All Pakistani Dramas Lists
Latest Episodes of Dramas - Latest Politics Shows - Latest Politics Discussions

Thread: Kajal Abhi Phaila Nahain

      
   
  1. #1
    dr maqsood hasni is offline Expert Member
    Edit>
     
    Join Date
    May 2009
    Posts
    5,472
    Quoted
    13 Post(s)

    Kajal Abhi Phaila Nahain

    Kajal Abhi Phaila Nahain
    کاجل ابھی پھیلا نہیں

    Poet:
    Maqsood Hasni

    Complied By:
    Prof. Syed Mohammad Raza Madni
    Principal
    Governament College, Minchana'abad
    (Pakistan)

    میں مٹھی کیوں کھولوں
    میں مٹھی کیوں کھولوں
    بند مٹھی میں کیا ہے
    کوئ کیا جانے
    مٹھی کھولوں تو

    تم مرے کب رہ پاؤ گے
    ہر سیٹھ کی سیٹھی
    اس کی گھتلی کے دم سے ہے
    میں مٹھی کیوں کھولوں
    تری یاد کی خوشبو
    مری ہے مری ہے
    اس یاد کے باطن میں
    ترے ہونٹوں پر کھلتی کلیاں
    تری آنکھوں کی مسکانیں
    بھیگی سانسوں کی مہکیں
    جھوٹے بہلاوے
    کچھ بے موسم وعدے
    ساتھ نبھانے کی قسمیں
    دکھ کے نوحے
    شراب سپنوں کی قوس و قزاح
    مری ہے مری ہے
    میں مٹھی کیوں کھولوں

    مت پوچھو

    بن ترے کیسے جیتا ہوں
    مت پوچھو
    اڈیکوں کے ظالم موسم میں
    سانسوں کا آنا جانا کیسے ہوتا ہے
    مت پوچھو
    ساون رت میں

    آنکھوں کی برکھا کیسے ہوتی ہے
    مت پوچھو
    چاہت کی مدوا پر
    خود غرضی کا لیبل جب بھی لگتا ہے
    راتوں کی نیندیں ڈر جاتی ہیں
    آشکوں کے تارے
    سارے کے سارے
    گنتی میں کم پڑ جاتے ہیں
    آس کی کومل کرنیں
    یاس کی اگنی میں
    جب جلتی ہیں
    تب روح کی ارتھی اٹھتی ہے
    یادوں کی نم آنکھوں کی بیپتا
    مت پوچھو
    چھوڑ کر جانے کے موسم پر
    بچھڑے موسم کا اک پل بھاری ہوتا ہے
    پھر کہتا ہوں
    کالے موسم تم کو کھا جاءیں گے
    تری ہستی کی کوئ کرچی

    میں کیسے دیکھ سکوں گا
    چہرےگھاءل
    مرے دل کے کتنے ٹکڑے کرتے ہیں
    مت پوچھو

    شبنم نبضوں میں

    عشق پلکوں پر
    پروانے اترے
    دیوانے تھے جو پر جلانے اترے
    لمس کی حدت نے
    خوشبو کی شدت نے
    آءین کے سینے پر پتھر رکھا

    گلاب آنکھیں پتھر
    ہر رہگزر خوف کا گھر
    سوچ دریچے برف ہوءے
    بہری دیواروں پر
    گونگے خواب اگے
    اندھے چراغ جلے
    شبنم نبضوںمیں
    موت کا شعلہ تھا
    شہر میں کہرام مچا
    پروانے تو دیوانے تھے
    پر جلانے اترے

    جینے کو تو سب جیتے ہیں

    جینے کو تو سب جیتے ہیں
    ہر سایہ زخمی
    جنگل کے پنچھی

    چپ کے قیدی
    بربط کے نغمے
    ڈر کے شعلے پیتے ہیں
    کرنے کے جذبے
    روٹی کے بندی
    دریا کا پانی
    بھیگی بلی
    حر بربک کے سنکھ میں رہتے ہیں
    جو خشکی کی کن من کو
    بارش سمجھے
    منہ کھولے
    سب آبی بھاگے
    دوڑے
    کچھ کٹ مرے
    کچھ تھک گرے
    جو چلتے گءے
    خوابوں کی بستی بستے ہیں
    جینے کو تو سب جیتے ہیں

    آنکھ دریچوں سے
    مجھ کو من مندر میں سجا لو
    کہ ترے آنکھ دریچوں سے
    قوس و قزاح کے رنگوں میں ڈھل کر
    گنگا جل میں دھل کر
    بہاروں کے موسم جھانکھیں
    خورشید شبد
    جیون دھرتی کو بینائ بخشیں
    تری آغوش میں پلتی مسکانیں
    مری تری مرتی کو
    امرتا کے بردان میں ٹانکیں
    مجھ کو من مندر میں سجا لو
    کہ کام دیوا
    ہر بار کب
    خوش بختی کا منگل سوتر
    گلاب گلو میں رکھتا ہے
    کالی راتوں میں
    ہونٹوں کی حدت بھرتا ہے
    مجھ کو من مندر میں سجا لو
    کہ ترے آنکھ دریچوں سے
    بہاروں کے موسم جھانکھیں

    بنیاد پرست
    چاندنی
    سردی کا دیو کھا گیا
    بےنور آنکھوں کے سپنے
    کون دیکھتا ہے
    شو کیس کا حسن
    حنا بندی کے کب لاءق ہوتا ہے
    بیوہ سے کہہ دو
    چوڑیاں توڑ دے
    ہم کنوارپن کے گاہک ہیں
    سچائ کی زبان پر
    آگ رکھ دو
    بنیاد پرست ہے
    گریب کی لڑکی
    ڈولی چڑھے کیونکر
    گربت کے کینسر میں مبتلا ہے
    پہرے
    کوئ غلام پیدا نہیں ہوتا
    معاش طاقت توازن
    سماج کی رت کے ساتھ بدلتے ہیں
    بھوک بڑھتی ہے تو
    دودھ خشک ہو جاتا ہے
    خواہش احتجاج ضرورت
    زنجیر لیے کھڑے ہوتے ہیں
    بھوک کے ہوکے
    سوچ کے داءرے
    *
    پھیل جاتے ہیں
    وساءل سکڑ جاتے ہیں
    بغاوت پر کھولے تو
    سوچ پر پہرے لگ جاتے ہیں
    کوئ غلام پیدا نہیں ہوتا
    معاش طاقت توازن
    سماج کی رت کے ساتھ بدلتے ہیں
    ---------------------------
    تقاضوں کے رنگ میں *
    اس سے کہہ دو
    اس سے کہہ دو
    دو چار ستم اور ڈھاءے
    یتیمی کا دکھ سہتے
    بچوں کے نالے

    ٹوٹے گجروں کی گریہ زاری
    جلتے دوپٹوں کے آنسو
    عرش کے ابھی
    اس پر ہیں
    اس سے کہہ دو
    زنداں کی دیواروں کا مسالہ بدلے
    بےگنہی کی حرمت میں
    امیر شہر کی لکھتوں کا
    نوحہ کہتی ہیں
    اس سے کہہ دو
    ان کی پلکوں کے قطرے
    صدیوں بے توقیر رہے
    پھر بھی ہونٹوں پر
    جبر کی بھا میں جلتے
    سہمے سہمے سے بول
    مسیحا بن سکتے ہیں
    اس سے کہہ دو
    کڑا پہرا اب ہٹا دے
    زنجیریں کسی طاق میں رکھ دے
    بھاگ نکلنے کی سوچوں سے
    قیدی ڈرتے ہیں
    آزاد فضاؤں
    بےقید ہواؤں پر
    سماج کی ریت رواجوں
    وڈیروں کے کرخت مزاجوں کے
    پہروں پرپہرے ہیں
    آءین کے پنے
    تنکوں سے کمتر
    رعیت کے حق میں
    کب کچھ کہتے ہیں
    سب دفتر
    طاقت کی خوشنودی میں
    آنکھوں پر پٹی باندھے

    کانوں میں انگلی ٹھونسے
    اپنی خیر مناتے ہیں

    جورو کےموتر کی بو نے
    سکندر سے مردوں سے
    ظلم کی پرجا کے خواب چھین لیے ہیں
    دن کے مکھڑے پر
    راتوں کی کالک لکھ دی ہے

    باقی ہےابھی

    محبت کیا ہے؟
    دماغ کا بخار؟
    کوءی میٹھا جذبہ
    قلبی رشتہ
    کسی کے اپنا ہونے کا احساس
    شہوت کا بڑھتا ہوا سیلاب

    زندگی کا بدلتا رویہ یا انداز
    بےشمار سواال
    جن کا جواب
    ابھی تک باقی ہے

    جیون سپنا
    آنکھ سمندر میں تھا
    جیون سپنا
    کہ کل تک تھا وہ اپنا
    جب سے اس گھر میں
    چاندی اتری ہے
    میرے من کی ہر رت
    پت جھڑ ٹھری ہے
    بارش صحرا کو چھو لے تو
    وہ سونا اگلے
    مری آنکھ کے قطرے نے
    جنت خواوں کو
    یم لوک میں بدلا ہے
    کیسے چھو لوں
    تری مسکانوں میں
    طنز کی پیڑا
    پیڑا تو سہہ لوں
    پیڑا میں ہو جو اپناپن
    آس دریچوں میں
    تری نفرت کا
    باشک ناگ جو بیٹھا ہے
    ہونٹوں پر مہر صبر کی
    جیبا پر
    حنطل بولوں کی سڑکن
    یاد کے موسم میں
    خوشبو کی پریاں
    یاد کی شاموں کا
    جب بھنگڑا ڈالیں گی

    آنکھ ہر جاءے گی
    آس مر جاءے گی

    آنکھ سمندر میں تھا
    جیون سپنا

    چاند اب دریا میں نہیں اترے گا
    جذبے لہو جیتے ہیں
    معاش کے زنداں میں
    مچھروں کی بہتات ہے
    سہاگنوں کے کنگن
    بک گءے ہیں
    پرندوں نے اڑنا چھوڑ دیا
    کہ فضا میں تابکاری ہے
    پجاری سیاست کے قیدی ہیں
    تلواریں زہر بجھی ہیں
    محافظ سونے کی میخیں گنتا ہے

    چھوٹی مچھلیاں فاقہ سے ہیں
    کہ بڑی مچھلیوں کی دمیں بھی
    شکاری آنکھ رکھتی ہیں
    دریا کی سانسیں اکھڑ گئ ہیں
    صبح ہو کہ شام
    جنگی بیڑے گشت کرتے ہیں
    چاند دھویں کی آغوش میں ہے
    اب وہ
    دریا میں نہیں اترے گا
    تنہائ بنی آدم کی ہمرکاب ہے
    کہ اس کا ہمزاد بھی
    تپتی دھوپ میں
    کب کا
    کھو گیا ہے

    سفید پرندہ
    ممتا جب سے
    صحرا میں بوئ ہے
    کشکول میں بوئ ہے
    خون میں سوئ ہے
    سفید پرندہ خون میں ڈوبا
    خنجر دیوارں پر
    چاند کی شیشہ کرنوں سے
    شبنم قطرے پی کر
    سورج جسموں کی شہلا آنکھوں میں
    اساس کے موسم سی کر
    ہونٹوں کے کھنڈر پر
    سچ کی موت کا قصہ
    حسین کے جیون کی گیتا

    وفا اشکوں سے لکھ کر
    برس ہءے مکت ہوا
    ذات کے قیدی
    قصور تو خیر دونوں کا تھا
    اس نے گالیاں بکیں
    اس نے خنجر چلایا
    سزا دونوں کو ملی
    وہ جان سے گیا
    یہ جہان سے گیا
    اس کے بچے یتیم ہوءے
    اس کے بچے گلیاں رولے
    اس کی ماں بینائ سے گئ
    اس کی ماں کے آنسو تھمتے نہیں
    اس کا باپ کچری چڑھا
    اس کا باپ بستر لگا
    دونوں کنبے کاسہء گدائ لیے
    گھر گھر کی دہلیز چڑھے
    بے کسی کی تصویر بنے
    بے توقیر ہوءے
    ضبط کا فقدان
    بربادی کی انتہا بنا
    سماج کے سکون پر پتھر لگا
    قصور تو خیر دونوں کا تھا
    جیو اور جینے دو کے اصول پر
    جی سکتے تھے
    اپنے لیے جینا کیا جینا
    دھرتی کا ہر ذرہ
    تزءین کی آشا ر کھتا ہے
    ذات کے قیدی
    مردوں سے بدتر
    سسی فس کا جینا جیتے ہیں
    جب تم مجھ کو سوچو گے
    تری زلفوں کی شب
    صبح بہاروں کے پر کاٹے
    تری آنکھوں کے
    مست پیالوں کا اک قطرہ
    آس کی مرتیو کا سر کاٹے
    جانے ان جانے کی اک انگڑائ
    نفرت کے ایوانوں میں
    ان کے ناہونے ترے ہونے کا
    قرطاس الفت پر
    امروں پر اپنی امرتا لکھ دے
    اب جب سے
    میں تجھ کو سوچے ہوں
    مری بصارت کے در وا ہوءے ہیں
    اپنی سوچ کا اک ذرہ
    گر کوہ پر رکھ دوں
    دیوانہ ہو
    مجنوں کی راہ پکڑے
    مری سوچ کی حدت سے
    صحراؤں کا صحرا اپنی پگ بدلے
    تری مسکانوں کی بارش
    شور زمینوں کو
    برہما کے بردان سے بڑھ کر
    میں تجھ کو سوچے ہوں
    کہ سوچنا جیون ہے
    کھوجنا جیون ہے
    جب تم مجھ کو سوچو گے
    تم پر کن کا راز وا ہو گا
    وہ ہی ہر جا ہو گا
    تم کہتے پھرو گے
    One into many
    But many are not one
    Nothing more but one
    When we divide one
    Face unjust and hardship
    I and you are not two but one
    One is fact
    Fact is one

    سب سے کہہ دو
    گذشتہ کے گلاب و کنول
    مفتول ایمان کی لاش پر
    سجا کر
    لبوں پرزیست کا نوحہ
    پریت کا گریہ بسا کر
    وعدہ کی شام
    اپنی عظمت میں
    فرشتوں کے سب سجدے
    آج ہی مصلوب کر دو
    سب سے کہہ دو
    ہم کونگے ہیں بہرے ہیں
    کم کوسی کا مرض طاری ہے
    اگلوں کا کیا
    اپنے نام لھواتے ہیں
    مورخ ہتھ بدھا خادم ہے
    کل ہم پر ناز کرے گا
    کہ ہم رفتہ پر نازاں ہیں

    بالوں میں بکھری چاندی
    بالوں میں بکھری چاندی
    روح کی کب قاتل ہے
    مرتی ہو کہ جیون
    آس ہو کہ یاس
    اک کوکھ کی سنتانیں ہیں
    اک محور کے قیدی
    بالوں میں بکھری چاندی
    روح کی کب قاتل ہے
    جب دل دریا میں
    ڈول عشق کا ڈالو گے
    ارتعاش تو ہو گا
    من مندر کا ہر جذبہ
    ہیر کا داس تو ہو گا
    بالوں میں بکھری چاندی
    روح کی کب قاتل ہے
    ہر رت کے پھل پھول نیارے
    چاندنی راتوں میں
    دور امرجہ کے کھلیانوں میں
    سیرابی دیتے ہیں
    لب گنگا کے پیاس بھجاتے ہیں
    بالوں میں بکھری چاندی
    روح کی کب قاتل ہے
    من مستی
    آنکھوں کا کاجل
    دھڑکن دل کی
    زلفوں کی ظلمت
    کب قیدی ہیں
    بالوں میں بکھری چاندی
    روح کی کب قاتل ہے
    آتش گاہیں برکھا رتوں میں
    جلتی تھیں جلتی ہیں
    جلتی ہوں گی
    بالوں میں بکھری چاندی
    روح کی کب قاتل ہے

    شاہ کی لاٹھی
    انارکلی کے
    دیواروں میں چننے کا موسم
    جب بھی آتا ہے
    آس کے موسم مر جاتے ہیں
    ہر جاتے ہیں
    چاند سورج
    آکاش اور دھرتی
    زیست کے سب رنگ
    پھیکے پڑ جاتے ہیں
    کل کی مانگ سجانے کو
    عشق پھر بھی زندہ رہتا ہے
    ہر دکھ سہتا ہے
    یہ کھیل شاہ‘ زادوں کا ہے
    شاہ زاہزادے کب مرتے ہیں
    شاہ کی لاٹھی
    انار کلی کے سر پر
    منڈلاتی رہتی ہے
    کمزور عضو کے سر پر
    سب موسم
    بھاری رہتے ہیں

    اک پل
    اک پل
    آکاش اور دھرتی کو
    اک دوجے میں بن کر
    رنگ دھنک اچھالے
    دوجا پل
    جو بھیک تھا پہلے کل کی
    کاسے سے اترا
    اتراتا اٹھلاتا
    ماتھے کی ریکھا ٹھہرا
    کرپا اور دان کا پل
    پھن چکر مارا
    سلوٹ سے پاک سہی
    پھر بھی
    حنطل سے کڑوا
    اترن کا پل
    الفت میں کچھ دے کر
    پانے کی اچھا
    حاتم سے چھل
    ہر فرزانہ
    عہد سے مکتی چاہے
    ہر دیوانہ
    عہد کا قیدی
    مر مٹنے کی باتیں
    ٹالتے رہنا

    کل تا کل
    جب بھی
    پل کی بگڑی کل
    در نانک کے بیٹھا بےکل

    پلکوں پر شام
    پلکوں پر گزری شام
    یاد کا نشتر
    ہر صبح راہ کا پتھر
    سورج بینائ کا منبع

    آنکھیں کھو بیٹھا
    ہر آشا زخمی زخمی
    ہر نغمہ
    عزاءلی اسرافیلی
    خون میں بھیگا آنچل
    گنگا کا
    ہر رستہ چپ کا قیدی
    دریا کنارے منہ دیکھے ہیں
    بے آب ندی میں
    گلاب کی کاشیں
    پانی پانی
    ہونٹ
    سانپوں کے گھر
    پلکوں کی شام
    ہر شام پر بھاری ہے
    ڈرتا ہے اس سے
    حشر کا منظر
    اب جب بھی
    کوئ کنول چہرا
    اب جب بھی دیکھتا ہوں
    خوف کا موتیا
    آنکھوں میں اتر آتا ہے
    کلیوں کا جوبن چرا کر
    غرض کا جن
    پریوں کی اداؤں میں
    من آنگن میں
    قدم رکھتا ہے
    خواہشوں کی انگور بیلیں
    سوکھ جاتی ہیں
    خوش فہمی کے سورج کی
    تریک کرنیں
    ست کے سارے شبد
    کھا جاتی ہیں
    اگلے داؤ کے یقین پر
    جیون کے سب ارمان
    مر جاتے ہیں مر جاتے ہیں
    آس کے ٹوٹے ٹھوٹھے میں
    آشا کے کچھ بول رکھنے کو
    غرض کی برکی نہ بن جءے
    وشنو چھپنے کو
    برہما لوک کا رستہ بھول جاتا ہے
    گلاب کے ہونٹوں پر
    بے سدھ ہونے کی اچھا
    تھرکنے لگتی ہےموتیا
    کوئ کنول چہرا
    اب جب بھی دیکھتا ہوں
    خوف کا موتیا
    آنکھوں میں اتر آتا ہے

    پاگل پن
    آنچ دریچوں میں
    دیکھوں تو
    خواہش کے سب موسم جلتے ہیں
    نا دیکھوں تو
    احساس سے عاری
    اورابلیس کا پیرو ٹھہروں
    جانے کے موسم میں
    آنے کی سوچیں تو
    گنگا الٹی بہتی ہے
    دن کو
    چاند اور تاروں کا سپنا
    پاگل پن ہی تو ہے
    من کے پاگل پن کو
    وید حکیم کیا جانیں
    جو جانے
    عشق کی دنیا کا کب باسی ہے

    آسمان سے

    آسمان سے
    جب بھی
    من وسلوی اترتا ہے
    زمین زرد پڑ جاتی ہے
    کہ بے محنت کا ثمرہ
    حرکت کے در بند کر دیتا ہے
    سجدہ سے منحرف مخلوق
    حساس دلوں کی دھڑکنیں
    چھین لیتے ہیں
    آسمان سے
    جب بھی
    من وسلوی اترتا ہے
    انسان کے سوا
    بلندیاں اتراتی ہیں

    یہ کس کی سازش ہے
    جاگو
    کب کا لہو‘ لہو ہوا ہے
    جانو
    دانستہ ہوا ہے کہ سہو ہوا ہے
    کس کی یہ سازش ہے
    بلبل کے روبرو
    قتل رنگ و بو ہوا ہے
    قاتل کی آستین دیکھ لو
    ہواوں سے گواہی لے لو
    یہاں ہی جھگڑا
    من و تو ہوا ہے
    وہ جینا کیا جینا ہے
    جو جینا ڈر کر جینا ہے
    مے گرتی ہے کہ
    تار سبو ہوا ہے
    جاگو
    کب کا لہو‘ لہو ہوا ہے

    برسر عدالت
    شبنم
    گھاس کا مکوڑا پں گیا
    بادل
    پرندوں نے پروں میں چھپا لیے
    آنسو
    مگر پلکوں پر تھے ہی کب
    امن
    اس روز شہر میں کرفیو تھا
    روشنی
    بارود نگل گیا
    امید
    دماغ کا خلل نہیں تو اور کیا ہے
    قاتل برسر عدالت
    انصاف کا طالب تھا
    کہ چڑیوں کی چونچیں
    مقتول کا پیٹ
    روٹی خور ہو گیا تھا
    اسے گیس کی شکایت رہتی تھی
    ایسے میں
    قتل ناگزیر ہو گیا تھا
    مقتول کی شاہ خرچی کا عوضانہ
    بیوہ اور اس کے بچوں کی
    برسر عام
    نیلامی سے دلوایا جاءے
    کہ انصاف کا بول بالا ہو

    کاجل ابھی پھیلا نہیں

    تیری آنکھ کا کاجل ابھی پھیلا نہیں
    تیرے بولوں کی کلیاں جوان ہیں
    طلائ چوڑے کی کھنک
    کب کل سے جدا ہے
    تیری دنیا میں کوئ اور تھا
    میں کیسے مان لوں
    تو وہی ہے
    جس نے میرے سوچ کے
    دروازے پر
    دستک دی تھی
    سوچنا یہ ہے
    کس کردہ جرم کی سزا
    سقراط کا زہر ہے
    میرے سوچ پر
    خوف کا پہرا ہے
    روبرو راون کا چہرا ہے
    مجھ کو سوچنے کیوں نہیں دیتے
    ذات کے ذروں کو
    کھوجنے کیوں نہیں دیتے
    بند کواڑوں کے پیچھے
    سوچنے کی آرزو بیٹھی ہے
    جوجینے نہیں دیتی مرنے نہیں دیتی

    میں مقدر کا سکندر ہوں

    میں مقدر کا سکندر ہوں
    ٹیکسوں کی شان کا سایہ
    مری رکھشا کرتا ہے
    تانگے کی سیٹ پر لیٹے
    کسی کھڈے کے اک ہچکولے سے
    شفاخانے کے در پر
    ہمدردی کے بولوں میں لیپٹی
    دوا ملتی ہے کا بےسر سپنا لے کر آتا ہوں

    اس طفل تسلی پر
    برسوں سے میرا جیون ہے
    میں مقدر کا سکندر ہوں
    مرگ کے سارے خرچے
    بیوہ کے دوپٹے کی حرمت
    یتیموں کے منہ کے لقمے

    بک کر پورے ہوتے ہیں
    قلم اور بستے کئ یگ ہوءے
    لایعنی ٹھہرے ہیں
    پرچی خوروں کے جھوٹھے برتن
    ان کے ہاتھ کی ریکھا ہیں
    پرچی والوں کی
    میرے مرنے سے
    راتیں سہانی ہوتی ہیں
    میں تو
    اس بہو رانی سا ہوں
    سارا گھر اس کاہے
    جب چاہے کوئ دعوی باندھے
    کوئ روک نہیں کوئ ٹوک نہیں
    بس اک پابندی ہے
    چیزوں کو چھونے سے پرہیز کرے
    نند کی کرتوں کو
    بند آنکھوں سے دیکھے
    گھورتی آنکھوں سے آزاد رہے گی
    شاد رہے گی
    آنکھوں دیکھے موسم
    آشا کی جوت جگا کر
    اب کہتے ہو
    عشق کی راہ میں کانٹے ہیں
    دھوپ کا پہرا ہے
    کانٹوں پر ننگے پاؤں
    بن مطب کے چلنا
    لیلی کے دور کی باتیں ہیں
    اک سے اک بڑھ کر مجنوں
    ہاتھ میں نوٹ لیے
    چلتا پھرتا تم دیکھو گے
    کنگلے عاشق کے آنسو
    مطلب کی آنکھیں کیوں دیکھیں
    میں تو
    پھولوں کے موسم کی لیلی ہوں
    پاگل ہو تم
    اخلاص اور الفت کی باتیں
    ووٹ کی باتیں ہیں
    سیاست اور الفت میں جو انتر ہے
    اس کو جانو
    آنکھیں کھولو وقت پہچانو
    سوچے ہوں
    موسم مجھ سے بگڑے بگڑے رہتے ہیں
    یہ ممکن ہے
    سب موسم تم کو مل جاءیں
    سچل دل کی کلیاں
    اپنے دامن میں
    سورگ کے سکھ رکھتی ہیں
    آنکھوں دیکھے موسم

    کبھی جیتے ہیں کبھی مرتے ہیں

    دروازہ کھولو
    تم چپ ہو کہ
    مجھ میں تم بولتے ہو
    میرے دل کے بربط پر
    تری انگلی ہے
    تم چپ ہو کہ
    یہ دل تیرا مسکن ہے
    گھر کے باسی
    اپنی مرضی کے مالک ہوتے ہیں
    تم چپ ہو کہ
    شعور کی ہر کھزکی میں
    تیرا چہرا ہے
    کھڑکی بند کرتے ہیں تو
    دم گھٹتا ہے
    کھڑکی کھولے رکھنا
    گھر کی باتوں کو باہر لانا ہے
    باہر کے موسم
    راون بستی کے منظر ہیں
    تم چپ ہو کہ
    اندر کے سب موسم تیرے ہیں
    دروازہ کھولو
    تیرے ہونٹوں کی مستی
    من کے کورے پنوں پر
    آنکھ سے چن کر رکھ دوں
    تم چپ ہو کہ

    چپ میں سکھ ہے
    چپ کے کھسے میں

    کلیاں ہی کلیاں ہیں
    تم چپ ہو کہ

    تحسین کے کلمے
    برہما کے بردان سے اٹھتےہیں
    تم چپ ہو کہ
    ------
    تم مرے کوئ نہیں ہو
    تم مرے کوئ نہیں ہو
    میں نے تم کو کبھی سوچا ہی نہیں
    کھوجا ہی نہیں
    تم نےمیرے دل دروازے پر دستک دی ہے
    اب میں تم کو سوچوں گا
    تیری آنکھوں کے مست پیمانے سے
    کچھ سی بچا کر
    آب زم زم میں ملا کر
    امرتا کے ایوانوں میں
    خود کو پھر تم کو کھوجوں گا
    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں
    اپنی آنکھوں سے دیکھنا

    میں تم کو تم میں مل جاؤں گا
    یہ کوئ تقدیر کا کھیل نہیں
    تم لکیر بناتے ہو لکیر مٹاتے ہو
    تم مرے کوئ نہیں ہو
    میں نے تم کو کبھی سوچا ہی نہیں
    اب میں تم کو سوچوں گا
    کہ تم نے میرے دل پر دستک دی ہے
    صدیاں بیت گئ ہیں
    جب سے میں نے تم کو سوچا ہے
    میں میں‘ میں کب رہا ہے
    گنگا جل کا ہر قطرہ
    گیتا کے بولوں
    گرنتھ کے شبدوں
    فرید کے شلوکوں
    پھول کے گالوں کو چھوتی شبنم
    ساگر کے اندر
    سیپ کی بند مٹھی میں موتی
    رتجگوں کی سوچوں
    دعا کو اٹھتے ہاتھوں
    ساون رتوں کی ہڑ برساتی آنکھوں
    آگ میں ڈوبی سانسوں کا
    حاصل تم ہو
    رمز مجھ پر کھل گئ ہے
    میرے سوچ کی
    ساری شکتی کا دم خم تم ہو
    جب سے میں نے تم کو سوچا ہے
    میں میں‘ میں کب ہے
    میں کو سفر کیے
    صدیاں بیت گئ ہیں


  2. The Following User Says Thank You to dr maqsood hasni For This Useful Post:

    Saba (10-02-2012)

  3. #2
    withlove's Avatar
    withlove is offline "Love reasons No Reason"
    Sehra'Naward
     
    Join Date
    Jan 2008
    Location
    Charagh Tallay
    Posts
    20,994
    Quoted
    950 Post(s)

    Re: Kajal Abhi Phaila Nahain

    Janab-e-maqsood.. agar aap roz sirf eik adh takhleeq share kereN.. to parhny samjhny aur sarahany mein aasani rahay.. Nawazish..

  4. #3
    dr maqsood hasni is offline Expert Member
    Edit>
     
    Join Date
    May 2009
    Posts
    5,472
    Quoted
    13 Post(s)

    Re: Kajal Abhi Phaila Nahain

    aap ka kehna darust hai. aainda se aisa hi ho ga.
    tovajo ke liay ehsan'mand houn.
    Allah aap ko khush rakhe

  5. #4
    withlove's Avatar
    withlove is offline "Love reasons No Reason"
    Sehra'Naward
     
    Join Date
    Jan 2008
    Location
    Charagh Tallay
    Posts
    20,994
    Quoted
    950 Post(s)

    Re: Kajal Abhi Phaila Nahain

    Quote Originally Posted by dr maqsood hasni View Post
    aap ka kehna darust hai. aainda se aisa hi ho ga.
    tovajo ke liay ehsan'mand houn.
    Allah aap ko khush rakhe
    aap ko apny darmiyaN paa ker khushi huyee.. a very warm welcome

    wafa aur dua ke saath
    withlove

  6. #5
    dr maqsood hasni is offline Expert Member
    Edit>
     
    Join Date
    May 2009
    Posts
    5,472
    Quoted
    13 Post(s)

    Re: Kajal Abhi Phaila Nahain

    shukarriya janab
    Allah aap ko khush rakhe

  7. #6
    Saba's Avatar
    Saba is offline Expert Member
    saba
     
    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    9,153
    Blog Entries
    13
    Quoted
    156 Post(s)

    Re: Kajal Abhi Phaila Nahain

    khoobsurat takhleeqaat share krnay ke leye shukriya.....





  8. #7
    Shab-e-Firaaq's Avatar
    Shab-e-Firaaq is offline UnderEstimated !
    Khwaab Azaab .
     
    Join Date
    Apr 2006
    Location
    Ghar Main
    Posts
    57,240
    Blog Entries
    5
    Quoted
    846 Post(s)

    Re: Kajal Abhi Phaila Nahain

    Buhat Mazrat kay sath Aap ki Posts delete ki hain us ki waja yeh hai aik Maah Purani Posts Par Comment nahin kar sakhtey .. Us kay liye aap Poet Korner kay Rules dekh sakhtey hain ..




    Kuch Khwaab Jo Na Dekhein Tu GuZra Nahin Hota .. !!




    Hum Na'Janey Kis Pa'l Main Saniha ho Jaein Gay ..


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  

Log in