All Pakistani Dramas Lists
Latest Episodes of Dramas - Latest Politics Shows - Latest Politics Discussions

View RSS Feed

(((((Auspicious)))))

-=[]=altaf hussain ki ek or bhyanak sazish=[]=-

Rate this Entry
      
   
ہم گلی میں داخل ہوئے تو ایک سفید ریش بزرگ سامنے آئے۔ معراج بھائی نے انہیں ”السلام علیکم“ کہتے ہوئے مجھے بتایا: ”یہ علی رشید کے والد ہیں۔“ ان کا نورانی چہرہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ ایسی طمانیت کہ یقین نہ آیا یہ وہی باپ ہے جس نے صرف دو دن پہلے گہرا زخم سہا ہے۔ ابھی نماز میں کافی وقت تھا لیکن لاٹھی ٹیکتے ہوئے کہا: ”بیٹا! میں مسجد جارہا ہوں۔ آپ لوگ بیٹھیں، میں نماز پڑھ کر آتا ہوں۔“

چند لمحے بعد ہم اس تعزیتی کیمپ میں پہنچے جہاں علی رشید کے لیے فاتحہ پڑھی جارہی تھی۔ علی رشید کے بھائی انوارالحق سے تعزیت کے بعد مختصر گفتگو ہوئی۔ کہنے لگے: ”ہم سات بھائی ہیں۔ علی رشید سب سے بڑے تھے۔ ان کی عمر تقریباً 42 سال تھی۔ ان کے چار لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں۔“ ایک گوری رنگت والے معصوم صورت بچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انوارالحق نے کہا: ”یہ سامنے ان کا سب سے چھوٹا بیٹا ہے۔ اس کی عمر 9 سال ہے۔“ بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ”بھائی ٹرانسپورٹ کاکام کرتے تھے۔ کل اخبار میں آیا ہے کہ ان کا تعلق اے این پی سے تھا۔ حالانکہ ہمارا کبھی کسی سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں رہا، بلکہ آج تک پورے خاندان نے کسی پارٹی سے کبھی راہ رسم نہیں رکھی۔ یہ تو قسمت تھی جو انہیں وہاں لے گئی۔“

انوار الحق نے بتایا: ”جس شام کو انہیں فائرنگ سے شہید کیا گیا، وہ گھر سے چند میٹر کے فاصلے پر تھے۔ ہم نے دو مرتبہ انہیں پیغام بھجوایا کھانا تیار ہے، جلدی آجائیں۔ جب کچھ دیر گزری، نہ آئے تو میں نے فون کیا، کہنے لگے: ”پڑوس والے کی گاڑی جلی ہے، میں اس سے اظہارِ افسوس کرکے پہنچ رہا ہوں، کھانا ساتھ کھائیں گے۔“ابھی چند لمحے بھی نہ گزرے تھے کہ فائرنگ کی تڑتڑاہٹ شروع ہوگئی۔ یہاں فائرنگ کے ایسے واقعات ہونا کوئی نئی بات نہیں، اس لیے یہ ہمیں متوجہ نہ کرسکی، لیکن تھوڑی دیر بعد بچے بھاگ بھاگ کر آئے اور بتانے لگے کسی نے چچا کو ماردیا ہے۔ جب ہم باہر گئے تو بڑا ہولناک منظر تھا۔ لوگ سڑک پر دیوانہ وار بھاگ رہے تھے۔ گلیوں کے اندر ایک دوسرے پر گر پڑ رہے تھے۔ سامنے دیکھا تو کئی لوگ پڑے کراہ رہے تھے۔ فائرنگ کرنے والی موٹر سائیکلیں اب بھی بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ آگے بڑھ بڑھ کر فائر کررہی تھیں۔ ہم قریب پہنچے تو بھائی کی حالت تشویش ناک نظر آئی۔ ان کے سینے اور ماتھے پر گولیاں لگی تھیں۔ خون کے فوارے پھوٹ رہے تھے۔ ہم نے جلدی جلدی تمام زخمیوں کو قریبی ”سوشل سیکیورٹی ہسپتال“ پہنچایا۔ باقی زخمیوں کی حالت قدرے بہتر تھی، مگر جب ڈاکٹر نے میرے بھائی کو دیکھا تو کہا حالت خطرے سے خالی نہیں، جتنی جلدی ممکن ہو انہیں جناح ہسپتال پہنچادیں۔ چنانچہ انہیں ایمبولینس میں ڈال کر لے جانے لگے، لیکن ابھی کورنگی بھی نہ پہنچے تھے کہ ان کی آنکھوں سے روشنی ختم ہوگئی اور وہ ہمیں اور ہمارے آخری دسترخوان کو چھوڑکر اس دنیا سے چلے گئے۔“

2 اگست کی شام کیا کیا قیامتیں ڈھاگئی ہے۔ دلوں کو توڑنے اور ذہنوں کو جھنجھوڑنے والے واقعات اہل وطن روز دیکھتے ہیں لیکن ایسی کسمپرسی اور بے بسی جو وحشت اور دہشت کی تمام علامتیں عبور کررہی تھی۔ ایسی فضا جو عراق وافغانستان کا خاصا تھا یا پھر ایسی درندگی کشمیر میں دیکھی جاسکتی تھی۔ آج کی شام اہلِ کراچی کھلی آنکھوں سے ان مناظر کا مشاہدہ کررہے تھے جس کا تصور روح فرسا ہے۔

وہ ”محافظ“ قابلِ دید تھے جو اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے۔ ان پر بھی افسوس ہورہا تھا جو فرائض کی ”انجام دہی“ میں مصروف تھے اور خوف ودہشت سے ان کے چہرے سیاہ پڑچکے تھے۔ رینجرز کے وہ اہلکار بھی رحم کے قابل تھے جن کی گنوں کے رخ زمین کی طرف تھے۔ ان کے سامنے گلی محلوں سے مسلح نوجوان نکل کر تاک تاک کر ماررہے تھے۔ شاہراہوں اور سڑکوں پر ایسے دندنا رہے تھے گویا قوانین کا خاتمہ کردیا گیا ہو۔ جو بس اور ٹرک سامنے آیا، اسے بھون کر رکھ دیا۔ موچی، ڈرائیور، ٹھیلے والا، شکرقندی بیچنے والا اور چوکیدار آج خصوصی ہدف تھے۔ آج کے دن پشتو بولنے والا ہر ایک ”اے این پی“ کا ”کارکن“ بن چکا تھا۔ کس میں ہمت، کس میں طاقت کہ وہ آگے بڑھے، ”نامعلوم“ افراد کا ہاتھ روک لے۔ پورے شہر میں بلیک آﺅٹ کی چادر تنی تھی۔ اسٹریٹ لائٹس تک بجھادی گئی تھی۔ چلنے والی گاڑیوں کی لائٹیں گن پوائنٹ پر بند کروائی جارہی تھیں۔

کسی کے ہاتھوں میں دستانے تھے نہ چہروں پر نقاب۔ سب نظر آرہا تھا لیکن پولیس اور رینجرز کے لیے حکم تھا مشتعل افراد کو نہ چھیڑا جائے، لہٰذا وہ بیچارے ”کلمے“ کے ورد پر ہی گھڑیاں گن گن کر گزار رہے تھے۔ یہ امن وامان کو بحال رکھنے والے وہی ادارے ہیں جن کے لیے بجٹ میں 52 ارب روپے رکھے گئے تھے۔ یہ وہی پولیس تھی جس کے بجٹ میں اس سال 41 فیصد اضافہ کیا گیا۔ علی رشید کو جہاں ٹارگٹ کیا گیا، پولیس اسٹیشن اس سے چند میٹر کے فاصلے پر ہی ہے۔

یہاں ہر وقت بیسیوں کی تعداد میں پولیس اہلکار موجود رہتے ہیں۔ پھر آبادی کے اندر دہشت گرد کیسے آگئی؟ وہ دیر تک کیسے دندناتے رہے اور اپنا ہدف پورا کرکے کہاں غائب ہوگئی؟ اس کی تحقیق کی زحمت گوارا کی گئی نہ ہی یہ ہماری روایات کا حصہ ہے۔ دلاسا دلانے کے لیے وفاقی وزیر داخلہ کل تشریف لائے اور یہ ”خوشخبری“ سنائی ہے کہ اب دہشت گردوں کو دیکھتے ہی گولی ماردی جائے۔ گویا پہلے دہشت گردوں کو دیکھ کر سلام کرنے کے احکامات تھے۔ نہ ہوتے تو یقینا یہ کچھ نہ ہوتا۔ کیا ستم ظریفی ہے ملک صاحب کتنی آسانی سے کہہ دیتے ہیں۔ 86 افراد کی جانیں چلی گئیں۔ کہنے کو 86 افراد، لیکن 86 کے قتل عام کا مقصد 86 خاندانوں کی تباہی ہے۔ سینکڑوں لوگوں کی بربادی ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے: ”ہمارے لیے ہر شہری کی جان اتنی ہی عزیز ہے جتنی کسی بڑی شخصیت کی۔“ اگر یہ سچ ہے تو چند ہی گھنٹوں میں مرنے والے 34 بے گناہوں کی لاشوں کی خبر ان کے کانوں تک کیوں نہ پہنچی؟ اس پر اسی وقت ایکشن کیوں نہ لیا؟ اگر ان کی بات حقیقت پر مبنی ہے تو دوسرے دن مرنے والے 21 معصوموں کی اموات پر بھی وہ کیوں خاموش رہے؟ ستم دیکھیے جب تک وہ کراچی تشریف لارہے تھے تب تک چوکیدار، موچی اور ٹھیلے والی ”عزیز“ جانوں کی تعداد 86 تک پہنچ چکی تھی۔ اگر ملک صاحب کے لیے واقعی ہر شہری کی جان اتنی ہی عزیز ہے جتنی کسی بڑی شخصیت کی، تو جب وہ کراچی آئے، کسی ایک چوکیدار، مزدور، ڈرائیور یا ٹھیلے والے کے گھر گئے؟ جس طرح رضا حیدر کے بیٹے کو گلے لگایا، کیا کسی ایک کے لواحقین کے سر پر ایسے ہاتھ رکھا؟ کسی ایک کے بیٹے کو دلاسا دیا؟ اس صورتِ حال میں میڈیا کا کردار بھی انتہائی مایوس کن رہا۔ جس طرح رضا حیدر کا قتل قابل مذمت تھا۔ کوئی شخص اس کی تعریف نہیں کرسکتا۔ کوئی اس پر خوشی کا اظہار نہیں کرسکتا، اسی طرح ایک شکرقندی بیچنے والے اور ٹیکسی ڈرائیور کی موت پر بھی اتنا ہی افسوس کرنا چاہیے۔ میرا موبائل میڈیا سے شکوﺅں اور گلوں پر مبنی پیغامات سے بھرا پڑا ہے۔

اہلِ کراچی سراپا سوال ہیں کیا یہ وہی میڈیا ہے جو رائی کا پہاڑ بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ جو ایک جعلی ویڈیو پر آسمان سر پر اُٹھالیتا ہے۔ جس کو اس بات پر فخر ہے کہ پرویز مشرف کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا سہرا اس کے سر ہے۔ جو عدلیہ کی آزادی کے لیے ہر طوفان سے ٹکرانے کا علم بلند کیے ہوئے تھا؟ جس کا کہنا تھا ”ایسے دستور کو، صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا۔“ سب حیران ہیں پرویز مشرف سے ٹکرانے والے میڈیا کو آج کیا ہوگیا تھا؟

قوم، خصوصاً اہل کراچی کبھی اس جرم کو معاف نہ کریں۔ آپ اس سے اندازہ لگائیں کہ ایک معاصر نے صرف ایک رات میں 34 افراد کے بہیمانہ قتل عام کو اہمیت نہ دی اور نہ ہی ان اموات کو اس واقعے کا ردِعمل سمجھا۔ ایسا لگ رہا تھا 34 افراد کی ہلاکتیں انسانوں کی نہیں، شکار کیے جانے والے پرندوں کی ہیں۔ اس کی سرخی تھی: ”کراچی میں فائرنگ، متحدہ کے ایم پی اے رضاحیدر شہید، دیگر واقعات میں 34 افراد جاں بحق۔“ کیسا ستم ہے ایک شہید کہلائے اور دوسرا ہلاک۔ ستم بالائے ستم! تین دن تک ظلم وستم کا بازار گرم رہا۔ سینکڑوں دکانیں جلائی گئیں۔ اسلحے کے زور پر مارکیٹیں بند کروائی گئیں۔ چائے کے ہوٹل جلائے گئے۔ چوکیداروں کو قتل کیا گیا۔ مزدوروں کو ستم کا نشانہ بنایا گیا لیکن کسی چینل سے آواز نہیں اُٹھی۔ کسی نے دہائی نہیں دی کہ بڑے بدقسمت ہیں وہ لوگ جو ڈرائیور، چوکیدار اور ٹھیلے والے کو صرف اس لیے موت کے گھاٹ اُتاررہے ہیں کہ ان کی زبان وہ ہے جس کی حامل ”اے این پی“ ہے۔ کسی نے نہیں بتایا اے این پی کی خونی سیاست سے کسی موچی، ڈرائیور اور ٹرانسپورٹر کا کیا تعلق! یہ تو اپنے بیوی بچوں اور علاقوں کو چھوڑکر پیٹ کی آگ بجھانے آئے ہیں۔ یہ تو اپنی آرزوﺅں اور تمناﺅں کا خون کرکے اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے یہاں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ یقینا علی رشید سمیت یہ 90 مقتولین کل قیامت کے دن جہاں قاتلوں سے اپنا بدلہ لیں گے وہیں ان لوگوں کا گریبان بھی ضرور پکڑیں گے جن کی معمولی مہم پر اقتدار کے ایوانوں میں زلزلے بپا ہوجاتے ہیں۔ جن کی ایک خبر سے طوفانوں کے رُخ بدل جاتے ہیں۔ یقینا وہ دن آنے والا ہے۔




آپکو پتا لگا کھ يھ سب گيم کيا کھيلا گياھے؟

ايم کيوايم اور گوونمنٹ کي ملي بھگت سے
پہلےعام پشتو بولنے والےغريب عوام کو مارا گيا
تاکھ "اے اين پي" کو بھڑکايا جاسکے
اور يھ بات حقيقت ہے کھ جزباتي پن کي وجھ سے اےاين پي ، ايم کيوايم کي اس چال کو نا سمجھ سکي
اور اسطرح ايم کيوايم کا قائد الطاف (دجال) اپني شاطرانھ سوچ سےاس بار اے اين پي کو اتنا بھڑکايا جب وہ سڑکوں پر آئے تو اچانک سے آپريشن کي تيارياں شروع، جسکےلئے وہ کئي سالوں سےسرکرداں تھے۔

اس سے يھ بات بھي کھل کر سامنے آگئي کھ ايم کيو ايم کے ايم پي اے کا قتل اے اين پي نے نہيں بلکھ خود الطاف کي گہري سازش کا نتيجھ ھے ، جسطرح ماضي ميں عظيم احمد طارق اور کئي کارکنان کےساتھ خون کي ہولي کھيلي جاتي رہي ھے۔
Categories
Uncategorized

Comments

Log in