All Pakistani Dramas Lists
Latest Episodes of Dramas - Latest Politics Shows - Latest Politics Discussions

View RSS Feed

perfect stranger

کراچی 2050 : سچی کہانی

Rate this Entry
      
   
کراچی 2050
رات کے بارہ بجتے ہیں آسمان دھماکوں گولیوں کی آوازوں سے گونج اٹھا۔۔ ہر طرف شور تھا۔ ۔

گھر کے بزرگ دادا ابو آرام فرما رہے تھے۔ اس شور سے وہ ہڑبڑا کر ا ٹھ بیٹھے۔ پریشان ہو کر بہوکو پکارا۔۔۔ ارے بٹیا کیا ہوا۔۔۔۔ یہ کیسا شور ہے۔ ۔ کیا پھر سے ہنگامے شروع ہوگئے۔ ؟؟؟

لیکن اس سےپہلے ہی ان کے پوتے پوتیوں نے انہیں اپنےگھیرے میں لے لیا۔ اور سب نے یک زبان ہو کر انہیں نئے سال کی مبارک باد دی۔ چھوٹےمنے نے توتلی زبان میں کہا۔ دادا ابو نیا سال مبارک ہو۔ یہ نئے سال کاجشن ہے۔

دادا ابو کوجب اس سارے ہنگامے کی وجہ پتہ چلی تو اپنے پوتے پوتیوں کو بانہوں میں لے کر انہیں دعائیں دینے لئے۔

چھوٹے منےمیاں نے پھر توتلی زبان میں پوچھا۔۔۔ داداابو جب آپ چھوٹے ہوتے تھے تو آپ بھی نیاسال مناتے تھے۔۔۔۔

دادا ابو نےمنے کو بوسہ دیا۔۔۔ اور ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ ۔۔

آو بیٹا سب میرے پاس بیٹھو۔۔۔ میں تمہیں تمہارے اس پیارے شہر کی سچی کہانی سناتا ہوں۔ بیٹا یہ کوئ اتنی پرانی بات تو نہی۔ میرے بچپنے سے جوانی تک ہر روز اس طرح کے دھماکوں اور گولیوں کی آوازیں آتی تھیں۔ لیکن یہ آوازیں خوشی نہی غم اور دکھ کا پیغام ہوتی تھیں۔

اس زمانے کےایک فرعون خدا نے اس شہر کے باسیوں کاجینا حرام کررکھا تھا۔ ملک دشمنوں کے ساتھ مل کر اس نے پاکستان کے اس خوبصورت شہر جسے روشنیوں کا شہر کا نام دیا گیا تھا کوآگ کا دریا بنا دیا تھا۔ قوم پرستی کےنام سے پارٹی بنا کر اس نے پنجابی ، پٹھان، بلوچ اور سندھی بھائیوں سے نفرت کی جنگ شروع کی۔ انہیں اغواہ کرتے تھے پھر اذیت دے کر بوری میں ڈال کر ان کے علاقوں میں پھینک آتے تھے۔ اور یہی نہی اپنے ہم زبانوں کو بھی جو ان کا ساتھ نہی دیتے تھےکا بھی یہی حشر کرتے تھے۔ بیٹا بہت ہی ظالم اور صفاک لوگ تھے وہ۔ نہ ان کا مذہب تھا اور نہ ہی ان میں انسانیت تھی۔ اورانہی لاچار ہم زبانوں کو ڈرا دھمکا کر الیکشن جیت کر ان پر حکمران بھی بن بیٹھے تھے۔ اب بیٹاجب ایک مجرم حکمران بن جائے تو پھر سائل کس کے پاس جائے والی صورتحال تھی۔ ان ناسوروں سے چھٹکارا پانا بہت مشکل ہو چکاتھا۔ بیٹا ہم ہر مہینے انہیں بھتہ دے کردال روٹی چلائے ہوئے تھے۔ بس حال یہ تھاکہ رب سے دعا کے علاوہ کچھ نہی کرسکتےتھے۔

بس بیٹا پھرلوگوں کی آہیں سسکیاں اور دعائیں رنگ لائیں۔ اللہ نے اس فرعون جس کا نام الطا ف تھا۔ اور جو کالی ماتا کے نام سےجانا جاتا تھا کو ایک لاعلاج بیماری نےآلیا۔۔۔ لیکن بیٹا حیرت ہوئی مجھے اس وقت پر جب اس کے پوجاری اس کی صحت کی دعا رب سے کرتے تھے۔

اللہ کس طرح ایک ظالم انسان اور اس کے فسادی پوجاریوں کی دعا سنے گا۔۔ اللہ تو ایسوں کی رسی دراز کرکے انہیں عبرت کا نشان بنا دیتا ہے۔ ایسے فسادیوں کے لئے قرآن میں جلاوطن کرنے کی بھی سزا ہے۔ اور یہ سزا رب نے اسے ملک سے جلاوطن کرکے دے دی تھی۔ لیکن وہ ابلیس کا پیروکار پھر بھی باز نہی آیا۔۔

بہت جلد وہ فرعون اس بیماری سے مر گیا۔ اور اس کے پوجاری پارٹی کی سربراہی کی خاطر آپس میں ایسے دست و گریباں ہوئے کہ ایک دوسرے کی بو ریاں بنانے لگے۔ کچھ مارے گئے اور بہت سے ملک سے فرار ہوگئے۔

ملک اور اس شہر کے عوام نے سکھ کا سانس لیں۔ مہاجر ، سندھی ، پنجابی اور بلوچوں نے ایک دوسرے کو گلے سے لگا لیا۔۔۔۔

بیٹا آج ا س فرعون کا کوئی نام لیوا نہی۔ کوئی پتہ نہی کہ اس کی قبر کہاں ہے۔ اسے ملک کی مٹی تک نصیب نہی ہوئی۔

میں نے دکھ اور غم میں آنکھ کھولی ۔ لیکن آج میں خوش ہوں کہ میری نسل سکھ چین میں خوشی منا رہی ہے۔

دادا ابوعشکبار آنکھوں سے مسکرا رہے تھے۔۔۔۔ بچوں کو سنجیدہ دیکھ کر انہوں کہا۔۔۔ ارے میرے حصے کے پٹاخے کہاں ہیں۔ آوآج مل کر خوشی منائیں۔ اور پھر گھر کی چھت ٹھا ٹھا ٹھا۔۔۔ کی آوازوں سے گونج اٹھی۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد
Categories
Uncategorized

Comments

  1. Muhammad Khan's Avatar
    Allah kare 2050 may aysa hi ho. Warna Feroan koi aik tori tha, aik mrta to dosra peda hojata . Allah kare Feroan ke sath onki pujari bhi neest o nabood ho jaye. Aur is mulk se is nasoor ka khatma mumkin ho jin ki zehno may taghasub, lesaniyat aur mulk dushmani ke taghaffun ke seva aur kuch nahi .

Log in