13
یخ بستہ تیز ہواؤں سے رائیٹنگ ٹیبل پر رکھے صفحات پھڑ پھڑ ا اٹھے ......میں نے نظر اٹھا کر ان صفحات کو دیکھا ...اور ہواؤں میں پھیلی دلکش سرگوشیوں کو دریچہ دل پر دستک دیتے محسوس کیا....وہ میرے سنگی،ساتھی ،وفادار الفاظ تھے .....جو میرے ارد گرد رنگین،نازک تتلیوں کی مانند اڑ رہے تھے ...
میں سمندر کی جانب کھلنے والی کھڑکی میں آ کھڑی ہوئی ......الفاظ میرے ارد گرد میری گرفت میں آنے کے لئے بے چین و بے قرار تھے .....مجھ سے ناراض و شکوہ کناں .....شکایت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے.....!!!!!!ہمیں اپنی گرفت میں لے کر صفحات پر بکھیرو نا ....... ہم منتشر ہیں معتبر کر دو نا
ان کی معصوم ناراضگی بھری سرگوشیاں سن کر میں نے مسکرا کر چاند کو دیکھا.....افق پر چمکتا ....گہرے نیلے پانیوں میں اپنا عکس دیکھ کر سرشار ہوتا چاند ..............اسکی ٹھنڈی میٹھی چاندنی نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا ....اور میرے کان میں مدھم سرگوشی کی
....میری محبّت پر لکھو نا ...اے دلکش پری.....!!!!میں اس گہرے نیلے سمندر سے محبّت
کرتا ہوں.....میں نے اسکی چاندنی کو پیار سے دیکھا ....ہاں ضرور لکھوں گی....!!!!تم نے کبھی محبّت کو محسوس کیا.....چاندنی نے میرے چہرے کو اپنی روشن گرفت میں لے کر پوچھا....؟؟؟
ہاں ....مجھے نیلے پانیوں میں تیرتی اس کشتی میں ابدی،لازوال ،لافانی محبّت محسوس ہوئی ہے.....چاندنی نے ناراضگی سے مجھے دیکھا...اور کہا..بھلا اس کشتی کو محبّت سے کیا واسطہ .....میں نے مسکرا کر دور سمندر کے سینے پر شاہانہ و سرشار ،مسرور و مخمور اس اس چھوٹی سی کشتی کو دیکھا
وہ گہرے نیلے پانیوں والے سمندر میں یوں ہل رہی تھی جیسے محبّت کا مدھ بھرا ذائقہ چکھ لیا ہو ......اور شرارتی لہروں سے اٹھکیلیاں کرتی ،گنگناتی محبّت کی آغوش میں اس کی روح عالم وجد میں رقصاں ہو........چاندنی نے لہروں پر رقصاں اس کشتی کو دیکھا اور کشتی سے کہا
تم ان طوفانی لہروں ...اس غضبناک سمندر سے پیار کرتی ہو ....جو کسی دن تمہیں کسی کھلونے کی طرح توڑ پھوڑ کر تمہارے وجود کو ریزہ ریزہ کر دیں گی....؟؟؟؟ تم ان غصیلی لہروں کے بھنور میں کس طرح خوش مسرور و رہ سکتی ہو؟؟؟؟میں نے کشتی کی مدھ بھری سرگوشی سنی
....مجھے اس سمندر سے عشق ہے ....طوفانی لہروں سے کھیلنا میرا دل پسند و محبوب مشغلہ ہے .....سمندر مجھے اپنے فراخ سینے کی وسعتوں میں سمیٹ کر رکھتا ہے....اسکی لہروں کی تیزی میرے وجود کو ہر لمحہ و ہر پل رقصاں رکھتی ہیں ...اسی محبّت کے بہاؤ میں...میں منزل در منزل اپنا سفر جاری رکھتی ہوں...لیکن کوئی منزل میری آخری نہیں
اسکا اور میرا رشتہ اٹوٹ ہے......میرے لئے یہی کافی ہے ...پھر اگر کبھی غصّے میں اسکی طوفانی و سرکش لہریں مجھے اپنے بھنور میں لے لیں .....یا میرے وجود کو توڑ کر ....ریزہ ریزہ کرنے کی کوشش کریں تو میں اپنا آپ ایک ابدی مسکراہٹ کے ساتھ اس سمندر کی گہرائیوں کی نذرکر دونگی...ان لہروں کی تند و تیز پناہوں میں جب میرا وجود فنا ہو گا تبھی میری محبّت امر ہو گی..!!!میں نے کشتی کی محبّت پر مسکرا کر چاند کو دیکھا....اور کہا
.....اے چاند ..!!!محبّت کے سمندر میں وفا کی لہروں سے دوستی کی خاطر اسکی سرکش لہروں اور طوفانی موجوں کی آغوش میں رہنا پڑتا ہے ...کبھی اسکی پرسکون لہروں سے
کھیلنا تو کبھی اسکی تندی و تیزی برداشت کرنا...مگر دونوں حالتوں میں اسکا ساتھ نہ چھوڑنا ...اس وقت تک جب تک کہ ایک دن وہ اسکے وجود کو اپنی گہرائیوں میں جذب نہ کر لے
یہ ہے عشق ......!!!...جہاں محبّت ختم ہونے...ڈوب جانے ...روٹھ جانے کے خوف سے آزاد ہوتی ہے ...وہیں سے یقین کی ڈور سے محبّت کے پاؤں بندھ جاتے ہیں...پھر محبّت
اپنے پروں میں محبوب کو سمیٹ لیتی ہے.....اے چاند ...سمندر کی موجوں سے کھیلتے هوئے اسکے بہاؤ کے ساتھ ساتھ اسکی محبّت کے سرد و گرم سہ کر چلنے کا لطف و مزہ دور دور سے اسکی محبّت کا دعوے دار بننے میں نہیں ہے....میں نے چاند کو دیکھا....وہ ناراضگی سے بادلوں کی اوٹ میں چہرہ چھپا چکا تھا ...اور اسکی چاندنی نے سمندر پر سے اپنی روشنی کو سمیٹ لیا تھا.....
اور یخ بستہ ہواؤں میں اکیلی کشتی اسی طرح سمندر کے وجود میں سمائی ہوئی رقصاں تھی ....جیسے سمندر اس سے کوئی راز کی بات کہ رہا ہو....اور اس کا روم روم جھوم رہا ہو...!!میں نے کھڑکی بند کر دی....الفاظ مجھے محبّت سے دیکھ کر بول اٹھے....شکریہ پری ......ہمارے بے جان وجود میں محبّت کی خوشبو بسانے کا............ہمیں معتبر کرنے کا...میں نے مسکرا کر انھیں دیکھا......اور کہا..ایک تم ہی تو میرے وفادار،رازدار،ہمراز ہو
.....جو میری بے رخی ،بے اعتنائی پر بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑتے .........
تم ہم سے محبّت کرتی ہو نا ..؟؟؟؟؟انکا سوال بہت معصوم تھا...ہاں صرف تم سے.....میں نے شرارت سے
مسکرا کر کہا....مگر آنکھوں میں گہرے نیلے پانیوں کا عکس جھلملا رہا تھا
(تحریر :پری وش)
کچّا سونا ہی
!!...بنتا ہے کُندن
اِک دِنِ نکھرے گا
!!...سچّا ہے گر، فن
کیسے روک سکے
!!..خُوشبو کو گلشن
امجد میرے ساتھ
!!..اَب تک ہے بچپن
*Dani* (01-14-2013), amnarani (12-10-2012), Hidden_Trigger (12-07-2012), Lost Passenger (12-10-2012), Muhaddisa (12-07-2012), nazan (12-07-2012), ѕмαяту ¢αт (12-13-2012), Saba (12-08-2012), Sai-e-Lahasil (12-10-2012), Skip (12-09-2012)
اسکا اور میرا رشتہ اٹوٹ ہے......میرے لئے یہی کافی ہے ...پھر اگر کبھی غصّے میں اسکی طوفانی و سرکش لہریں مجھے اپنے بھنور میں لے لیں .....یا میرے وجود کو توڑ کر ....ریزہ ریزہ کرنے کی کوشش کریں تو میں اپنا آپ ایک ابدی مسکراہٹ کے ساتھ اس سمندر کی گہرائیوں کی نذرکر دونگی...ان لہروں کی تند و تیز پناہوں میں جب میرا وجود فنا ہو گا تبھی میری محبّت امر ہو گی..!!!میں نے کشتی کی محبّت پر مسکرا کر چاند کو دیکھا....اور کہا
.....اے چاند ..!!!محبّت کے سمندر میں وفا کی لہروں سے دوستی کی خاطر اسکی سرکش لہروں اور طوفانی موجوں کی آغوش میں رہنا پڑتا ہے ...کبھی اسکی پرسکون لہروں سے
کھیلنا تو کبھی اسکی تندی و تیزی برداشت کرنا...مگر دونوں حالتوں میں اسکا ساتھ نہ چھوڑنا ...اس وقت تک جب تک کہ ایک دن وہ اسکے وجود کو اپنی گہرائیوں میں جذب نہ کر لے
تم ہم سے محبّت کرتی ہو نا ..؟؟؟؟؟انکا سوال بہت معصوم تھا...ہاں صرف تم سے.....میں نے شرارت سے
مسکرا کر کہا....مگر آنکھوں میں گہرے نیلے پانیوں کا عکس جھلملا رہا تھا
buhat khoob great.......
thanx 4 shring.....
اتنا ٹوٹا ہوں کے چھونے سے بکھر جاؤنگا
اب اگر اور دعا دوگے تو مر جاؤنگا
dair lagi aane mein tumko shukr hai Rab ka aaye to . .
aas ne dil ka sath na chorha waise hum ghabraye to.. !!
Shukriya Pari..... khubsoorat lafzon ki ye dhanak phir se sjane k lye !!
I want to shine the light of love
Into the darkness
And translate the beauty
That I see in my mind
Through the colors of life
Where no doubt and fear reside
On my life's journey today
Bila Shuba aik "Umda" se "Umda Tar" Taehreer...
Dr. Sb ne sahi kaha, aap to "Jaado Garon" jaisa likhti hein...
Main koi writer nhi, Bas Qari ki haisiat se mughy ye Tehreer "Girift" mein lainy wali lagi.
Aisa writer jis ki tehreer mein "Tasalsul" ho, wohi asal writer hota hy...
Bohat khush rahein aur khush rakhien.
Regards.
بات تمیز سے اور احتراز دلیل سے کرو کیوں کہ زبان تو حیوانوں کے منہ میں بھی ہوتی ہے مگر وہ علم اور سلیقے سے محروم ہوتے ہیں
.....اے چاند ..!!!محبّت کے سمندر میں وفا کی لہروں سے دوستی کی خاطر اسکی سرکش لہروں اور طوفانی موجوں کی آغوش میں رہنا پڑتا ہے ...کبھی اسکی پرسکون لہروں سے
کھیلنا تو کبھی اسکی تندی و تیزی برداشت کرنا...مگر دونوں حالتوں میں اسکا ساتھ نہ چھوڑنا ...اس وقت تک جب تک کہ ایک دن وہ اسکے وجود کو اپنی گہرائیوں میں جذب نہ کر لے
یہ ہے عشق ......!!!...جہاں محبّت ختم ہونے...ڈوب جانے ...روٹھ جانے کے خوف سے آزاد ہوتی ہے ...وہیں سے یقین کی ڈور سے محبّت کے پاؤں بندھ جاتے ہیں..
واہ بہت خوب لکھا آپ نے واقعی محبت کی گہرائی میں ڈوب کر لکھی گئی ہے تحریر ۔
اور یہ لایئنس مجھے بہت پسند آئی
لیکن کاش ہر کوئی اس طرح سوچتا اور محبت کی گہرائی کو سمجھتا ۔ آج کل تو محبت کا رخ ہی بدل گیا ہے ۔
لوگ بہانے تراشتے ہے بس ۔
زرا سی غلطی پر بھی لوگ برسوں کے رشتے پل میں ٹور دیتے ہے ۔
بہت عمدہ تحریر ہے اور پیش کش شروعات سے لیکر آخر تک احساس کی ڈوری سے جوڑی ہو ئی ہے
لکھتے رہیئں ہمیشہ خو ش رہیں ۔۔
Bohot Bohot shukria....Mod g............!!!!bus aapki piyar bhari narzagi kaam aa gai......
Bas dua kigye...........ye waqfa zada lamba na ho..........merey Mood ka kuch pata nhi hota....abhi bhi herat ho rahi hey k itney arsey baad mjh pr ye AAMAD kesey ho gai....!!!!
Bohot bohot shukria.................!!!!!!Allah pak ki dain hey ye qalam bhi.........ye likhna bhi......magar shayad me is qalam kahaq ada nhi kar pa rahi..jesey me pehley Tasulsul se likhti thi.........arsa hua me ne magzines or digest me likhna chora hua hey...isi liye to merey ALFAAZ mjh se naraaz rehtey hain...!!!![]()
main ne kaha tha na................ke chaashni ugalta aap ka qalam,bohot waqt se khamosh tha................khuaah ma khuaah is ko aap ne mithaas ugalne se roke rakha tha..
welcome back to WK...............aati rahain.aur itni umda tehreerain paish karti rahian..shukria....
Assalam-o-Alaikum
Buhat khobsurat tehreer Pari ek ek lafz naginey ki terha proya huwa
perhtey huwey maloom hi nahi'n huwa keh tehreer kab khatem hui laikin seher baqi raha
likhti raha kro buhat khobsurat likhti ho tu phir ab aaindha jaldi jaldi tehreerai'n likhti rehna
Allah krey zor-e-qalam aur ziyadha,hamaisha khush aur salamet raho,Ameen
"READY TO DIE FOR MOHAMMAD (SAW),
FIRST
TRY TO LIVE FOR HIM"