مسلم لیگ ق کی سابق رُکن قومی اسمبلی، پاکستان تحریک ِ انصاف کی ہائی کمان اور نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے بورڈ آف گورنر زکی رُکن بیگم مہناز رفیع کو مَیں نے، پہلے اُن کے شوہراوراپنے محترم دوست جناب محمد یحییٰ صاحب کی وساطت سے جانا اور پھر نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے حوالے سے، میری مرحومہ اہلیہ نجمہ جب اپریل 1976 ءمیں پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کی سیکریٹری جنرل منتخب ہُوئیں تو اُن کا بھی بیگم مہناز رفیع سے کافی میل جول رہا۔ موصوفہ کے داماد راﺅ تحسین علی خان کا تعلق انفارمیشن گروپ سے ہے جن سے میرا کئی سالوں سے تعلق ہے۔ مَیں برادرم محمد یحییٰ اور مہناز صاحبہ کے گھر صِرف دو بار گیا اور وہ بھی برادرِ عزیزشاہد رشید کے ساتھ۔ اُن سے میری ملاقاتیں ایوانِ کارکنانِ تحریک ِپاکستان کی تقاریب میں ہی ہوتی ہیں۔

سیاست، ادب و ثقافت یا کسی دوسرے شعبہ سے تعلق رکھنے والی شخصیت سے براہ راست رابطہ یا تعلق نہ بھی ہُو تو بھی ایک صحافی اُس کے عمل، رویہّ اور افکار و نظریات سے آگاہ ہوتا ہے۔ لیکن جِن لوگوں سے مسلسل میل جول اور گفتگو ہوتی رہے، انہیں سمجھنے اور پرکھنے میں سہولت رہتی اِس لحاظ سے قیامِ پاکستان سے قبل آل انڈیا مسلم لیگ کی اُتّرپردیش(یو-پی) شاخ کے جوائنٹ سیکرٹری چودھری محمد رفیع کی صاحبزادی مہناز رفیع کی شخصیت اور سیاسی اور سماجی خدمات کے بارے میں لکِھنا میرے لئے آسان ہے اور خوشگوار فریضہ بھی۔ مہناز رفیع ہیومن رائٹس سوسائٹی آف پاکستان کی سنیئر وائس چیئرپرسن ہیں، جِس کے چیئرمین سابق وفاقی وزیر اور نامور قانون دان سینیٹر ایس ایم ظفر ہیں۔ جنہوں نے محترمہ کی کتاب” سفر“ پر تعارفی کلمات لکِھے اور اِس سفر میں کی جانے والی جدوجہد کو حقوقِ خواتین کے لئے جہاد قرار دیا۔
” سفر“ نہ صِرف بیگم مہناز رفیع کی حقوق خواتین کے لئے جدوجہد کی داستان ہے بلکہ، دُنیا بھر کی اُن خواتین کا حوالہ بھی ،جِن کا کردار خواتین اور مردوں کے مشعلِ راہ ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ حضرت مریمؑ،حضرت موسیٰ ؑکی پرورش کرنے والی، فرعونِ مصِر کی اہلیہ، حضرت آسیہ ‘ ہندوﺅں کے اوتار” بھگوان رام“ کی اہلیہ سِیتا اور ”بھگوان کرشن“کی پالن ہار یشودھا پیغمبرِ اسلام کی صاحبزادی حضرت فاطمتہ الزہراؓ اور یزید کے دربار میں کلمہ¿ حق بلند کرنے والی بنت ِ علیؓ حضرت زینبؓ،الجزائرکی جمیلہ، ایران کی قُرة اُلعین طاہرہ اور ہندوستان کی رضیہ سُلطانہ کیا ہی اچھا ہو اگر ”سفر“کی کسی آئندہ اشاعت میں، حضرت گوتم بُدّھ کی خالہ ،رضاعی اور سوتیلی والدہ”گوتمی“ ( جِن کے نام سے شہزادہ سِدھارتھ گوتم مشہور ہُوئے)کا بھی ذکر ہو جائے اور اُم ّ اُلمومنین حضرت خدیجتہ الکبریٰ ؓکا بھی کہ قبل از اسلام، جِن کا کاروبار کئی مُلکوں تک پھیلا ہوُا تھا اور جو اپنی دولت کی وجہ سے ملائکتہ اُلعرب کہلاتی تھیں۔تاریخ میں لکِھا ہے کہ ”حضرت خدیجتہ الکبریٰ ؓ کے پاس اُحد پہاڑ کے برابر سونا تھا جو انہوں نے نکاح کے بعد پیغمبرِ انقلاب کی نذر کر دِیا تھا اورجو غلاموں اور کنیزوں کو آزاد کرانے اور اُن کی شادیاں کرانے میں خرچ کر دِیا گیا“۔
” سفر“ میں 1886 ءسے 1988 ءتک، برصغیر میں مُسلم خواتین خاص طور، بی اماّں ( مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی والدہ) بیگم محمد علی جوہر ،مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ بیگم جہاں آرا شاہنواز، بیگم رعنا لیاقت علی خان، لیڈی نصرت عبداللہ، بیگم قاضی عیسیٰ، بیگم شائستہ اکرام اللہ، فاطمہ بیگم، بیگم نواب اسماعیل خان،لیڈی ہدایت اللہ، بیگم وقار اُلنسائ، بیگم زری سرفرازاوربیگم سلمیٰ تصدق حسین کا تذکرہ کِیا گیا ہے بیگم مہناز رفیع نے ،مادرِ ملتؒ کو”رول ماڈل“ قرار دِیا ہے۔ پاکستان میں انتخابی سیاست کے حوالے سے بیگم مہناز رفیع لکِھتی ہیں کہ” بیگم نصرت بھٹواور محترمہ بے نظیر بھٹواِس لئے قومی اسمبلی کی رُکن منتخب ہُوئیں کہ وہ علی الترتیب ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ اور بیٹی تھیں۔ اِسی طرح بیگم نسیم ولی خان اِس لئے نشست حاصل کر سکیں کہ وہ ولی خان کی بیوی تھیں۔ اور سیّدہ عابدہ حسین اِس لئے کہ اُن کا حلقہ بنا ہُوا ہے۔
قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی مخصوص نشستوں کا تذکرہ کرتے ہُوئے بیگم مہناز رفیع نے بیان کِیا ہے کہ” اسمبلیوں کے لئے منتخب ہونے والی خواتین عورت ہُونے کے ناتے نہیں بلکہ اپنی آبائی اور موروثی نشستوںکے ذریعے اسمبلی میں آتی ہیں۔ اُن کا اسمبلیوں میں ہونا یا نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا“۔یہ سب درست ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں باقاعدہ پارٹی انتخابات نہیں ہوتے۔ چند لوگ کسی بڑی شخصیت کوپارٹی کا صدر یا چیئرمین، متفقہ طور پر منتخب کر لیتے ہیں اور پھر وہ صدر یا چیئرمین اوپر سے لے کر نیچے تک پارٹی عہدیدار نامزد کر دیتا ہے۔ سب سے بڑی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی میں یہی کُچھ ہُوا۔ چیئرمین بھٹو،بیگم بھٹو بے نظیر بھٹو،آصف زرداری اور اب بلاول بھٹودوسری پارٹیوں میں بھی یہی حال ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے، اپریل 1976 ءمیں پہلی اور آخری بار صِرف شعبہ¿ خواتین کے انتخابات کرائے۔ ترقی پسند لیڈر ڈاکٹر مبشر حسن اور اسلام پسند راہنما مولانا کوثر نیازی کی ” سر جوڑ کوشش“ کے باوجودبیگم نجمہ اثر چوہان راولپنڈی کی رُکن صوبائی اسمبلی مس ناصرہ کھوکھر کو شکست دے کر ،پیپلزپارٹی پنجاب کی سیکریٹری منتخب ہو گئیں۔ لیکن پارٹی قیادت نے ۔پنجاب اسمبلی کی 12 مخصوص نشستوں میں سے ،پنجاب پیپلز پارٹی کی منتخب سیکرٹری جنرل کو ٹکٹ نہیں دِیاالبتّہ ، شکست خوردہ ناصرہ کھوکھر کو پھر دے دِیا۔
مذہبی جماعتیں جمہوری طریقِ انتخاب کو”حرام“ قرار دیتی تھیں۔ 1951 ءمیں پنجاب کے انتخابات میں مذہبی جماعتیں بُری طرح ہار گئیںتو کہا گیا کہ ”اِس مُلک میں، انتخابات کے ذریعے اسلام نہیں آ سکتا“۔ پھر سبھی جماعتوں نے ” نظریہ ضرورت کے تحت“ انتخابات میں حصہ لینا شروع کر دِیا۔ اور اُن کے قائدین۔ اسمبلیوں میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر اپنی پردہ دار گھریلو خواتین کو لے آئے۔ جب بھی عام انتخابات ہوئے، تمام مذہبی جماعتیں متحد ہو کر بھی پارلیمنٹ میںاکثریت حاصل نہیں کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اب طالبان کو ”غازی“اور”شہید“ بنا کر عوام سے انتقام لے رہی ہیں۔”سفر“ میں عورتوں پر تشددقانون اور عورت خواتین کے آئینی حقوق عورتوں کی ذہنی ترقی میں خواتین کا کردار آئینِ پاکستان اور عورت دوسری شادی جہیز اور شادی کا خرچ طلاق خواتین اور پارلیمنٹ خواتین کی عالمی کانفرنس اور بیگم مہناز رفیع کی سیاسی جدوجہد سمیت دیگر کئی معلومات افزاءمضامین ہیں جو، سیاست میں نو آموز خواتین کے لئے گائیڈ لائن کے طور پر کام آ سکتے ہیں اور پاکستان کی قومی سیاسی تاریخ کے طلبہ و طالبات کے لئے بھی خواتین کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے مرد حضرات کے لئے بھی اِس کتاب میں بہت سے نُسخہ ہائے کِیمیا ہیں۔ میر انیس کہتے ہیں ....
” یہ سفر مجھ کو ، وسیلہ ہے ظفر کا “
میری دُعا ہے کہ میری بھابی/ بہن- بیگم مہناز رفیع کا-”سفر“- اُن کے لئے -”وسیلہ¿ ظفر“- بن جائے۔