29
Aslamualikum frenz.
Hope k sb thik hun gay.
Mah Rabi olawal start ho rha hy sb ko Bohat Mubarak ho is babarkat mahiny ki.
Ek story smj lein mn nay khin perhi to boaht acchi lgi socha k app logon k sath b share ki jayee. Perhiay ager psund ayee to apni rayee zrur dijiay ga.
Kuch bab hn is k kuch din lgin gay cmplte honay mn. So Mods sy requst hay k wo munasib smjin ti sticky kr dein.
Jazak ALLAH khair.
کچھ وضاحتیں کچھ معذرتیں
والٹئیر (1694-1778)کا شمار دورِروشن خیالی کے ان نمایاں ترین لوگوں میں ہوتا ہے جن کے افکار و خیالات پرمغربی تہذیب کی موجودہ عمارت نے اپنی بنیادیں رکھی تھیں ۔ والٹئیر کے زمانے میں پرتگال کے شہر لزبن میں ایک زلزلہ آیا جس کے ساتھ آنے والے سونامی طوفان اور پھر شہر میں پھیلنے والی آگ نے قیامت مچادی۔ لاکھوں کی آبادی کا شہر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ اس سانحے نے یورپ بھر کو ہلا کر رکھ دیا۔ نہ صرف سیاسی، معاشی اور معاشرتی سطحوں پر بلکہ فلسفہ و افکار کی دنیا پر بھی اس تباہی کے زبردست اثرات ہوئے ۔ اس واقعے سے متأثر ہوکر والٹئیر نے پہلے ایک نظم Poem on the Lisbon Disaster اور پھر Candide کے نام سے ایک ناول لکھا۔ اس کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ بے رحم حوادث کی اس دنیا میں مسیحیت کے پیش کردہ کسی ایسے خدا کے تصور کی کوئی گنجائش نہیں جو اس بڑ ے پیمانے پر ہلاکتیں اور عذاب نازل کرتا ہے جس میں بے گناہ اور گناہگار سب یکساں طور پر مارے جاتے ہیں ۔
ابتدا میں والٹئیر کا یہ کام پابندیوں شکار ہوا، مگر جلد ہی اس میں پیش کردہ افکار وقت کی زبان بن گئے اور ایک زمانہ آیا کہ مغربی معاشروں میں خدا کا نام لینا ایک احمقانہ بات بن گئی۔ بعد کے زمانوں میں خدا کا تصور تو کسی نہ کسی طور پر قبول کر لیا گیا لیکن آخرت کا وہ تصور جو خدا کے عدل کامل کا ثبوت اور دنیا میں پائی جانے والی ناہمواریوں کی حقیقی توجیہہ ہے ، کبھی عام نہ ہو سکا۔ والٹئیر ایک مسیحی پس منظر رکھتا تھا جہاں آخرت کے تصورات انتہائی مبہم اور غیر معقول ہیں ۔ اسی لیے وہ اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کا صحیح جواب نہ تلاش کرسکا اور انکار خدا و آخرت کی اس تحریک کا بانی بن گیا جو اب دھرتی کے خشک و تر پر حکمران ہے ۔
خوش قسمتی سے مسلمانوں کے پاس قرآن مجید جیسی کتاب ہے جو یہ بتاتی ہے کہ دنیا کی کہانی کا دوسرا اور آخری باب آخرت ہے جس کے بغیر حیات و کائنات کے بارے میں کسی حقیقت کو درست طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ آج مسلم معاشروں میں یورپ کے دور روشن خیالی کی طرح مذہبی انتہا پسندی اور بے لگام روشن خیالی کے درمیان ایک تصادم برپا ہے ۔ اس تصادم میں قبل اس کے کہ ہماے ہاں کوئی والٹئیر اٹھے ، ناول ہی کی زبان میں انسانی کہانی کے دوسرے اور آخری باب کی کچھ تفصیل قارئین کے سامنے پیش ہے۔
مجھے اس تفصیل کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ اردو ادب کے قارئین عام طور پر جاسوسی، رومانوی، تاریخی اور معاشرتی حوالوں سے لکھے گئے ان ناولوں ہی سے واقف ہیں جو روایتی طور پر ہمارے ہاں لکھے اور پڑ ھے جاتے ہیں ۔ تاہم ناول نگاری کا دائرہ درحقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہوتا ہے ۔ ہر ایک ناول کا پلاٹ، اس کی اٹھان، اس کے کردار، واقعات اور مکالموں کا انحصار ناول نگاری کی اُس خاص صنف پہ ہوتا ہے جس پر وہ ناول مبنی ہوتا ہے ۔ پیش نظر ناول ’’جب زندگی شروع ہو گی‘ ‘ایسا ہی ایک غیر روایتی ناول ہے ۔ مگر غیر روایتی ہونے کے باوجود یہ ایک فکشن ہی ہے ۔ ہر ناول ایک فکشن ہوتا ہے جو تصورات کی دنیا میں امکانات کے گھروندے تعمیر کرتا ہے ۔ تاہم یہ گھروندے ممکنات کے کتنے ہی آسمان چھولیں ، ان کی بنیاد حقیقت کی زمین ہی پر رکھی جاتی ہے ۔ میرا یہ ناول اپنے مرکزی کردار اور اُس کے ساتھ پیش آنے والے متعین واقعات کے لحاظ سے ایک فکشن ہے ، مگر یہ فکشن امکانات کی جس دنیا سے آپ کو روشناس کرائے گا وہ اس کائنات کی سب سے بڑ ی حقیقت ہے ۔ بدقسمتی سے آج یہ حقیقت انسانی نگا ہوں سے پوشیدہ ہے ، مگر اب وہ وقت دور نہیں رہا جب امکانات کی یہ دنیا ایک برہنہ حقیقت بن کر ظاہر ہوجائے گی۔
بات اگر صرف اتنی ہی ہوتی تب بھی اس ناول کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوتا، مگر مسئلہ یہ ہے کہ جلد یا بدیر اس ناول کا ہر قاری اور اس دنیا کا ہر باسی خود اس فکشن کا حصہ بننے والا ہے اور اس کے کسی نہ کسی کردار کو نبھانا اس کا مقدر ہے ۔ یہی وہ المیہ ہے جس نے مجھے قلم اٹھا کر اس میدان میں اترنے پر مجبور کیا ہے ۔
میرا مقصود صرف یہ ہے کہ غیب میں پوشیدہ امکانات کی اس دنیا کو فکشن کے ذریعے سے ایک زندہ حقیقت بنا کر عام لوگوں کے سامنے پیش کر دیا جائے ۔ یہ ایک بہت مشکل اور نازک کام ہے ۔ اس لیے کہ آنے والی اس دنیا کی کوئی حقیقی تصویر ہمارے سامنے نہیں اور نہ اس مقصد کے لیے تخیل کے گھوڑ ے بے لگام دوڑ ائے جا سکتے ہیں ۔ مگر خوش قسمتی سے پیغمبر آخر الزماں علیہ الصلوۃ والتسلیم کی تعلیمات میں ہمیں آنے والی اس دنیا کی وہ تصویر مل جاتی ہے جس کی بنیاد پر میں نے اس دنیا کی ایک منظر کشی کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس عمل میں ناول نگاری کے تقاضوں کی بنا پر مکالمہ نویسی اور تصور آرائی دونوں ناگزیر تھے ۔ تاہم یہ نازک کام کرتے وقت ہر قدم پر پروردگار عالم کی صفات عالیہ سے متعلق قرآنی بیانات اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میرے پیش نظر رہے ۔ پھر بھی یہ ایک نازک معاملہ ہے جس میں سہو کا امکان پایا جاتا ہے ۔ میں اپنے پروردگار سے اس کی شان کریمی کی بنا پر درگزر کی توقع رکھتا ہوں ۔
یہاں قارئین کو میں اپنے اس احساس میں بھی شریک کرنا چاہتا ہوں کہ میں ابتدا میں اس ناول کو عام لوگوں کے لیے شائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں تو بس روز قیامت کے حوالے سے اپنے کچھ احساسات کو الفاظ کے قالب میں منتقل کرنے بیٹھا تھا، مگر دیکھتے ہی دیکھتے اس ناول کے ابتدائی آٹھ ابواب چند ہی دنوں میں مکمل ہوگئے ۔ اس کے بعد انھیں پڑ ھنا شروع کیا تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ جو کچھ لکھا ہے اسے شائع نہیں ہونا چاہیے ۔ البتہ چند احباب کو یہ صفحات مطالعے کے لیے دیے ۔ ان کی رائے مجھ سے نہ صرف قطعاً برعکس تھی بلکہ پڑ ھنے والوں پر اس کے غیر معمولی اثرات ہوئے ۔ ان میں بیشتر کے لیے یہ ایک جھنجھوڑ کر رکھ دینے اور زندگی بدل دینے والا تجربہ تھا۔ ان کا بے حد اصرار تھا کہ اس ناول کو مکمل کر کے شائع کیا جائے ۔
تاہم میں ذہناً اس کی تکمیل پر خود کو آمادہ نہیں کرپا رہا تھا۔ مگر جب احباب کا اصرار بے حد بڑ ھا تو میں نے باقی ناول مکمل کرنے سے قبل استخارہ کرنا شروع کیا۔ اس کے نتیجے میں ذہن ایک دفعہ پھر یکسو ہو گیا اور میں نے ناول مکمل کر لیا۔ احباب کے اصرار پر یہ ناول مکمل تو ہو گیا، مگر اس کی عام اشاعت کے لیے میں پھر بھی تیار نہ تھا۔ مگر ناول کی تکمیل کے چند دنوں بعد مجھے یہ معلوم ہوا کہ ایک مہلک مرض نے وجود ہستی کے دروازے پر موت کی دستک دے دی ہے ۔ اسی وقت یہ حتمی فیصلہ ہو گیا کہ یہ ناول انشاء اللہ اب ضرور شائع ہو گا۔
لوگ مجھے عالم اور ادیب سمجھتے ہیں ، مگر درحقیقت میرے پاس کسی ادیب کا قلم ہے اور نہ کسی عالم کا دماغ۔ میرا کل سرمایہ بس ایک درد دل ہے ۔ یہ درد جب بہت بڑ ھا تو اس ناول کے قالب میں ڈھل گیا۔ اس نازک میدان میں اترنے کے لیے یہی میرا واحد عذر ہے ۔ یہ عذر بارگاہ الٰہی میں مقبول ہو سکتا ہے ، اگر میں کُل عالم کے نگہبان کو اس کی کھوئی ہوئی بھیڑ یں لوٹانے میں کامیاب ہوجاؤں ۔ آج کے دور میں لوگ غیب کی کسی پکار کو سننے کا وقت رکھتے ہیں نہ دلچسپی، مگر شاید یہ فکشن ہی انہیں اپنے رب کی بات سننے کے لیے آمادہ کر دے ۔ شاید اسی طرح خدا کو اس کا کوئی بندہ یا بندی مل جائے ۔ شاید جہنم کی طرف بڑ ھتے ہوئے کسی کے قدم واپس لوٹ آئیں ۔ شاید جنت کی دنیا میں ایک باسی اور بڑ ھ جائے ۔ ایسا ہوا تو یہ میری محنت کا حاصل ہو گا۔
آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائگاں تو ہے
ابویحییٰ
پہلا باب: روزِقیامت
زجنگل، غرض دھرتی کا ہر نشیب مٹ چکا اور ہر فراز ختم ہو چکا تھا۔ دور تک بس ایک چٹیل میدان تھا اور اوپر آمین کے سینے پر ایک سلوٹ بھی باقی نہیں رہی تھی۔ دریا اور پہاڑ ، کھائی اور ٹیلے ، سمندر اور گ اگلتا آسمان۔ ۔ ۔ مگر آج اس آسمان کا رنگ نیلا نہ تھا، لال انگارہ تھا۔ یہ لالی سورج کی دہکتی آگ کے بجائے جہنم کے اُن بھڑ کتے شعلوں کا ایک اثر تھی جو کسی اژدہے کی مانند منہ کھولے وقفے وقفے سے آسمان کی طرف لپکتے اور سورج کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کرتے۔ جہنمی شعلوں کی لپک کا یہ خوفناک منظر اور بھڑ کتی آگ کے دہکنے کی آواز دلوں کو لرزا رہی تھی۔
لرزتے ہوئے یہ دل مجرموں کے دل تھے ۔ یہ غافلوں ، متکبروں ، ظالموں ، قاتلوں اور سرکشوں کے دل تھے ۔ یہ زمین کے فرعونوں اور جباروں کے دل تھے ۔ یہ اپنے دور کے خداؤں اور زمانے کے ناخداؤں کے دل تھے ۔ یہ دل اُن لوگوں کے تھے جو گزری ہوئی دنیا میں ایسے جیے جیسے انہیں مرنا نہ تھا۔ مگر جب مرے تو ایسے ہوگئے کہ گویا کبھی دھرتی پر بسے ہی نہ تھے ۔ یہ خدا کی بادشاہی میں خدا کو نظرانداز کر کے جینے والوں کے دل تھے ۔ یہ مخلوقِ خدا پر اپنی خدائی قائم کرنے والوں کے دل تھے ۔ یہ انسانوں کے درد اور خدا کی یاد سے خالی دل تھے ۔
سو آج وہ دن شروع ہو گیا جب ان غافل دلوں کو جہنم کے بھڑ کتے شعلوں اور ختم نہ ہونے والے عذابوں کی غذا بن جانا تھا۔ ۔ ۔ وہ عذاب جو اپنی بھوک مٹانے کے لیے پتھروں اور اِن پتھر دلوں کے منتظر تھے ۔ آج اِن عذابوں کا ’یوم العید‘ تھا کہ ان کی ازلی بھوک مٹنے والی تھی۔ ان عذابوں کے خوف سے خدا کے یہ مجرم کسی پناہ کی تلاش میں بھاگتے پھر رہے تھے ۔ ۔ ۔ مگر اس میدانِ حشر میں کیسی پناہ اور کون سی عافیت۔ ہر جگہ آفت، مصیبت اور سختی تھی۔ ۔ ۔ اور ان پتھر دل مجرموں کی ختم نہ ہونے والی بدبختی تھی۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------
2nd Part
خبر نہیں اس حال میں کتنے برس۔ ۔ ۔ کتنی صدیاں گزرچکی ہیں ۔ یہ حشر کا میدان اور قیامت کا دن ہے ۔ نئی زندگی شروع ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ کبھی ختم نہ ہونے کے لیے ۔ میں بھی حشر کے اِس میدان میں گُم سم کھڑ ا خالی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہا ہوں ۔ میرے سامنے ان گنت لوگ بھاگتے ، دوڑ تے ، گرتے پڑ تے چلے جا رہے ہیں ۔ فضا میں شعلوں کے بھڑ کنے کی آواز کے ساتھ لوگوں کے چیخنے چلانے ، رونے پیٹنے اور آہ و زاری کی آوازیں گونج رہی ہیں ۔ لوگ ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہے ہیں ، گالیاں دے رہے ہیں ، لڑ جھگڑ رہے ہیں ، الزام تراشی کر رہے ہیں ، آپس میں گتھم گتھا ہیں ۔
کوئی سر پکڑ ے بیٹھا ہے ۔ کوئی منہ پر خاک ڈال رہا ہے ۔ کوئی چہرہ چھپا رہا ہے ۔ کوئی شرمندگی اٹھا رہا ہے ۔ کوئی پتھروں سے سر ٹکرا رہا ہے ۔ کوئی سینہ کوبی کر رہا ہے ۔ کوئی خود کو کوس رہا ہے ۔ کوئی اپنے ماں باپ، بیوی بچوں ، دوستوں اور لیڈروں کو اپنی اس تباہی کا ذمہ دار ٹھہرا کر ان پر برس رہا ہے ۔ ان سب کا مسئلہ ایک ہی ہے ۔ قیامت کا دن آ گیا ہے اور ان کے پاس اس دن کی کوئی تیاری نہیں ۔ اب یہ کسی دوسرے کو الزام دیں یا خود کو برا بھلا کہیں ، ماتم کریں یا صبر کا دامن تھامیں ، اب کچھ نہیں بدل سکتا۔ اب تو صرف انتظار ہے ۔ کائنات کے مالک کے ظہور کا، جس کے بعد حساب کتاب شروع ہو گا اور عدل کے ساتھ ہر شخص کی قسمت کا فیصلہ ہوجائے گا۔
یکایک ایک آدمی میرے بالکل قریب چلایا:
’’ہائے ۔ ۔ ۔ اِس سے توموت اچھی تھی۔ اِس سے تو قبر کا گڑ ھا اچھا تھا۔‘‘
میں اردگرد کی دنیا سے بالکل کٹ چکا تھا کہ یہ چیخ نما آواز مجھے سوچ کی وادیوں سے حقیقت کے اس میدان میں لے آئی جہاں میں بہت دیر سے گم سم کھڑ ا تھا۔ لمحہ بھر میں میرے ذہن میں ابتدا سے انتہا تک سب کچھ تازہ ہو گیا۔ اپنی کہانی، دنیا کی کہانی، زندگی کی کہانی۔ ۔ ۔ سب فلم کی ریل کی طرح میرے دماغ میں گھومنے لگی۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس بھیانک دن کے آغاز پر میں اپنے گھر میں تھا۔ یہ گھر ایک ظاہر بیں نظر کے لیے قبر کا تاریک گڑ ھا تھا، مگر دراصل یہ آخرت کی حقیقی دنیا کا پہلا دروازہ اور برزخ کی دنیا تھی۔ وہ دنیا جس میں میرے لیے ختم نہ ہونے والی راحت تھی۔ اُس روز مجھ سے میرا ہمدمِ دیرینہ اور میرا محبوب دوست صالح ملنے آیا ہوا تھا۔ صالح وہ فرشتہ تھا جو دنیا کی زندگی میں میرے دائیں ہاتھ پر رہا۔ اس کی قربت موت کے بعد کی زندگی میں میرے لیے ہمیشہ باعثِ طمانیت رہی تھی اور آج بھی ہمیشہ کی طرح ہماری پرلطف گفتگو جاری تھی۔ دوران گفتگو میں نے اس سے پوچھا:
’’یار یہ بتاؤ تمھاری ڈیوٹی میرے ساتھ کیوں لگائی گئی ہے ؟‘‘
’’بات یہ ہے عبد اللہ کہ میں اور میرا ساتھی دنیا میں تمھارے ساتھ ڈیوٹی کیا کرتے تھے ۔ وہ تمھاری برائیاں اور میں نیکیاں لکھتا تھا۔ تم مجھے دو منٹ فارغ نہیں رہنے دیتے تھے ۔ کبھی اللہ کا ذکر، کبھی اس کی یاد میں آنسو، کبھی انسانوں کے لیے دعا، کبھی نماز، کبھی اللہ کی راہ میں خرچ، کبھی خدمت خلق۔ ۔ ۔ کچھ اور نہیں تو تمھارے چہرے پر ہمہ وقت دوسروں کے لیے مسکراہٹ رہتی تھی۔ اس لیے میں ہر وقت کچھ نہ کچھ لکھتا ہی رہتا تھا۔ تم نے مجھے تھکا کر مار ہی ڈالا تھا، لیکن ہم فرشتے تم انسانوں کی طرح تو ہوتے نہیں کہ برائی کا بدلہ برائی سے دیں ۔ اس لیے تمھاری اس ’برائی‘ کے جواب میں بھی دیکھو میں تمھارے ساتھ ہوں اور تمھارا خیال رکھتا ہوں ۔‘‘، صالح نے انتہائی سنجیدگی سے میری بات کا جواب دیا۔
جواب میں میں نے بھی اسی سنجیدگی سے پلٹ کر کہا:
’’تم سے زیادہ ’برائی ‘میں نے الٹے ہاتھ والے کے ساتھ کی تھی۔ وہ میرا گناہ لکھتا، مگر میں اس کے بعد فوراً توبہ کر لیتا۔ پھر وہ بے چارہ اپنے سارے لکھے لکھائے کو بیٹھ کر مٹاتا اور مجھے برا بھلا کہتا کہ تم نے مٹوانا ہی تھا تو لکھوایا کیوں تھا۔ آخرکار اس نے تنگ آ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اس شخص سے میری جان چھڑ ائیں ۔ اس لیے موت کے بعد سے اب تم ہی میرے ساتھ رہتے ہو۔‘‘
یہ سن کر صالح نے ایک زوردار قہقہہ لگایا۔ پھر وہ بولا:
’’فکر نہ کرو حساب کتاب کے وقت وہ پھر آجائے گا۔ قانون کے تحت ہم دونوں مل کر ہی تمھیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کریں گے ۔‘‘
یہ بات کہتے کہتے اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی کے آثار نمودار ہوگئے ۔ وہ بولتے بولتے چپ ہوا اور سر جھکا کر ایک گہری خاموشی میں ڈوب گیا۔ میں نے اس کا یہ انداز آج تک نہ دیکھا تھا۔ چند لمحوں بعد اس نے سر اٹھایا تو اس کے چہرے سے ہمیشہ رہنے والی شگفتگی اور مسکراہٹ رخصت ہو چکی تھی اور اس کی جگہ خوف و حزن کے سایوں نے لے لی تھی۔ مجھے دیکھ کر وہ مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا:
’’عبد اللہ! اسرافیل کو حکم مل چکا ہے ۔ خدا کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آ گیا ہے ۔ اہلِ زمین کی مہلت ختم ہوگئی ہے ۔ تم کچھ عرصہ مزید برزخ کے اس پردے میں خدا کی رحمتوں کے سائے میں رہو گے ، مگر میں اب رخصت ہورہا ہوں ۔ اب میں تم سے اس وقت ملوں گا جب زندگی شروع ہو گی۔ تمہاری آنکھ کھلے گی تو قیامت کا دن شروع ہو چکا ہو گا۔ میں اس روز تم سے دوبارہ ملوں گا۔‘‘
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
TO B Continued...........................!!!!
Bhlay Cheen lo muj sy meri jawani.Mager muj ko lota do Bajpan ka sawan.Wo kaghaz ki kashti wo barish ka pani.
Amna Aziz (02-04-2011), bu$hra (02-03-2011), dead_soul (02-17-2011), Dilshah (02-04-2011), diya Imaan (02-10-2011), Fa!th (02-04-2011), farrukhjii (02-04-2011), Gul-e-Nayaab (02-21-2011), KåЙώǻĽ (02-05-2011), l2aaNia (02-04-2011), lucky_boy (03-06-2011), maheen khan (02-08-2011), maxpk (02-19-2011), Muhaddisa (02-03-2011), Nabbas (02-12-2011), nazan (02-04-2011), nimbus (08-15-2011), ѕмαяту ¢αт (02-04-2011), PaArIsh3Y (02-04-2011), R oC k iN (02-03-2011), Roomi719 (02-03-2011), ruby123 (02-04-2011), sadaf nawaz (02-13-2011), Savi Abbas (02-05-2011), shanazi (02-06-2011), STUNNER (02-04-2011), Sukot e Shab (02-05-2011), Sweet Pakistani (02-03-2011), uzma shah (02-03-2011), Talha I (03-05-2011), `BaaRisH` (02-18-2011), ~*AayyaT*~ (02-04-2011), ~*~Raina~*~ (02-04-2011)
WalakumuSalaam!
MaShaAllah bohat achi choice sis!
and ma favorite is : "Tum say zaaad tu buri maine ultay haath walay kay saath ki thi.....woh meray gunnah likhta aur main toba kerta!".....very heart touching and a lesson for all of us
Keep it up and novel ka name kya hai sis?