




تہمت راہ میں پڑےاُس کانٹے کی مانند ہوتی ہے جو چُبھتے ہوئے یہ نہیں دیکھتا کہ پاؤں نیک راہگزر کا ہے یا بَد کا!! ۔۔۔
TUHMAT Raah meiN parray Uss Kantay ki manind hoti hai Jo chubhtay huye yeh nahi Daikhta k Pao'N Naik RahGuzar ka hai ya Badd Ka ... !!!
نظم **
تم سچے برحق سائیں
سر سے لیکر پیروں تک
دنیا شک ہی شک سائیں
تم سچے برحق سائیں
اک بہتی ریت کی دہشت ہے
اور ریزہ ریزہ خواب مرے
بس ایک مسلسل حیرت ہے
کیا ساحل، کیا گرداب مرے
اس بہتی ریت کے دریا پار
کیا جانے ہیں کیا کیا اسرار
تم آقا چاروں طرف کے
اور مرے چار طرف دیوار
اس دھرتی سے افلاک تلک
تم داتا، تم پالن ہار
میں گلیوں کا ککھ سائیں
تم سچے برحق سائیں
سر سے لیکر پیروں تک
* غزل *
مرے ہم نفس، مرے ہم نوا، مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
میں ہوں دردِ عشق سے جاں بلب مجھے زندگی کی دُعا نہ دے
میں غمِ جہاں سے نڈھال ہوں کہ سراپا حزن و ملال ہوں
جو لکھے ہیں میرے نصیب میں وہ الم کسی کو خُدا نہ دے
نہ یہ زندگی مری زندگی، نہ یہ داستاں مری داستاں
نظم **
کتنا سہل جانا تھا
خوشبوؤں کو چُھو لینا
بارشوں کے موسم میں، شام کا ہر اِک منظر
گھر میں قید کر لینا
روشنی ستاروں کی، مٹھیوں میں بھر لینا
کتنا سہل جانا تھا
خوشبوؤں کو چھو لینا
جگنوؤں کی باتوں سے، پھول جیسے آنگن میں
روشنی سی کر لینا
اس کی یاد کا چہرہ، خواب ناک آنکھوں کی
جھیل کے گلابوں پر، دیر تک سجا رکھنا
کتنا سہل جانا تھا
اے نظر کی خوش فہمی! اس طرح نہیں ہوتا
تتلیاں پکڑنے کو
تم یہ کہتے ہو اب کوئی چارہ نہیں
تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی
جس میں رکھا نہیں ہے کسی نے قدم
کوئی اترا نہ میداں میں، دشمن نہ ہم
کوئی صف بن نہ پائی، نہ کوئی علم
منتشرِ دوستوں کو صدا دے سکا
اجنبی دُشمنوں کا پتا دے سکا
تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چُکی
جس میں رکھا نہیں ہم نے اب تک قدم
تم یہ کہتے ہو اب کوئی چارہ نہیں
جسم خستہ ہے، ہاتھوں میں یارا نہیں
اپنے بس