0
امانت …. دیانت …. حکومت
جو اپنے اندر دیانت نہیں رکھتا، وہ امانت رکھنے کا اہل نہیں۔
حکومت بھی ایک امانت ہے …. امانت نااہل کے سپرد ہوجائے تو سلامت نہیں رہتی۔ حکومت ….عوام کی طرف سے حکمرانوں کے پاس جمع شدہ چھوٹی بڑی بہت سی امانتوں کا ایک مجموعہ ہوتی ہے۔ یہ امانتیں حقوق کی شکل میں بھی ہو سکتی ہیں۔ مملکت کا حکمران مالک الملک کی منشاء کے مطابق ایک منشی بن کر عوام کی امانتوں کے بہی کھاتوں کی نگرانی کرتا ہے ۔ کسی امانت کو ہڑپ کرنا تو دور کی بات ….امانتوں کی نگرانی سے غفلت کا نام بھی بددیانتی ہے۔
اس طرح ملکی سطح پر نااہل ہونا، بددیانت ہونے کے زمرے میں آتا ہے ۔ خازن ہی اگر خائن ہوجائے تو خزانہ کدھر جائے۔ بددیانت حکمرانوں کے دورِ حکومت میں ملکی خزانہ اُن کے ہاتھوں سے نکلتا ہوا غیر ملکی دسترس میں چلا جاتا ہے…. یوں بددیانتی غداری کی ایک شکل بن جاتی ہے۔ جب بد عنوان ہونا عیب کی بجائے ہنر تصور کیا جائے تو مملکت پر جو تباہی نازل ہوتی ہے، اس کا بس تصور ہی کیا جا سکتا ہے ۔
حکومت کرنا دراصل حکمت کرنا ہے ۔ کسی حکومت کی حکمتِ عملی صرف اس وقت عملی حکمت بن سکتی ہے جب سرمایہ دار، جاگیر دار، سوداگر اور تاجر قسم کے لوگ اختیارات کے منبع و مرکز سے دُور رکھے جائیں ۔ تاجر، مملکت کی تجوری کو تجارت کیلئے استعمال کرے گا …. سوداگر، رعایا کا سودا کر سکتا ہے…. زردار، زور آور ہو کر مزید زر اندوزی کرے گا …. اور جاگیر دار جب کوئی الیکشن یا سیلیکشن جیتنے میں کامیاب ہوجائے گا، تو رعیت کو ہاری تصور کرے گا۔
حکومت کرنا دراصل زیر دستوں کو زبردستوں کے استبداد سے بچانے کا شعبہ ہے ۔ یہ انصاف سے شروع ہوتا ہے اور احسان تک پہنچتا ہے …. زبردستوں کے ساتھ انصاف …. اور زیردستوں کے ساتھ احسان۔ انصاف اُس وقت انصاف نظر آتا ہے، جب یہ اُوپر سے شروع کیا جائے۔
فرماںروائی، دلوں پر فرمان جاری کرنے کو کہتے ہیں۔ دلوں پر جاری ہونے والے فرمان دلوں پر بھاری نہیں ہوتے ۔ حکمرانی حکم چلانے کو نہیں کہتے ۔ حکم چلانے والے کو چِلّانا پڑتا ہے …. یا پھر خود چلنا پڑتا ہے ۔ حکمرانی کا بھرم اپنے مالک کے حکم پر چلنے سے قائم رہتا ہے ۔
(حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللہ علیہ)