4
جھولے والا
شاید جُھولے کے پہئے میں کوئی خرابی تھی جس کے باعث جُھولا آگے کھینچنے میں دشواری کا سامنا تھا۔ جُھولے والے نے ایک چھوٹے سے بچے کو جو مٹی سے کھیل رہا تھا آواز دی۔ بچہ فورا ہی احساس کرتے ہوئے اٹھا اور اپنی میلی کُچیلی قمیض سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے بھاگتا ہوا جُھولے والے کےپاس آگیا۔ جُھولے والے نے بچے سے کہا، ’بیٹا ذرا میرے ساتھ مِل کر جھولے کو دکھا دینا ، جُھولا فُٹ پاتھ کے ساتھ لگانا ہے‘۔ اب بچے کے چہرے کی وہ معصومیت جو مٹی سے کھیلتے ہوئے اُس کے چہرے پر نمایاں تھی فورا ہی احساسِ ذمہ داری میں تبدیل ہوگئی جیسے اگر آج اس جھولے کا پہیا آگے نہ بڑھ پایا تو اُن دو اور شاید ان کے گھر میں موجود دیگر افراد کی زندگی کا پہیہ رک جائے گا۔
جھولے والا ایک طرف لوہے کی سلاخ تھامے جھولے کو آگے کھینچنے میں جُٹ گیا تو دوسری طرف وہ بچہ اپنے سے زیادہ قوت بلکہ قوت سے زیادہ ارادے کو زور پر جھولے والے کی مدد کرنے میں لگ گیا۔ میں ایک کرسی پر بیٹھے اپنی گھر کی بالکونی سے یہ تمام منظر بڑی دلچسپی کے ساتھ دیکھ رہا تھااور اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ جھولے والے اور بچے میں باپ، بیٹے کا رشتہ ہے۔
آخر کار وہ دونوں اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوگئے اور اسکول کے ساتھ فٹ پاتھ پر جھولا لگاکر اسکول کی چھٹی اور جھولا چلنے کا انتظار کرنے لگے۔ اب میری ان دونوں باپ، بیٹوں میں دلچسپی پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ۔ ان کے چہرے پر موجود حسرت اور امید مجھے وہاں سے اٹھنے نہیں دے رہی تھی۔ میں نے بھی تیسرا سگریٹ سُلگایا اور ان کے جانے تک وہیں بیٹھ کر ان خاموش تحریروں کو پڑھنے کی ٹھانی جو اُن کے چہروں پر لکھی تھیں۔
دیکھتے ہی دیکھتے اسکول کی چھٹی ہوگئی اور اجلے کپڑوں والے بچے اپنا، اپنا بیگ لٹکائے اسکول سے باہر آنے لگے۔ ہر طرف قہقہے تھے، معصوم مسکراہٹیں تھیں۔ مگر ان تمام چیزوں کے درمیان وہ دو حسرت زدہ چہرے بھی تھے، جو جُھولا چل پڑنے کی آس میں بار، بار قریب آنے والے بچوں کو دیکھ رہے تھے۔ آہستہ آہستہ بہت سے بچے جھولے کے اردگرد جمع ہونے لگے۔ اور دونوں باپ، بیٹا ان بچوں کی ٹولیاں بناکر ان کو جھولا جُھلانے میں مصروف ہوگئے۔ یہ وہ وقت تھا جب میری جھولے والے کے بچے میں دلچسپی اور بڑھ گئی۔ میں دیکھنا چاہتا تھا اِس جھولے والے کے بچے اور اُن اجلے کپڑوں والے اسکول کے بچوں میں کیا فرق ہے؟ میں نے اس وقت محسوس کیاکہ اُس بچے کے چہرے پر گرد سے زیادہ حسرت کی تہہ جمی ہوئی ہے اور کپڑوں پر دُھول، مٹی سے زیادہ غربت کے داغ ہیں۔ بس یہی فرق تھا جو میں محسوس کرسکتا تھا یا میری آنکھیں دیکھ سکتی تھیں۔
وقت کا پہیا تو اپنی رفتار سے آگے بڑھتا رہا مگر جیسے جیسے وہ آگے بڑھتا گیاجھولےوالے کے جھولے میں سستی آتی گئی اور آخر کار جھولا رُک گیا۔ اور دونوں باپ، بیٹا ہونے والی آمدن کو گننے میں مصروف ہوگئے ۔اور میں سوچنے لگا کل پھر یہی ہونا ہے۔ یہی اسکول ہوگا، یہی اجلے کپڑوں میں ملبوس بچے اور چہرے پر یاس کی تحریر سجائے یہی بچہ۔ اس ہی طرح جھولا کھینچا جائے گا، بچے آئیں گے، جھولا چلے اور آخر کار رک جائے گا۔ اور دونوں باپ، بیٹے ہونے والی آمدن گن کر گھر کو چلے جائیں گے۔ ان دونوں کی زندگی اِس ہی ڈگر پر چلتی رہے گی بس فرق یہ ہوگا کہ کل یہ بچہ اپنے باپ کی جگہ سنبھال لے گا اور اس کی جگہ کوئی اور بچہ ہوگا۔ کوئی معجزہ یا کرامت ہی ان دونوں کی زندگیوں کو تبدیل کر پائے۔
میں نے بھی اپنی سگریٹ کا آخری کش بھرا اور سگریٹ ساتھ رکھی ہوئی میز پر پڑے ایش ٹرے میں دبا دی۔ اور اس نیت سے پھر اُس جھولے کی طرف دیکھنے لگا کہ اب دونوں باپ، بیٹے سے وداع لوں۔ مگر وہاں جھولا اور اس کےہلنے سے نکلنے سے والی ’چُر، چُر‘ کی آواز کے سوائے کچھ دکھائی اور سنائی نہ دیا۔ میں نے اپنی نظریں دونوں کےتعاقب میں دوڑائیں تو دیکھا دونوں باپ، بیٹا کتابوں کی دکان پر کھڑے ہیں۔ اور جھولے والا بچے کو درسی کتابیں دلوا رہا ہے۔ پہلے تو مجھے یہ نہایت عجیب لگا مگر آہستہ آہستہ وہ تمام باتیں جو میں نے اپنے آپ سے کی تھی مجھے ، میرے تعجب کا جواب دینے لگی۔ اب کتابوں کی دکان سے نکلتے ہوئے اُس بچے کے چہرے پر جمی گرد اور حسرت کی تہہ بھی اس کے دل سے نکلنے والے نور کا راستہ روکنے میں ناکام تھی۔ وہی بچہ جو مجھے تھوڑی دیر پہلے اُن تمام اجلے کپڑوں والے بچوں کے درمیان بُجھا، بُجھا سا محسوس ہورہا تھا، اب کسی ایسے ستارے کی مانند چمکتا ہوا دکھائی دینے لگا جو شب کی تاریکی میں بھی اپنےہونے کا ثبوت دیتا ہے۔
میں یہ سب دیکھ کر اطمینان کے احساس کے ساتھ یہ سوچتے ہوئے اپنے کمرے میں داخل ہوگیا کہ اب یہ بچہ بھی پڑھے گا اور اُس بلندی تک جائے گا جہاں اِس جیسے ٹمٹماتے ہوئے ستارے کو ہونا چاہئے۔
احسن مرزا
Adiva Afafa (01-04-2013), CaLmInG MeLoDy (01-05-2013), Muhaddisa (01-05-2013), Shahid Dayo (01-06-2013)
Bohat Hi "UMDA"....
Agar ye "Sachi Kahani" hy to bohat hi "Gehri" Observation" ki Alamat...
Agar "Kisi Takhayul" ka Nateeja hy to "Es Parwaaz" pe MUBARAKBAAD....
Khoob se Khoob tak, Raasty dekhany wali EK TEHREER....
Regards...
بات تمیز سے اور احتراز دلیل سے کرو کیوں کہ زبان تو حیوانوں کے منہ میں بھی ہوتی ہے مگر وہ علم اور سلیقے سے محروم ہوتے ہیں
میں دیکھنا چاہتا تھا اِس جھولے والے کے بچے اور اُن اجلے کپڑوں والے اسکول کے بچوں میں کیا فرق ہے؟ میں نے اس وقت محسوس کیاکہ اُس بچے کے چہرے پرگرد سے زیادہ حسرت کی تہہ جمی ہوئی ہے اور کپڑوں پر دُھول، مٹی سے زیادہ غربت کے داغ ہیں۔ بس یہی فرق تھا جو میں محسوس کرسکتا تھا یا میری آنکھیں دیکھ سکتی تھیں۔
خوبصورت بات کیا بات کہ دی آپ نے.اور اتنے بارے فرق کو کتنی سادگی سے ایسے الفاظ میں دیا جو سمجھنے میں بھی آسان اور گہرائی رکھنے میں بہترین بہت خوب
اس ہی طرح جھولا کھینچا جائے گا، بچے آئیں گے، جھولا چلے اور آخر کار رک جائے گا۔ اور دونوں باپ، بیٹے ہونے والی آمدن گن کر گھر کو چلے جائیں گے۔ ان دونوں کی زندگی اِس ہی ڈگر پر چلتی رہے گی بس فرق یہ ہوگا کہ کل یہ بچہ اپنے باپ کی جگہ سنبھال لے گا اور اس کی جگہ کوئی اور بچہ ہوگا۔ کوئی معجزہ یا کرامت ہی ان دونوں کی زندگیوں کو تبدیل کر پائے۔
نصیب کی سختی کو یہاں آپ نے نسل در نسل چلتے دکھا دیا. واقعی انسان کو اسکا نصیب ہی مشکلوں سے نکال سکتا ہے، ورنہ نسل در نسل انسان کو سختی میں گھیرے رہے .
مگر آپ نے یہ بہت اچھا کیا . کہ قارئین کو مایوسی میں مبتلا نہیں ہونے دیا ، مصنف انسان کی سوچ کو تبدیل کر سکتا ہے. ضروری نہیں کہ ایک جھولے والے کی آمدنی رکھنے والا انسان اپنی اولاد کو بھی اس ہی ڈگر پر چلائے ، کم سے کم اسکو اتنی تعلیم تو دلا ہی سکتا ہے کہ اسکی اولاد صحیح غلط میں فرق اور کمانے کے طریقوں سے واقفیت حاصل کر سکتے . ہمارے دین یعنی دین اسلام میں کہیں بھی یہ شرط نہیں ہے ، یا کہیں بھی ایک کامیاب انسان صرف اسکو ہی نہیں بتایا گیا کہ جو بھرپور آمدنی کا مالک ہو ، انسان تین وقت پیٹ بھر کھا لے بھر پور نیند سو لے. اور مسلسل اس جد و جہد میں رہے کے اسکی آنے والی نسل کو کیسے سنوارے ، یہ کوشش انسان کو مصروف بھی رکھتی ہے ، اور بھٹکنے سے بھی روکتی ہے. جائز طریقوں سے اپنی زندگی گزارنا بیشک حالات تنگ ہوں.یہ انسان کو مردہ ضمیر کا مالک ہونے سے بچا لیتی ہیں
آپ کی آمد مصنف کارنر میں بہت ہی دنوں بعد ہی میں امید کرتی ہوں اب آپ کا آنا جانا لگا رہے گا. شکریہ . ایک اچھی تحریر .
سمجھ نہیں آتا میں اِسے خوش قسمتی کہوں یا ہماری بدنصیبی کہ ایسے ہزاروں جھولے والے ہمارے اردگرد موجود ہیں۔ ان میں بیشتر مایوس، اور مایوس کیوں؟ تحریر میں اُس کی جانب واضع اشارہ ہے۔ بہرحال اللہ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ عطا فرمائے۔ پسندیدگی پر تہہ دل سے مشکور ہوں آپکا۔ شاد، آباد رہئے!
اس قدر تفصیل سے آپ کی جانب سےتحریر کے حوالے سے رائے دیکھ کر بیحد خوشی ہوئی۔
ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم دینِ اسلام کے ماننے والے ہیں، اس دین کے ماننے والے، جس کے ماننے والوں کیلئے اللہ تعالی نے پہلا لفظ ہی ’اقرا‘ نازل کیا۔
ایک دفعہ پھر شکر گزار ہوں، آپ کی جانب سے ہمت افزائی پر۔ شاد، آباد رہئے!