21
...........عشق الہی یا محبت الی اللہ.............
عشق اور محبت یوں تو عموما ہم معنی سمجھے جاتے ہیں۔ پر ذرا تحقیق کی جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ دونوں کے درمیان کچھ فرق ہے۔
محبت: یوں تو آج تلک کی تاریخ میں، ہزارہا تعریفات، لفظ محبت کی، کی گئیں، اور کی جارہی ہیں، پر کسی نے محبت کی جامع مانع تعریف نا کی، اور ناہی کسی نے ایسا دعوی کیا۔ اور حق بات یہ ہے کی جن چیزوں کا تعلق ذوقیات سے ہے، انکی تعریف کرنا محال ہے۔ کیونکہ ہر شخص کی طبیعت جدا، اور مزاج منفرد ہے۔ ہاں تعبیرات و تشبیہات میں کوئی قید نہیں۔
جہاں تک میں لفط محبت کی حقیقت کو سمجھ سکا وہ فقط اتنا ہے کہ، محبت ایک ایسا اچھوتا پیار بھرا احساس جو کسی ذی شعور یا غیر ذی شعور، مادّی یا غیر مادّی چیزوں کے چاہت کے حوالے سے دل کے نازک گوشوں میں، اپنی تمتماتی حرارت کے ساتھ محسوس ہوتا ہے۔
یہ وہ جذبہ ہے جو انسان کو انسانیت سے، نیتوں کو اخلاص سے، سچائی کی اسکی حقیقت سے، امنگوں کو انکی بلندی سے، فرائض کو انکے مقاصد سے اور زندگیوں کو انکی حیات ابدی اور بقائے دائمی سے آشنا کرتا ہے۔
محبت کی کیفیتیں بیشمار ہیں۔ محبت میں انسان تکلفات کے دائرے سے نکل کر، اپنی ہستی کی نامعلوم وسعتوں سے روشناس ہوتا ہے۔ خودی کی بلند و بالا فصیلوں کو پھلانگ کر، بےخودی کی باطنی منزلوں تک کا سفر طے کرنا شروع کر دیتا ہے۔ زندگی کا مقصد فقط محبوب کی رضا و خوشنودی کے سواء اور کچھ نہیں رہتا۔
مشہور ہے کہ محبت کثرت سے وحدت کی طرف، اور وحدت سے کثرت کی طرف لے جاتی ہے۔ یعنی محبت کرنے والے کی تنہائیاں جلوہءجاناں کے رنگا رنگ میلوں سے سجی رہتی ہیں، اور اسکی مجالس تذکرہ محبوب سے بھری ہوتی ہیں۔
قبل از محبت، زندگی کی مثال کسی کانٹوں بھری خشک جھاڑ میں الجھی ڈور کی مانند ہوتی ہے، پھر محبت کی خوشگوار باد صباء کا پر افزاء جھونکا، زندگی کی الجھتی کٹتی ڈور کو، مکھن سے بال کی طرح نکال باہر کرتا ہے۔ یا جیسے زندگی کسی ناتجربہ کار قلم کار کی نثر کی طرح بکھری بکھری ہو، اور پھر محبت کے آبیدہ اور مہکتے، معطر خیالات کی پاکیزہ آمد، اس زرہ زرہ بکھری نثر کو، یکایک معرق اور مجلہ شاعری میں تبدیل کر دے۔
عشق: محبت کی مچلتی لو کی گرمجوشی جب شدت اختیار کر لے، اور دھکتی آگ کی لپٹوں کی صورت میں لہرانے لگے تو جان لیں کہ اس شدت کا نام عشق ہے۔
عشق، ایک ایسا جذبہ جو محبت کی راہ میں آنے والے مشکل مراحل کو پار کرنے کیلئے ہمت و قوت دیتا ہے، اور حصول محبت میں عملی تدبیر اختیار کرنے پر اکستا ہی نہیں، بلکہ حدود و قیود سے متجاوز کر کے عملی اقدامات پر مجبور کرتا ہے ۔ یہ محبت کے جذبے کو اتنا قوی تر بنا دیتا ہے کے اسکی تدبیر پر عمل کرنے سے تقدیریں بدل جاتی ہے۔
جو چیزوں کی معارفت محبت میں سمجھ حاصل کے کی جاتی ہے، مقام عشق پر ان چیزوں کی حقیقت جاننے کا دارومدار عقل و سمجھ کے بجائے مشاہدہ پر ہوتاہے۔ یعنی حجاب اٹھ جاتے ہیں، اور عشق آپکو خود دکھا دیتا ہے کے فلاں شئے کی حقیقت یہ یہ ہے۔
عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں
عشق، محبت کو محبوب پر والہانہ نچھاور کرنے کانام ہے۔ جس میں مکان و زمان کی کوئی قید نہیں، طور طریقہ اور وضع قطع سے بیگانہ ہو کر بس معشوق کی یاد میں گرویدہ رہنا۔ محبت میں جستجو باقی رہتی ہے اور عشق میں جستجو کی حاجت باقی نہیں رہتی بلکہ حقیقت راز کو پالیا جاتا ہے، اور انتہائی بلندیوں کی سیر حاصل ہوتی ہے۔
عشق و محبت میں ایک اور فرق ہے۔ وہ یہ کہ محبت میں عالمگیریت ہوتی ہے اور عشق میں وحدانیت۔ یعنی محبت میں محبوب کی ہر ہر ادا محبوب ہوتی ہے، اور محبت، محبوب کو اسکے تمام چاہنے والوں میں کی نظر میں یکساں پسندیدگی و پزیرائی دیتی ہے۔ اس بات کو یوں سمجھ لیں کے محبوب کا انداز تکلم اسکے تمام چاہنے والوں کو محبوب ہوتاہے۔ اور کوئی ایک بھی اس کا انکاری نہیں ہوتا۔
جبکہ عشق میں وحدانیت سے مراد یہ ہے کہ، عاشق کو معشوق کی کوئی ایک بات پسند آجاتی ہے، جو ہوسکتاہے کسی دوسرے کو پسند نا ہو۔ یعنی عشق میں معیار پسندیدگی محدود اور شدت کے ساتھ ہوتاہے۔ جیسے معشوق کی کوئی بات عاشق تو دل و جان سے چاہتا ہے پر بعض لوگ اس فلاں بات پر معترض ہوتے ہیں۔ یہ نام ہے جنون کا اور حقیقت عشق، محبت کا جنون ہی ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کے دونوں میں کون سی چیز ذیادہ معتبر اور افضل ہے، کیوں نے عشق میں ایک قسم کا نقص پایا جا رہا ہے، جو دراصل نقص ہے نہیں۔
میں ایک اہل علم اور اہل بصیرت صاحب دل شخصیت کی مجلس میں بیٹھا تو یہی سوال عرض کیا کہ: حضرت جی، محبت افضل ہے یا عشق؟
حضرت نے جوابا” ارشاد فرمایا کہ، محبت عشق سے افضل ہے، کیوں کی جس کام میں حواس باقی نا رہیں، تو لطف و چاہت کا اندازہ نہیں ہوگا۔ یعنی ایک ایسا گلاس جس میں پانی بھر چکا ہو اور مزید ڈالنے پر وہ چھلک پڑے، اور گلاس کو معلوم ہی نا چلے کے کتنا پانی ڈالا گیا اور کتنا چھلک گیا۔ اور محبت میں انسان منزلیں طے کرتا جاتا ہے اور محبوب کی محبت کی لذت کا مزا اور اسکی چاشنی کو دل میں اتارتا جاتا ہے۔
اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مناجات اور نصائح میں کہیں بھی رب العزت کی ذات سے عشق کا مانگا گیا ہے، اور نا ہی عشق کو طلب کیا گیا ہے۔ وہاں تو ہمیشہ سوال ”حب” یعنی محبت کا کیا گیا ہے۔ محبت ہی مانگی گئی ہے اور محبت ہی عطا کی گئی ہے۔
ہاں یہ الگ بات ہے کی اللہ تعالی کسی کو جذبہء خاص عطا فرما کر بلند مقام دینا چاہیں۔
تو عشق کے بیباکی کے بجائے محبت کا تواضع، مخلوق میں انفرادیت کے ساتھ قبولیت عام بخشے گا۔ دینا میں رہو گے بھی، اس سے فائدہ بی اٹھائو گے اور اللہ کی نعمت کا شکر بھی ادا کروگے، جو بذات خود علامات محبت میں سے ہے۔ البتہ عشق سے مراد ایمان، ایمان کا پہلا جُز حق تعالیٰ کی الوہیت کا اقرار ہے اور اس پر شدت سے یقین ہے تو اتنا تو ہر مئومن مسلمان پر لازم ہے کے وہ حق جل مجدہ سے عشق کرے۔
اس نصیحت کے بعد میری سوچ کی گرہ کھل گئیں، اور آگے کی راہیں جو دھندلی ہو گئی تھیں، شفاف اور واضح نظر آنے لگیں۔ اور میں اس مقام پر پہنچا ہم سب پر اتنا تو لازم ہےکے محبت الہیہ کی طلب میں کی جائے تاکہ حق و باطل کی تمیز ہو۔ اور عشق کے میں مقام معرفت اس درجہ کا ہو کہ ہر نفع کی امید اور ہر نقصان سے بچانے والی ذات فقط و فقط اللہ سبحانہ وتعالٰی ہی ہوں۔
اللہ ہم سب کو محبت الہیہ اور عشق حقیقی سے سرفراز فرمائین۔ آمینوللہ اعلم باصواب
وسلام ، فقط
عمرو
!eo (03-22-2012), *resham* (03-14-2012), Ammy_769 (03-15-2012), anz3611 (03-16-2012), ♛ MASTERMIND ♛ (03-15-2012), Dia_Komal (03-15-2012), dove81 (03-28-2012), komal tariq (03-31-2012), Lost Passenger (03-15-2012), Muhaddisa (05-31-2012), nazan (03-15-2012), innocent pari (03-15-2012), rosana (03-15-2012), Savi Abbas (03-17-2012), seerat123 (03-15-2012), shahida liaquat (03-16-2012), Shamrock (03-15-2012), Hidden_Trigger (03-15-2012)
bohat shukria aapka ke aap ne raay di. aur pasand kia.
thanx a lot
---------- Post added at 11:27 AM ---------- Previous post was at 11:20 AM ----------
bohat shukria aapka ke aap ne raay di. aur pasand kia.
thanx a lot
---------- Post added at 11:37 AM ---------- Previous post was at 11:27 AM ----------
bhai . . ye kia kha diya bahi. .. hum ko loot lia . .. mil ke husan waloon ne. . hahhaha
nahi ji aapke comment se dil khush ho gaya. . garcha aap ne tareef o tuseef fermian.
ager kuch tabsara bhi ho jata tu dil ke armaaan poorey ho jaty.
aap ne qeemti time diya. . .aap ka baoht shukria
thanx tu aapka kahna chahiey. . . kion ke aap ne apna qeemati time dia. .
thanx a lot
---------- Post added at 12:01 AM ---------- Previous post was at 12:00 AM ----------
thanx tu aapka kahna chahiey. . . kion ke aap ne apna qeemati time dia. .
thanx a lot
---------- Post added at 12:02 AM ---------- Previous post was at 12:01 AM ----------
bohat shukira janab ala. .. aapki dua rahi tu lihtey rahian ge.
Allah sehat o aafiet atta fermain.
---------- Post added at 12:04 AM ---------- Previous post was at 12:02 AM ----------
jiagr jab tum ko link doon tu samjh jao ke tumhari side se me onply comliments nahi balke full tabsa chah rah ahon .. tu ek line likho ge tu maza nahi aay ga.
but thanx alot jani.
---------- Post added at 12:05 AM ---------- Previous post was at 12:04 AM ----------
Uroosa ji .. . very nice ke ilawah bhi words hotey hian .. . hahaha. .
thora type ker liya kairan baba.
thanx for ur liking
---------- Post added at 12:05 AM ---------- Previous post was at 12:05 AM ----------
Uroosa ji .. . very nice ke ilawah bhi words hotey hian .. . hahaha. .
thora type ker liya kairan baba.
thanx for ur liking
---------- Post added at 12:06 AM ---------- Previous post was at 12:05 AM ----------
ok janab. . bohat shukria.
امر سب سے پہلے تو دل سے شکرگزار ہوں کے آپ نے نہ صرف میری ایک فرمائش کو سنا بلکے اپنے قلم کی روانی سے اسے اور حسین بھی بنا دیا ہے . یہ بات سچ ہے کے محبّت اور عشق جیسے لافانی جذبوں کو کبھی بھی پوری طریقے سے نہ سمجھا جاسکتا ہے ..نہ ان کے لیےہ لکھا جاسکتا ہے یاں ایسے جذبوں کو لفظوں میں بیان کیا جاسکتا ہے..مگر آپ نے اپنی تحریر میں جس طریقے سے اس خوبصورت اور لافانی جذبے کو بیان کیا ہے وہ تعریف کے لائق ہے.
.ویسے آپ کا لکھا ہر لفظ ایک موتی ہے ..مگر مجھے ایک جملہ بہت ہی خوبصورت لگا اور من میں بس گیا ہے
'محبت میں جستجو باقی رہتی ہے اور عشق میں جستجو کی حاجت باقی نہیں رہتی'
:امر سچی جتنی تعریف کروں کم ہی ہوگی بہت حسین تحریر اور بہت حقیقتوں سے قریب تر جیسے یہ سارے لفظ
عشق: محبت کی مچلتی لو کی گرمجوشی جب شدت اختیار کر لے، اور دھکتی آگ کی لپٹوں کی صورت میں لہرانے لگے تو جان لیں کہ اس شدت کا نام عشق ہے۔
عشق، ایک ایسا جذبہ جو محبت کی راہ میں آنے والے مشکل مراحل کو پار کرنے کیلئے ہمت و قوت دیتا ہے، اور حصول محبت میں عملی تدبیر اختیار کرنے پر اکستا ہی نہیں، بلکہ حدود و قیود سے متجاوز کر کے عملی اقدامات پر مجبور کرتا ہے ۔ یہ محبت کے جذبے کو اتنا قوی تر بنا دیتا ہے کے اسکی تدبیر پر عمل کرنے سے تقدیریں بدل جاتی ہے۔
جو چیزوں کی معارفت محبت میں سمجھ حاصل کے کی جاتی ہے، مقام عشق پر ان چیزوں کی حقیقت جاننے کا دارومدار عقل و سمجھ کے بجائے مشاہدہ پر ہوتاہے۔ یعنی حجاب اٹھ جاتے ہیں، اور عشق آپکو خود دکھا دیتا ہے کے فلاں شئے کی حقیقت یہ یہ ہے۔
عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں
عشق، محبت کو محبوب پر والہانہ نچھاور کرنے کانام ہے۔ جس میں مکان و زمان کی کوئی قید نہیں، طور طریقہ اور وضع قطع سے بیگانہ ہو کر بس معشوق کی یاد میں گرویدہ رہنا۔ محبت میں جستجو باقی رہتی ہے اور عشق میں جستجو کی حاجت باقی نہیں رہتی بلکہ حقیقت راز کو پالیا جاتا ہے، اور انتہائی بلندیوں کی سیر حاصل ہوتی ہے۔
عشق و محبت میں ایک اور فرق ہے۔ وہ یہ کہ محبت میں عالمگیریت ہوتی ہے اور عشق میں وحدانیت۔ یعنی محبت میں محبوب کی ہر ہر ادا محبوب ہوتی ہے، اور محبت، محبوب کو اسکے تمام چاہنے والوں میں کی نظر میں یکساں پسندیدگی و پزیرائی دیتی ہے۔ اس بات کو یوں سمجھ لیں کے محبوب کا انداز تکلم اسکے تمام چاہنے والوں کو محبوب ہوتاہے۔ اور کوئی ایک بھی اس کا انکاری نہیں ہوتا۔
جبکہ عشق میں وحدانیت سے مراد یہ ہے کہ، عاشق کو معشوق کی کوئی ایک بات پسند آجاتی ہے، جو ہوسکتاہے کسی دوسرے کو پسند نا ہو۔ یعنی عشق میں معیار پسندیدگی محدود اور شدت کے ساتھ ہوتاہے۔ جیسے معشوق کی کوئی بات عاشق تو دل و جان سے چاہتا ہے پر بعض لوگ اس فلاں بات پر معترض ہوتے ہیں۔ یہ نام ہے
جنون کا اور حقیقت عشق، محبت کا جنون ہی ہے۔
سویرا جی، پتا ہے کیا؟ میں ہمیشہ یہ بات کہتا ہوں کہ، مجھ سے کچھ نہیں ہوسکتا، پر جو کچھ میں کر آیا ہوں، اس میں کسی نہ کسی کی پر خلوص نیت شامل ہوتی ہے، جسکی بدولت میرے کام تکمیل پا جاتے ہیں۔
ہم میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کے اسکی ایک الگ شناخت ہو۔ ایک انفرادی حیثیت ہو۔ میں جو کروں، وہ بس وہ میں ہی کر سکتا ہوں، اور اس میں کسی کا محتاج نو بنوں۔
سویرا جی، یہ سوچ اچھی ہے، عافیت کی علامت ہے۔ پر یہ بات آپکو اخلاق سے دور کر دیتی ہے۔ لوگوں کے معاملات میں آپ بری طرح ٹھوکر کھاتےہیں، پر اپنی انفرادیت کا سہارا لیکر خود کو قائم و دائم رکھنے میں لگے رہتے ہیں۔
اس عمل میں واقعی آپ خود کو کسی نا کسی درجے میں منوا لیتے ہیں، پر آپکی سوچ محدود اور نتیجہ ایک خاص طبقے کو متائثر کر پاتا ہے۔
جبکہ حسن خلق کے ذریعے آپ تمام عالم کو اپنا گرویدہ بان سکتےہیں۔ چاہے آپ نے اپنے ارادوں میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ حاصل کی ہو۔ پر آپکی سوچ کا دائرہ وسیع اورآپ کے کام میں حسن معاشرت کا پہلو شامل ہوجاتا ہے، اور نتجہ یہ کہ، لوگوں آپ سے اور آپ کے کام سے انسیت محسوس کرتے ہیں ، جو کے لوگوں کے دلوں میں آپکی قدر و محبت کی علامت ہوتا ہے۔
تو یہ جو کچھ میں لکھ پایا ہوں، آپکی خلوص نیت کے ثمرکے سواء کچھ نہیں، ورنہ میں کیا اور میری بساط کیا۔ میں کہاں ایسے جملے لکھنے کا اہل ہوں۔ اور میری کیا اوقات، یہ تو آپ ہیں، جنہوں نے لفطوں کی گہرائی میں جاکر انکا جوہر واضح کیا۔
آپ کو تحریر اچھی لگی، میرا مقصد حل ہو گیا۔ اگر آپ نا کہتی تو میں بھی کہاں لکھ پاتا یہ سب۔ یہ تحریر آپکے نام ہے، اور آپ اسکی مالکہ۔
آپ کا بہت بہت شکریہ۔
---------- Post added at 01:42 PM ---------- Previous post was at 01:41 PM ----------
چاچو، بڑی مہربانی۔ چاچو آپ نےدیا کی، بہت شکریہ۔لمبی عمر کی بہتر اگر آپ عمر میں برکت کی دعا کرتے تو مزید کرم ہو جاتا مجھ پر۔