All Pakistani Dramas Lists
Latest Episodes of Dramas - Latest Politics Shows - Latest Politics Discussions

View RSS Feed

perfect stranger

جیسی عوام ویسے ہی حکمران ۔ ۔ خود کو بدلنا ہوگا

Rate this Entry
      
   

ہیلو ۔۔ ہیلو ۔۔۔ ہیلو۔۔
سلام خالہ۔۔ کیا حال ہیں۔
ارے بٹیا میں ٹھیک ہوں۔ تو سنا آج اتنے بڑے دن کے بعد کیسے یاد آگئی تجھ کو خالہ کی۔
ارے خالہ آج بہت گھبرائی ہوئی لگ رہی ہو ۔ خیر تو ہے۔۔۔۔

ہاں بٹیا سب خیر ہے۔ تو سنا۔۔

نہی خالہ بات کو نہ ٹالو۔۔۔۔ سچ سچ بتاو بات کیا ہے۔

ارے بٹیا اب جانے بھی دے۔۔۔

اچھا پھر لے سن۔ تو بھی جب تک پوچھ نہ لے تجھے چین نہی آتا۔۔۔ویسے بتا تو میں بھی دے ہی دیتی ہوں۔ تو تھوڑا صبر ہی کر لیا کر۔۔

بس اب نہ پوچھ ہوا کیا۔کچھ دن پہلے کی بات ہے۔ رات کوئی ڈھائی تین بجے میں چیخ مار کر اٹھ بیٹھی ۔۔۔اور چیخ بھی ایسی کہ سارا محلہ ہل کر رہ گیا۔۔ وہ اپنا پڑوسی مارک۔ کمبختی مارا۔ اس نے پھر پولیس کو فون کھڑکا دیا۔

ارے خالہ خیر تو تھی ۔ کیا کوئی چور ڈاکو آگئے تھے ؟۔۔۔

بٹیا ایسی بات نہی تھی۔ بس خواب میں ڈر گئی تھی۔۔

ارے خالہ ایسا کیا جن بھوت دیکھ لیا ۔

بس بٹیا یہ نہ پوچھ دیکھا کیا۔۔

ارے خالہ اب بتا بھی دو۔

بیٹا میں کیسے بتاوں۔۔۔ اچھا تو لے سن پھر۔۔۔ اپنے الطاف بھائی کو دیکھ لیا تھا۔۔۔۔

ارے خالہ اس میں پھر ڈرنے کی کیا بات تھی۔۔ آپ تو خوش قسمت ہیں جو آپ نے ان کی خواب میں زیارت کر لی۔ واہ خالہ کیا مبارک خواب دیکھا آپ نے۔ کیا خواب میں الطاف بھائی کے ساتھ کوئی اور بھی تھا جسے دیکھ کر ڈر گئیں آپ ۔ ؟

بٹیا وہ اکیلے ہی تشریف لائے تھے۔

لیکن خالہ یہ بتاو نا ڈر کر چیخ کیوں مار دی۔مجھے سارا خواب سنائیں۔

تو لے سن پھر۔ میں خواب میں کچن میں پیاز کاٹ رہی تھی۔ ایک دم الطاف بھائی نے پیچھے سے آواز دی۔ میں نے مڑا کر دیکھا تو مسکر ا رہے تھے۔ کہنے لگے ۔جلدی سے حلیم بنا کر کھلا دیں۔ میں نے کہا الطاف بھائی گوشت تو ختم ہو گیا ہے۔ مسکرا کر کہنے لگے۔ کتنی بوریاں گوشت چاہئے۔

میں نے خوش ہو کر کہا۔ بوری تو نہی بس ایک دو کلو سے کام چل جائے گا۔

کہنے لگے۔ لے کیا یا د کرے گی۔ اور ایک بوری میرے سامنے لا کررکھ دی۔ کہنے لگے جلدی سے بنا دینا مجھے کل پھر شکار پر جانا۔ میں نےجو بوری کھولی تو۔۔۔۔ بس وہیں چیخ نکل گئی میری۔۔۔۔

آنکھ کھلی تو ایسا لگ رہا تھا جیسے میں نے کسی کی جان لے لی ہو۔

بس پھر کیا تھا۔ پڑوسی کی کال پر پولیس بھی پہنچ گئی ۔۔

میں نے انہیں خواب کا بتا کر رخصت کر دیا۔ لیکن بٹیا بس اس دن سے دل پر ایک ایسا بوجھ پڑا کہ نہ دن کو چین نہ رات کو نیند۔ ایسی بے چینی کہ نہ پوچھو۔

تو خالہ اب کیسی طبیعت ہے۔

بٹیا اب تو کافی بہتر ہوں۔ نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس گئی تھی ۔ اس نے کہا آپ کے ذہن پر کوئی چیز سوار ہے۔ وہی خواب میں بھی آئی ہے۔ اس کے پوچھنے پر بتانا ہی پڑا کہ وہ الطاف بھائی ہی ہیں۔ کہ میں جہاں دیکھتی ہوں وہی مسکراتے نظر آتے تھے۔ دیوار پر نظر پڑتی تھی وہاں بھی وہ۔ گھڑی پر نظر پڑتی تھی وہاں بھی وہ مسکرا رہے ہوتے تھے۔ ایک دن تو چوہلے کو آگ لگائی تو وہ آگ میں سے بھی نظر آگئے۔ بس جہاں نظر پڑے وہاں وہ نظر آتے تھے۔ دیوار پرلگی منے کی تصویر میں بھی وہ منا بنے مسکرا رہے ہوتے تھے۔

خالہ کیا مطلب مسکرا رہے ہوتے تھے۔ کیا اب نظر نہی آتے کیا۔

ہاں بٹیا سن نا آگے۔ ڈاکٹر کے بتائے علاج کے بعد اب تو میں ان کی شکل بھی بھول گئی ہوں۔

ردا ۔ نے بہت ہی حیر ان ہو کر پوچھا۔ خالہ یہ کیسے ممکن ہے۔

ارے بٹیا اس کمبختی مارے ڈاکٹر نے کہا تھا جو چیز آپ کےذہن پر سوار ہے اس کی تصویر کو آگ میں جلاو۔ دیوار پر نظر آئے تو وہاں جوتا اٹھا کر مارو۔ بس جہاں خیال بن کرنظر آئے لگا دو ایک ٹکا کر جوتا۔۔۔ ارے بٹیا علاج تو ٹھیک ہو گیا۔ لیکن یہ جوتا مارنے والی بات میرے ضمیر کو بار بار ملامت کرتی ہے۔ کہ وہ شخص جسے میں اپنا عظیم رہنما بنائے بیٹھی تھی اسی کو جوتے مارتی رہی۔

تو بٹیا اس پریشانی کو دور کرنے کے لئے میں ایک دور کےسیانے اللہ لوک سے رابطہ کیا۔ اسے ساری صورتحال کہہ ڈالی۔ اس نے پھر بڑے ادب سے کہا کہ بیٹا۔ فرعونیت کی درندگی سامنے ہو اورپھر بھی لوگ اس کا ساتھ دیں تو پھر ہر ساتھ دینے والا اس کے ظلم پر جواب دہ ہوگا۔ وہ اس کے جرم برابر کا شریک ہو گا۔ اللہ نے آپ کو خواب کے ذریعے اس دلدل سے نکال دیا ہے۔ آپ رب کا احسان کا شکر ادا کریں۔

بیٹا ان اللہ لوک بزرگ کی باتیں دل میں اتر گئیں۔ گھر آ کر میں نے شکرانے کے نوافل ادا کئے او ر رو رو کر اپنے رب کے حضور ایک مجر م کا ساتھ دینے پر معافی مانگی۔ ۔

ارے ردا۔ بٹیا تو کیوں رو رہی ہے۔ ہیلو ۔ ہیلو۔۔۔ بٹیا بولو نا۔۔۔۔۔

خالہ تو نے تو میرا بھی ضمیر زندہ کردیا۔ اب تک یہ بات مجھے سمجھ کیوں نہی آئی ۔

خالہ کس طرح ہم لاشوں پر سیاست کرنے والوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔ ان کےکارندے بن کر ان کے گیت گاتے ہیں۔ ان کے جرائیم پر پردے ڈالتے ہیں صرف اپنی انا کی خاطر۔

آج ہم کیا ہیں۔ کچھ بھی نہی ۔ ہم تو اپنے مذہبی ، سیاسی شعبدہ بازوں کی کٹھ پتلی بن کر رہ گئے۔ ان کے کہنے پر اپنے کلمہ گو کی جان لینے میں بھی دیر نہی کرتے۔ ہاں ہم دنیا کے پیچھے ہیں۔ ہاں ہم شیطانیت کے پیچھے ہیں۔

بس کردے ردا بیٹا بس کردے۔ میں تو پہلے ہی رو رو کر رب سے اپنے گناہوں کی روز معافی مانگتی ہوں۔ سوچ سوچ دل دھل جاتا ہے ۔جب رب کی ہدایت آگئی تو اس ہدایت کے مطابق ہم کیوں نہی اپنے رہنما چنتے ۔ آخر کیوں ہم خدا کے نافرمانوں کو خدا بنا بیٹھتے ہیں۔

خالہ۔ ردا بھی دوسری طرف ہچکیاں لے لے کر رو رہی تھی۔ ہم نے اللہ کی رسی چھوڑ دی۔ بلکہ کبھی اس رسی کو پکڑنے کی زحمت ہی نہی کی۔ ہم نے صرف اپنے آباو اجداد ، قومیت اور فرقہ پرستی کو اپنی زندگی میں بسایا۔ ہم نے خود سے کچھ تلاش نہی کیا۔ ہم جاہل ہیں ۔ کچھ شعور نہی رکھتے اچھے بر ے کی تمیز کا۔ ہم تو اتنا شعور نہی رکھتے کہ اپنے عمل کی پہچان کے قابل ہو جاتے۔

ہاں بٹیا تو ٹھیک ہی تو کہتی ہے۔ میں تو اسے رب کا انعام سمجھتی ہوں جس نے عمر کے اس حصہ میں ہدایت دی۔ اللہ پاک سے دعا ہے۔ وہ ہمیں اس قابل بنائے کہ رب ہمارے اچھے عمال کی وجہ سے اچھےحکمران ہم پر مسلط کرے۔ جیسے عوام ویسے ہی حکمران کا فرمان بتاتا ہے کہ عوام کیاپنی تبدیلی ہی کسی قوم کے شاندار مستقبل کی نوید بنتی ہے۔ آج ہم اپنے گھر سے اسے شروع کریں گے۔ پھر اسے محلے کی سطح پر لائیں گے۔ اور ایک دن اس شہر کو بدل دیں گے۔

وہ صبح دو ر نہی بٹیا۔ انشااللہ بہت جلد ہو گی وہ صبح۔

ہاں خالہ ۔ انشااللہ۔ ہمیں ہر پل ا ب خیال رکھنا ہو گا۔ اس امید اس آس کو حقیت بنانے کے لئے۔رب کی رسی کو تھام کر۔ ۔۔۔۔

انشااللہ۔۔۔۔
Categories
Uncategorized

Comments

Log in