Latest Episodes of Dramas - Latest Politics Shows - Latest Politics Discussions


________________________________________________

Results 1 to 11 of 11
Discuss جھولے والا in Writer's Korner forum, in Urdu Nasar Korner category.
      
   
  1. #1
    Ahsan Mirza's Avatar
    Ahsan Mirza is offline Junior Member
    Sehra'navard
     
    Join Date
    Dec 2011
    Location
    Karachi
    Posts
    443

    جھولے والا

    جھولے والا


    شاید جُھولے کے پہئے میں کوئی خرابی تھی جس کے باعث جُھولا آگے کھینچنے میں دشواری کا سامنا تھا۔ جُھولے والے نے ایک چھوٹے سے بچے کو جو مٹی سے کھیل رہا تھا آواز دی۔ بچہ فورا ہی احساس کرتے ہوئے اٹھا اور اپنی میلی کُچیلی قمیض سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے بھاگتا ہوا جُھولے والے کےپاس آگیا۔ جُھولے والے نے بچے سے کہا، ’بیٹا ذرا میرے ساتھ مِل کر جھولے کو دکھا دینا ، جُھولا فُٹ پاتھ کے ساتھ لگانا ہے‘۔ اب بچے کے چہرے کی وہ معصومیت جو مٹی سے کھیلتے ہوئے اُس کے چہرے پر نمایاں تھی فورا ہی احساسِ ذمہ داری میں تبدیل ہوگئی جیسے اگر آج اس جھولے کا پہیا آگے نہ بڑھ پایا تو اُن دو اور شاید ان کے گھر میں موجود دیگر افراد کی زندگی کا پہیہ رک جائے گا۔

    جھولے والا ایک طرف لوہے کی سلاخ تھامے جھولے کو آگے کھینچنے میں جُٹ گیا تو دوسری طرف وہ بچہ اپنے سے زیادہ قوت بلکہ قوت سے زیادہ ارادے کو زور پر جھولے والے کی مدد کرنے میں لگ گیا۔ میں ایک کرسی پر بیٹھے اپنی گھر کی بالکونی سے یہ تمام منظر بڑی دلچسپی کے ساتھ دیکھ رہا تھااور اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ جھولے والے اور بچے میں باپ، بیٹے کا رشتہ ہے۔

    آخر کار وہ دونوں اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوگئے اور اسکول کے ساتھ فٹ پاتھ پر جھولا لگاکر اسکول کی چھٹی اور جھولا چلنے کا انتظار کرنے لگے۔ اب میری ان دونوں باپ، بیٹوں میں دلچسپی پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ۔ ان کے چہرے پر موجود حسرت اور امید مجھے وہاں سے اٹھنے نہیں دے رہی تھی۔ میں نے بھی تیسرا سگریٹ سُلگایا اور ان کے جانے تک وہیں بیٹھ کر ان خاموش تحریروں کو پڑھنے کی ٹھانی جو اُن کے چہروں پر لکھی تھیں۔

    دیکھتے ہی دیکھتے اسکول کی چھٹی ہوگئی اور اجلے کپڑوں والے بچے اپنا، اپنا بیگ لٹکائے اسکول سے باہر آنے لگے۔ ہر طرف قہقہے تھے، معصوم مسکراہٹیں تھیں۔ مگر ان تمام چیزوں کے درمیان وہ دو حسرت زدہ چہرے بھی تھے، جو جُھولا چل پڑنے کی آس میں بار، بار قریب آنے والے بچوں کو دیکھ رہے تھے۔ آہستہ آہستہ بہت سے بچے جھولے کے اردگرد جمع ہونے لگے۔ اور دونوں باپ، بیٹا ان بچوں کی ٹولیاں بناکر ان کو جھولا جُھلانے میں مصروف ہوگئے۔ یہ وہ وقت تھا جب میری جھولے والے کے بچے میں دلچسپی اور بڑھ گئی۔ میں دیکھنا چاہتا تھا اِس جھولے والے کے بچے اور اُن اجلے کپڑوں والے اسکول کے بچوں میں کیا فرق ہے؟ میں نے اس وقت محسوس کیاکہ اُس بچے کے چہرے پر گرد سے زیادہ حسرت کی تہہ جمی ہوئی ہے اور کپڑوں پر دُھول، مٹی سے زیادہ غربت کے داغ ہیں۔ بس یہی فرق تھا جو میں محسوس کرسکتا تھا یا میری آنکھیں دیکھ سکتی تھیں۔

    وقت کا پہیا تو اپنی رفتار سے آگے بڑھتا رہا مگر جیسے جیسے وہ آگے بڑھتا گیاجھولےوالے کے جھولے میں سستی آتی گئی اور آخر کار جھولا رُک گیا۔ اور دونوں باپ، بیٹا ہونے والی آمدن کو گننے میں مصروف ہوگئے ۔اور میں سوچنے لگا کل پھر یہی ہونا ہے۔ یہی اسکول ہوگا، یہی اجلے کپڑوں میں ملبوس بچے اور چہرے پر یاس کی تحریر سجائے یہی بچہ۔ اس ہی طرح جھولا کھینچا جائے گا، بچے آئیں گے، جھولا چلے اور آخر کار رک جائے گا۔ اور دونوں باپ، بیٹے ہونے والی آمدن گن کر گھر کو چلے جائیں گے۔ ان دونوں کی زندگی اِس ہی ڈگر پر چلتی رہے گی بس فرق یہ ہوگا کہ کل یہ بچہ اپنے باپ کی جگہ سنبھال لے گا اور اس کی جگہ کوئی اور بچہ ہوگا۔ کوئی معجزہ یا کرامت ہی ان دونوں کی زندگیوں کو تبدیل کر پائے۔

    میں نے بھی اپنی سگریٹ کا آخری کش بھرا اور سگریٹ ساتھ رکھی ہوئی میز پر پڑے ایش ٹرے میں دبا دی۔ اور اس نیت سے پھر اُس جھولے کی طرف دیکھنے لگا کہ اب دونوں باپ، بیٹے سے وداع لوں۔ مگر وہاں جھولا اور اس کےہلنے سے نکلنے سے والی ’چُر، چُر‘ کی آواز کے سوائے کچھ دکھائی اور سنائی نہ دیا۔ میں نے اپنی نظریں دونوں کےتعاقب میں دوڑائیں تو دیکھا دونوں باپ، بیٹا کتابوں کی دکان پر کھڑے ہیں۔ اور جھولے والا بچے کو درسی کتابیں دلوا رہا ہے۔ پہلے تو مجھے یہ نہایت عجیب لگا مگر آہستہ آہستہ وہ تمام باتیں جو میں نے اپنے آپ سے کی تھی مجھے ، میرے تعجب کا جواب دینے لگی۔ اب کتابوں کی دکان سے نکلتے ہوئے اُس بچے کے چہرے پر جمی گرد اور حسرت کی تہہ بھی اس کے دل سے نکلنے والے نور کا راستہ روکنے میں ناکام تھی۔ وہی بچہ جو مجھے تھوڑی دیر پہلے اُن تمام اجلے کپڑوں والے بچوں کے درمیان بُجھا، بُجھا سا محسوس ہورہا تھا، اب کسی ایسے ستارے کی مانند چمکتا ہوا دکھائی دینے لگا جو شب کی تاریکی میں بھی اپنےہونے کا ثبوت دیتا ہے۔

    میں یہ سب دیکھ کر اطمینان کے احساس کے ساتھ یہ سوچتے ہوئے اپنے کمرے میں داخل ہوگیا کہ اب یہ بچہ بھی پڑھے گا اور اُس بلندی تک جائے گا جہاں اِس جیسے ٹمٹماتے ہوئے ستارے کو ہونا چاہئے۔


    احسن مرزا



    4 Not allowed!

  2. The Following 4 Users Say Thank You to Ahsan Mirza For This Useful Post:

    Adiva Afafa (01-04-2013), CaLmInG MeLoDy (01-05-2013), Muhaddisa (01-05-2013), Shahid Dayo (01-06-2013)

  3. #2
    raz-e-dil's Avatar
    raz-e-dil is offline Expert Member
    شوقِ بقاءے درد
    ہے دل میں ابھی
    تلک ................
     
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    khak nasheen
    Posts
    6,094

    Re: جھولے والا

    waah ahsan waaah kia khooob tehreeer likhi hai tum nay waah maza agia aik fikr angez tehreer tumhari musbat soch ki akasi karti hoi behtreeen

    1 Not allowed!
    [SIGPIC][/SIGPIC]


  4. #3
    Adiva Afafa's Avatar
    Adiva Afafa is offline `~PsyCholOG!$t~`
    [Doing internship at CJIP
    (Hyderabad)]
     
    Join Date
    Jun 2011
    Location
    Hyderabad, Sindh
    Posts
    10,112
    Blog Entries
    21

    Re: جھولے والا

    Very n!ce sharing!!!!!.......

    mjhay bhi taleem daina or hasil karna pasand hay or meri khuahish hay har koi is zaiwar sy araasta ho.....
    Very nicely written,....
    keep sharing

    1 Not allowed!

    Haazaron Aeib Hain Mujh Mein, Mujhe Maloom Hai Lekin


    Koi Ek Shakhs Hai Aisa Jo, Mujhe Anmol Kehta Hai












  5. #4
    patriot19472001 is offline Senior Member
    WELL DONE is better than well
    said!!!
     
    Join Date
    Nov 2009
    Location
    Tabuk, Saudi Arabia
    Posts
    625

    Re: جھولے والا

    Bohat Hi "UMDA"....

    Agar ye "Sachi Kahani" hy to bohat hi "Gehri" Observation" ki Alamat...

    Agar "Kisi Takhayul" ka Nateeja hy to "Es Parwaaz" pe MUBARAKBAAD....

    Khoob se Khoob tak, Raasty dekhany wali EK TEHREER....

    Regards...

    1 Not allowed!



    بات تمیز سے اور احتراز دلیل سے کرو کیوں کہ زبان تو حیوانوں کے منہ میں بھی ہوتی ہے مگر وہ علم اور سلیقے سے محروم ہوتے ہیں

  6. #5
    CaLmInG MeLoDy's Avatar
    CaLmInG MeLoDy is offline محو خیال ....!!!
    My attitude is, if someone's
    going to criticize me, tell me
    to my face.
     
    Join Date
    Jan 2011
    Location
    Islamabad
    Posts
    6,052
    Blog Entries
    20

    Re: جھولے والا



    میں دیکھنا چاہتا تھا اِس جھولے والے کے بچے اور اُن اجلے کپڑوں والے اسکول کے بچوں میں کیا فرق ہے؟ میں نے اس وقت محسوس کیاکہ اُس بچے کے چہرے پر
    گرد سے زیادہ حسرت کی تہہ جمی ہوئی ہے اور کپڑوں پر دُھول، مٹی سے زیادہ غربت کے داغ ہیں۔ بس یہی فرق تھا جو میں محسوس کرسکتا تھا یا میری آنکھیں دیکھ سکتی تھیں۔


    خوبصورت بات کیا بات کہ دی آپ نے.اور اتنے بارے فرق کو کتنی سادگی سے ایسے الفاظ میں دیا جو سمجھنے میں بھی آسان اور گہرائی رکھنے میں بہترین بہت خوب



    اس ہی طرح جھولا کھینچا جائے گا، بچے آئیں گے، جھولا چلے اور آخر کار رک جائے گا۔ اور دونوں باپ، بیٹے ہونے والی آمدن گن کر گھر کو چلے جائیں گے۔ ان دونوں کی زندگی اِس ہی ڈگر پر چلتی رہے گی بس فرق یہ ہوگا کہ کل یہ بچہ اپنے باپ کی جگہ سنبھال لے گا اور اس کی جگہ کوئی اور بچہ ہوگا۔ کوئی معجزہ یا کرامت ہی ان دونوں کی زندگیوں کو تبدیل کر پائے۔



    نصیب کی سختی کو یہاں آپ نے نسل در نسل چلتے دکھا دیا. واقعی انسان کو اسکا نصیب ہی مشکلوں سے نکال سکتا ہے، ورنہ نسل در نسل انسان کو سختی میں گھیرے رہے .



    مگر آپ نے یہ بہت اچھا کیا . کہ قارئین کو مایوسی میں مبتلا نہیں ہونے دیا ، مصنف انسان کی سوچ کو تبدیل کر سکتا ہے. ضروری نہیں کہ ایک جھولے والے کی آمدنی رکھنے والا انسان اپنی اولاد کو بھی اس ہی ڈگر پر چلائے ، کم سے کم اسکو اتنی تعلیم تو دلا ہی سکتا ہے کہ اسکی اولاد صحیح غلط میں فرق اور کمانے کے طریقوں سے واقفیت حاصل کر سکتے . ہمارے دین یعنی دین اسلام میں کہیں بھی یہ شرط نہیں ہے ، یا کہیں بھی ایک کامیاب انسان صرف اسکو ہی نہیں بتایا گیا کہ جو بھرپور آمدنی کا مالک ہو ، انسان تین وقت پیٹ بھر کھا لے بھر پور نیند سو لے. اور مسلسل اس جد و جہد میں رہے کے اسکی آنے والی نسل کو کیسے سنوارے ، یہ کوشش انسان کو مصروف بھی رکھتی ہے ، اور بھٹکنے سے بھی روکتی ہے. جائز طریقوں سے اپنی زندگی گزارنا بیشک حالات تنگ ہوں.یہ انسان کو مردہ ضمیر کا مالک ہونے سے بچا لیتی ہیں



    آپ کی آمد مصنف کارنر میں بہت ہی دنوں بعد ہی میں امید کرتی ہوں اب آپ کا آنا جانا لگا رہے گا. شکریہ . ایک اچھی تحریر .






    2 Not allowed!

  7. #6
    Shahid Dayo's Avatar
    Shahid Dayo is offline Junior Member
    ڪي ويجھا به ڏور
    ڪي ڏور به اوڏا
    سپرين
     
    Join Date
    Dec 2012
    Location
    Ghotki
    Posts
    338

    Re: جھولے والا

    Dear
    Buhat He UMDa Likha Hay...

    Mashallah

    1 Not allowed!
    Aisi Koi Jawani Nahen, Jiski Koi Kahani Nahen !

  8. #7
    Ahsan Mirza's Avatar
    Ahsan Mirza is offline Junior Member
    Sehra'navard
     
    Join Date
    Dec 2011
    Location
    Karachi
    Posts
    443

    Re: جھولے والا

    Quote Originally Posted by raz-e-dil View Post
    waah ahsan waaah kia khooob tehreeer likhi hai tum nay waah maza agia aik fikr angez tehreer tumhari musbat soch ki akasi karti hoi behtreeen

    بہت نوازش نجیح۔ ہمت افزائی پر بیحد مشکور ہوں۔ شاد، آباد رہو!

    0 Not allowed!

  9. #8
    Ahsan Mirza's Avatar
    Ahsan Mirza is offline Junior Member
    Sehra'navard
     
    Join Date
    Dec 2011
    Location
    Karachi
    Posts
    443

    Re: جھولے والا

    Quote Originally Posted by Adiva Afafa View Post
    Very n!ce sharing!!!!!.......

    mjhay bhi taleem daina or hasil karna pasand hay or meri khuahish hay har koi is zaiwar sy araasta ho.....
    Very nicely written,....
    keep sharing

    آپ کا جذبہ قابلِ قدر ہے۔ اللہ ہم سب کو علم حاصل کرنے کا اور باٹنے کا جذبہ عطا کرے۔ پسندیدگی پر ممنون ہوں آپکا۔ شاد، آباد رہئے!

    0 Not allowed!

  10. #9
    Ahsan Mirza's Avatar
    Ahsan Mirza is offline Junior Member
    Sehra'navard
     
    Join Date
    Dec 2011
    Location
    Karachi
    Posts
    443

    Re: جھولے والا

    Quote Originally Posted by patriot19472001 View Post
    Bohat Hi "UMDA"....

    Agar ye "Sachi Kahani" hy to bohat hi "Gehri" Observation" ki Alamat...

    Agar "Kisi Takhayul" ka Nateeja hy to "Es Parwaaz" pe MUBARAKBAAD....

    Khoob se Khoob tak, Raasty dekhany wali EK TEHREER....

    Regards...

    سمجھ نہیں آتا میں اِسے خوش قسمتی کہوں یا ہماری بدنصیبی کہ ایسے ہزاروں جھولے والے ہمارے اردگرد موجود ہیں۔ ان میں بیشتر مایوس، اور مایوس کیوں؟ تحریر میں اُس کی جانب واضع اشارہ ہے۔ بہرحال اللہ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ عطا فرمائے۔ پسندیدگی پر تہہ دل سے مشکور ہوں آپکا۔ شاد، آباد رہئے
    !

    1 Not allowed!

  11. #10
    Ahsan Mirza's Avatar
    Ahsan Mirza is offline Junior Member
    Sehra'navard
     
    Join Date
    Dec 2011
    Location
    Karachi
    Posts
    443

    Re: جھولے والا

    Quote Originally Posted by CaLmInG MeLoDy View Post


    میں دیکھنا چاہتا تھا اِس جھولے والے کے بچے اور اُن اجلے کپڑوں والے اسکول کے بچوں میں کیا فرق ہے؟ میں نے اس وقت محسوس کیاکہ اُس بچے کے چہرے پر
    گرد سے زیادہ حسرت کی تہہ جمی ہوئی ہے اور کپڑوں پر دُھول، مٹی سے زیادہ غربت کے داغ ہیں۔ بس یہی فرق تھا جو میں محسوس کرسکتا تھا یا میری آنکھیں دیکھ سکتی تھیں۔


    خوبصورت بات کیا بات کہ دی آپ نے.اور اتنے بارے فرق کو کتنی سادگی سے ایسے الفاظ میں دیا جو سمجھنے میں بھی آسان اور گہرائی رکھنے میں بہترین بہت خوب



    اس ہی طرح جھولا کھینچا جائے گا، بچے آئیں گے، جھولا چلے اور آخر کار رک جائے گا۔ اور دونوں باپ، بیٹے ہونے والی آمدن گن کر گھر کو چلے جائیں گے۔ ان دونوں کی زندگی اِس ہی ڈگر پر چلتی رہے گی بس فرق یہ ہوگا کہ کل یہ بچہ اپنے باپ کی جگہ سنبھال لے گا اور اس کی جگہ کوئی اور بچہ ہوگا۔ کوئی معجزہ یا کرامت ہی ان دونوں کی زندگیوں کو تبدیل کر پائے۔



    نصیب کی سختی کو یہاں آپ نے نسل در نسل چلتے دکھا دیا. واقعی انسان کو اسکا نصیب ہی مشکلوں سے نکال سکتا ہے، ورنہ نسل در نسل انسان کو سختی میں گھیرے رہے .



    مگر آپ نے یہ بہت اچھا کیا . کہ قارئین کو مایوسی میں مبتلا نہیں ہونے دیا ، مصنف انسان کی سوچ کو تبدیل کر سکتا ہے. ضروری نہیں کہ ایک جھولے والے کی آمدنی رکھنے والا انسان اپنی اولاد کو بھی اس ہی ڈگر پر چلائے ، کم سے کم اسکو اتنی تعلیم تو دلا ہی سکتا ہے کہ اسکی اولاد صحیح غلط میں فرق اور کمانے کے طریقوں سے واقفیت حاصل کر سکتے . ہمارے دین یعنی دین اسلام میں کہیں بھی یہ شرط نہیں ہے ، یا کہیں بھی ایک کامیاب انسان صرف اسکو ہی نہیں بتایا گیا کہ جو بھرپور آمدنی کا مالک ہو ، انسان تین وقت پیٹ بھر کھا لے بھر پور نیند سو لے. اور مسلسل اس جد و جہد میں رہے کے اسکی آنے والی نسل کو کیسے سنوارے ، یہ کوشش انسان کو مصروف بھی رکھتی ہے ، اور بھٹکنے سے بھی روکتی ہے. جائز طریقوں سے اپنی زندگی گزارنا بیشک حالات تنگ ہوں.یہ انسان کو مردہ ضمیر کا مالک ہونے سے بچا لیتی ہیں



    آپ کی آمد مصنف کارنر میں بہت ہی دنوں بعد ہی میں امید کرتی ہوں اب آپ کا آنا جانا لگا رہے گا. شکریہ . ایک اچھی تحریر .






    اس قدر تفصیل سے آپ کی جانب سےتحریر کے حوالے سے رائے دیکھ کر بیحد خوشی ہوئی۔

    ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم دینِ اسلام کے ماننے والے ہیں، اس دین کے ماننے والے، جس کے ماننے والوں کیلئے اللہ تعالی نے پہلا لفظ ہی ’اقرا‘ نازل کیا۔

    ایک دفعہ پھر شکر گزار ہوں، آپ کی جانب سے ہمت افزائی پر۔ شاد، آباد رہئے
    !

    0 Not allowed!

  12. #11
    Ahsan Mirza's Avatar
    Ahsan Mirza is offline Junior Member
    Sehra'navard
     
    Join Date
    Dec 2011
    Location
    Karachi
    Posts
    443

    Re: جھولے والا

    Quote Originally Posted by dayoshahid1w View Post
    Dear
    Buhat He UMDa Likha Hay...

    Mashallah

    از حد نوازش جناب۔ شاد، آباد رہئے!

    1 Not allowed!

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •