منور حسن کو یہ بیان نہیں دینا چاہئے تھا۔ اس میں سلیم صافی بھی برابر کے حصہ دار ہیں۔ ہمارے اینکرمین ساری صورتحال کو بگاڑنے کے بہت حد تک ذمہ دار ہیں۔ سلیم صافی کے لئے نرم گوشہ دل میں ہے مگر ایسا سوال جس سے خلفشار پھیلنے کا خطرہ ہو نہیں کرنا چاہئے۔ مگر سیاستدانوں کو لڑا کے انہیں الجھا کے پھنسا کے وہ خوش ہوتے ہیں۔ منور حسن کو شاعری کا ذوق شاید نہیں ہے ورنہ میرے قبیلے کے سردار منیر نیازی نے بہت پہلے کہہ دیا تھا۔

’’سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتا‘‘
جواب غلط ہے تو سوال بھی غلط تھا؟ میڈیا والے ایسا جواب چاہتے ہیں کہ اس کے بعد سیاستدان لاجواب ہو جائیں۔ اور جوابدہ بن جائیں۔ میرے خیال میں پاک فوج اور پاکستانی عوام ایک ساتھ ہیں۔ پاک فوج کو بدنام کرنے ناکام کرنے کی لاکھ کوششیں ہوئیں مگر عوام اپنی افواج کے ساتھ تھے اور ساتھ ہیں۔ یہی ایک ادارہ بچا ہوا ہے۔ فوج بھارت کے لئے محتاط پالیسی رکھتی ہے۔ عوام بھی سمجھتے ہیں کہ بھارت کسی طور دوستی کے لئے مخلص نہیں۔ ہمارے حکام بھارت کے محتاج ہونا چاہتے ہیں۔ بھٹو صاحب بھارت کے ساتھ ایک ہزار سال تک لڑنے کا نعرہ لگا کے محبوب لیڈر بنے تھے۔ ایٹم بم کی بنیاد بھٹو صاحب نے اسی آرزومیں رکھی تھی۔ بنگلہ دیش بنانے والے کشمیر پر مذاکرات نہ کرنے والے اور ہمارا پانی روکنے والے بھارت کے ساتھ کاروبار کیسے ہو سکتا ہے۔ کاروباری حکمران پہلے ان مسائل کو حل کریں اور پھر مذاکرات کریں۔ میرے خیال میں طالبان کے ساتھ مذاکرات سے زیادہ اہم بھارت سے مذاکرات ہیں۔ دونوں کے ساتھ مذاکرات مشکل ہیں۔ ہو بھی جائیں تو کامیابی کی امید نہیں ہے۔
امریکہ کے تھنک ٹینک تھک گئے ہیں۔ میرے خیال میں ان ٹینکوں کے انجن فیل ہو گئے ہیں غصے اور جلد بازی میں طاقت کے نشے میں چور بلکہ چور چور ہو کر کارروائیاں کرنا خود امریکہ کے لئے سازگار نہیں۔ سب کو پتہ ہے کہ مذاکرات ناکام ہوں گے تو مذاکرات ہونے دئیے جائیں۔ طالبان جو دہشت گرد بن چکے ہیں۔ مذاکرات کو کیسے کامیاب ہونے دیں گے۔ تو اس میں گڑبڑ کی کیا ضرورت ہے۔ غیر ضروری معاملات امریکہ کے لئے زیادہ ضروری ہو گئے ہیں۔ اس موقعے پر حکیم اللہ محسود کو قتل کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ ہم امریکہ کی دشمنی میں یہ بات نہیں کر رہے۔ مگر اب دشمنی اور دوستی میں فرق مٹتا جا رہا ہے۔
ایک عجیب بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو فوج کے خلاف باتیں کرتے تھے۔ نجی ٹی وی چینل پر یہی باتیں ہوتی ہیں۔ مخالفانہ پروپیگنڈا اُن کا ایجنڈا ہے۔ پتہ نہیں یہ کس کس کا ایجنڈا ہے۔ اور ہمارا میڈیا دو ایک چینلز کو چھوڑ کر اس کے لئے دن رات محنت کر رہا ہے ہم منور حسن کے بیان کے خلاف ہیں مگر یہ تو اُن کا ’’احسان‘‘ ہے کہ جنہیں پاک فوج اپنی مخالفت سے نہ روک سکی۔ وہ خود بخود رک گئے ہیں اور پاک فوج کے لئے حامی اور خیر خواہ ہو گئے ہیں۔ جماعت اسلامی ہمیشہ فوج کے ساتھ رہی ہے۔ لیاقت بلوچ نے بھی کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ فوج کے شہیدوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے میرے خیال میں ڈیوٹی پر موجود کوئی فوجی مرتا ہے تو وہ بھی میرے نزدیک شہید ہے۔ اس لئے کہ مادر وطن کے لئے جان دی۔ اس نے حکم کی تعمیل کی۔ ہماری فوج کا نعرہ ہی نعرۂ تکبیر ہے۔ اللہ اکبر کی صدائوں سے دشمنوں کے دل دہل جاتے ہیں۔ اور ہمارے جوانوں اور افسروں کے دل جذبوں سے بھر جاتے ہیں۔ شہید کا لفظ ہمارا ہے۔ ہمارا اعزاز ہے کہ یہ لفظ کسی قوم کے پاس نہیں ہے۔ اب تو دوسری قوموں والے بھی اسے اپنا رہے ہیں۔ بھارت میں اپنے قتل ہونے والے فوجیوں کے لئے شہید کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ کیا ہم انہیں روک سکتے ہیں ان کے ’’شہیدوں‘‘ میں ہندو سکھ مسلمان اور عیسائی شامل ہیں۔ اور ہم اپنے قربان ہونے والے لوگوں کے لئے کہیں کہ وہ شہید نہیں ہیں۔ یہ بڑی زیادتی ہے۔ حکم دینے والوں کے کیا مقاصد ہیں۔ قربان ہونے والوں کو معلوم نہیں ہے۔ وہ وطن کے لئے جان دیتے ہیں وہ شہید ہیں۔ وہ جوان اور افسر جو سیاچن کے پہاڑوں میں گیاری کے مقام پر تودہ گرنے سے دب کے مر گئے۔ ہم انہیں بھی شہید کہتے ہیں۔ وہ شہید ہیں اور زندہ ہیں۔ ان کے جسد خاکی جنرل کیانی اور ہمارے جرنیلوں نے برف زاروں سے نکلوائے اور پورے قومی پروٹوکول سے دفن کیا۔ ایک ماں کہنے لگی۔ میرا بیٹا شہید ہے شہید زندہ ہوتے ہیں۔ اُسے برف زاروں میں سردی لگتی ہو گی۔ اسے آبائی قبرستان میں لا کے سپردخاک کیا گیا۔ وطن کی مٹی گواہ رہنا کہ ہم نے جان قربان کر دی۔ انہیں سکون وطن کی مٹی میں آیا۔
مگر منور حسن کی اس غلط بات کو ہوا دینا اور خواہ مخواہ اچھالنا بھی ٹھیک نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے شہیدوں کی توہین ہے۔ منور صاحب کو غدار کہنا بھی ٹھیک نہیں ہے۔ یہ کہنے والے وطن کی غداری پر فخر کرتے ہیں۔ باچا خان نے قائداعظم کا مقابلہ کیا تھا اور ریفرنڈم میں شکست کھائی تھی۔ سرحدی گاندھی کی جماعت والے بڑھ چڑھ کر بیان دے رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے والد گرامی مفتی محمود نے کہا تھا کہ شکر ہے ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے۔ مولانا نے امریکہ کے ہاتھوں قتل ہونے والے کتے کو بھی شہید کہہ دیا ہے۔ اس کے خلاف کوئی بیان بازی نہیں ہوئی۔ یہ بھی کوئی سوچی سمجھی سکیم لگتی ہے۔ دشمنوں کی اس چال کو منور حسن اپنے بیان پر معافی مانگ کر غلط کر دیں۔ جس قوم والے معافی مانگنا اور معافی دینا نہیں جانتے۔ وہ قوم کبھی سرخرو نہیں ہو سکتی۔
جن جماعتوں نے پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ جماعت اسلامی نے بھی کی تھی ۔ انہیں اب تک پاکستان میں قبول کیا گیا ہے؟ ایسی جماعتوں کے کئی لوگ حکومت اور اپوزیشن پر قابض رہے ہیں۔ اب تو وہ پاکستان میں ہیں۔ وہ پاکستان کی بھلائی کا سوچیں۔ کالاباغ ڈیم کی مخالفت کرنے والی جماعتیں وہی ہیں جو پاکستان کی مخالف ہیں۔ وہ اب کالاباغ ڈیم بنوا کے دکھائیں۔ پاکستان کے انرجی کے مسائل کا حل کالاباغ ڈیم میں ہے۔ دوسرے کئی سیاستدانوں کی طرح منور حسن پر غداری کا مقدمہ چلانے کی بات ایم کیو ایم نے بھی کی ہے۔ یہ روش چل نکلی تو کون بچ پائے گا۔
مجھے سب سے زیادہ افسوس بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر ہوا۔ ’’بے بی بھٹو‘‘ نے کہا کہ یہاں بھی جماعت اسلامی کے لوگوں سے وہ سلوک ہو جو بنگلہ دیش میں کیا جا رہا ہے۔ وہاں تو انہیں پاکستان کی حمایت اور پاک فوج کی حمایت کرنے کے ’’جرم‘‘ میں سزائیں دی جا رہی ہیں۔ اس طرح کی بچگانہ بات پیپلز پارٹی کے چیئرمین کو زیب نہیں دیتی۔ قمرالزمان کائرہ، سلیم حیدر، ڈاکٹر بابر اعوان، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اسے سمجھائیں۔ زرداری صاحب اس کی سرزنش کریں۔
منور صاحب نے بہت بڑا جرم کیا ہے؟ کیا وہ فضل اللہ کے مارے جانے پر بھی اسے شہید کا خطاب دیں گے۔ وہ دہشت گرد ہے۔ کوئی امریکی دہشت گردی میں سامنے نہیں آیا ہے۔ طالبان دہرے مجرم ہیں۔ اور ظالموں سے بڑے ظالم ہیں۔ دہشت گرد ہیں دشمن کے ایجنٹ ہیں۔ عمران کو کون سمجھائے کہ کوئی وحشی بن کے اپنے گھر کے بچوں کو تو آگ اور خون میں نہیں غرق کر دیتا۔
خبر آئی ہے کہ جلال الدین حقانی کے بیٹے کو اسلام آباد میں قتل کر دیا گیا ہے۔ یہ لوگ افغانستان میں قتل نہیں ہوتے۔ جہاد افغانستان کے لوگ پاکستان میں کیا لینے آتے ہیں۔ اسے تو منور حسن شہید نہیں کہتے۔ بہرحال یہ پاکستان میں دہشت گردی نہیں کرتے۔ طالبان کے بہت بڑے حامی جنرل حمید گل نے بھی منور حسن کے بیان پر اظہار افسوس کیا ہے۔