5
مذید کچھ مفید باتیں
کینسر کوئ فوق الفطرت بیماری نہیں ہے۔ اس کے جرثومے سے بہت کم مریض فوری طور پر مرتے ہیں۔ مریض کے مرنے کی اور بہت ساری وجوہات ہوتی ہیں۔ ان میں سے چند ایک کا ذکر کر رہا ہوں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ یہ مرض قابل علاج ہے اور اس کا شکار ہونے والے مریض کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا سکتا ہے۔ اسے ڈاکٹر حضرات کی مالی ہوس نے بہت مہنگا بنا دیا ہے۔ کینسر کے عارضے سے متعلق کچھ معروضات درج کرنے سے پہلے چند ضروری امور درج کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ میرے خیال میں جسم کی مدافعتی طاقت کی بہتر کارگزاری ہر حال میں ضروری ہے۔ مدافعتی فورسز پر توجہ دینے سے اسی فیصد بیماریوں کا روک تھام ممکن ہے۔
مریض کے مرنے کے سبب ڈاکٹر ہوا بنا دیتے ہیں تاکہ مال پانی کے دروازے فراخ ہو جاءیں۔
ٹسٹوں پر وقت اور مال کا اجاڑہ کیا جاتا ہے۔
سنی سنائ باتوں پر یقین کرکے پہلے ہی سے طے کر لیا جاتا ہے کہ مریض بہرصورت آج نہیں تو کل مر جاءے گا۔ گویا مریض کی موت طے ہے۔
گربت غفلت اور علاج معالجے میں مجرمانہ دیری
سنے سناءے ٹوٹکوں پر کلی انحصار
مرض کی دوسری یا تیسری اسٹیج قرار پا جانے سے مریض کو بوجھ سجھتے ہوءے اس کی موت کا انتظار اور اسے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا۔
الله کریم نے ہر سطع کے لیے کوئ ناکوئ رستہ ضرور کھلا رکھا ہے اور کسی چیز کو امکان سے باہر نہیں رکھا۔
پین کلر ادویات بے محابا استعمال
معالجے کا آغاز ظالم انجکشنوں اور مہنگی ترین ادویات سے آغاز جبکہ اس سطع پر مریض کی مدافعتی قوت اتہائ کمزور ہو چک ہوتی ہے۔ یہ انجکشن اور ادویات اسے مذید کمزور کرتے ہیں۔ مدافعتی قوت کا کمزور ہونا یا کرنا مریض کی موت کو یقینی بنا دیتا ہے۔ اصل کام تو مریض کی مدافعتی قوت کو مظبوط بنانا ہے
غیر معیاری ادویات کی دستیابی
ڈاکٹر حضرات نوازنے والی کمنیوں کی ادویات کی حصولی کی سفارش کرتے ہیں۔ انہیں ان کے معیار وغیرہ سے کوئ سروکار نہیں ہوتا۔
مریض کو پہلی فرصت میں داکٹر اس کی مرض سے آگاہ کر دیتے ہیں جس سے نفسیاتی طور پر آدھا مریض مر جاتا ہے۔ یہ اس تآثر کا نتیجہ ہوتا ہے کہ کینسر کا مرض ناقابل علاج ہے۔
اس مرض کا علاج اسی ملک کے ماحول خوراک اورقدرتی اشیاء سے ہی ممکن ہے۔
بیرون ملک لے جانے کا رجحان کسی طرح صحت مند نہیں
مریض کی عیادت کرنے والے حضرات خصوصا خواتین آ کر ہاءے ہاءے نہ ڈالیں اور ناہی سول سرجن بننے کی سعی فرماءیں۔
خدمت پر مامور شخص کی مرتے شخص کے طور پر خدمت سر انجام نہ دے۔
ریسرچ کا قحط اور فقدان
صرف ایلوپیتھک پر اکتفا اور اسے حرف آخر کا درجہ ملنا
تیزابیات بنانے والی خوراک کا بکثرت استعمال
سبزیات میں غلط کمبینیشن کا پکوان مریض کے لیے کسی طرح سود مند نہیں۔
خوراک میں بعض سستی اشیاء کو خود ہی غیر صروری اور غیر مفید قرار دے دینا۔
مصالحے دار چٹ پٹا پکوان
اپنے سینے کے حسن کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا دودھ نہ پلانا۔
جلد نا ہضم ہونے والے پکوان کا شوق کے حوالہ سے بکثرت استعمال
سبزیات اور پھلوں کے مفید ترین اور غذا کو متوازن رکھنے والے اجزاء کا کاٹ پھینکنا۔
پیدل چلنے کا رواج کم یا ختم ہونا
کسی معمولی چوٹ کے ضمن میں غفلت اور کوتاہی سے کام لینا
دکھ اور پریشانی کی خبروں کاعام ہونا
نشہ آوراشیاء کا بکرت استغمال
تکلیف میں نشہ دے کر سلا دینے کا رجحان کسی طرح درست اور مناسب نہیں
آرام طلبی‘ سادگی سے دوری‘ بلغم کا اخرج روکنا‘ اپریشن کا رواج چند فیصد سہیکیوں کے علاجسے اجتناب مثلا بخار کا علاج کیا جاتا ہے لیکن اس امر کا کھوج نہیں لگایا جاتا کہ بخار کیوں چڑھا۔ بخار تو کوئ بیماری نہیں یہ تو کسی بیماری کی علامت ہوتا ہے۔
کھانے کے فورا بعد جلدی جلدی چاءے پی لینا۔ کھانے کے ساتھ بوتل کا استعمال خطرناک ہوتا ہے۔ بوتل تو عام حالات میں استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
ٹسٹون کی غلط رپورٹ۔ اس ذیل میں میرے پاس کئ مثالیں موجود ہیں۔
مریض کے لیےصدمہزہر ہلاہل سے کسی طرح کم نہیں ہوتا۔
لباس اور رنگوں میں تبدیلی نہ لانا یا پھر پسند کے رنگ کا نظر انداز ہونا۔
خوراک میںمتبادلاتکو نظرانداز کرنا
ٹوتھ پیسٹوں کا مسواک کی جگہ لے لینا۔
کام کا آغازالله کے نام سے نہ کرنا اسی طرح تکمیل پر الله کا شکر ادا نہ کرنا
مذید کچھ مفید باتیں
دودھ‘ پودینے انار دانے اور تلسی کی چٹنی یا پھر کچے پیاز کے ساتھ روٹی کھانے میں کیا خرابی ہے۔
مٹی کے برتنوںمیں کھانا پکانا اور ان میں سرو کرنا انتہائ سود مند ہے۔
فریج کی جگہ کچے گھڑے کا پانی صحت کے لیے انتہائ مفید اور فاءدہ مند ہے۔
کھانے کے بعد تین بار کلی کر لینے سے شان میں کمی واقع نہیں ہوتی۔
نیم کے پتے ہلدی اور پھٹڑی ملے پانی پر پیشاب کرنے سے بہت سے فوادءد ہاتھ لگتے ہیں۔
موسم کے سستے پھل ضرور کءے جاءیں۔
جاری ہے
laws (12-05-2012), NAZIA INTISAR (12-30-2012), nutral (11-24-2012), sweet_lily (11-24-2012)