2
شخصیتوں کا ٹکراؤ
ہم نے اکثر سنا ہے اور دیکھا بھی ہے لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ شخصیتوں کا ٹکراؤ کیوں ہوتا ہے ۔ اصل میں یہ ان الجھی ہوئی شخصیتوں کے درمیان کا قصہ ہے جو اپنے دلائل باطل ہو جانے کے خوف سے انہیں جتوانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بحث میں جیتنا وہ اس لیے چاہتے ہیں تا کہ اپنی جو تصویر انہوں نے اپنے ذہن میں بنا رکھی ہے اس کو تقویت پہنچائی جا سکے ۔ لیکن خیالوں کو اور سایوں کو کوئی بھی تقویت نہیں پہنچا سکتا ۔ اس لیے وہ سارا جھگڑا اور بحث و مباحثہ اکارت جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک آزاد انسان کسی بھی ایسے ٹکراؤ کا شکار نہیں ہوتا ۔ وہ الجھتا ہی نہیں اور کسی سے لڑتا ہی نہیں ۔ کیونکہ اسے کوئی بات پایہ ثبوت تک پہنچانی ہی نہیں ہوتی ۔ یہ اس کی ذمیداری ہی نہیں ہوتی ۔ وہ اپنے خود ساختہ فوٹو گرافوں سے بہت اونچا ہوتا ہے ۔ اگر کوئی شخص غصے سے اس پر چڑھائی بھی کرتا ہے تو بھی وہ خاموش رہتا ہے ۔ اس کو کچھ ہوتا ہی نہیں ۔
غصہ صرف اس وقت حملہ کرتا ہے اور اس وقت تکلیف دیتا ہے جب یہ انسان کی جھوٹی شخصیت اور جھوٹے وجود کو اسٹرائیک کرتا ہے ۔
ایک آزاد انسان کا جھوٹا سیلف ہوتا ہی نہیں ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 574
happygolucky (01-04-2013), Shahid Dayo (01-03-2013)
بحث میں جیتنا وہ اس لیے چاہتے ہیں تا کہ اپنی جو تصویر انہوں نے اپنے ذہن میں بنا رکھی ہے اس کو تقویت پہنچائی جا سکے ۔ لیکن
Insaan ke anaa ka masalaa hojaata hai aur uski aana per thes lagna usse pasand nahin, isliye woh fusool behes kerne lagta hai.
Excellent thought provoking posting as usual. Thank you.
Raizah raizah hai mera aks to hairat hai "Mohsin"
Mera Aaina salamat hai to phir toota kya hai?