اعلٰی تعلیم کا دوسرا دوسرا رخ



ساری عمر سنتے آئے ہیں کہ تعلیم انسان کو تہذیب سکھاتی ہے، سدھارتی ہے، اعلٰی آداب سکھاتی ہے، عقل دیتی ہے، سوچ کو ریفائن کرتی ہے، یہ کرتی ہے اور وہ کرتی ہے۔ لیکن حقیقت میں کیا ایسا ہوتا ہے؟



ذرا اپنے ملک کے اعلٰی تعلیم یافتہ طبقے پر نظر ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ تعلیم انسان کو بگھاڑتی بھی ہے۔ انسان سے جاتور بھی بنا دیتی ہے۔ بے نظیر صاحبہ آکسفرڈ یونیورسٹی، اعتزاز احسن کیمبرج، نواز شریف ایچیسن کالج، جنرل کیانی ویسٹ پوائٹ، اور بہت سارے سیاست دان اور بیوروکریٹس ایچیسن کالج، آکسفرڈ، یارورڈ اور اس طرح کے دوسرے کالجز اور یونیورسٹیز سے پڑھے ہوئے ہیں لکین ان لوگوں کی سرپرستی میں اداروں اور ملک کا کیا حال ہوا ہے، وہ آپ سب کے سامنے ہے۔



اب ذرا عرب دنیا پر نظر ڈالیں تو صورتِ حال زیادہ مختلف نطر نہیں آئے گی۔ تقریبا" سارے ہی شہزادے دنیا کے بہترین ترین اداروں سے پڑھے ہوئے ہیں لیکن اُن کی پالیسیز پر تو نظر ڈالیں۔ اتنی دولت لیکن غلامی کا عالم کیسا؟ امریکہ اور پرطانیہ کے حالات بھی دیکھ لیں۔ وال سڑیٹ سے لے کر وائٹ ہاوس تک سب بہت پڑھے لکھے لوگ ہیں لیکن دنیا کا حشر کیا کر کے رکھ دیا ہے ان لوگوں نے۔ بات کرنے کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ تمام پڑھے لکھے لوگ ایسے ہی ہیں، لوگ اچھے کام بھی کرتے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اگر ان اعلٰی تعلیم یافتہ لوگوں کواگر بااختیار بنا دیا جائے تو تعلیم فائدے کے بجائے نقصان ہی کرتی دکھائ دیتی ہے۔