انصاف کا قتل
لوکانہ

ایک بار ایک بادشاہ جوانوں کے لنگر خانے گیا۔ صفائی ستھرائی چیک کی‘ درست تھی۔ پھر اس نے پوچھا کہ جوانوں کے لیے کیا پکایا ہے۔ جواب ملا بتاؤں یعنی بیگن۔ بادشاہ سخت ناراض ہوا کہ جوانوں کے لیے اتنا گھٹیا کھانا کیوں پکایا گیا ہے۔ اس کے مشیر نے بیگن کی بدتعریفی میں زمین آسمان ایک کر دیے۔ بہر کیف لنگر کمانڈڑ نے معذرت کی اور آئندہ سے بیگن نہ پکانے اور اچھا کھانا پکانے کا وعدہ کیا تو بادشاہ لنگرخانے سے رخصت ہو گیا۔
کچھ وقت گزرنے کے بعد بادشاہ کو دوبارہ سے جوانوں کے لنگرخانے جانے کا اتفاق ہوا۔ سوئے اتفاق اس روز بھی بیگن پکائے گئے تھے۔ بادشاہ نے بیگن کی تعریف کی۔ وہ ہی مشیر ساتھ تھا اس نے بیگن کی تعریف میں ممکنہ سے بھی آگے بیگن کے فوائد بیان کر دیے۔ گویا بیگن کے توڑ کی کوئی سبزی اور پکوان باقی نہ رہے۔ لنگر کمانڈر خوش ہوا اور آگے سے بیگن کے برابر اور متوار پکائے جانے کا وعدہ کیا۔
بادشاہ اس مشیر کی جانب مڑا اور کہنے لگا کہ اس دن میں نے بیگن کی بدتعریفی کی تو تم نے بیگن کی بدتعریفی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ آج جب کہ میں نے تعریف کی ہے تو تم نے بیگن کی تعریف میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی‘ کیوں۔
اس نے جوابا کہا حضور میں آپ کا غلام ہوں بیگن کا نہیں۔
یہ سن کر بادشاہ نے کہا تم سے جی حضوریے حق اور سچ کو سامنے نہیں آنے دیتے جس کے سبب صاحب اقتدار متکبر ہو جاتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان سے انصاف نہیں ہو پاتا۔ انصاف کا قتل ہی قوموں کے زوال کا سبب بنتا ہے۔
پہلے تو وہ جی حضوریہ چپ رہا پھر کہنے لگا حضور جان کی امان پاؤں تو ایک عرض کروں۔
بادشاہ نے کہا: کہو کیا کہنا چاہتے ہو۔
حضور سچ اور حق کی کہنے والے ہمیشہ جان سے گئے ہیں۔
بادشاہ نے کہا: یاد رکھو سچ اور حق جان سے بڑھ کر قیمتی ہیں۔ مرنا تو ایک روز ہے ہی سچ کہتے مرو گے تو باقی رہو گے۔ ہاں جھوٹ کہنے یا اس پر درست کی مہر ثبت کرنے کی صورت میں بھی زندہ رہو گے لیکن لعنت اور پھٹکار اس زندگی کا مقدر بنی رہے گی۔