All Pakistani Dramas Lists
Latest Episodes of Dramas - Latest Politics Shows - Latest Politics Discussions

View RSS Feed

perfect stranger

ووٹ کا حق ۔ حقیقت پر مبنی سچی کہانی

Rate this Entry
      
   
ٹک ۔ ٹک ۔
ٹک ۔ٹک ۔ٹک
ٹک ۔ٹک ۔ٹک ۔ٹک۔ٹھک
ارے کون ہے کمبختی مارا۔۔۔۔ دروازہ توڑنا ہے کیا۔۔۔۔صبر کرلے۔۔۔آ رہی ہوں۔۔۔
خالہ نے دروازہ کھولا تو سامنے ردا کوپایا۔۔۔۔ ارے بٹیا۔۔۔ تو ۔ ۔ بڑا دل نکالا آج تو نے۔۔۔
سلام خالہ جان۔۔۔خالہ نے منہ میں پان چباتے ہوئے ردا کا ماتھا چوم لیا۔۔۔۔
اب کی بار بڑے دن بعد درشن کرا رہی ہو۔۔۔ تم تو اپنی خالہ کو بھول ہی گئی۔۔۔خالہ توتمہارے لئے جیسے مر گئی ۔
ارے خالہ کیسی باتیں کرتیں ہیں۔ ایک آپ ہی تو ہیں جس سےاپنے دکھڑے شئیر کرنے آجاتی ہوں۔
اچھا سنا سب خیر ہے نا۔۔۔۔
ہاں خالہ سب خیر ہے۔ بس سوچا خالہ کو بھی مل لونگی اور ایک مسلہ جو دماغ میں اٹکا ہوا ہے وہ بھی خالہ سے پوچھ لوں۔ شاید وہ ہی میری مدد کرسکے۔۔۔
ہا ں بٹیا پوچھ۔۔۔شکر ہے تم نے مجھے اس قابل سمجھا۔۔
خالہ اس دفعہ میں نے ووٹ ڈالنے کا اردا کیا ہے۔۔۔
ارے بٹیا ووٹ تو تو ہمیشہ ہی ڈالتی ہے۔ یہ کوئی نئی بات تو نہی ہے۔۔
چھوڑیں خالہ وہ کوئی ووٹ ڈالنا تھوڑی ہے۔۔۔ جہاں کسی نے کہا وہاں انگوٹھہ لگا دیا۔۔ووٹ نہ بھی ڈالنے جاو تو شناختی کارڈ لے جاتے ہیں۔۔۔۔ خود ہی ڈال لیتے ہیں۔۔۔
تو بٹیا اس میں کیا بری بات ہے۔ ووٹ تو ہمار ا مرتے دم تک الطاف بھائی کی امانت ہے۔ چاہے ہم ڈال کر آجائیں یا وہ یہ نیکی خود سے کرلیں۔ ایک ہی بات ہے۔
اچھا خالہ ایک بات تو بتا۔۔۔ تو الطاف بھائی کو ووٹ کیوں ڈالتی ہے۔
بٹیا اس نے ہمارے لئے کیا کچھ نہی کیا۔۔ ہمیں پہلے کون جانتا ہے۔ ہمارے لئے پارٹی بنائی ۔ مہاجر کے حقوق کے لئے آواز اٹھائی۔۔ ہمیں طاقت دی۔ سارے محلے والے مجھ اکیلی سے ڈرتے ہیں۔
ارے خالہ قوم پرستی پر پارٹی بناکر ہمیں باقی قوموں سے الگ تھلگ کردیا۔۔۔دلوں میں نفرتوں کے علاوہ کیا حاصل ہوا۔۔۔ہر گھر سے لاش اٹھی ۔۔ ہر گھر برباد ہوا۔آج تک بے سکون ہیں ہم۔
ارے بٹیا قربانیاں تو دینی پڑتی ہیں نا۔۔ اور بٹیا اگر ہمارے دس مرے ہیں تو ہم نے سو مارے بھی توہیں۔۔
کسی بے گناہ کو پیچھے سے چھپ کر وار کر کے مار دینا۔۔۔ یہ کون سی بہادری کا کام ہے۔ چھوڑیں خالہ ان باتوں کو ۔ دل اور دکھی ہو جاتا ہے۔ میں تو یہ بتانے آئی تھی کہ اس دفعہ میں ووٹ ایم کیو ایم کو نہی دوں گی۔
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارے کمبختی ماری تیرے اندر میر جعفر گھس گیا کیا ۔۔۔یہ تو کیا بول رہی ہے۔۔۔ مجھے تو پہلے ہی شک تھا تو حقیقی والوں کی لگتی ہے۔ یہ میں ہی پاگل تھی جو آستین کے سانپ کو بٹیا سمجھ لیا۔
ارے خالہ ابھی تو تو مہاجر کی بات کر رہی تھی۔ کیا حقیقی والے بھی اپنے مہاجر بھائی نہی۔ خیر میں کوئی نہی ان کو ووٹ دینے والی۔۔ وہ بھی قوم پرست ہیں۔
اچھا تو تیر ا اب جماعت اسلامی والوں کو ووٹ ڈالنے کا ارادہ ہے ؟
خالہ تو کیا جماعت والوں میں بھی اپنے سارے مہاجر بھائی ہی تو ہیں۔ چاہے کراچی میں باقی پارٹیاں ہی دیکھ لیں۔ جو قوم پرستی کی سیاست سے اجتناب کرتی ہیں۔ ان میں ہر زبان بولنے والے لوگ ہیں۔ آپ پیپلز پارٹی کو دیکھ لیں۔ مسلم لیگ ہو یا سنی تحریک ، کیا ان پارٹیوں میں اردو بولنے والے نہی کیا ؟
بٹیا وہ سب غدار ہیں۔ ارے میں پھر تجھے بٹیا کہہ گئی۔۔۔ کمبختی ماری۔۔ مجھے الٹی پٹیا ں پڑھا رہی ہے۔ جا دفعہ ہو تو کسی پارٹی میں۔۔۔ تیرے ایک ووٹ سے ہم ہارنے والے نہی ہیں۔۔۔
ارے خالہ بات یہاں جیت یا ہار کی نہی۔ بات تو اصل میں اس ووٹ کے صیحی حقدار کی۔ اور ووٹ ایک امانت ہے۔ میں سمجھتی ہوں۔ کسی ایسے شخص کو ووٹ دینا جس کا اپنا اختیار کچھ نہ ویسے ہی جیسے کسی پارٹی کو جتوانے کے لئے اس کے کھڑے کئے گئے ممبر کو چاہے وہ گدھے کی عقل رکھتا ہو ۔ اس کےبھیانک عمال سامنے ہوں ۔ لیکن قومیت یا پارٹی بازی کے لئے لوگ اسے بھی کندھو ں پر اٹھا لیں۔ میرا ضمیر تو یہ گوارہ نہی کرتا کہ قاتل چور نکمے شخص کو ووٹ دے کر اپنا لیڈر بناوں۔۔ اللہ نے شعور دیا ہے۔ اچھے برے میں تمیز کرنے کی سمجھ یہی راہ بتا تی ہے۔ اپنے اور ملک کے مستقبل کے لئے سچے سیدھی راہ پرچلنے والے کو اپنا مسیحا بنایا جائے۔۔۔بے شک جسے میں ووٹ دوں اس کے جیتنے کی دور دور تک امید نہ ہو۔ ۔ لیکن میرا دل تو متمعین ہو گا۔۔۔کہ میں نے ووٹ کی امانت میں خیانت نہی کی۔۔
اچھا تو پھر کس کو دے رہی ہے ووٹ ۔ کون ہے وہ نیک مسیحا ۔۔
خالہ میرا ارداہ اس دفعہ مسلم لیگ نون کو ووٹ دینے کا ہے۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ان پنجاب والوں کو ووٹ دے گی۔۔
ارے خالہ دو دفعہ وزیر اعظم رہ چکے ہیں وہ۔ دو تہائی کی حکومت تھی ان کی۔ ملک کےلئے کیا کچھ نہی کیا انہوں نے۔ موٹر وے ، ایٹمی دھماکے، اسکول ، کالج ، یونیورسٹیاں ، ہاسپیٹل اور اب لاہور ریپڈ بس چلا کر سب کے منہ بند کردیے ہیں۔۔۔ اب ہر کوئی لاہور لاہور کر رہا ہے۔ یہ اپنی خٹارہ منی بسیں دیکھیں ہی کراچی کی۔ اسی میں توبیٹھ کر بڈھی ہو گئی ۔۔ کوئی تبدیلی نہی آئی ۔ اور سن خالہ ۔ وہ کراچی سے نہ بھی جیتیں۔ لیکن شہباز بھائی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کراچی میں اسی طرح کی بسیں چلائیں گے۔
خالہ تمہیں یہاں سے لالو کھیت جانا ہو تو کتنا وقت اور دھکے لگتے ہیں۔
یہی کوئی دو گھنٹے اور دھکوں کی نہ پوچھ۔۔ کمریا کا درد ہفتوں نہی جاتا۔۔۔
تو خالہ اگر یہ بسیں یہاں بھی چل پڑیں تو تو دس منٹ میں تومنزل تک پہنچ جائےگی۔۔۔
ارے تو سچ کہہ رہی ہے۔ کیا ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔۔۔
ہاں خالہ ۔۔ بلکل ممکن ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ ہم اب بھی ڈبلیو ۱۱ منی بس میں سفر کرکر کے مر کھپ گئے۔ ۔
ویسے بٹیا بات تو تو ٹھیک کہہ رہی ہے۔ ہر دفعہ ایم کیوایم کو جتوایا۔۔۔۔ لیکن ہماری سہولت کے لئے تو کچھ بھی نہی کیا۔۔ فائدہ کیا ہوتا الٹا ووٹ دے کر نقصان ہی اٹھایا۔۔۔۔
اسی لئے تو کہتی ہوں خالہ۔ ووٹ امانت ہے اس کی جو امانت دار ہے۔۔ ایک قاتل چور بے ایمان کو ووٹ دے کر اسے برائی کے عمل کا لائسنس دینا ہے۔ اور اللہ معاف کرے میں اب یہ گناہ کرنے سے رہی۔
بٹیا بات تو تیری کچھ دل کو لگتی ہے۔۔ اچھا سن ۔ ووٹ والے دن مجھے ساتھ لے جانا۔۔۔۔۔
ارے خالہ ۔۔ واہ۔ سمجھ گئی۔۔۔۔ بس اسی طرح قطرہ قطرہ دریا بنے گا۔۔۔۔ انشااللہ بہت جلد یہ قافلہ بنے گا۔۔ اور حق سچ کی پہچان کرنے والا یہ لشکر الیکشن کے دن سب کچھ بد ل د ے گا۔۔۔
انشااللہ۔۔۔۔
ارے بٹیا تو بیٹھ میں ابھی آئی۔۔۔
ارے خالہ کہاں جارہی ہیں۔۔۔
ارے اپنی بٹیا کے لئے حلوہ بنایا ہے۔ چائے بھی لاتی ہوں۔۔۔جیتی رہے۔۔
ردا آسمان کی طرف دیکھ کر دل میں دعا گو تھی۔ آ ج وہ اپنے فیصلے سے کافی متمعین لگ رہی تھی۔۔۔
Categories
Uncategorized

Comments

Log in