All Pakistani Dramas Lists
Latest Episodes of Dramas - Latest Politics Shows - Latest Politics Discussions

Page 3 of 3 First 123

Thread: Friends Korner. . .Yariyaaan (Hissa Awwal)

      
   
  1. #1
    Amer Aiyaar is offline Banned
    Golden Boy . . . !!!
     
    Join Date
    Jan 2011
    Location
    معلق ہیں جی ہو
    Posts
    652
    Quoted
    80 Post(s)

    Friends Korner. . .Yariyaaan (Hissa Awwal)

    ابتدائیہ
    آج کی میری یہ تحریر دراصل ان لوگوں کیلئے خاص ہے جو اسکول کی زندگی سے نکل کر اعلی تعلیم حاصل کرنے کیلئے بڑی درسگاہوں اور یونیورسٹیوں کا رخ کرتے ہیں۔ پر مجھے معلوم ہے، کہ فورم پہ ابھی وہ طبقہ شائد ابھی دستیاب نہیں۔ یہ تحریر ایسے ہی چند لوگوں کے گرد گھومتی ہے جو نوجوانی کی انتہائی سطح پر پہنچ کر اب نوجوانی سے جوانی میں قدم رکھ رہے ہیں۔ جنکی امنگیں جوشیلی اور ارادے بلند ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ انکو کن کن حقائق اور تجربوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور وہ اپنی زندگی سے کیا کچھ سیکھتے ہیں۔
    کہانی کے ٹائٹل سے فورم کا کوئی تعلق نہیں۔ ۔ ۔ بس ہمار دل میں آیا اور ہم نے ٹائٹل رکھ دیا۔
    یہ تحریر کی تفریحی مقصد کیلئے لکھی گئی ہے۔ اسکا کوئی پہلو کسی کی ذاتی زندگی سے ٹکرائے تو اسے محض اتفاق سمجھا جائے۔

    ------------------------------------------------------------------------------------
    فرینڈز کارنر۔ ۔ ۔یاریاں۔ ۔ ۔ ۔
    رات کی سیاہی اپنے عروج پر تھی، چہار سو، ہو کا عالم تھا، کہ ایسے میں اندھرے کو چیرتی ، صبح صادق کی دودھیا لکیر کے نمودارہوئی، اور منادی نے بارگاہ ربّ العزت میں بندگانِ خدا کو اظہارِنیازمندی کی طرف لوگوں کو بلانا شروع کر دیا۔
    اللہ اکبر اللہ اکبر
    اللہ اکبر اللہ اکبر
    اشھداللہ الہ الااللہ
    اشھد ان محمد رسول اللہ۔ ۔ ۔ الخ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٹرن ن ن نن ن نن نن ن نن ن ن نن ن نن ۔ ۔۔ ۔ ۔
    صبح کے چھ بج چکے تھے۔ تین گھر ۔ ۔ ۔تین لوگ۔ ۔ ۔ جنکے ہاں ٹھیک صبح کے چھ بجے گھڑی کا الارم ، صور اسرافیل کی مانند گونجنے لگتا ہے۔

    سب سے پہلے نمبر۔ ۔ ۔ ذراان سے ملیں۔۔ ۔ ۔ گھڑی کے الارم بجے سے ٹھیک ایک سیکنڈ پہلے اٹھ کے الارم بند کردیتا ہے۔ یہ ہے ہی اتنا وقت کا پابند۔یوں لگتا ہے اسکی زندگی میں ہر چیز کا ایک ٹائم مقرر ہے۔ان کو کبھی جلدی یا افراتفری میں نہیں دیکھا گیا۔یہ اپنے سارے کام سکون کے ساتھ اور حالت سکون میں کرنے کا عادی ہے۔ایک پر اعتماد ، سادہ ، پڑھا لکھا اور ہونہار لڑکا ۔ ۔ حسن۔۔ایسی اولاد کی ہر ماں باپ خواہش کریں۔ ۔

    دوسرا نمبر۔ ۔ ۔ باجی اٹھو۔ ۔ یہ منحوس الارم بند کرو۔ ۔ صبح کی جلدی تم کو ہے، اور اٹھنا پورے گھر کو پڑتا ہے۔ ۔ ۔ باجی اٹھو و و و و ۔ ۔چھ بج گئے۔ ۔ ۔ہانیہ نے جھلّا کے کہا۔
    کیا!!! چھ بج گئے۔ ۔ اچھا بتاﺅکتنے بجے، چھ بجے۔ اف ف ف ۔ ۔ ۔مطلب کتنی دیر ہوئی۔ ۔ ۔ یا اللہ یہ چھ اتنی جلدی کیوں بج جاتے ہیں۔ ۔ یہ انکے روز کے ڈرامے ہیں۔ ۔ ۔
    باجی یہ روز روز کی صبح کی ٹرانسمیشن بند کرو اور مجھے سونے دو۔ ہانیہ بیچاری اپنی بہن سے بہت تنگ تھی۔ ۔ ۔ایک نمبرکی روندو لڑکی ہے۔ صبح ٹائم پر اٹھے نا اور منہ بسورے۔
    اچھا نا جاتی ہوں۔ ۔ ۔ تم پڑی سوتی رہو۔ ۔ کھوتی نا ہو تو۔ ۔ ۔ ہنہ۔ ۔ ایک تکیہ ہانیہ کی کمر پہ دھر کے، سر کھجاتی اور پیر پٹختی باتھ روم کی طرف جاتی یہ لڑکی اپنے کاموں میں کافی جذباتی تھی۔ عجلت پسندی اور چڑچڑا مزاج ہونے کی وجہ سے کافی نخریلی واقع ہوئی تھی۔ ۔ ۔ اور کہتے ہیں جہاں حُسن ہو وہاں غرور تو آہی جاتا ہے۔ ۔ رانیہ اپنے آپ میں ایک حُسن کی دیوی تھی۔ ۔ ۔ ایک سر پھری شہزادی۔

    نمبر تین۔ ۔ ۔ ٹرن ن ن ن نن ۔ ۔۔ ۔ ابے سالے بند ہو جا۔ ۔ ۔ منہ تکیئے میں دیئے ہوئے گھڑی کے الارم کو بند کرنے کی ناکام کوشیشیں جاری تھیں۔ ۔ ۔ لگتا تھا کے آج الارم نے نا بند ہونے کی قسم کھائی ہوئی ہے۔ ابے کتّے کی اولاد بند ہو جا۔ ۔ ۔ چھ بجتے ہی بھونکنا شروع کر دیتا ہے ۔ ۔ ۔ اب تک کی تمام کوشیشیں ناکام۔ ۔ ۔
    ٹنگ۔ ۔ ڈھذ ڈھذ دھم۔ ۔ ۔ گھڑی خاموش۔ ۔ ۔ شائد ہمیشہ کیلئے۔ ۔ ۔ کیوں کے گھڑی کو سامنے کی دیوار پر دے مارا گیا تھا۔جسکے نتیجے میں گھڑی کے انجرپنجر ڈھیلے ہوگئے تھے۔ ۔ ۔ اب بج سالی۔ ۔ ۔ ۔یہ اس سال کی تیسری گھڑی ، جو اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکی تھی۔
    ایک بارپھر نیند کی وادی کی سیر شروع۔ ۔ ۔ خر خر خر۔ ۔ ۔ساری نیند کی واٹ۔ ۔ ۔اف ف ف ف۔ ۔ نیندنہیں نینا۔ ۔ ۔ اوہ تری کی۔ ۔ ۔ سات بجکر تیس منٹ پر۔نینا سے ملنا ہے۔ ۔ ۔ بستر سے ایک جست لگا کر واش روم کیطرف دوڑ کچھ مہنگی پڑی۔ ۔ ۔ اورٹکر سامنے سے آتی ہوئی دادی اماں سے ہوگئی۔ ۔ ۔
    او ناہنجار۔ ۔ ۔ آج پھرفجر کی جماعت نکال دی۔ ۔ ۔ اللہ صاحب ناراض ہوتے ہیں۔ ۔ اور تجھ سے تولگتا ہے تیری پیدائش سے ہی ناراض ہیں۔ ۔ حرام ہو جو کبھی نیکی کا کام کیا ہو۔ دادی جان کی سلواتیں شروع ہوگئیں۔ ۔
    کیا دادی ڈارلنگ ۔ ۔ ۔مطلب دادی جان۔ ۔ ۔ آج بخش دیں۔ ۔ ۔ واقعی دیر ہو گئی۔ ۔ ۔ مجھے جانا ہے ۔ ۔۔وہ تلملایا۔
    کمبخت اب کہاں جائے گا۔ اب ٹائم بچا ہی کہاں ہے نماز کا ۔ قضاءکر دی تو نے۔ دادی نے اسکے کان لیموں کی مانند نچوڑ ڈالے۔
    دادی۔ ۔ سو سو۔ ۔ ۔پلیز۔۔ ۔ نکل جائےگا۔ ۔ ۔ جانے دیں۔ ۔ اس نے التجاءکی۔
    ٓآئے ہٹ موئے۔ ۔ شرم نہیں آتی۔ ۔ ۔ چل پرے ہو، نگوڑ مارا، ناس پیٹا۔ بھلا بتاﺅ ، دیکھو توجوانا مرگ کو۔ ۔ ۔دادی منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی آگے بڑھ گئیں۔ اس نے بھی سکوں کا سانس لیا کے چلو آج دادی سے جان چھڑانے کا ایک اور نسخہ ہاتھ لگا ہے ۔ چل بیٹا فخر ۔ ۔ ۔ جلدی ۔ ۔ ۔ فخر، ایک لاابالی، شریر، اور انتہائی ہشیار، تیز ترار لڑکا۔دماغ کے ساتھ اگر مردانہ وجاہت بھی عطا ہو جائے تو پھر ایسے لوگ دنیا میںکسی مقام پر ٹھوکر نہیں کھاتے، اور گرچہ کھا بھی لیں، پر سنبھل جلدی جاتے ہیں۔

    تینوں اپنے اپنے مقام پر نماز فجر ادا کرتے ہیں، پھر ناشتہ اور یونیورسٹی کی دوڑ۔ ذرا اسکا بھی حال ملاحظہ فرما لیں۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔

    کیابیٹا فخر ۔ ۔ اور لو ناں۔ ۔ ۔یہ آملیٹ تو لیا نہیں۔اور تمہارا ایپل بھی ابھی باقی ہے۔فخر کی امی نے بڑے چاﺅ سے اپنے بیٹے کے آگے ناشتہ رکھا۔
    ہاں کھاﺅ۔ ۔ بلکہ ٹھوسو اور ٹھساﺅ اپنے پتر کو۔اور خوب بگاڑو موصوف کو۔ ابا جیسے بھرے بیٹھے تھے۔ کل رات با رہ بجے موصوف ، شفاعت صاحب کی بیٹی کو اسکی کزن کے ہاں چھوڑ کر آئے چپکے سے۔ آخر کس سے پوچھ کے؟ کسی مرضی سے؟؟ ذرا کوئی پوچھے ان سے۔ابا کی بات سن کرفخر کے حلق میں نوالہ اٹکنے لگا۔ ۔
    یار یہ ابّا رات میں سوتے کیوں نہیں۔لگتا ہے نیند کی دوا پھر ختم ہو گئی، اب کے تھوڑا ہائی ڈوز لانی پڑے گی۔واٹ لگ گئی ۔ ۔اب جواب دے پتر انکو۔ ۔ ۔فخر سوچ میںپڑ گیا۔
    بیٹا ! خیر تو ہے؟ کہاں گئے تھے تم کل۔ امی نے پچکارتے ہوئے فکر سے پوچھا۔
    وہ امی۔ ۔ شفاعت صاحب اپنے پڑوسی ہیں۔ کل وہ ناں بیت الخلاءمیں پھسل گئے تھے۔ اس لئے شمیم نے مجھ سے کہا کے خالہ کے گھر چھوڑ آﺅ۔ورنہ پڑوس کا خیال نا ہوتا تو میں ، تو آپکو پتا ہے کتنا رزیزرو رہتا ہوں محلے میں۔فخر نے اپنے طور پر چھکا مار دیا، اور دل ہی دل میں خوش ہونے لگا کے بھلے پڑوسی کی ٹانگ ٹوٹے تو ٹوٹے۔ ۔ اپنی جان تو بچ گئی ناں۔
    آپ بھی نا میرے بچے پر شک ہی کرتے رہا کریں، اپنی اماں کی طرح۔ امی نے فخر کو گلے سے لگا لیا۔
    اچھا۔ کل تو صبح چہل قدمی کرتے نظر آئے تھے مجھ کو۔ ابّا نے فخر کو گھورتے دیکھا۔ ۔ ابّا شام میں۔ ۔ شام میں گرے ہیں وہ۔پاخانے۔ ۔ مطلب باتھ روم میں۔ فخر نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔
    ہم م م ۔ ۔ ۔بھئی بڑا افسوس ہوا۔ ۔ میں آج ہی شفاعت صاحب کے ہاں جاتا ہوں۔ ابا نے گویا فیصلہ کر لیا ہو کے ابھی جارہے ہوں۔ ۔ ۔
    فخر کو اچانک پھندا لگ گیا۔ ۔ ۔بیٹا پانی۔ ۔ نہیں امی دیر ہو رہی ہے یونیورسٹی جانا۔ ۔ فخر بیٹا اب تو جانا ہی پڑے گا ورنہ ابّا مجھ سے پہلے شفاعت صاحب کے ہاں نا پہنچ جائیں۔یا اللہ بھولے بھالے ماں باپ عطا کر سب لڑکوں کو۔ ۔ میرے والدین جیسے چلاک نہیں۔
    بیٹا لنچ باکس تو لیتا جا۔ ۔ ۔ امی نے پیچھے سے پکارا۔ ۔ فریال بیگم آرہا ہوں دوپہر کوواپس۔ ۔ ۔ کوئی محاذ پر نہیںجارہا وہ۔وجاہت صاحب نے چڑ کر اپنی بیگم سے کہا۔ اور فخر کودتا پھاندتاگھر سے باہرکی جانب دوڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رانیہ بیٹا ناشتہ تو کرتی جاﺅ۔ شبانہ بیگم نے صبح صبح گھر میںبھاگتی ،ہلچل کرتی اور ادھم مچاتی رانیہ کی نازک کلائی تھا م کاسے روکا اور ناشتے کی طرف توجہ دلائی۔
    واٹ ناشتہ ماما۔ ۔ دیر ہورہی ہے مجھ کو۔ اور آپ ہیںکے مجھے اور دیر کروا رہی ہیں۔ یہ ریشماں نے میرے شوز پتا نہیں کہاں رکھ دیئے۔ کام چور ہے، دھیان پتا نہیں کہاں رہتا ہے اسکا۔ میرے شوووووووووووووز۔ ۔ ۔ رانیہ چلائی۔
    بی بی جی قسم سے آپکے جتوں کو میں نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ وہ کل ہانیہ بی بی نے اپنی سہیلی کو دیکھائے تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے خد دیکھا تھا۔ریشم نے الفاظ کو اپنے مخصوص پنجابی انداز میں جما جما کے اداکیا۔
    ریشم، منع کیا ہے نا کے چغلی مت کیا کرو۔ چلو جاﺅ کام کرو اپنا۔شبانہ بیگم نے ریشم کی سرزنش کی۔
    بیٹا یہ کس لہجے میں بات کرتی ہو تم، اپنا لہجہ درست کرو۔ یہ بات کرنے کا کوئی اچھا انداز نہیں ہے۔اور وہ جوتے ہانیہ کی ایک دوست لے گئی، کیوں کے اسے رات کو پارٹی میں جانا تھا۔ تم کوئی اور سے پہن لوآج۔شبانہ بیگم نے دھیمے لہجے میں اپنی نازوں پلی بچی کو سمجھایا۔انہیں اسکی نخریلی طبیعت پر فکر ہوجاتی تھی کے پرائے گھر کون اسکے نخرے اٹھائے گا۔
    امی میں ہانیہ کا منہ نوچ لونگی۔اپنی کوئی چیز خریدتی نہیں، اور میری چیزیں اپنی گھسی پٹی سہیلوں میں تقسیم کرتی پھری ہے۔ارے میرا بیگ کہاں گیا۔رانیہ کے مزاج ہی اڑے ہوئے تھے۔ اور کیچر نہیں مل رہا۔ ۔
    ہیلو بابا۔ ۔ بابا آپ نے ابھی تک میرا لیپ ٹاپ ٹھیک نہیںکرایا۔ ۔ مجھے نہیں پتا۔ ۔ ۔ مجھے نیاءلیپی چاہئے بس۔ ۔ ۔رانیہ کو ایک دم اپنا لیپ ٹاپ یاد آگیا اور اس نے اپنے بابا ، ک وکے اس وقت بیرون ملک کاروباری دورے پر گئے تھے، کال کر کے فرمائش کر ڈالی۔ ۔ ۔ ماما ہیر بینڈ بھی نہیں مل رہا۔ ۔ ۔ ریشماں ۔ ۔ کتنی دیر لگے گی اور۔ ۔ ۔جلدی کرو ،میرے ریڈ والے شوز لے آﺅ۔ ۔ ۔ رانیہ کی چینخ و پکار سے سرا گھر گونج رہا تھا۔
    اچھا امی میں چلی۔ اممما ۔ ۔۔ لو یو ماما۔۔ ۔ ڈرائیور گاڑی نکالو۔ رانیہ اپنی ماں کا گال چوم کر تیزی سے باہرکی طرف بھاگی۔
    رانیہ بیٹا، گاڑی تو رومان لے گیا۔ شبانہ بیگم نے کن اکھیوں سے رانیہ کے چہرے کودیکھاجس پر بارہ بجنے کو ہی تھے۔
    واٹ نانسنس ماما۔ ۔ ۔ میں۔ ۔ ۔اوکے۔ ۔ ابھی ٹائم ہے پوائنٹ آنے میں ۔۔ میں پوائنٹ سے جا رہی ہو۔ رانیہ نے بے بسی کی حالت میں اپنے لئے حل تلاش لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ارے حسن بیٹا یہ کیا،تم کو دیر ہو رہی ہوگی، لاﺅ، چھوڑو پلیٹ۔ جانے کی تیاری کرو۔رابعہ بیگم اپنے ہونہار بیٹے کو ناشتے کے برتن دھوتا دیکھ کر اسکی طرف لپکیں۔
    امی جان، ابھی ٹائم ہے۔ آپکو تو پتا ہے، میں لیٹ نہیں ہوسکتا۔ا ور ذرا سی تو بات ہے، دیر ہی کتنی لگتی ہے برتن دھونے میں۔ میں بس فارغ ہو ہی گیاہو۔ حسن نے اپنی ماں کو تسلی دی جو اسے اپنی خدمت میں جتا دیکھ کر نہال ہو رہی تھیں۔
    بیٹا ہم نے تو سوچا تھا کے تم اپنے بابا کا بزنس دیکھو گے، کیونکہ اب ان سے یہ ذمہ داری اکیلے نہیں اٹھائی جاتی۔آخر اس پڑھائی کا کیا فائدہ، یہ سب کچھ تمہارا ہی تو ہے۔رابعہ بیگم نے محبت کے عالم میں بیٹے کو نصیحت کی۔انکو اپنے بیٹے کا قناعت پسندانہ رویہ اچھا نہیں لگتا تھا۔ وہ چاہتی تھیں کے وہ ہر قسم کے بوجھ سے آزاد رہے، یہاں تک کے انکو حسن کی پڑھائی میں مشغولیت بھی ایک بوجھ معلوم ہوتی تھی۔
    امی جان! علم کبھی فائدہ نقصان کیلئے نہیں سیکھا جاتا۔ یہ تو ایک لگن ہے ، انسان کو انسانیت کی طرف لےجاتی ہے۔بس ۲ سال کی بات ہے، میں اپنا گریجویشن پورا کر لوں، پھرروز یونیورسٹی کے بعد آفس تو جاتا ہی ہوں نا میں۔ حسن نے اپنی ماں کو سمجھایا۔ اچھا اب میں چلتا ہوں امی جان، اپنا خیال رکھئیے گا۔حسن یہ کہتا ہوا درواز ے کی طرف بڑھا۔
    بیٹا سب چیزیں لیں لی ناں؟؟؟ رابعہ بیگم کو خیال گزرا کے بچہ کچھ بھول نہ جائے۔ ۔ امی۔ ۔ جی سب ہے میرے پاس۔ میں جانتا ہوں آپ کل مّریہ کے حوالے سے بات ہوئی تھی، اس پر میری رائے جاننا چاہ رہی ہیں۔ حسن اپنی ماں کی مراد سمجھ گیا تھا۔ امّی جان! مّریہ کو میرے جیسے لڑکے نہیں پسند۔ اسکی خواہش ہے کہ کوئی ایسا ہمسفر ملے جو اسکی طرح آزاد طبیعت کا مالک ہو۔جس کے ساتھ وہ اپنی مرضی سے دنیا جہاں کی سیر و تفریح کر سکے۔حسن نے رابعہ بیگم کی طرف سے مرّیہ کے پرپوزل پر اپنی رائے دی۔
    امّی اگر آپ واقعی اپنی بھانجی کو گھر میں لانا چاہتی ہیں تو میں بالکل رکاوٹ نہیں بنوں گا۔ پر اسکے بعد کے مسائل پر کیا آپ میرے اور اسکے تحفظات کو دور کر پائیں گی۔ میرے خیال میں خالہ سے رشتہ مضبوط ہونے کے بجائے کہیں نازک اور حساس نا ہو جائے۔ حسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا۔
    پر بیٹا مّریہ بہت اچھی ۔ ۔ ۔رابعہ بیگم اپنی بات پوری ناکر پائیں تھی کے حسن بول پڑا۔
    امّی جان۔ ۔ ۔ پلیز۔ ۔ کیا اب میں جاﺅں؟ حسن نے مسکراءکر اپنی ماں کی جانب دیکھا اورانکے چہرے سے اشارہ پاکر گھر سے باہر آگیا۔ ۔ ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تین لوگ ۔۔ ۔ ۔تین طالب علم۔ ۔ ۔ ۔ ایک یونیورسٹی ۔ ۔ ۔اور ایک ہی پوائنٹ جو ان تینوں کے روٹ سے گزرتی تھی۔
    دور سے ہی یونیورسٹی کی سفید اور براﺅن کلر کی دھاری والی ، پوائنٹ آتی دیکھ کر حسن الرٹ ہوگیا، کیونکہ بس چھوڑدینا مطلب آدھا گھنٹہ انتظار۔ٹھیک سات بجے حسن سوار ہوتا ہے۔ اسکے ٹھیک پندرہ منٹ بعد بس رانیہ کے اسٹاپ سے گزرتی ہے۔ رانیہ کو پوائنٹ دیکھ کر ہی چکر آنے لگتے ہیں کے اس پر سوار ہونا بھی ایک مصیبت ہے۔ کئی ایک بار پھسل بھی چکی ہیں محترمہ بس کے پائیدان پر سے۔ اس با ربھی لڑکھڑائے بغیر نہ رہ سکیں۔
    ٹھیک ساڑھے سات بجے بس کا گزر فخرکے اسٹاپ سے ہوتا ہے۔ اسٹاپ فخرے کے گھر سے کچھ فاصلے پر ہے۔ اور پچھلے دوسالوں کی روایت برقرار رکھتے ہوئے فخر اس بار بھی پوائنٹ چھوٹ جانے کی وجہ سے اسکے پیچھے پیچھے دوڑ رہا تھا اور ڈرائیور کو اشارے کے باوجود نا رکنے پرگالیاں بھی دیتا جارہا تھا۔ آخر ڈرائیور نے بس کی رفتا دھیمی کر دی تاکہ فخر سوار ہو سے اور ہمیشہ کی طرح فخر نے چلتی بس میں سوار ہونے کا سابقہ ریکارڈ برقرار رکھا۔

    فخر کے بس میںسوار ہوتے ہی جیسے ایک بونچال آگیا ہو۔بڑا مزا آتا ہے تمکو روز روز میرے پدّی لگواتے ہوئے۔ ۔ انسان بن جاﺅ۔ ۔ کم از کم پانچ منٹ انتظار کیا کرو میرا۔ ۔ ۔ فخر نے الٹابس والے کو ڈانٹنا شروع کردیا۔ اور ابے یہ بتا، سب سے آخر میں ہی میرے پاس کیوں آتا ہے تو۔ایک بھی سیٹ خالی نہیں ہے۔ فخر بھری پوائنٹ دیکھ کر تلملا گیا ، جس میں سوار دیگر طلبہ فخر کی سیٹ نے ملنے پر اس طرح سے دیکھ رہے تھے جیسے کسی فقیر کو حقار ت بھری نظر سے دیکھا جاتا ہو۔

    صاحب نا آپ اس پوائنٹ کیلئے نئے ہیں اور نا میں۔ ۔ آپ کی جو مرضی کہیں۔ ۔ ۔اور یہ بس آپکی ہی ہے ۔ ۔چاہیں تو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ جائیں۔ ڈرائیور نے دانت نکال کر کہا،اور فخر دانت پیس کر رہ گیا۔پھر چارونا چار انجن کے اوپر والی سیٹ پر بیٹھ گیا، اور دل میں سوچنے لگا کے آدھا گھنٹہ کھڑے کھڑے سفرکرنے سے بہتر ہے ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ کے راستہ بِتایا جائے۔اور یہ اسکے لئے نئی بات نہیں تھی، کئی بار تو وہ چھت پر سوار ہو کر یونیورسٹی جا چکا تھا۔ باقی کا سفر خاموشی کے ساتھ کٹ گیا اور طلبہ بخیر عافیت جامعہ پہنچ گئے۔

    آج سے تھرڈ ائیر کی کلاسسز کا آغاز ہوچکا تھا۔ تھرڈ ائیر بھی عجیب سال ہوتا ہے۔ اس سال یونیورسٹی میں گزشتہ دوسالوں کے طلبہ کی کریم رہ جاتی ہے۔ یعنی کچھ طلبہ پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں، کچھ پیا دیس سدھار جاتے ہیں، کچھ وطن سے باہر اور کچھ گھر سے باہر۔ غرض جنکو آگے صرف پڑھنا ہوتا ہے وہی جامعہ میں ٹکتے ہیں یا پھر جنکو محض ڈگری لینی ہوتی ہے وہ لوگ پڑھائی جاری رکھتے ہیں۔
    کچھ مائگریشن بھی سامنے آتی ہیں، یعنی اکثر کالجز اور پرائیوٹ یونیورسٹی کے طلبہ جو شروع سالوں میں جامعہ میں داخلہ لینے سے رہ جاتے ہیں، وہ ابتدائی دوسال پرائیوٹ کالجز اور جامعات میں مکمل کر کے ، باقی کورسسز کیلئے شہر کی مرکزی جامعہ کا رخ کرتے ہیں۔رانیہ اور حسن بھی انہی طلبہ میں سے تھے، جبکہ فخر نے اپنے دوسال جامعہ میں ہی پورے کئے تھے۔
    اس وقت جامعہ میں خوب گہماگہمی تھی اور تمام طلبہ کا رخ اپنے اپنے ڈپارٹمنٹ کی طرف تھا۔پر فخر کی نظریں نینا کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    محترم جناب معاف کیجئے گا بھائی ،کیا آپ بتا سکتے ہیں کے سر کامران کا روم کہاں ہے؟؟؟ سرکامران حسن کے قریبی عزیز ہیں ،اور ان ہی کے کہنے پر حسن نے جامعہ میں داخلہ لیا تھا ، اس لئے وہ جامعہ میں انجان ہونے کی وجہ سے سر کامران کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک دراز قد لڑکے سے ٹکرا گیا جو اپنی ہی دھن میں تیز قدموں کے ساتھ مخالف سمت سے آرہا تھا۔
    جگر !یہ کونسا طریقہ سے پتا معلوم کرنے کا، پہلے مارو ،پھر سوال کرو۔۔ ۔ ۔کامران ، کون کامران!!!۔ ۔ ۔ سر سے پاﺅں تک حسن کا جائزہ لیتے ہوئے قدرے توقف کے بعد۔ ۔ ۔ہمیں یہاں نینانہیں مل رہی اور یہ ہیں کے ۔ ۔ ۔جی ہاں یہ لڑکافخرتھا، جو ایک دم کچھ کہتے کہتے رک گیا اور کچھ سوچنے لگا، کہیں یہ جامعہ کے چمن کا نیاءپرندہ تو نہیں ۔ ۔ ۔ریگنگ تو لاسٹ ائیر کی بدنظمی کی وجہ سے ختم کردی گئی تھی، پر وہ کیسے گھر بیٹھے ہاتھ آئے موقع کو ضائع کر دیتا۔
    فخر کو سوچتا دیکھ کر حسن نے خیال کیا کے شائد یہ بھی میری طرح نیاءہی ہے، اس لئے چپ چاپ کسی اور سے رجوع کرنے کو پلٹا۔ فخر حسن کو جاتا دیکھ کر ایک دم اسکی طرف لپکا۔
    ارے بھائی! سر کامران کے پاس جانا ہے نا آپکو۔ وہ سامنے جائیں اور جوپہلا رائیٹ آئے گا، اسکے ساتھ ہی ایک روم ہے۔ وہاں پر سر کامران کے پی۔اے ، عرف لالہ جی بیٹھے ہونگے۔اس سے کہنا کے ،بی۔وی۔کے، سے ملنا ہے۔ وہ آپکو ملوا دے گا۔فخر نے حسن کے ساتھ جو کرنے کا سوچا تھا، حسن اس سے قطعی بے خبر تھا۔
    بی۔وی۔کے، بھائی یہ کیا بلا ہے؟ حسن گڑبڑاگیا۔ یہ سر کامران کا ٹائٹل ہے۔ یاد رکھنا، بی۔وی۔کے،۔ ۔ ۔ اوکے، ۔ ۔ بھولنا مت۔ ۔ ۔آگے سے رائیٹ۔ فخر اتنا کہہ کر وہاں سے پلٹ گیا تا کہ دور کسی محفوظ مقام سے حسن کا حشر ، نشر ہوتا دیکھ سکے۔
    حسن نے دل میں سوچا کے اللہ کا شکر کے بندہ نے ٹھیک ٹھیک رہنمائی کر دی ورنہ کس کس سے پوچھتا پھرتا۔ حسن جب مطلوبہ پتہ پر پہنچا تو دیکھا وہاں پر ایک جوان جہان پٹھان قمیص شلوار کے اوپر بوٹ پہن کرکرسی پہ تیار بیٹھا تھا۔ حسن کو ذرا تعجب نا ہوا کے اسکے ساتھ کچھ غلط ہورہاہے ۔
    اسلام و علیکم،۔ حسن نے سلام کیا۔ وعلیکم السلام سر۔ لالہ جی نے جواب دیا۔
    مجھے ، بی۔وی۔کے سے ملوادیں۔ حسن نے لالہ جی کو مخاطب کر کے مﺅدبانہ انداز میں کہا۔ لالہ جی کے چہرے کا رنگ یکلخت سرخ ہو گیا، اور کرسی سے اٹھ کر حسن کو گّدی سے پکڑ لیا۔خوچہ ایک بارپھر سے کہو کس سے ملنا ہے۔ لالہ جی نے غصے سے کہا۔
    بی۔وی۔کے۔ حسن نے گھٹی گھٹی آوازمیں کہا۔ خانہ خراب کا بچی، ہم تم کو نہیںچھوڑے گی۔ کل کالونڈاہم سے مستی کرتا ہے۔چلو ہم تم کو بتاتی ہے۔ لالہ جی اب حسن کو گردن سے پکڑ کر گھسیٹتے باہر کی جانب جانے لگے۔حسن اس اچانک افتادہ پر گھبرا گیا،۔ ۔ ۔ آج تک نا ہی اس نے کسی سے ایسی حرکت کی تھی ، اور ناہی کسی نے اس کے ساتھ اس قسم کا رویہ رکھا تھا۔ اسے سخت بے عزتی کا احساس ہونے لگا۔
    ارے جناب، آخر میں نے کیا کیا ہے؟ پلیز مجھ کو چھوڑدیں۔ اگر کچھ غلطی ہوگئی تومیںآپ سے معافی مانگتا ہوں۔
    حسن نے اپنا بچاﺅ کرنے کی ناکام کوشش کی، کیوں کے خان صاحب تو پٹھان آدمی تھے۔جو اسے کھینچتے ہوئے کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کی طرف لے جانے لگے۔اب دیگرطلبہ بھی ان دونوں کی طرف متوجہ ہونے لگے ۔
    جناب میں یہاں پر نیا ءہوں اور مجھے سر کامران سے ملنا ہے،کسی نے مجھ سے کہا کے آپ انکے پی۔اے ہیں ، آپ مجھ کو اس سے ملوا دیں گے۔حسن نے لالہ جی سے اصل حقیقت بیان کردی۔لالہ جی کے آگے کو بڑھتے قدم رک گئے۔
    کیا! بچہ تمہارا آج پہلا دن ہے۔ لالہ جی نے پوچھا۔ جی ! حسن فقط جی ہی کہہ سکا۔
    اوہ میرا خدایا، تمہارے ساتھ کسی نے بدمعاشی کیا ہے۔ بچہ ہم کو معاف کرنا۔ تم ہم کو بتاﺅ کون بدبخت ہے جس نے تم کو اس بات کا مشورہ دیا۔لالہ جی نے حسن سے معذرت کرتے ہوئے استفسار کیا۔ حسن نے ادھر ادھر دیکھ کر فخر کو دھونڈنے کی کوشش کی، پر فخر آنے والے خطرے کو پہلے سے بھانپ کر پتلی گلی سے نکل گیا تھا۔
    ارے حسن تم یہاں ہو، میں تمہارا کب سے انتظار کر رہا ہوں۔ سر کامران نے حسن کو لالہ جی کے پاس کھڑے دیکھ کر اپنی جانب بلایا۔ سر کامران کو دیکھ کر حسن کو یوں لگا جیسے اسے نئی زندگی مل گئی ہو۔وہ سیدھا انکی طرف بڑھا اور مصافحہ کیا۔ یہ لالہ جی ہمارے ہاں سیکیورٹی انچارج ہیں، پر تم انکے پاس کھڑے کیا کر رہے تھے۔ سر کامران نے حسن سے پوچھا ۔
    سر میں آپکو ہی ڈھونڈرہا تھا کے ایک لڑکے نے مجھے کہا کے لالہ جی آپکے پی۔اے ہیں، اور آپکو کو سب یہاں ، بی۔وی۔کے، کے ٹائٹل سے جانتے ہیں۔حسن نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ سر کامران بات سمجھ گئے اور ہنسنے لگے۔اور حسن حالیہ شرمندگی کی وجہ سے بات پوری ناکرسکا۔
    حسن تم ریگنگ کی زد میں آگئے ہو۔ دراصل لالہ جی کی اہلیہ کا نام ہے ، بی بی وردا خانانی،ہے اور یہ خبرلڑکوں کو گاﺅں سےلالہ جی کے نام آنے والے خطوط کی وجہ سے پتا لگ گئی۔اب لڑکے لالہ جی کواس شارٹ ٹائٹل سے تنگ کرتے ہیں اور لالہ جی اپنے گھر کی عزت کا نام لڑکوں کے منہ سے سن کر آگ بگولہ ہوجاتے ہیں۔پر یہ کون شریرآگیا جس نے مجھے بھی نہیں بخشا، ملے تو بتانا مجھ کو۔سر کامران حسن کو اپنے روم میں لے جاتے ہوئے تفصیل سے آگاہ کرنے لگے۔حسن دل ہی دل میں مزید پشیمان ہونے لگا۔اوردل میں ارادہ کر لیا کہ ، چاہے وہ ساری بات سے لاعلم ہی سہی ،پر لالہ جی سے معافی بہرحال مانگے گا۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رانیہ کو کلاسسز کا شڈول نہیں مل رہا تھا، کیوں کے بورڈ پر لگتے ہین کسی نالائق طالب علم نے اسے بورڈ سے اتار پھینکا تھا۔ کتنا عجیب ماحول ہے یہاں کا۔رانیہ کو الجھن ہو رہی تھی اور وہ بے چینی کے عالم میں کسی ہم خیال لڑکی کو ڈھونڈنے لگی۔اسی اثناءمیں اس نے کوریڈور کی اینٹرنس کی طرف چلناشروع کیا، جہاں سیڑھویں پر کچھ لڑکیاں بیٹھی ہوئیں تھیں۔جنکی اونچی آواز میںہونی والی باتیں ڈپارٹمنٹ میںگونج رہی تھیں۔
    سنیئے! کیا آپ میری مدد کر سکتیں ہیں؟ سامنے سے آنی والی لڑکی اسے کافی پراعتماد اور بھلی معلوم ہوئی تو رانیہ نے اسے روک کہ پوچھا۔
    پہلادن ہے؟ لڑکی نے الٹا سوال کر ڈالا۔ جی ہاں، پر آپکو کیسے علم ہوا؟اصل میں مجھے کلاسسزکے بارے میں جانا ہے، تو شڈول کہاں سے مل سکتا ہے؟؟ رانیہ جو کے کافی دیر سے پراعتماد تائثر دینے کی کوشش کر رہی تھی کے لوگ اسے اجنبی نا سمجھیں ، تو اچانک سوال پر اسے لگا کے جیسے اسکی چوری پکڑی گئی ہو۔
    کوئی با ت نہیں ہوتا ہے، میرا یہاں تیسرا سال ہے۔ تمکو دیکھ کر مجھے اندازہ ہو گیا تھا، یہاں شروع شروع میں ہر کسی کو مشکل ہوتی ہے۔لڑکی نے اسکی پریشانی بھانپ کر اسے تسلی دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تیر ے لئے ساری عمر جاگوں،
    میں تو یہی رب سے دعا مانگوں،
    نام تیرے لکھ دے میری باقی زندگی،
    نینا او میری نینا،
    اے نینا، کسی ہو۔ میں کب سے تمکو ڈھونڈرہا ہوں۔ اور تم یہاں ہو۔ فخر نے کوریڈور کی سیڑھی پر نیناکو بیٹھا تو سیدھا اسکی طرف آگیا۔
    وٹ نانسنس، یہ کیا بکواس ہے۔ نینا نے فخر کو فری ہوتے دیکھ کر اسے جھاڑا۔ ار ے میں تو گانا گا رہا تھا، اب تمہارا بھی نام اتفاق سے نینا ہے تو میرا کیا قصور۔ فخر نے اپنی جھینپ مٹائی۔
    بدتمیز، نا جان نہ پہچان ،ایڈیٹ نا ہو تو۔نینا نے غصہ میںفخر کو ڈانٹا۔ ۔ ۔ میڈم! یہاں ہم سب ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور میر ی تو تقریبا ہر لڑکی سے
    دوستی ہے۔میں نے سوچا۔ ۔ ۔خیر۔ پھر ملیں گے۔ سی یو۔ فخر نے اپنا بات ختم کرنے ہی میں عافیت جانی اور کوریڈور میں داخل ہوگیا، پھر کچھ سوچ کر پلٹا اور نینا سے مخاطب ہوا۔ معاف کرنانینا، میں ایڈیٹ ہوں، تو اتنی شارٹ میٹنگ میں کم سے کم تم اتنا تومیرے بارے میں جان ہی گئیں ہو۔ دیٹس ناٹ بیڈ۔ ۔ ۔یہ کہہ کر فخرمسکراتا ہوا لمبے لمبے ڈگ بھرتا کلاس کی طرف جانے لگا۔
    فخر کا ایک بڑا فرینڈ سرکل ہے، جامعہ میں موجود ہر کوئی اسکو حلقہ احباب میں شامل تھا۔خاص کر جامعہ کی لڑکیاں ،یعنی کے طالبات۔ فخر لڑکیوں کے معاملے میں دل پھینک واقع ہوا تھا۔ نینا جامعہ میں نئی نہیں تھیں، پر کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ میں نئی تھی ، فخر اپنی عادت سے مجبور ہو کر نینا سے اپنے طور پر دوستی کرنے کی ٹھانی تھی۔نینا کے پاس سے پلٹتے وقت اسکے چہرے پر پھیلتی مسکراہٹ اس بات کی دلیل تھی کے نینا پر اسکا وار خالی نہیں گیا تھا۔
    یہ کس طرح کا ماحول ہے، میں تصور بھی نہیں کر سکتی کے اتنی مشہور جامعہ اور اتنا عجیب سا ماحول۔یوں لگ رہا ہے چڑیا گھر میں آگئی ہوں۔ رانیہ نے کہا۔رانیہ اور وہ لڑکی یہ سارامنظر دیکھ چکے تھے ۔ شش شش۔ ۔ اس لڑکی نے رانیہ کو خاموش رہنے کا کہا ، کیونکہ فخر کا رخ ان دونوں کی طرف تھا۔ ان دونوں نے ہلکے ہلکے چلنا شروع کردیا۔ جیسے ہی فخر ان دونوں کے قریب پہنچا تو رانیہ کے ہاتھ سے اسکی نوٹ بک چھوٹ کر نیچے گر گئی ، جسے پاس سے گزرتے فخر نے جھٹ اٹھا لیا۔
    اررے حرا! کیسی ہو؟ بک اٹھاتے ہی فخر کی نظر حرا پر پڑی ، جو رانیہ کے ساتھ کھڑی تھی۔حرا نے ہاتھ کے اشارے سے اوکے کا نشان بناتے ہوئے اسے مطلع کیا ، کو وہ ٹھیک ہے۔فخر بھی رکا نہیں اور آگے بڑھ گیا۔ پر غیر ارادی طور پر فخر نے مڑ کر حرا کے ساتھ کھڑی رانیہ کو مڑ کر دیکھا اور یہی حرکت رانیہ نے بھی دھرائی۔ کیونکہ آگے ان دونوں کی زندگی میں جوکچھ ہونے والا تھا، اسکے لئے ان دونوں کی یہ مختصر ملاقات ، ابتدائی تعارف کے طور پر ہونا ضروری تھا ناں۔۔ ۔ سمجھا کریں۔ ۔۔ ۔
    یہ کون ہے؟ رانیہ نے سوال کیا۔چھوڑو یار، تم کو کلاس لینی ہے نہ ،آﺅ میرے ساتھ، میں بھی کلاس لینے ہی جا رہی ہوں۔حرا نے رانیہ کو ساتھ لیا اور فخر کے پیچھے پیچھے کلاس کی طرف چل پڑی۔
    فکر نا کرو رفتہ رفتہ تمکو سب سمجھ آجائے گا، پھر تمکو واقعی لگے گا کے یہ جامعہ واقعی بہت اچھی ہے۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔۔ حرا رانیہ کو سمجھاتی آگے بڑھ گئی۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جی دوستوں۔ ۔کیسا لگا آپ سب کوکہانی کا پہلا حصہ۔ ۔ ۔مزید کے کیلئے انتظار فرمائیں۔ ۔ ۔ اور رائے دینے سے بالکل نا چونکیں۔ ۔ ۔ مثبت و منفی ہر دو قسم کی تنقید کو دل سے قبول کیا جائے گا۔ ۔ ۔

  2. The Following 19 Users Say Thank You to Amer Aiyaar For This Useful Post:

    !eo (03-11-2012), *AFAQ ALI* (03-11-2012), *Dani* (03-12-2012), -UNKNOWN-PERSON- (03-21-2012), aleesha2 (03-12-2012), Ammy_769 (03-11-2012), amnarani (03-11-2012), anz3611 (03-16-2012), Baba ki guriya (03-12-2012), komal tariq (03-31-2012), Magnanimous (03-12-2012), moazzamniaz (03-11-2012), Nabbas (03-15-2012), Savi Abbas (03-11-2012), Shamrock (03-16-2012), SKorpiO (07-02-2012), smarty cat (03-11-2012), Sparkling_Ey3s (03-11-2012), __QanOOn__ (03-11-2012)

  3. #41
    Amer Aiyaar is offline Banned
    Golden Boy . . . !!!
     
    Join Date
    Jan 2011
    Location
    معلق ہیں جی ہو
    Posts
    652
    Quoted
    80 Post(s)

    Re: Friends Korner. . .Yariyaaan (Hissa Awwal)

    Quote Originally Posted by Shamrock View Post
    amer, shayed aap apni tehreer k hawale se behtar samjhty hon.......!!
    Hay Rabba. . . mujhy itney saary shubhaat me chor ker khaan chlay. . .
    kisi ek ka tu jawab diya hota. . . haay meri phooti qismat. . abkon dega mujhey sahih maloomat.

    aap bhi ek mubham baat ker key chaly gay. . . TO THE POINT hi jawab de dety sarkaar. thats no fair.
    ab me es baat se kia samjhoon .. . "shayed aap apni tehreer k hawale se behtar samjhty hon". . . y etu mery sawaloon ka jwab nahi.


    Shamroc. . me aapko yehi batana chah rah ahon ke, apus ki baat cheet me ya kishi khas mozoo per likha jay tu To The Point wala formula nihaayet kamyaab hey. . .
    aap tu parhy likhey insaan hian. . .khoob janty hongey ke energy ka formula. . E = mc². .ke peechy kitni bari explaination he.

    Chanda. . . end result se pahly aapko detailing kernihi parhti he.

    thread me aaty rahain. . . naraz bilkul na hon. . . aur sach kahoon. . .meri jo baat buri lagy. . Mo per kahian. . . me mo phair ker baithney waloon me se nahi hon. . . aap log meeri khamiyan nahi batian ge tu aur kon batay ga.

    lots of thanx. . to come here. .. and read my writing.

  4. #42
    CaLmInG MeLoDy is offline Banned
    Roshni Main Andhairoun Ke
    Baad...!!!
     
    Join Date
    Jan 2011
    Location
    Islamabad
    Posts
    6,808
    Blog Entries
    25
    Quoted
    842 Post(s)

    Re: Friends Korner. . .Yariyaaan (Hissa Awwal)

    کہانی اور کرداروں کی تمہید خوب باندھی ہے آپ نے، اور تمہید سے اندازہ ہو رہا ہے، کہ کہانی کے کردار کافی پر کشش اور دلچسپ کردار ادا کرنے والے ہیں، بقیہ حصے بھی آپ پوسٹ کر چکے ہیں، ابھی وہاں جا کر اصل صورت حال سے واقفیت ہوگی. فلوقت دلچسپ انداز لئے تحریر لمبی ہونے کے با وجود مکمل پڑھنے کو جی چاہا.

Page 3 of 3 First 123

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  

Log in