7
Part 4....( 1 )
پھر صبا گھر آ جاتی ہے اور سوچتی ہے کہ آخر کیا بات ہو
سکتی ہے۔۔۔یتنے میں صبا کی ای اسے آواز دیتی ہیں۔۔۔۔۔"صبا ادھر آؤ۔۔۔۔۔بیٹا ۔۔۔ابو کے لیے چائے بنا دو۔۔۔۔"۔۔۔۔صبا کو سوچوں میں گُم دیکھ کر امی اس سے پوچھتی ہیں۔۔۔۔"کیا ہوا۔۔۔۔?"۔صبا بات کو چھپاتے ہوئے کہتی ہے۔۔۔۔"کچھ نہیں۔۔۔آپ جائیں میں چائے بنا دیتی ہوں۔۔۔۔"اب صبا میں کافی حد تک سدھار پیدا ہو گیا تھا۔۔۔۔امی تو بہت خوش تھیں۔۔۔۔
دوسرے دن صبا کالج جاتی ہے اور سوچتی ہے کہ فراز سے وجہ پوچھوں گی۔۔۔لیکن فراز اسے کہیں نظر نہیں آتا۔۔۔وہ اس کے سیل پر کال کرتی ہے لیکن اس کا سیل آف ہوتا ہے۔۔۔صبا سوچوں میں گُم لائبریری میں پہنچتی ہے تو سامنے کا منظر دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے۔۔۔۔۔سامنے فراز کھڑا ہوتا ہے۔۔۔۔صبا اس کے پاس جا کر پوچھتی ہے کہ
تمہارا فن کیوں آف تھا میں پریشان ہو رہی تھی۔۔۔اور کل تم اچانک کیوں چلے گئے تھے۔۔۔۔کیا ہوا تھا۔۔۔۔بتاؤ تو۔۔۔۔!"فراز پہلے تو چھپانے کی کوشش کرتا ہے پھر صبا کے اصرار کرنے پر بتاتا ہے:"کل مجھے میرے نوکر کا فون آیا تھا۔۔۔۔اس نے مجھے بتایا کہ میرے والد نے اپنی بزنز ڈیل بچانے کے لیے میرا رشتہ اپنے پارٹنر کی بیٹی سے کر دیا ہے وہ بھی میری مرضی کے خلاف۔۔۔۔۔۔"یہ سن کر صبا کے چہرے کا رنگ اُڑ جاتا ہے کیونکہ وہ بھی فراز کو دل ہی دل میں پسند کرنے لگی تھی۔۔۔۔۔کچھ دیر دونوں کے درمیان خاموشی پیدا ہو جاتی ہے۔۔۔۔پھر ہمت کر کے کچھ ڈرتے ہوئے فراز صبا سے محبت کا اظہا کر دیتا ہے۔۔۔۔اور صبا شرما جاتی ہے۔۔۔۔!صبا کو شرماتے ہوئے دیکھ کر فراز مسکراتے ہوئے پوچھتا ہے۔۔۔۔"اس کا کیا مطلب سمجھوں۔۔۔کیا میں ہاں سمجھوں۔۔۔?"صبا نے جواب دیا۔۔۔۔"بدُھو۔۔۔کیا لڑکی کے شرمانے کا مطلب بھی نہیں سمجھتے۔۔۔۔!"۔۔۔۔پھر دونوں ہنس دیتے ہیں۔۔۔دونوں بہت خوش ہوتے ہیں کچھ دن ایسے ہی گزر جاتے ہیں۔۔۔۔۔
اس موقع پر صبا کو کسی رازدار کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔اور وہ تمام معاملہ اپنی چھوٹی بہن سدرہ کو بتا دیتی ہے۔۔۔۔سدرہ بہت خوش ہوتی ہے لیکن جب صبا سدرہ کو فراز کے رشتے کے بارے میں بتاتی ہے۔۔۔تو سدرہ کا منہ اتر جاتا ہے۔۔۔۔اور وہ صبا سے پوچھتی ہے کہ آپا۔۔۔۔پھر آپ نے کیا سوچا ہے۔۔۔۔?"صبا پریشانی میں جواب دیتی ہے کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے لیکن مجھے فراز پر پورا بھروسہ ہے۔۔۔۔!"
فراز اپنے باپ کے پاس جاتا ہے:"ڈیڈی مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔""۔۔۔۔۔۔فراز کے ڈیڈی جلدی میں کہتے ہیں۔۔۔۔"ابھی میرے پاس وقت نہیں ہے بعد میں آنا۔۔۔۔"۔۔۔۔۔فراز غصے میں کہتا ہے۔۔۔۔"کیسے باپ ہیں آپ۔۔۔آپ کو اپنے بیٹے سے زیادہ ضروری اور کیا کام ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔"۔۔۔۔۔۔فراز کے ڈیڈی بھی غصے میں جواب دیتے ہیں۔۔۔"جلدی بولو۔۔۔میرے پاس وقت نہیں ہے تمہاری فضول باتیں سننے کا۔۔۔۔"
فراز نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔"آج تک آپ نے مجھے محبت ہی کب دی ہے۔۔۔۔خیر۔۔۔۔۔ان باتوں کا کوئی مطلب نہیں ہے مجھے یہ کہنا ہے کی آپ نے میری مرضی کے بنا میرا رشتہ کیسے کر دیا۔۔۔۔میں صبا کو چاہتا ہوں اور اسی سے شادی کرون گا۔۔۔۔"فراز کی بات سن کر ڈیڈی کو بہت غصہ آیا۔۔۔۔بدتمیز۔۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرا فیصلہ رد کرنے کی۔۔۔۔میں باپ ہوں تمہارا۔۔۔میراحق بنتا ہے۔۔۔جس سے چاہوں تمہاری شادی کروں۔۔۔۔"۔۔۔۔۔۔۔"ڈیڈی۔۔۔اس میں بھی آپ کا کوئی فائدہ ہی چھپا ہے ویسے کتنے میں بیچا ہے آپ نے مجھے۔۔۔۔?"فراز کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔۔۔۔فراز کی یہ بات سن کر اس کے ڈیڈی اس پر ہاتھ اٹھا تے ہیں۔۔۔۔۔"بس یہی کمی تھی جو آپ نے پوری کر دی۔۔۔۔ٹھیک ہے میں آپ کا یہ عالیشان محل چھوڑ کر جا رہا ہوں اور کبھی واپس نہیں آؤں گا۔۔۔۔"فراز باغیانہ لہجے میں اپنا آخری فیصلہ سنا دیتا ہے۔۔۔۔
شرفو بابا یہ سب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔انھوں بچپن سے ہی فراز کو پالا ہوتا ہے۔۔۔۔۔اور اسے روکنے کی بھی بہت کوشش کرتے ہیں لیکن وہ نہیں رکتا۔۔۔۔۔وہ فراز کے باپ سے کہتے ہیں کہ صاحب بابا کو دوک لو۔۔۔ایک ہی تو بیٹا ہے آپ کا۔۔۔۔فراز کا باپ کہتا ہے کہ ایک دن باہر بھوکا رہے گا تو عقل ٹھکانے آ جائے گی اور خود ہی واپس آ جائے گا۔۔۔۔!!!!لیکن یہ ان کی بھول تھی۔۔۔۔انھیں نہیں پتا تھا کہ فراز کو محبت کی طاقت ان کے دیئے آرام و آسائش سے دور کر چکی ہے
*resham* (12-29-2011), Adiva Afafa (12-29-2011), innocent girl 12 (12-29-2011), ѕмαяту ¢αт (12-29-2011)
Part 4....(2)
دوسری طرف سدرہ صبا کی خاطر اپنی ماں سے بات کرتی ہے۔۔۔۔۔اور سب بتا دیتی ہے۔۔۔۔۔اس کی ماں صبا میںتبدیلی محسوس کر چکی ہوتی ہے۔۔۔۔۔اور سوچتی ہے کہ جس کی وجہ سے صبا نے خود کو بدل لیا ہے۔۔۔۔وہ اسے کتنی محبت کرتی ہو گی۔۔۔۔۔لیکن صبا کی ماں کو اس کے باپ کا ڈر ہے کہ وہ کیا کہیں گے۔۔۔۔سدرہ ماں کو سوچوں میں گم دیکھ کر پوچھتی ہے۔۔۔۔"امی۔۔۔کہاں کھو گئیں?"امی سدرہ کو جھاڑ دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ تم چھوٹی ہو ان معاملوں سے دُور رہو۔۔۔۔وہ اسی رات صبا کے والد سے بات کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔صبا کے والد سب باتیں سن کر پہلے انکار کرتے ہیں۔۔۔۔لیکن پھر بیوی کے اصرار پر مان جاتے ہیں۔۔۔۔اور کہتے ہیں کہ لڑکے کے گھر والوں سے کہو کہ رشتہ لائیں۔۔۔۔اس دوران صبا فراز سے رابطے میں رہتی ہے۔۔۔۔اور جب 3دن بعد صبا کالج جاتی ہے تو فراز اسے سب کچھ بتا دیتا ہے۔۔۔۔کہ وہ صبا کی خاطر اپنے باپ کا محل چھوڑ آیا ہے اور اپنے دوست کے جنرل سٹور پر جاب کر رہا ہے۔۔۔اور اسی کے گھر رہ رہا ہے۔۔۔۔۔پھر وہ صبا سے پوچھتا ہے کہ کیا تم میرا ساتھ دو گی????"صبا اسے یقین دلاتی ہے کی میں ہمیشہ تمہارا ساتھ دونگی۔۔۔۔پھر وہ فراز کو اپنے گھر کی سب باتیں بتاتی ہے۔۔۔۔۔اور رشتے کا بولتی ہے۔۔۔یہ سن کر فراز خوش بھی ہوتا ہے اور پریشان
دوسری طرف فراز کے باپ کو احساس ہوتا ہے کہ اس نے اپنے بیٹے کے ساتھ غلط کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔پھر وہ فراز کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔۔اور فراز اس کو جنرل سٹور پر کام کرتا پسینے میں بھیگا نظر آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔باپ اسی وقت اپنی انا کو چھوڑ کر اپنے بیٹے کے پاس جاتا ہے۔۔۔۔اور کہتا ہے۔۔۔۔:"مجھے معاف کر دے میرے بچے۔۔۔میں نے ہمیشی دولت کے آگے کسی رشتے کو اہمیت نہیں دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"فراز حیرانی سے باپ کو تکتا ہے اور طعنی دیتا ہے کہ اب آپ کا اس میں کون سا فائدہ ہے۔۔۔۔?"باپ کہتا ہے کہ بیٹآ میں واقعی بدل گیا ہوں،،،،مجھے تیری جدائی نے یہ احساس دلایا ہے کہ بنا رشتوں کے دولت کسی کام کی نہیں۔۔۔۔۔۔"یہ سن کر فراز کا دوست اس کو سمجھاتا ہے اور دبے لفظوں میں کہتا ہے کہ سوچ لے۔۔۔۔بنا باپ کے رشتہ کیسے لے کر جائے گا۔۔۔۔۔پھر تینوں ہنس دیتے ہیں۔۔۔۔اور فراز سوچتا ہے کہ اچانک رشتہ لے جا کر صبا کو سرپرائز دوں گا۔۔۔۔۔
اگلے دن فراز اور اس کے والد رشتہ لے کر صبا کے گھر جاتے ہیں۔۔۔۔۔دروازے پر دستک دیتے ہیں۔۔اور ۔صبا دروازہ کھولتے ہی حیران ہو جاتی ہے اور اندر آنے کی دعوت دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔اور اپنے والدین کو بلانے چلی جاتی ہے۔۔۔ہنسی خوشی کے لاحول میں رشتہ پکا ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔اور سدرہ صبا کو گنگنا کر چھیڑتی ہے۔۔۔۔"میری پیاری بہنیا۔۔۔بنے گی دلہنیا۔۔۔۔"صبا مصنوعی غصہ کر کے اس کو باہر بھگا دیتی ہے۔۔۔۔۔۔
پڑھائی ختم ہوتے ہی فراز خوشی خوشی باپ کا بزنز سنبھال لیتا ہے۔۔۔۔اور اس دوران اس کی صبا سے شادی ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔اور اب وہ ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے ہیں کیونکہ قدرت کو ان کا ملن منظور تھا۔۔۔۔۔۔۔اور کیونکہ ان کی محبت اور نیت پاک تھی۔۔۔۔۔اور ارادہ نیک۔۔۔۔ارادہ نیت نیک ہو اور جذبوں میں سچائی ہو تو منزل خود بخود قریب ہوتی چلی جاتی ہے۔۔۔۔
OMG!nahiiiiiiiiiiiiiiiiiii ye kiya hogyaaaaaaaa
ext part ka intizar rahey ga![]()
تمھاری آنکھ سے دل تک سفر کرنا ہے بس ہم کو
یہ کتنی خوبصورت منزلوں کا راستہ ہوگا
اس کائنات محبت میں ہم مثل شمس و قمر کے ہیں
اک رابطہ مسلسل ہے ، اک فاصلہ مسلسل ہے
ہم خود کو بیچ دیں پھر بھی ہم تجھ کو پا نہیں سکتے
میں عام سا ہمیشہ ہوں ، تو خاص سا مسلسل ہے!
A Tip 4 Blk Magic Victims "ALIM" ya "AMIL"..?
nahi ye colour mera fav hai koi nahi chub raha glassess laga kar parho
---------- Post added at 06:59 PM ---------- Previous post was at 06:57 PM ----------
thanxxxxx sis pehle bar likhi hai to kiya khayal hai geo ya humtv par de dete hain![]()
thnxxxx jani ending pasnd karne ka
---------- Post added at 07:00 PM ---------- Previous post was at 07:00 PM ----------
thnxxxx jani ending pasnd karne ka
---------- Post added at 07:02 PM ---------- Previous post was at 07:00 PM ----------
jani tm khushyoon ki dushman ho kiya bechare wo khush hain to tm ikhtilaaf karahi ho![]()