7
"دسمبر"
مجھے بدنام کرتے ہو
یہ سب الزام دھرتے ہو
کبھی تنہائی کی تہمت
کبھی دل ٹوٹنے کا غم
جدائی اپنےدلبر سے
شب فرقت کے سب نالے
کبھی روتے ہو موسم کو
کبھی بارش کا رونا ہے
تمہاری چاہتوں کا اور
دلوں پر چوٹ لگنے کا
تعلق ٹوٹ جانے پر
مجھے الزام دھرتے ہو
عبث بدنام کرتے ہو
مجھے بدنام کرتے ہو
تمہیں گر یاد آتے ہیں
جو تم سے روٹھ جاتے ہیں
جو تم کو چھوڑ جاتے ہیں
تمہاری گرم سانسوں میں
دہکتے آنسوؤں میں جب
وہ سنگدل مسکراتے ہیں
قصور اس میں مرا کیا ہے
تمہارے غم سے آخر پھر
مرا کچھ واسطہ کیا ہے
مری مجبوریاں سمجھو
مرے اپنے بھی دکھڑے ہیں
بہت سے یار بچھڑے ہیں
میں ان سے ملنے آتا ہوں
دسمبر نام ہے میرا
یونہی ہر سال آتا ہوں
اسد
*resham* (12-29-2012), aziz-qais (01-06-2013), diya Imaan (01-02-2013), R oC k iN (12-28-2012), Saba (12-31-2012), Savi Abbas (01-01-2013)