس کے بے پناہ فضائل بیان فرمائے ہیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اہل ایمان میں سب سے کامل ایمان اس شخص کا ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ سب سے زیادہ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرے۔ (ترمذی)
حضرت ام خالد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس وقت میں نے زرد رنگ کی قمیض پہنی ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو بہت خوش ہوئے اور اس قمیض کی بہت تعریف فرمائی، میں مہر نبوت کے ساتھ کھیلنے لگی، اس پر میرے والد نے مجھے ڈانٹا لیکن آپ نے فرمایا اسے کھیلنے دو پھر آپ نے اس قمیض کے بارے میں دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں خوب پہننے اور پرانا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے چنانچہ (آپ کی دعا قبول ہوئی) وہ قمیض اتنا عرصہ استعمال ہوتی رہی کہ لوگوں میں اس کی بقا کے تذکرے ہونے لگے۔ (بخاری)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اب بھی وہ منظر میرے سامنے ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء میں سے ایک نبی (اور درحقیقت خود اپنی ہی) کے بارے میں بتا رہے تھے کہ اسے اس کی قوم نے مار مار کر زخمی کردیا، وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے ہوئے اللہ سے دعا کر رہے تھے: اے میرے رب! میری قوم کو معاف فرما دے کیونکہ یہ جانتے نہیں ہیں۔ (بخاری) دوستوں اور محسنوں کے ساتھ بداخلاقی تو ایک طرف اپنے بدترین دشمنوں کے لئے بھی آپ کے دامن میں مغفرت کی دعاﺅں اور حسنِ اخلاق کے سوا کچھ نہ تھا، ہم جو آپ کے نام لیوا ہیں کیا ہم بھی ایسے خوش اخلاق ہیں؟ نہیں ہرگز ہرگز نہیں! ہماری بداخلاقی اور بدمعاملگی تو پوری دنیا میں مشہور ہوچکی ہے ہاں ہم میں سے بعض جو خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اپنے مطلب اور غرض کے لئے اور یا پھر ان دشمنان دین کے سامنے جو اس وقت قوت و طاقت اور سیاست کے سرچشموں پر قابض ہیں اور جنہیں ہر اعتبار سے مادی ترقی اور عروج حاصل ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں محض اس کی رضا کی خاطر حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرنے کی توفیق نصیب فرمائے
☾❤ ℓσиɛℓʏ ɢιяℓ ❤☽ (04-05-2012), Adiva Afafa (03-22-2012), Ammy_769 (03-22-2012), Hareem (03-23-2012), Mariam Fatima (03-22-2012), Nabbas (03-24-2012), R oC k iN (03-23-2012), ~ ƜĦƖƬЄ ƤЄAЯL ~ (03-31-2012)