All Pakistani Dramas Lists
Latest Episodes of Dramas - Latest Politics Shows - Latest Politics Discussions

Page 3 of 3 First 123

Thread: May Competition: Onwan aur Kahani mukamal karein

      
   
  1. #1
    Flashpro's Avatar
    Flashpro is offline محبت میرا پیغام
    سبحان ربك رب
    العزة عما يصفون
    وسلام على
    المرسلين والحمد
     
    Join Date
    Nov 2008
    Location
    Rawalpindi
    Posts
    20,137
    Blog Entries
    8
    Quoted
    930 Post(s)

    May Competition: Onwan aur Kahani mukamal karein

    --------- Post added at 05:49 PM ---------- Previous post was at 05:25 PM ----------

    OOOhhh oper kahni tu add ki hee nahi... pata nahi accept hoti hai nahi


    ایسے گھر کی کہانی جسے گھر کے چراغ سے آگ لگ گئی تھی
    سنجیدہ بچپن سے ہی بڑی شوخ مزاج لڑکی تھی. پتہ نہیں اس کے والدین نے اس کا نام سنجیدہ کیوں رکھا تھا. اپنی عادات اور رویّوں کی وجہ سے وہ اپنے نام کے بالکل بر عکس تھی. ہر وقت شرارتیں کرنا اور دوسروں کو تنگ کرنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا. سنجیدہ اپنے اس طرز عمل کی وجہ سے بہت مشہور تھی. بہت سے لوگ سنجیدہ کی اس چلبلی سی عادت سے بہت جلتے بھی تھے. کچھ بڑی بوڑھیاں اسے سمجھاتیں کہ زیادہ ہنسنے کھیلنے سے دشمنوں کی نظر لگ جاتی ہے اس لئے کم ہنسا کھیلا کرو مگر سنجیدہ ان سب کی باتوں کو بھی ہنسی میں ہی اڑا دیتی تھی اور اپنی ہی طبیعت میں خوش رہتی تھی.
    سنجیدہ صرف خوش مزاج ہی نہیں بلکہ طبعاً بہت حساس اور سمجھدار بھی تھی. وہ اپنی ماں اور بہن کا بہت خیال رکھتی تھی اور ان کے متعلق سوچتی رہتی.
    یہ بتانا تو میرے ذہن سے نکل ہی گیا کہ سنجیدہ کی ایک بہن بھی تھی جس کا نام ماجدہ تھا. ابھی دونوں چھوٹی ہی تھیں کہ ان کے والد ایک ٹریفک حادثہ میں وفات پا گئے. اس موقع پر ان کی والدہ کو بچیوں کی پرورش کے لئے ایک سکول میں ٹیچنگ کرنا پڑی. بچیوں کی دیکھ بھال گھر پر ان کی دادی کی ذمہ داری تھی. دادا اور دادی دونوں ان بچیوں پر جان چھڑکتے تھے. پھر پہلے دادا اور چند سال بعد دادی کی وفات ہو گئی. اس وقت تک دونوں بچیاں جوان ہو چکی تھیں.
    سنجیدہ کی نسبت اس کی بہن ماجدہ بہت چالاک مگر بظاہر خاموش لڑکی تھی. ماں سکول ٹیچر تھی اس لئے دونوں بہنیں پڑھائی میں خاصی لائق تھیں. البتہ اگر مقابلہ کیا جاتا تو ماجدہ پڑھائی اور دیگر امور خانہ میں سنجیدہ سے تھوڑی کمزور تھی. اسی وجہ سے ماجدہ کے دل میں سنجیدہ کے لئے کدورت رہا کرتی تھی. وہ کسی نہ کسی بہانے سنجیدہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی. وہ کوشش کرتی کہ سہیلیوں اور ماں کے پاس سنجیدہ کی برائی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دے. اس کے بر عکس سنجیدہ ہمیشہ اس سے پیار کرتی اور اسکی بہتری کا سوچا کرتی تھی.
    دونوں بہنوں میں ایک سال کا فرق تھا لیکن وہ ہم جماعت تھیں. میں بھی ان کے بچپن کی سہیلی تھی. ہم تینوں نے ایف-اے تک اکٹھے تعلیم حاصل کی اور بڑی گہری سہیلیاں تھیں.
    دوران تعلیم ہم تینوں میں بڑی اچھی دوستی تو تھی مگر اس کے ساتھ ساتھ مقابلہ بھی بہت تھا. ویسے تو ہم تینوں خوش شکل تھیں لیکن سنجیدہ ہر تقریب میں ہم پر بازی لے جاتی تھی. کالج کا کوئی فنکشن ہو یا محلے میں کوئی شادی بیاہ، سنجیدہ ہی ہر کسی کی نگاہ کا مرکز ہوتی تھی. اس کا شوخ انداز اس کی شخصیت کو چار چاند لگا دیتاجبکہ ماجدہ اس پر جلتی رہتی تھی.
    ایف-اے کرنے کے بعد میری شادی میرے کزن سے ہو گئی اور میں اپنے شوہر کے ساتھ دوسرے شہر چلی آئی. اب گھر کی مصروفیات کی وجہ سے ان سہیلیوں سے رابطہ کم ہو گیا.
    اس وقت ٹیلیفون عام نہ تھے. میں امی کو بھی خط لکھا کرتی تھی یا کبھی کبھار فون کر لیتی. ایک خط میں امی نے مجھے سنجیدہ کی شادی کے بارے میں بتایا تو مجھے بہت خوشی ہوئی. میں نے بھی سنجیدہ کو اس کی شادی پر مبارکباد کا خط لکھا جس کا اس نے بہت پیار سے جواب دیا. اس کے خط سے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اپنے گھر میں بہت خوش ہے. مجھے بھی اس پر بہت خوشی ہوئی کہ میری سہیلی اچھی زندگی گزار رہی ہے. وہ اپنے خصائل اور عادات اور رنگ روپ کی بنا پر اس قابل تھی کہ اپنے گھر میں راج کرتی.
    میں شادی کے بعد دوسرے شہر میں ہونے اور گھر کی مصروفیات کی وجہ سے امی کے گھر سال دو سال بعد ہی آتی تھی. اس بار میں دو سال بعد اپنے میکے آئی تو گھر آتے ہی میں نے سب سے پہلے ان دو سہیلیوں کے بارے میں اپنی امی سے پوچھا. امی
    ان کا ذکر سن کر رونے لگیں. مجھے بہت فکر لاحق ہوئی” کیا ہوا امی خیریت تو ہے نا؟” مجھے تشویش ہوئی. امی کی خاموشی نے تو مجھے اور فکر مند کر دیا تھا.
    “امی!مجھے جلدی سے بتائیں کیا ہوا ہے. سب خیر خیریت تو ہے نا؟”
    “بیٹا! کیا بتاؤں اس گھر کو تو کسی کی نظر کھا گئی ہے. سنجیدہ تو وہ سنجیدہ ہی نہیں رہی. اس پر تو قیامت گزر گئی ہے. بے چاری کے ساتھ بہت برا ہوا ہے.” پھر امی تفصیل بتانے لگیں “سنجیدہ کی شادی ہوئی تو وہ اپنے گھر میں بہت خوش تھی. اس کے سسرال والے بھی بہت اچھے لوگ تھے.مگر پھر اس کا شوہر……..”
    امی نے بات روکتے ہوئے کہا”اللہ تعالٰی کسی بھی عورت کو یہ وقت نہ دکھائے. دعا کرو کہ کبھی کسی کے ہستے بستے گھر کو نظر نہ لگے” یہ بات کہہ کر امی اداس ہو گئیں. آخر وہ بھی بیٹیوں والی تھیں اور کسی معصوم بیٹی کا دکھ کیسے دیکھ سکتی تھیں.
    “پھر کیا ہوا؟” اتنا سا سن کر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا. میں سنجیدہ کے بارے میں سب کچھ جلدی جلدی جاننا چاہتی تھی.
    “سنجیدہ اپنے شوہر کے ساتھ بہت خوش تھی. اس کا دیور باہر رہتا ہے. اس نے ان دونوں کو اپنے پاس پندرہ دن کے لئے سیر کو بلایا. یہ سنجیدہ کی زندگی کے یادگار دن تھے. واپس آ کر سنجیدہ بڑی خوشی سے اپنی تصاویر ہر کسی کو دکھا رہی تھی. اس کے پیر خوشی سے زمین پر نہ لگتے تھے. وہ اپنے شوہر شاہد کی تعریفیں کرتی نہ تھکتی تھی. اسے بہت پیار کرنے والا شوہر ملا تھا.
    ہم اسے دیکھتے تو اس کی قسمت پر رشک کرتے تھے اور اسے دعا دیتے تھے کہ خدا اسے نظر بد سے بچائے کیونکہ حاسدین کی نظر سب کھا جاتی ہے.
    سبھی لوگ خوش تھے سوائے سنجیدہ کی چھوٹی بہن کے. اسے بہن کی خوشی پر رشک کی بجائے غصہ آتا. بظاہر اس نے محسوس نہ ہونے دیا مگر وہ اندر ہی اندر سنجیدہ کی اس خوشحال زندگی پر جلتی رہتی تھی. وہ اکثر کہا کرتی تھی کہ دیکھ لینا ایک دن سنجیدہ سے بہتر گھر میں جاؤں گی. یہ کیا ہے.
    سنجیدہ کی ماں بھی بہت خوش تھی. جب بھی سنجیدہ اپنے شوہر کے ہمراہ اپنے میکے آتی تو ماجدہ کو بہت برا لگتا. وہ کوشش کرتی کہ سنجیدہ میں کوئی نہ کوئی نقص ڈالے. کبھی کہتی یہ تم نے کیا بڑی بوڑھیوں کی طرح اوپر چادر ڈال رکھی ہے، کبھی اس کی لپسٹک میں کوئی خامی نکال لیتی. کبھی کہتی تمہیں تو ڈھنگ کے کپڑے پہننے کا سلیقہ ہی نہیں رہا. بعض اوقات وہ اسے موٹا ہونے کا طعنہ دیتی اور کہا کرتی دیکھو اتنی موٹی اور بھدی نہ ہو جانا کہ اپنے میاں کے ساتھ چلتی اچھی نہ لگو. اس طرح وہ ہر دفعہ نیا کیڑا تلاش کر کے سنجیدہ کا دل دکھانے کا بہانہ ہاتھ سے نہ جانے دیتی تھی. تاہم سنجیدہ نے ان باتوں کو کبھی سنجیدگی سے نہ لیا. وہ سمجھتی تھی کہ اس کی بہن اس کی بھلائی کے لئے سب کچھ کہہ رہی ہے. وہ ماجدہ کے لئے بھی اپنے سسرال میں کوئی اچھا سا رشتہ تلاش کر رہی تھی تا کہ اس کی بھی شادی کر دی جائے.
    دن اسی طرح گزرتے گئے. شاہد بھی سنجیدہ کے ساتھ بہت خوش تھا. وہ بھی اس کی تعریف کرتے نہ تھکتا اور خود کو خوش قسمت کہا کرتا تھا.
    اسی دوران خدا اس جوڑے پر مہربان ہوا جس پر یہ دونوں بہت خوش تھے. دن رات وہ اپنے ہونے والے بچے کا نام سوچا کرتے اور باتیں کر کے بہت خوش ہوتے تھے.
    ایک طرف یہ خوشیاں تھیں اور دوسری طرف قسمت ان کے لئے کچھ اور ہی فیصلہ کر رہی تھی. ہوا یہ کہ ایک دن شوہر سے ضد کر کے وہ موٹر سائیکل پر اس کے ساتھ کہیں جا رہی تھی، شاہد اسے کار پر جانے کا اصرار کر رہا تھا. لیکن وہ نہ مانی اور وہ دونوں موٹر سائیکل پر چل دئیے. واپس آتے ہوئے ایک اچانک آنے والے سپیڈ بریکر سے موٹر سائیکل اچھلی اور سنجیدہ موٹر سائیکل سے گر گئی. گرتے ہی وہ بے ہوش ہو گئی. اسے فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا. ڈاکٹروں نے اس کی حالت کے پیش نظر اس کا فوری طور پر آپریشن کیا. حادثے میں اس کی جان تو بچ گئی مگر اس کی گود کا خوبصورت پھول اب اس کے پاس نہ رہا تھا. وہ اپنے ہونے والے بچے سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے.
    وہ تین دن تک زیر علاج رہی. لیڈی ڈاکٹر نے اس کے گھر والوں کو بتایا کہ حادثے کی وجہ سے وہ نہ صرف اپنے بچے سے محروم ہو گئی ہے بلکہ حادثے کی پیچیدگیوں کی وجہ سے اب وہ کبھی ممتا کے رشتے میں نہیں بندھ سکے گی. یہ سن کر سنجیدہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگی. اس کی دنیا اندھیر ہو گئی.
    یہ خبر شاہد پر بجلی بن کر گری. سارے خاندان میں سوگ کی فضا تھی مگر قسمت کے لکھے کے سامنے سبھی بے بس تھے.آخر تقدیر کا لکھا کون مٹا سکتا ہے.
    اس سارے ہنگامے میں اگر کوئی مطمئن تھا تو وہ سنجیدہ کی بہن ماجدہ تھی. بظاہر تو وہ بڑی اداس دکھائی دیتی مگر اسے اندر سے بہت عجیب سی خوشی محسوس ہوتی تھی جس کا اظہار اس کے لہجے سے ہوتا تھا.
    کچھ دن ہسپتال رہنے کے بعد سنجیدہ گھر آئی. وہ بہت بجھی بجھی سی رہنے لگی تھی. ہر وقت ہنسنے ہنسانے والی سنجیدہ واقعی سنجیدہ ہو گئی تھی. وہ شدید ڈپریشن کا شکار تھی. ہر وقت اپنے کمرے میں پڑی چھت کو گھورتی رہتی. کبھی کبھی رونے لگتی اور کہتی کہ اب مجھے کوئی ماں نہیں کہہ سکے گا. میں کسی بچے کو اپنی بانہوں میں نہیں کھلا سکوں گی.
    شاہد اس کی دلجوئی کی بھرپور کوشش کرتا اور کہتا کہ مجھے تمہاری زندگی عزیز ہے. پھر یہ کہ ڈاکٹر کوئی خدا تو نہیں کہ ان کا کہا حرف آخر ہو. خدا ہمیں ضرور اولاد سے نوازے گا. تم بس خوش رہا کرو. سب ٹھیک ہو جائے گا.
    پہلے سنجیدہ کی ماں اس کے پاس آ گئی مگر وہ بھی سرکاری ملازم تھی، زیادہ چھٹیاں نہ کر سکتی تھی اس لئے اس نے ماجدہ کو سنجیدہ کے پاس بھیج دیا تا کہ اس سے بہن کا دل بہلا رہے.
    شاید ماجدہ اسی وقت کے انتظار میں تھی. ،ماجدہ نے اس گھر میں آتے ہی سنجیدہ پر حسب عادت نکتہ چینی شروع کر دی مثلاً یہ کہ وہ شاہد کو توجّہ نہیں دیتی، اس نے اپنا خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے، وہ اب زیادہ دلکش نہیں لگتی وغیرہ وغیرہ. یہی نہیں اس دوران ماجدہ نے شاہد کو بھی توجّہ دینا شروع کر دی. وہ شاہد جو سنجیدہ پر جان چھڑکتا تھا اب اس سے دور ہونے لگا. وہ ہر وقت ماجدہ سے ہنس ہنس کر بات کرتا مگر سنجیدہ اس معاملے پر کوئی توجّہ نہ دیتی.
    رفتہ رفتہ یہ ہوا کہ شاہد اور ماجدہ بہت قریب آ گئے. شاہد نے اب سنجیدہ کو یہ باور کرانا شروع کر دیا کہ اس کی وجہ سے ان کی ہنستی بستی زندگی جہنم بن گئی. سنجیدہ کی ماں کو پتہ چلا تو وہ دوڑی آئی مگر شاہد نے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ اب زیادہ دیر سنجیدہ کے ساتھ نہیں چل سکتا.
    حالات کو دیکھ کر سنجیدہ اپنی ماں اور بہن کے ساتھ چند دن کے لئے میکے آ گئ. اس دوران شاہد نے اسے طلاق بھجوا دی. اس نے یہ بھی کہا کہ اسے اولاد کی تمنا ہے. وہ زیادہ دیر تک اس بانجھ دھرتی کو اپنے گھر کی زینت نہیں بنا سکتا.
    شاہد نے شروع میں ماجدہ کے رشتے کے لئے اس کی والدہ پر اصرار کیا. جب اس کی والدہ رشتہ پر آمادہ نہ ہوئی کیونکہ اس کو بڑی بیٹی کا دکھ تھا تو شاہد اور ماجدہ نے کورٹ میرج کر لی

    کہانی کا بقیہ حصّہ آپ خود تحریر کریں .مگر اختتامی بلیو ہونا ضروری ہے. شکریہ..



    Baqya Hissa:
    'Sanjeeda'
    ka gham Maa say bardasst naa hota tha.
    Osay wo waqt yaad aata tha jab apni sahulaat ki khatir dunoo behanoo ko aik hee class mai dakhil karwa diya tha, Shaeid 'Majda' issi waja say bari behan ka ahtram bhool kar, hasad ki aag mai jalnay lagi thi.

    Sanjeeda char mahenay tu bistar per pari rahi
    , magar iss duraan Maa ki girti sehat aur ghurbaat nay osay zindagi ka muqabala karany kay liey teyar kar diya, os nay aik school mai parhana shuru kar diya sham ko Doctor Cheema kay clinic per Receptionist ki job ikhteyar kar li. Dr. Cheema bohat nafees insan thay, fees bhi maqool, aur kai ghareebon ka tu muft ilaaj kar deytay. Khush shakaal -o- khush posh, dekhnay mai Doctor sahaab bilkul bhi chalees saal kay nahi lagtay thay , magar shadi kyoon nahi ki ? ... ye sawal hamesha , muskura kar taal jatay. Kuch arsay mai Sanjeeda ko doctor sahib say unsiyaat si paida ho gai . Dr. Cheema ko Qeema bohat pasand tha aur Sanjeeda ko ranjeeda dekh kar Cheema aksar Qeema magwa leytay , dunoo mai acchi understanding qaieem honay lagi.


    Doosri taraf Shahid aur Majda mazay say zindagi guzaar rahay thay, jab Majda kay beta paida howa tu Shahid ki khushi ki inteha na rahi, Majda nay Maa ko phone kiya tu Maa nay duaa di magar ghar aanay say mana kar diya. Maa akhir Maa hai, aik din 'Majda' say milnay chali gaey. "Majda' Maa ko dekh kar bohat roi, oss nay bohat maafi mangi... "Maa mujhe maaf kar du
    , mai tum dunoo ki mujrim hoon, mai bachpan say hamesha ahsaas-e-kamtari ka shikar rahi hoon, Sajeeda ko har khushi mili ... magar ab mujhe ahsaas howa hai mai nay achaa nahi kiya apni behan kay sath, aur Maa ka gham mujhe Maa ban kar hee mehsoos howa jab mera bacha bemar ho jata hai tu kissi pal chen nahi hota, behan ki bohat yaad aati hai , shahid bhi khabi khabi khuwab mai Sanjeeda Sanjeeda pukartay hain...magar sukar hai baap ban kar bohat khush hain"...

    Dr. Cheema nay aik aur clinic bhi khol liya, wo bohat khush thay... unho nay naya sports motorbike bhi khareeda, aur Sanjeeda ko seyr karwanay ki offer ki... Sanjeeda nay pahlay tu tal matol ki, teesri dafa offer ki tu kaha, 'Doctor Sahab apni umar deykhain aur harkatein dekhain
    ' magar jab Dr. nay israr kiya tu sanjeeda zaabt na kar saki aur zaar-o-qataar ronay lagi, aur bey-ikhteyaari mai mu say nikal gaya, 'Nahi Cheema mai tumhe khona nahi chahti' ye sun kar Dr. ko sanjeeda ki story yaad aa gai aur ahsaas howa kay wo kitna zada payar karnay lagi hai oss say. Dr.Cheema nay foran hath choom liya (apna hee) kyoon kay ass pass log kharay thay.

    Majda walda bani tu bohat badal gai, jab ossay pata chala kay os ki behan ki shadi Doctor say hu rahi hai tu ossay bohat khushi howi... Doctor Cheema nay Reema ko bhi bulaya aur sub say secret bhi share kiya kay wo reema say kissi waqt shadi karna chata tha magar sanjeeda nay ossay reema aur qeema ki yaad bhula di. Rukhsati kay waqt Majda achanak aai aur behan kay paaoon mai gir kar paoon pakar liey 'Khuda kay liey mujhe maaf kar du' ... Sanjeeda nay Cheema ki taraf deykha, Cheema nay bajay waloon ki taraf deykha... wo army ka trained band tha foran hee dhun baja di 'Khushi ka samaa hai, Maaf kar do, Shaadi ka din hai maaf kar du', Sanjeeda nay behan ko galay lagaya ... 'Shahid' bhi qareeb hee khara tha ... os nay bhi sanjeeda aur cheema ko bohat mubarak baad di , aur band waloon say poocha, "ye kon sa gana tha ju khabi suna hee nahi
    " .Band waloon nay kaha "ye happy ending song tha"... aur sub hansi khushi rahnay lagay"

    Title : Khushiyaan phir Lot Aaein Gi...





    -



  2. The Following 22 Users Say Thank You to Flashpro For This Useful Post:

    *AFAQ ALI* (05-20-2012), *Dani* (05-24-2012), - Lily - (05-20-2012), amnarani (05-21-2012), Baba ki guriya (05-20-2012), BENAM (05-21-2012), BUSY12 (07-10-2012), diya Imaan (05-22-2012), Eᴍᴇʀᴀʟᴅ (05-21-2012), innocent girl 12 (05-20-2012), Lost Passenger (05-20-2012), Muhaddisa (05-20-2012), nazan (05-20-2012), R oC k iN (05-21-2012), Savi Abbas (05-20-2012), smarty cat (05-22-2012), void (05-21-2012), Hidden_Trigger (05-21-2012), ~ shab ~ (06-06-2012), ~ ƜĦƖƬЄ ƤЄAЯL ~ (05-23-2012), ~*~Raina~*~ (05-21-2012)

  3. #41
    Flashpro's Avatar
    Flashpro is offline محبت میرا پیغام
    سبحان ربك رب
    العزة عما يصفون
    وسلام على
    المرسلين والحمد
     
    Join Date
    Nov 2008
    Location
    Rawalpindi
    Posts
    20,137
    Blog Entries
    8
    Quoted
    930 Post(s)

    Re: May Competition: Onwan aur Kahani mukamal karein

    Quote Originally Posted by *Dani* View Post
    hahaahah.....

    bilkul hi mukhtalif bana diya hai aap nay kahani ko. kahani jis sanjeedgi say shrooh hoti hai utni khubsoorati say hansi hansi khatam hti hai.....albata iss buniyad pay yeh un kahaniyon mein aa jati hai jinn k end ko predict nhi kiya ja skta...inshort "mazeedar baqiya hissa"....infact bohat hi mazedaar baqiya hissa. khas kr cartoon signs....lolz....keep it up bro, thanks for sharing.
    Bohat sukriya appkay alfaz meray liey kafi qeemti hain .
    Aaj kal zindagi mai ghum zada aur khushiyaan kam hain, meri koshish thi kay tahreer apnay qari per musbat tasur chorhay , zindagi ki mushkilaat ka samna karnay ka jazba paida ho.

    kafi arsa pahlay zindagi ki talkh haqeeqatoon per bhi likha tha, baaz nazuk mizaaj doost ro parhay thay , mujhay acha nahi lagta kay meri waja say ankheein num hoon, agar yahan FK kay dostoon ki farmaieesh hoi aur waqt mila tu... phir hum rulaein gay bhi aur khud bhi roein gein

    Magar filhil Ranjeeda si Sanjeeda , Cheema ka qeema kah kar bohat khush Aur Shahid paap ki jaga Baap,... aur Majda walda say maafi mang kar, khud Walda Majda ban gaey hai aur sub hansi khushi rah rahay hain

    Quote Originally Posted by Ahsan Mirza View Post
    Wahhh Bhai..... Kis Khubsurati Se Kahani Ko MoRa Hai........ Buhat Ache...... Likhte Raho.......
    Bohar sukriya Bhai, pharhanay ka aur pasand karnay kay

  4. #42
    *Dani*'s Avatar
    *Dani* is offline Star Member
    In middle of writing a story!
     
    Join Date
    Nov 2009
    Posts
    1,121
    Quoted
    52 Post(s)

    Re: May Competition: Onwan aur Kahani mukamal karein

    Quote Originally Posted by Flashpro View Post
    Bohat sukriya appkay alfaz meray liey kafi qeemti hain .
    Aaj kal zindagi mai ghum zada aur khushiyaan kam hain, meri koshish thi kay tahreer apnay qari per musbat tasur chorhay , zindagi ki mushkilaat ka samna karnay ka jazba paida ho.

    kafi arsa pahlay zindagi ki talkh haqeeqatoon per bhi likha tha, baaz nazuk mizaaj doost ro parhay thay , mujhay acha nahi lagta kay meri waja say ankheein num hoon, agar yahan FK kay dostoon ki farmaieesh hoi aur waqt mila tu... phir hum rulaein gay bhi aur khud bhi roein gein

    Magar filhil Ranjeeda si Sanjeeda , Cheema ka qeema kah kar bohat khush Aur Shahid paap ki jaga Baap,... aur Majda walda say maafi mang kar, khud Walda Majda ban gaey hai aur sub hansi khushi rah rahay hain



    Bohar sukriya Bhai, pharhanay ka aur pasand karnay kay
    Khush rhain bhai g, Abad rhain. Likhtain rhain.....

    اندھیرے کی وسیع سمندر میں روشنی کا ایک نقطہ گرا تھا جو اب بڑھتے ہوئے اندھیرے کو ہر طرف سے پرئے دھکیل رہا تھا۔

    یہ تو آسمان ہے۔۔۔۔ہاں یہ آسمان ہے، نیلا اور اُجلا آسمان۔ " مارک نے اپنے آپ میں سوچا۔"

    مزید پڑھیے۔

    https://www.friendskorner.com/forum/f24/akhri-safar-347704/

  5. #43
    rose sheikh's Avatar
    rose sheikh is offline Genius Member
    live like Ali a.s

    die like Hussain a.s
     
    Join Date
    Mar 2011
    Posts
    2,369
    Quoted
    868 Post(s)

    Re: May Competition: Onwan aur Kahani mukamal karein

    Acha idea hey bht acha lekha hai,,,,,,,,,,,,,,
    moula panjtan pak khush rakhay apko ameen,,,,,,,,,,!!!

Page 3 of 3 First 123

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  

Log in