3
اے زندگی کھوئی تو رہتی ہے یادوں کہ سفر میں
جانا ہے تجھ کو دور بہت یہاں سے اپنی نگر میں
کیسے بتائے کس کو بتائے کون ہے تیرا
کوئی نہیں ہے جسے غم ہم اپنا سنائے
چاہا مگر پھر بھی حالِ دل کہہ نا پائے
روتا ہے دل بھی کس لئے اب
لوٹا ہے گھروندا اپنا اپنوں نے ہی سب
مرنا جائے ہم اپنے ہی قہر میں
کہہ دے الودا سب کو جانے سے پہلے
آتے نہیں جو راہ تکنے پر بھی
کیا آئے گے وہ آنے سے پہلے
کل میں یہاں نا آوں اگر تو باتیں بنے گی
میرے لئے کیا میری جگہ پہ راہیں تکے گی
جس کو ملی تھی محفیلں منزلیں بھی اسی کی تھی
جو رہ گئے تنہا اس کے لئے تو دنیا ہی نہیں تھی
پایا تھا جس نے خوشیوں کا میلا
وہ میری مسکان پر بھی لگائے کیوں پہرہ
کوئی نہیں ہے کسی کا ایسا سفر ہے
درد ہے دل میں کتنا جو نا آیئے نظر ہے
کہتے ہوئے بھی لفظ تھر تھرائے
آنسو کہے کب تک جھوٹی مسکان تو مسکرائے
دل کا یہ غم دل میں ہی رہ جائے
غیروں سے کیا غلہ جب اپنے ہی دھوکہ دے جائے
اے زندگی لے جا مجھے تو یہاں سے بہت دور
چھوبتے ہے دل پر یہاں بے رخی کے ناسور
زخم ملتے بہت ہے اس پتھروں کہ شہر میں
رہنا نہیں مجھ کو اب اپنے ہی ڈر میں
اے زندگی لے جا مجھے تواپنے نگر میں
شاعرہ ریشم
Adiva Afafa (01-05-2013), Savi Abbas (01-13-2013), Shab-e-Firaaq (01-07-2013)