All Pakistani Dramas Lists
Latest Episodes of Dramas - Latest Politics Shows - Latest Politics Discussions

Thread: ghairat aur khushak aantoun ka parablum

      
   
  1. #1
    dr maqsood hasni is offline Expert Member
    Edit>
     
    Join Date
    May 2009
    Posts
    5,472
    Quoted
    13 Post(s)

    ghairat aur khushak aantoun ka parablum

    غیرت اور خشک آنتوں کا پرابلم
    اصولی سی اور صدیوں کے تجربے پر محیط بات ہے کہ غیرت قوموں کو تاج پہناتی ہیں۔ بے غیرتی روڑا کوڑا بھی رہنے نہیں دیتی۔ روڑا کوڑا اس لیے معتبر ہے کہ تلاش کرنے والوں کو اس میں بھی رزق مل جاتا ہے۔ جب بھی معاملات گھر کی دہلیز سے باہر قدم رکھتے ہیں توقیر کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ سارا کا سارا بھرم خاک میں مل کر خاک ہو جاتا ہے۔ جس کو کوئ حیثیت نہیں دی گئ ہوتی وہ بھی انگلی اٹھاتا ہے۔ نمبردار بن جاتا ہے۔ جس کے اپنے دامن میں سو چھید ہوتے ہیں اسے بھی باتیں بنانے کا ڈھنگ آ جاتا ہے۔ یہ قصور باتیں بنانے یا انگلی اٹھانے والوں کا نہیں ہوتا بلکہ موقع دینے والوں کا ہوتا ہے۔
    یہ حقیقیت بھی روز روشن کی طرح واضح اور عیاں رہی ہے کہ طاقت کے سامنے اونچے شملے والے سر بھی خم رہے ہیں۔ گویا طاقت اور غیرت کا سنگم ہوتا ہے تو ہی بات بنتی ہے۔ کمزور صیح بھی غلط ٹھرایا جاتا ہے۔ اس کی ہر صفائ اور اعلی پاءے کی دلیل بھی اسے سچا قرار نہیں دیتی۔ بھڑیے کا بہانہ اسے چیرنے پھاڑنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ انسان جونکہ اشرف المخلوقات ہے اس لیے اس کے بہانے اور دلاءل بھی کمال کے ہوتے ہیں۔ انسان کی یہ بھی صفت ہے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا بلکہ اپنی غلطی اوروں کے سر پر رکھ دیتا ہے۔ ایسی صفائ سے رکھتا ہے کہ پورا زمانہ اسے تسلیم کرنے میں دیر نہیں کرتا۔
    امریکہ کی عمارت گری اس میں کوئ کھوٹ نہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ عمارت گرانے پورا افغانستان امریکہ پر چڑھ دوڑا تھا۔ اس میں بچے بوڑھے عورتیں لاغر بیمار وغیرہ بھی شامل تھے؟!
    جواب یقینا نفی میں ہو گا۔ تو پھر ان سب کو بندوق نہیں توپ کے منہ پر کیوں رکھ دیا گیا؟
    ان کا جرم تو بتایا جاءے۔
    لوگوں کو تو مذکرات اور سفارتی حوالہ سے مساءل کا حل تلاشنے کے مشورے اور خود گولے سے مساءل حل کرنے کوشش کو کیا نام دیا جاءے۔
    ایکپکیپیڈیباتہےکہچوہابلیسےبلیکتےسےکتابھڑیےسےبھیڑیاچیتےسےچیتاشیرسےشیرہاتھیسےہاتھیمردسےمردعورتسےاورعورتچوہےسےڈرتیہے۔ڈرکیابتدااورانتہاچوہاہیہے۔میرےپاساپنےموقفکیدلیلمیںمیراذاتیتجربہشاملہے۔میںچھتپربیھٹاکوئکامکررہاتھا۔نیچےپہلےدھواںدھارشورہواپھرمجھےپکاراگیا۔میںپوریپھرتیسےنیچےبھاگکرآیا۔ماجراپوچھا۔بتایاگیاکہصندوقمیںچوہاگھسگیاہے۔بڑاتاؤآیالیکنکلکلیانسےڈرتاپیگیا۔بساتناکہہکرواپسچلاگیاکہتمنےمجھےبلییاکڑکیسمجھکرطلبکیاہے۔تاہممیںنےدانستہچوہاصندوقکےاندرہیرہنےدیا۔
    چوہا کمزور ہے لیکن ڈر کی علامت ہے۔ ڈر اپنی اصل میں انتہائ کمزور چیز ہے۔ کمزوری سے ڈرنا زنانہ خصلت ہے۔ امریکہ اپنی اصل میں انتہائ کمزور ہے۔ کیا کمزوری نہیں ہے کہ اس کی گرفت میں بچے بوڑھے عورتیں لاغر بیمار بھی آ گءے۔ گھروں کے گھر برباد کر دینے کے بعد بھی اس کا چوہا ابھی زندہ ہے۔ چوہا اس سے مرے گا بھی نہیں۔ بشمار اسراءلی بچے مروا دینے کے بعد بھی فرعون کے من کا چوہا مرا نہیں حالنکہ وہ انہیں بانہ بازو بنا سکتا تھا۔
    بلوچستان میں انسانی قتل و غارت کا مسلہ امریکی پارلیمان میں بطور قرار داد آ گیا ہے۔ ہمارا ذاتی معاملہ کسی دوسرے ملک کی پارلیان میں آنے کے تین معنی ہیں:
    ١۔ بلوچستان کی صورت حال بدترین ہو گئ ہے۔
    ٢۔ بلوچستان کی صورت حال ہماری دسترس میں نہیں رہی۔
    ٣۔ امریکہ ایران اور چین پر گرفت کے لیے بھیڑیے کا بہانہ بنا کر فوجی کاروائ کا رستہ بنا رہا ہے۔
    میری اس گزارش کو ڈینا روہر کے اس بیان کے تناظر میں دیکھیں گے تو معاملہ صاف ہو جاے گا:
    امریکہ بلوچ عوام کے قاتلوں کو ہی امداد اور اسلحہ دے رہا۔
    صدر آصف علی زرداری کے اس بیان کو بھی آتے کل کے حوالہ سے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے:
    ایران کے ساتھ ہیں۔ جارحیت پر امریکہ کو اڈے نہیں دیں گے۔
    چوکیدار رات کو آوازہ بلند کرتا ہے کہ جاگدے رہنا میرے تے نہ رہنا۔
    ہم اپنے ساتھ نہیں ہیں کسی اور کا خاک ساتھ دیں گے۔ یہ بڑی بڑی باتیں کرنے والے ایک جونیءر کلرک کی مار نہیں ہیں منشی تو بہت بڑا افسر ہوتا ہے۔ہمارا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو چور کو کہتے ہیں سوءے ہوءے ہیں اور گھر والوں کو کہتے ہیں چور آ رہا ہے۔اس نام نہاد ترقی کے دور میں ہم سچ کہہ نہیں سکتے سچ سن نہیں سکتے۔ یہ ہماری سیاسی سماجی یا پھر اقتصادی مجبوری ہے۔
    ہمیں اپنے معاملات پر ہی گرفت نہیں کسی دوسرے کی کیا مدد کریں۔ صاف کہہ نہیں سکتے بھائ ہم پر نہ رہنا جب بھی مشکل وقت پڑا ہمیں دشمن کی صف میں سینہ تانے کھڑا پاؤ گے۔ ہم ابراہیم لنکن کی نبوت اور ڈالر کے حسن پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں۔ ہماری عقل اور غیرت پیٹ می بسیرا رکھتی ہے۔ ہم ازلوں سے بھوک کا شکار ہیں۔ اصل مجنوں کوئ اور ہے ہم تو چوری کھانے والے مجنوں ہیں۔ ہم کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں۔ کہا گیا بجلی نہیں جاءے گی جبکہ بجلی گئ ہوئ ہے۔ گیس کا بل سو ڈیڑھ سو آتا تھا اور گیس سارا دن رہتی تھی۔ آج گیس صرف دکھائ دیتی ہے اور بل پیو کا پیو آتا ہے۔ بجلی جانے سے پہلے کچھ لوگ بیٹھے ہوءے تھے کہ فلاں گھر کے گیس کا بل سات ہزار روپیے آیا ہے اور گھر کے کل افراد چند ایک ہیں۔ لگتا ہے کہ دوزخ کو اس گھر سے پاءپ جاتا ہے۔
    ہم وہ لوگ ہیں جو الیکشنوں کے موسم میں لنگر خانے کھول دیتے ہیں۔ کٹوں بکروں اور مرغوں کی شامت آ جاتی ہے۔ لوگ دھر سمجھ کر بے دریغ کھاتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں امیدوار پلے سے کھلا رہا ہے اور اس کے بعد پیٹ بھر کر اگلے الیکشنوں میں ہی مل پاءے۔ بات کا پہلا حصہ درست نہیں۔ الیکشن وہی لڑتا ہے جس کی ہک میں زور ہوتا ہے۔ جس کی ہک میں زور ہوتا ہے وہ پلے سے کیوں کھلانے لگا ۔ چوری کے ڈنگر ہی چھری تلے آتے ہیں۔ اتنا ضرور ہے کہ ان لنگر خانوں میں مردار گوشت دیگ نہیں چڑھتا۔
    مردار گوشت دیگ چڑ ھنے کی ایک مثال پچھلے دنوں سننے میں آئ۔ محکمہ ایجوکیشن کے ایک نءے آنے والے ضلعی افسر نے اپنے درجہ چہارم کے ملازم سے کہا بھءی ہمارے آنے کی خوشی میں دعوت وغیرہ کرو۔ اس نے مردہ مرغے دیگ چڑھا دءے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ پر سچے تھے۔ افسر کے آنے کی خوشی میں دعوت تو ہونی چاہیے۔ درجہ چہارم کا ملازم دیگ کیسے چڑھا سکتا ہے۔ دونوں سرخرو ہوءے۔ دیگ چڑھی افسر کی خوشی پوری ہو گئ ملازم کا خرچہ لون مرچ مصالحے پر اٹھا۔ وہ اتنا ہی کر سکتا تھا۔
    ممبری کے امیدواروں کا بھی غالبا خرچہ لون مرچ مصالحے پر ہی اٹھتا ہے۔ اب تو اس کی بھی شاید نوبت نہیں آءے گی کیونکہ لون مرچ مصالحے کا خرچہ ادھر ہی بارہ کروڑ ادا کر دیا جاءے گا۔
    ایران کے حوالہ سے روس کا بیان حوصلہ بخش لگتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو ایران پر حملے کی صورت میں بھرپور جواب ملے گا۔ اس بیان کے اندر چند چیزیں پوشیدہ ہیں:
    ١۔ جو مرنا جانتے ہیں مارنے میں بھی کم نہیں ہوتے۔ امریکہ نے یہ غلطی کی تو لاشیں اٹھانے میں شاید اسے صدیاں لگ جاءیں۔
    ٢۔ ایران کا ساتھ دیا جاءے گا۔
    ٣۔ غیرت مند مرد ہوتا ہے اور چوہا اس کی دسترس سےکبھی باہر نہیں ہو پاتا۔
    ترکی کا کہنا ہے کہ تباہ کن نتاءج ہوں گے۔ جنگ ہے ہی تباہی و بربادی کا نام۔ بلوچ غیرت مند قوم ہے۔ بلوچ جانتے ہیں کہ امریکہ ان کے قاتلوں کو امداد اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ افغانی اپنی تباہی کے ذمہ دار سے آگاہ ہیں۔ پاکستان کو وافر چوری فراہم کرنے کے باوجود لوگوں کے دل میں امریکہ کے لیے نفرت اور صرف نفرت ہے۔ چوری عوام کے پیٹ میں نہیں گئ۔ ان کے پیٹ میں خوشکی کا ڈیرہ ہے۔ خشک آنتیں غصے اور خفگی کا سبب رہتی ہیں۔ خشک آنتوں کا حاصل تباہی اور بربادی کےسوا کچھ نہیں ہوتا ہوتا ہے۔
    Last edited by CaLmInG MeLoDy; 02-20-2012 at 12:51 AM.

  2. #2
    AfshanK is offline Junior Member
    Edit>
     
    Join Date
    Mar 2012
    Location
    U.S.
    Posts
    159
    Quoted
    10 Post(s)

    Re: ghairat aur khushak aantoun ka parablum

    افشاں - ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    اولا̋ ، آپ کے یہ الزامات کہ امریکہ افغانستان اور پاکستان میں سفاکنہ جرائم کا ذمہ دار ہے اور یہ بھی کے
    امریکہ قاتلوں کو اسلحہ اور امداد فراہم کر رہا ہے سرار نامعقول ہيں۔ آپ ایسے بیانات دینے سے پہلے ذرا حقائق کا معائنہ کريں۔ آپ کی اطلاع کے لۓعرض ہے کے
    جہاں تک پاکستان ميں امريکی کردار کا تعلق ہے، امريکہ نے کسی بھی معصوم لوگوں کو نشانہ نہيں بنايا بلکہ پاکستان کا ان دہشتگردی کا عفریت رکھنے والے عناصر کيخلاف جاری جدوجہد میں مدد کررہا ہے جو معصوم لوگوں کے خلاف گھناونے جرائم ميں ملوث ہيں۔ مزید برآں، امریکہ پاکستان کی ترقی اور تحفظ کے لۓ پچھلے کئ سالوں سے کھربوں ڈالر لگا رہا ہے۔
    ثانوی، آپ کا یہ کہنا کہ ہم جس بات کا وعظ کرتے ہیں اس پر خود عمل پیرا نہيں ہوتے؛ ایک اور غلط الزام ہے۔ امریکی انتظامیہ بین الاقوامی برادری اور بینالاقوامی تنظیموں کے ساتھ باہمی تحفظاتی مشکلات پر قدر وسیع پیمانہ پر کام کرتی ہے۔ مندرجہ ذیل لنک دیکھنے کے بعد آپ سوچ کر فیصلہ کریں کہ "پاکستان قوم کے خلاف کۓ گے جرائم کا ذمہ دار کون ہے!"


    افشاں - ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreachstate.gov
    www.state.gov
    .

  3. #3
    AfshanK is offline Junior Member
    Edit>
     
    Join Date
    Mar 2012
    Location
    U.S.
    Posts
    159
    Quoted
    10 Post(s)

    Re: ghairat aur khushak aantoun ka parablum

    افشاں - ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹاولا̋ ، آپ کے یہ الزامات کہ امریکہ افغانستان اور پاکستان میں سفاکنہ جرائم کا ذمہ دار ہے اور یہ بھی کے امریکہ قاتلوں کو اسلحہ اور امداد فراہم کر رہا ہے سرار نامعقول ہيں۔ آپ ایسے بیانات دینے سے پہلے ذرا حقائق کا معائنہ کريں۔ آپ کی اطلاع کے لۓعرض ہے کے جہاں تک پاکستان ميں امريکی کردار کا تعلق ہے، امريکہ نے کسی بھی معصوم لوگوں کو نشانہ نہيں بنايا بلکہ پاکستان کا ان دہشتگردی کا عفریت رکھنے والے عناصر کيخلاف جاری جدوجہد میں مدد کررہا ہے جو معصوم لوگوں کے خلاف گھناونے جرائم ميں ملوث ہيں۔ مزید برآں، امریکہ پاکستان کی ترقی اور تحفظ کے لۓ پچھلے کئ سالوں سے کھربوں ڈالر لگا رہا ہے۔ثانوی، آپ کا یہ کہنا کہ ہم جس بات کا وعظ کرتے ہیں اس پر خود عمل پیرا نہيں ہوتے؛ ایک اور غلط الزام ہے۔ امریکی انتظامیہ بین الاقوامی برادری اور بینالاقوامی تنظیموں کے ساتھ باہمی تحفظاتی مشکلات پر قدر وسیع پیمانہ پر کام کرتی ہے۔ مندرجہ ذیل لنک دیکھنے کے بعد آپ سوچ کر فیصلہ کریں کہ "پاکستان قوم کے خلاف کۓ گے جرائم کا ذمہ دار کون ہے!"

    http://www.youtube.com/watch?v=uxGAF7RiADM&feature=related
    افشاں - ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹdigitaloutreachstate.gov
    www.state.gov
    .

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  

Log in