ھمارا مستقبل کیا ھوگا?۔

اگر میں اپنے دل سے گواھی لوں تو حقیقت میں ھم اب ایک قوم نہی ھیں۔ ھماری شناخت اب قومیت سے ھے، ھماری شناخت اب فرقہ سے ھے۔ ھماری شناخت اب ھماری سیاسی پارٹیاں بھی بن چکی ھیں

ایک وطن ایک گھر میں رھنے والے ھم عام پاکستانی۔ کیا ھمارا فرض نہی کہ اس کے مسائل کے حل کی طرف مل جل کر قدم آٹھائیں۔ مسائل پر مل بیٹھہ کر گفتوشنید کریں۔ جب وہ سیاستدان اپنے مطلب کے لئے ایک ھو جاتے ھیں اور جب مطلب نکل جائے تو پھر ھمیں آپس میں لڑواتے مرواتے ھیں تو پھر ھم کب اس بات کو سمجھیں گے کہ ھمارا دشمن کوئی اور نہی ۔ ھم خود اپنے دشمن ھیں۔ ھم خود پاکستان کے دشمن ھیں جو ان قاتل چور اچکے کرپٹ حکمرانوں کو اپنے اوپر مسلط کرتے ھیں۔ ھم خود ذمیدار ھیں جو محافظوں چوکیداروں کو اپنے اوپر قبضہ کرنے کا جشن مناتے ھیں۔

کیا ھم پاکستان کے قابل ھیں۔ ? ھم نے پاکستان کے لئے کیا کیا۔ کیا ھم نے انصاف کے لئے آواز اٹھائی۔ کیا ھم نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ ایک مسلمان ھونے کے ناتے بھی ھم نے مذھب کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرکے خود کو ایک دوسرے سے دور کردیا۔ اپنے مطلب کے لئے کہیں خاموشی اختیار کی اور کہیں اپنے مطلب کے لئے انصاف کی دھائیاں دیں۔ کیا ھم سے بڑا بھی کوئی منافق ھو گا۔ ھم کس کو دھوکہ دے رھے ھیں۔ ھم اپنی آنے والی نسل کے لئے کیا چھوڑ کر جارھے ھیں۔

اب اعتماد اٹھہ گیا ھے۔ اپنی ذات سے بھی۔ کہیں امن نہی۔ کہیں سکون نہی۔ کوئی اچھی خبر نہی۔ عمل بے عمل دعا کیا قبول ھوگی۔ اللہ کی ناراضگی اور کیا ھوگی۔ آفات پر آفات آرھی ھیں۔ کچھہ بہت غلط ھونے والا ھے۔ کیا ھم مزید ٹکڑے ٹکڑے ھونے کو ھیں۔ ? ۔۔۔۔

ایک طرف سیاست کے ٹھیکدار اپنے ھی بنائے ھوئے قانون کو اپنے پاوں کے نیچے روندتے ھیں۔ اک طرف اسلام کو استعمال کرنے والے انسانیت کو نیست و نابود کرنے میں کوئی کثر نہی چھوڑے ھوئے۔ اک طرف محافظ ھیں جو ملک اور اپنی حفاظت کے بھی اھل نہی رھے وہ بھی بندوق کی نوک پر لوٹ مار کرچکے اور کرتے رھیں گے۔

کیا یہ سلسلہ یونہی چلتا رھے گا۔ کیا ھم اس سب کے عادی ھو چکے ھیں۔ اس بٹی ھوئی قوم کو کون جوڑے گا۔ کیا کسی کا انتظار کیا جارھا ھے۔ اور کون رھہ گیا ھے اس ملک میں جس کا انتظار کیا جائے۔ کوئی بھی تو نہی۔ ھاں کوئی بھی نہی جو رھنما ھونے کے قابل ھو۔

اک الاوء ھے۔ اک غصہ ھے۔ اک بے چینی ھے۔ اک آگ ھے۔ زندگی سے مایوسی بھی ھے۔ سب کچھہ ختم کرنے کو دل چاھتا ھے۔ بس اک لمحہ چاھیئے یہ آگ اس جنگل کو لگے اور سب کچھہ غلط جلا کر راکھہ کردے۔

سڑکوں پر نکلو۔ حملہ کرو ان حرام خوروں پر۔ ان کا حال قذافی جیسا کرو۔ لوٹ لو ان کے گھروں کو۔ آگ لگا دو ان کے گھروں کو۔ چاھے وہ ایم کیو ایم کا ھے۔ نون لیگ کا ھے۔ پی پی کا ھے۔ کسی پارٹی کا ممبر رھا تھا۔ ھے اس کا حال قذافی جیسا کرو۔ اٹھو ۔ ھاتھہ میں پتھر آٹھاو۔
باھر نکلو۔ یہی انقلاب کا راستہ ھے۔

جو راستہ تحریک انصاف کا ھے وہ انہی حرامذادوں سے ھاتھہ ملانے کا ھے۔ ان سے مل کر حکومت کرنے کا ھے۔
آوٰ سب مل کر بات کریں۔ ملک کی بات کریں۔ پارٹیوں سے باھر نکلیں۔ اپنی بات کریں۔ ایک دوسرے کے پاکستانی اور مسلمان بھائی بن کر بات کریں۔ حق سچ انصاف کی بات کریں۔

بات کرنے میں کیا حرج ھے۔ آوء بات کریں۔ انقلاب کی بات کریں۔