Meray Nana jaan ki aik ghazal
کرم نہیں 'نہ سہی' بے رخی سے کام نہ لو
قصورِ عرضِ تمناّ کا انتقام نہ لو
ملو جو دل سے تو پھر مزا ہے ملنے کا
بڑآ کرم ہو اگر مصلحت سے کام نہ لو
مرے خلوص میں بھی ہے تمھیں تلاشِ فریب
مری وفاؤں کا یوں مجھ سے انتقام نہ لو
جو ملتے خضر تو میں یہ ضرور سمجھاتا
کہ زیست مانگ کے تم کُلفتِ دوام نہ لو
مجھے ڈر ہے مرا حوصلہ نہ بڑھ جاۓ
خفا ہو مجھ سے تو ہنس کر سلام نہ لو
دل نہیں کرتا
ہاتھ نہیں لکھتے
وقت نہیں ملتا
غم نہیں مٹتے
پھر اداسی ہے
موسم گلابی ہے
برف نہیں پگھلتی
ہنسی نہیں آتی
لفظ ساتھ نہیں دیتے
الجھن سی رہتی ہے
کاغذ پر حا شیے
کھینچنے کو دل کرتا
دل تو کرتا ہے کچھ لکھوں
مگر
بے ترتیب سا
کوئ اچھوتا