15
نوٹ: یہ تحریر ایف-کے سے پہلے اک دوٹکے کو فورم پر پوسٹ ہوچکی ہے۔ جنہوں نے وہاں پر پڑھ رکھی ہے ان سے گزارش ہے کے آپ کمنٹس ضرور کریں۔
کبھی کبھی ہم جس بات سے ڈرتے ہیں، وہی وقوع پزیر ہوجاتی ہے۔ اکثر و بیشتر کسی معاملے کے بارے میں اتنا سوچتے ہیں کہ جن باتوں کا ابھی ہونا یا نہ ہونا طے نہیں، ان پر اپنی ناقابل اعتبار سوچوں کی،اور ناقص خیالات کی، جنکی تصدیق و توثیق کا کوئی معیار نہیں، کی گرد جما کر ایک تصوراتی خاکہ تیار کر لیتے ہیں اور اس پر متضاد یہ کہ یقین کی حد تک گمان بھی ہونا لازمی امر شمار ہوتا ہے۔
فرمان رب ذوالجلال ہے کے جس نے مجھ سے جیسا گمان کیا مجھے اپنے ساتھ ویسا ہی پائے گا۔ کیوں کہ ہر امر و نہی کا خالق اللہ ہے، ہم نا چاہتے ہوئے بھی اسکے کار قدرت سے مفر حاصل نہیں کر سکتے۔ ۔ چاہے ہم میں سے کوئی دھریہ و ملحد ہی کیوں نا ہو۔
تو جو بھی ہم گما ن کرینگے وہ خواہ نیک ہو یا بد۔ ۔ ۔ اسکا تعلق اسی ایک وحدہ لاشریک ذات کے ساتھ میکانکی طور پر جڑ جاتا ہے۔
فرمان نبوی صل اللہ علیہ وسلم کا مفہوم ہے کہ اپنے رب کے ساتھ نیک گمان کرو۔
حق بات یہ ہے کہ انسان فطرتی اور طبعی طور پر محتاط واقع ہوا ہے۔ جو کے عین عقل و شعور کے مترادف ہے۔ ہر ہر عمل مے عام طور پر نقصان کا پہلے سوچتا ہے، اور فائدہ بعد میں۔
مثال کے طور پر، ایک شخص کسی میدان یا کھلی جگہ پر ہو اور تشنہ لب اپنی پیاس بجھانا چاہتا ہو۔ اچانک اسکی نظر کسی پانی کے رکھے پیالے پر پڑ جائے تو باجود شدت طلب کے پیاس نہیں بجھائے گا۔ پہلے سوچے گا کہ کہیں اس میں کچھ گر تو نہیں گیا۔ کہین زہر ملا پانی تو نہیں ہے۔ پھر پرکھے گا چکھ کے ، سونگھ کے اور دیکھ کے۔ اللہ کے بندہ پیاسا ہے، جلدی سے پی جا پانی، مگر نہیں۔ جب تک اطمینان حاصل نہیں کر لے گا تب تک کشمکش میں ہی رہے گا۔
یہ تو ہوگئی فطرت۔ ۔ ۔ ایک پہلو ھصرت انسان کا یہ ہے کے وہ فطرتی احتیاط کے بجائے نظائر قدرت پہ معاملات کو تعبیر کرتا ہے۔ گو کے اسکا یہ عمل لائق تقلید نہیں، مگر اسکا حسن ظن معاملات پر غالب ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر ایسا ہی ایک اور پیاسا، پانی کا پیالہ دیکھ، جھٹ ایک لًھے میں فیصلہ کر بیٹھتا ہے کے یہ پانی میرے ہی لئے ہے اور اس سے افادہ حاسل کر کے اپنی پیاس بجھا لیتا ہے۔ قطہ نظر اسکے کے اسے بھی کچھ تحفظات ہوتے ہیں مگر اپنے عمل پر اعتماد اور خوش گمانی اس پر غالب ہوتی ہے۔
جبھی آپ دیکھیں گے کے وہ محتاط شخص پانی پینے کے بعد بھی شکوک ع شبھات میں ہی رہے گا ، کے پتا نہیں ٹھیک کیا یا نہیں۔ ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا، ویسا کرنا چاہئے تھا۔ اور وہ دوسرا شخص جو پر اعتماد ہے وہ اپنا مقصد حاصل کر کے اپنی منزل پر رواں دواں ہو جائے گا۔
فرمان فاروق اعظم ہے کے جو بات ابھی واقع ناہوئی ہو، اسکے بارے میں سوچا بھی فضول ہے، کیوں کے برائی، اپنے ہونے سے پہلے برائی نہیں ہوتی تآنکہ واقع نا ہوجائے۔
تو معلوم ہوا کے ہمارے کاموں میں ہماری نیت اور گمان کس درجہ کی اہمیت کا حامل ہے۔ ہماری تو تعلیم ہی اسچرح کی ہے کے دل کظرات کے کوف سے پاک رہے اور انسان اپنی منزل کی طرف پر اتماد آگے بڑھے۔
فرمان علی کرم اللہ وجہہ ہے کے اپنے بھائی کی ہر بات میں سے نیک گمان مراد لیا کرو، چاہے وہ تمہارے ساتھ برائی کا ارادہ کیوں نا رکھتا ہو۔
تو جس امت کی تعلیم اس درجہ حسن ظن بیداری پیدا کرے وہاں خوف و خطر اور سوئے ظن کی کہاں گنجائش۔
عمل کرتے رہو آگے بڑھتے رہو۔ نیت صاف منزل آسان۔ اور اسطرح کے کئی اقوال ہم سب نے سن رکھے ہیں۔ آپ دیکھئیے ہمارے رب کی محبت و شفقت کا مقام۔ ۔ ۔کے اپنے ہر ہر بندے سے گمان لگا رکھا ہے کے مجھ سے مانگ، میں دونگا، برائی کر کے معافی مانگ، معافی دونگا، اور اسے پتا ہ اک نا اک دن اسکا بندہ آئے گا ضرور، نہیں بھی آیا تو ھشر مین تو آئے گا نا۔ ۔ ۔ جس مقام پر امت محمدیہ پر رحمت کا اسقدر غلبہ ہوگا کے لوگ جن پر گمان کرتے تھے کے یہ فلاں لوگ تو پکّے جہنمی تھے، مگر اللہ ان کو اور ان جیسوں کو اپنے فضل سے جنت میں داخل کر دیگا اور اپنی قدرت اور رحمت واسعہ کو واضح کر دیگا۔ تو وہ بندے جنہوں نے گمان بد کیا ہوگا اللہ کے آگے نادم ہو جائیں گے۔ ۔ ۔ کیوں کی ہم میں برداشت تو ہے نہیں۔ ۔ کسی نے کچھ برا کر دیا تو فورا" اسکے برباد ہونے کی بد دعائیں شروع کر دیتے ہیں۔ ۔ اور بعض تو باقائدہ فتوی مانگتے ہین کے ایسے ایسے بندے کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔
میرے دوستوں! ذرا سوچئے تو، میرے رب نے اپنے اچھے سے اچھے اور برے سے برے بندے سے امید لگا رکھی ہے کے ایک بار آئے تو سہی۔ ۔ ۔ آسودہ نا کرودں تو کہنا۔ ارے جنکا رب ایسا کامل و اکمل ہو اور اسکی صفات و تجلیات کا کوئی ٹھکانہ نا ہو، تو اسکے بندے کیونکر اتنے بد دل ہوں۔ اللہ کی صفات اپنائو یاروں! اللہ غنی کر دیگا۔ کیوں کے اللہ کی رحمت سبقت لے جاتی ہے ہر نیک عمل کرنے والے کے عمل پر۔ وہ اپنی قدرت کی برابری کسی کو نہیں کرنے دیتا، کوئی کرہی نہیں سکتا، تو جب کویئ نیک عمل کا صدور ہوتا ہے تو دربار عالی میں سوال اٹھتا ہے کے کون ہے جس نے میری مخلوق پر رحم کا معاملہ کیا۔ جبکہ ہر ہر بات کی خبر رکھتا ہے پر فرشتوں پر اشرف المخلوقات کی برتری جتانا چاہتا ہے کے تم ایسے نہین ہو جیسے وہ ہیں۔ تو جواب آتا ہے فلاں ابن فلاں۔ تو حکم صادر ہوتا ہے کے اس پر رحمت کی جائے، اور یہی نہیں اسکے والدیں و ابائواجداد کو بھی شامل کر لیا جائے۔ کیوں کے اللہ رب العالمین ہے اور اسکی کی حاکمیت پورے عالم پر محیط ہے۔
کر بھلا،ہو بھلا۔ اپنے کاموں میں اللہ اور اسکے احکام کی رعایت کرنا ہم سب پر لازم ہے۔ ہمارے اس عمل سے ہم اللہ کو اپنے ہر عمل پر نگہبان پائیں گے۔ تو خطرات و وساوس آپ ہی ختم ہو جائیں۔ نتیجتہ" فہم میں نور پیدا ہوجائے گا اور خیالات پاکیزگی کی علامت بن جائےگا۔ اچھی سوچ نیک گمان کا باعث بنے گی۔ نظر اسباب سے ہٹ کر مسبب الاسباب و ارباب پر ہو جائے گی۔ اور اس سے بڑی کیا نعمت ہے کے بندہ اپنے رب کے قریب ہوجائے۔ اور جب بندہ اپنے خالق سے قریب ہو تو کیا مجال کے کوئی شئے اسے نقصان پہینچا سکے۔
ہم اپنے معاملات کو سوچیں، ضرور سوچیں۔ احتیاط بھی کریں۔ سارے عوامل پر نظر رکھیں۔ ممکنات اور ناممکن باتوں کا دیھان بھی رکھیں۔ پر یہ نا ہو کے جو سوچ سمجھ لیا اسکے الٹ ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ بھی نا ہو کے سوچ سوچ کے عمل کرنے کی قوت اور ہمت ہی کھودی، نا ہی یہ کے بلا سوچے سمجھے شتر بے مہار کی طرح خواہشات نفسانی پر عمل پیرا ہو رہے۔
نیک گمان، نیت صاف اور بھی پوری قوت ائر استقامت سے اپنے اوامر کو پایائے تکمیل تاک پہنچائیں اور ساتھ ساتھ دعا کا بھی اہتمام رہے۔ ۔ ۔ انشاءاللہ، اللہ رب العزت ہماری دادرسی فرمائیں گے۔
!eo (02-02-2012), *AFAQ ALI* (02-02-2012), Daniel-7 (02-01-2012), khalid jamil malik (02-02-2012), mr_innocent (02-01-2012), sameen75 (02-04-2012), sarah09 (02-02-2012), Savi Abbas (02-02-2012), seerat123 (02-02-2012), Shab-e-Firaaq (02-03-2012), Zoom (02-01-2012), ~*AayyaT*~ (02-02-2012)
انسان مومن بن جائے
لیکن اللہ اپنے بندے کی اس درجے میں بھی اسے مشکل آزمائیش میں ڈالے گا۔
تاکہ جان سکے کہ اسکا بندہ واقعی ہر حال میں اسے پکارتا ہے یا نہی۔
بہت سے صبر کا دامن چھوڑ کر بھٹک جاتے ہیں۔ سب راکھ ہو جاتا ہے۔
اور کچھ ایک مشکل آزمائیش سے کامیاب ہو کر اپنے گناہ آلود ماضی سے پاک ہو جاتے ہیں۔
یہ زندگی ایک آزمائیش ہے۔
اللہ نے اپنے نبّیوں کو آزمائیش میں ڈالا۔
تو ہم چاہئے جتنے بھی مومن پاک بن جائیں۔ ہمیشہ خود کو بڑی آزمائیش کے لئے تیار رکھیں۔
اللہ سب کے لئےآسانیاں پیدا فرمائے۔ اور ہر آزمائیش میں کامیاب۔
آمین
ٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌزباں سے کہہ دیا لا الا تو کیا حاصلدل و نگاہ جو مسلماں نہی تو کچھ بھی نہی
Hahaha .. hahah .. abay yaar tune Pehle jumle me he likha k Do takay k form se othaye he .. Kaise k form ko gali di khamukha . To ap us form pe kion gaye thay ..do takay k form pe .. Kitne dukh wali bat he yaar .. Tehrer me apne Itni pyari islami bateen kien hen .. Lakin pehle line jo Likhe he .. Uska hum kya samjheen ?
Or Malik Ap nai Malik Allah he .. Har cheaz ka .. Remember it .. ;)
hahahaha. . .ghaltiinsaan se hi hoti he jigar. . .. 2 taky ki yon kaha ke. . pata chal gaya ke 2 taky ki forum he. . . ghalt nahi kaha mene. . . tum joa gge tu tum bhiyehi kaho ge. . .hahahaha
malik se matlab. . mene likhi he. . ab tum malim ul mulk tak baat ley gay tu . . baba. . baat ko ulta samjhna. . tumhari hi shan he. . .hahahahahha
Hahahah .. Me dosron k mehal dekh k apne Jonpri nahi torta .
MEre leye ye bhi ik fun he Fk Fb bhi ik Fun he . Me yahan kaise ki burai ya Kaise ki shan me koi gustakhi nahi karne aya .. Acha time pass he ye .. Bus time pass karta hon .. apni ziban kion kharab karunga .
Anyways apki tehreer achi he .. vip ..
mashallah bohat payari tehreer......!!!!! aap ki yeh rooh ko choo lene wali tehreer parh rahi thi ke aik jumla jo main hamesha sunti aayee hoon bachpan se apne buzrigon se yaad aaya ke...........Allah saien tou nuqte nawaz hai...jane kis ki kiya ada bha jaye mere Rab ko.........!!!!!!!.toba, shukar aur dua aise zariyeh hain joooooooo har baat ko mumkin bana sakte hain!!!!!!!keep spreading positivity through your words and thoughts!!!! Allah saien bless you!!!!!! thanksssssssssssssssssssss