جی رہی تھی جسے اک جہاں کی طرح
ساتھ ہے خواہشِ رائیگاں کی طرح

سارے احساس میرے بکھرتے گئے
ایک اجڑے ہوئے آشیاں کی طرح

بارشیں ہوتی رہتی ہیں دل میں مرے
اور آنکھیں ہیں اُجڑے مکاں کی طرح

دل ہتھیلی پہ رکھ کر دکھایا اُسے
وہ رہا پھر بھی اک بد گماں کی طرح!

سانحہ کوئی ایسا بڑا بھی نہیں
بس ہر اک لمحہ ہے امتحاں کی طرح

میری سنگت میں گزری ہوئی ساعتیں
تُو کرے یاد شاید گماں کی طرح

ایک مدّت سے ہوں میں سنبھالے ہوئے
رحلِ دل میں تری یاد جاں کی طرح

کس کی خوشبو سے اُلجھی ہیں راتیں مری؟
کون دل میں بسا دردِ جاں کی طرح؟

کب تلک خود کو میں مانگتی آپ سے؟
کب تلک جیتی میں گم نشاں کی طرح؟