آج کل
باتیں کرتے ہیں
رات گۓ تک
چاند اور میں
کچھ قصّے وہ کہتا ہے
کچھ درد جدائی میں کہتا ہوں
اور کہتے کہتے سو جاتے ہیں
چاند اور میں
وہ بھی یاد کا مارا ہوا ہے
میں بھی بچھڑ کے چور چور ہوں
بانہوں میں ڈال کے بانہیں روتے ہیں
چاند اور میں
دیپ جلا کر چاہت کا
وہ روتے روتے ہنستا ہے
میں ہنستے ہنستے روتا ہوں
دونوں ہی آنکھیں بھگوتے ہیں
چاند اور میں