All Pakistani Dramas Lists
Latest Episodes of Dramas - Latest Politics Shows - Latest Politics Discussions

Thread: محبت

      
   
  1. #1
    CaLmInG MeLoDy is offline Banned
    Roshni Main Andhairoun Ke
    Baad...!!!
     
    Join Date
    Jan 2011
    Location
    Islamabad
    Posts
    6,808
    Blog Entries
    25
    Quoted
    842 Post(s)

    Exclamation محبت

    Dedicating this thread to my Most Respectable Persons On Fk
    dr maqsood hasni BDunc Shamrock



    میں بہت جدید زمانے کی انسان ، فیشن کرنا اور وقت کے حساب سے چلنا ہی میرا مقصد ، پرانے لوگ ، پرانےخیالات سب میرے لئے ایک الجھن کا سامان رہے. ایسا نہیں تھا کہ میں نے اپنے بزرگوں سے کچھ سیکھنے میں اپنی تذلیل سمجھی ، بلکہ آج میں جو ہوں وہ اپنے والدین اور بزرگوں کی دی ہوئی تعلیم کا ہی نتیجہ ہوں ، مگر پھر بھی مجھے کافی معاملات میں اپنی جدید سوچ زیادہ سلجھی ہوئی اور نئے انداز سے مزین لگی .

    میرے خیال میں پرانے لوگ ضرورت سے زیادہ جذباتی اور رشتوں سے بندھے رہنے، اپنی بنیادوں کو قائم رکھنے کے عادی ہوتے ہیں ، جس کی وجہ سے پرانے لوگ آگے کی طرف بڑھنے اور جدت لانے سے دور رہتے ہیں، اکثر اوکات تو بزرگ اپنے بچوں کو بھی ان ہی طریقوں پر گامزن رہنے کی تعلیم دیتے ہیں. پر کہاں میری سوچ اور کہاں ان لوگوں کی سوچ. اب تو زمانہ بہت آگے بڑھ چکا ہے ، کون کسی کے لئے اپنا وقت برباد کرتا ہے. آج کل تو انسان خود کو ہی سنبھال لے یہ ہی کافی ہے، کہاں اپنے ارد گرد کے لوگوں کی الجھنوں میں خود کو الجھائے . ارے یہ ہمارے ارد گرد جو پرانے لوگ ہیں ان کو کیا پتا کہ ہمیں بھی جینے کی آرزو ہے، ہمیں بھی آگے بڑھنا ہے. جدید وقت کے ساتھ جدت اپنانی ہے .یہ لوگ تو اپنے حصے کی زندگی جی چکے ہیں . ہمیں کھل کے جینے کیوں نہیں دیتے . بس یہ ہی خیالات مجھے وقت کے ساتھ ساتھ تیزی سے رواں دواں رکھے ہوئے تھے. میں کامیاب بھی ہو رہی تھی.

    کیا ہوا اگر میرے والدین کو. میرے بزرگوں کو میری ضرورت ہے. بھئ میں نے انتظامات تو کر دیئے ہیں ان لوگوں کے لئے ، جدید دور ہے. ریموٹ کے ایک بٹن نے زندگی کو پر تعیش بنانے کے تمام سامان تو لا موجود کیے ہیں .زندگی آسان کر دی ہے. انکے دل لگانے کو ٹیوی ہے نا. ہمیں کہاں وقت ملتا ہے اب کہ تھوڑا وقت ان لوگوں کے ساتھ کہیں باہر نکلجایئں اور ان کی ضرورت کا سامان کر دیں . کاریں ہیں گھر میں کھڑی ہوئی . ابو بھی اچھی خاصی ڈرائیو کرتے ہیں . ضروری تو نہیں کے ہر وقت میرے ہی سہارے کی ضرورت ہو انکو . میری بھی تو اپنی لائف ہے. جب میں ان کو اپنے لئے ڈسٹرب نہیں کرتی . تو یہ لوگ بھی اپنے لئے خود آسانی پیدا کریں نا . اب کیا مشکل ہے . اب تو زندگی بہت آسان ہو گئی ہے . کیا ابو بھی ہر وقت بینک بینک کہتے رہتے ہیں. پتا نہیں ابو کو کیا ہو گیا ہے. اچھے بھلے پڑھے لکھےانسان ہیں . ساری زندگی لا تعداد لڑکوں اور لڑکیوں کو تعلیم بانٹی ہے. ایک پروفیسر ہیں . ان کا ذہن تو مجھ سے کہیں زیادہ تیز ہے. ماشاء الله حساب پڑھاتے رہے ہیں. پتا نہیں پھر کیوں ابو کمپوٹر آپریٹ کرنا نہیں سیکھتے . بینک کے سارے کام اب گھر بیٹھے ہو جاتے ہیں.

    امی کو دیکھو مائکرو ویو اوون ہے . مگر پھر بھی سب کچھ جو پکانا ہے یا کھانا گرم کرنا ہے ان کو چولہے پر ہی کرنا ہے. پتا نہیں کیوں جدت نہیں اپناتی ہیں . پھر شام کو کہتی ہیں میں تھک گئی ہوں . ارے امی کام والیاں بھی ہیں . تھوڑی مدد لے لیا کریں پر کہاں امی کو تو عادت ہے خود کو الجھائے رکھنے کی. سب بدل جائے گا . پر میری امی کو پرا نی سوچ نہیں بدلنے کی . نا جانے کیسی سوچ کے مالک ہیں یہ لوگ . ہم بھی تو سیکھ رہے ہیں. آپ سے کم عمر ہیں. پھر آپ تو تجربہ کار ہیں. آپ کیوں نہیں سیکھ لیتی یہ سب .اف میں نہیں بدل سکتی بھئی ان کی سوچ . ابھی میں ان سب خیالات ہی میں مگن تھی کہ میرے کانوں میں پرانے زمانے کے ان گانوں کی آوازیں گونجنے لگیں .

    چلے جانا نہیں نین ملا کے ہائے سیاں بے دردی
    چاند پھر نکلا مگر تم نہ آئے .

    چلو جی شروع ہو گیا ابو کا راگ دور . اف پتا نہیں ابو یہ گانے ہلکی آواز میں کیوں نہیں سنتے ہیں . محلے والے بھی کیا کہتے ہونگے کے پتا نہیں کون ہے جو اتنے سڑے ہوۓ گانے سنتا ہے .امی اب کو کہیں نا کہ ہلکی کر دیں ان کی آواز . میرا تو بھیجا گھوم گیا ہے . اف کان پک گئے یہ گھسے پٹے گانے سن سن کر . پر ابو کا ٹیسٹ نہیں بدلا . اب تو محلے والوں کو بھی یہ گانے زبانی یاد ہونگے .امی ماسی بھی کیا کہتی ہوگی یہ کس قسم کے گانے سنتے ہیں .

    وقت اس طرح ہی گزر رہا تھا. میری سوچ مزید آگے بڑھ رہی تھی. میں بہت کچھ سیکھ رہی تھی. اب تو میرے ذہن میں یہ خیال بھی پیدا ہونے لگا تھا کہ لوگ پتا نہیں ایک دوسرے کے محتاج کیوں بن کر جیتے ہیں . ارے خود مختاری بھی کوئی چیز ہوتی ہے. میں کیوں کسی سے مدد مانگوں . میں خود سب کر سکتی ہوں. کیوں ان رشتوں اور تعلقات کی محتاج رہوں. میں کسی کی محتاج نہیں ہوں . دنیا میری مٹھی میں ہے. میری تعلیم ، میری سوچ کسی سے کم نہیں ہے. پتا نہیں میرے والدین یہ سب کیوں نہیں سمجھتے ، وہ ہی رشتوں کا رونا لئے بیٹھے رہتے ہیں . ارے کوئی جب ہم سے رکھنا نہیں چاہتا تو لعنت بھیجیں ان پر . آگے بڑھیں . اب کون کسی کے لیے رکتا ہے.

    آج میں گھر میں بلکل اکیلی تھی. ابو کے ڈر سے اونچی آواز میں گانے سنتے ذرا الجھن ہوتی تھی. سوچا خوب تیز آواز میں گانے کیوں نہ سنے جایئں . کوئی روکے ٹوکے گا نہیں . میں نے اونچی آواز میں گانے لگا لئے اور اپنے کام میں لگ گئی. پھر مجھے احساس ہوا کہ اگر کوئی گھر کی بیل دے یا دروازہ کھٹکھٹائے یا ٹیلیفون کی گھنٹی بجے تو مجھے پتا نہیں چلے گا . امی ابو ہوتے ہیں تو کم سے کم مجھے یہ ٹینشن نہیں ہوتی ہے . میں نے آواز ہلکی کرنے کی بجائے منہ بنا کے اپنا میوزک سسٹم ہی آف کر دیا . پتا نہیں کہاں رہ گئے ہیں امی ابو . عجیب بات تھی نا کہ کہاں میں خود مختاری کا سوچتی ہوں . اور آج بڑے مزے سے اونچی آواز میں گانے سن سکتی تھی پر احساس زمیداری نے مجھے خاموشی اور دبی آواز کی طرف رجوع ہونے پر مجبور کیا. آج مجھے احساس ہوا کہ والدین کا ساتھ انسان کے لئے کتنی بےفکری کا احساس لئے ہوئے ہوتا ہے. کہنے کو بات صرف میوزک کی تھی . پر اس بات نے مجھے یہ احساس دلایا کہ والدین کا ساتھ انسان کی زندگی میں کس قدر ضروری ہے .

    تھوڑی دیر میں گھر میں چہل پہل ہو گئی. ابھی جو خاموشی اور بے رونقی تھی . وہ یک دم ہلچل میں بدل گئی. جناب ابو اور امی گھر آ گئے تھے. آج اتوار بازار سے پتا نہیں کیا کیا خرید لائے تھے. مجھے پتا بھی نہیں چلتا . اور پورے ہفتہ بلکہ اپنی تمام زندگی کھاتے پیتے . عیاشی کرتے گزار دی یہ کبھی سوچا ہی نہیں کہ. یہ تمام عیاشی کا سامان میرے والدین کا ہی پیدا کردہ ہے. ہماری پرورش کو ، ہمارے کھانے پینے کو ، پہننے اوڑھنے کو ، اور بے فکری کی زندگی کو ہمارے والدین انتھک محنت کرتے ہیں . اگر میری والدہ مجھے روز تازہ کھانا پکا کر اور تازی روٹی پکا کر نہ دیں تو میں تو شاید خود اتنی سست ہوں کہ دو دو دن کا کھانا مائکرو ویو میں گرم کر کے کھاتیجبکہ مجھ سے تو دوپہر کا کھانا رات کو نہیں کھایا جاتا.امی کے ہاتھ کی تازی روٹی نہ ملتی تو بازار سے نان خرید کر اکتا چکی ہوتی . میری والدہ اپنے ہاتھ سے تازہ کھانا پکا کر دیتی ہیں مجھے . اپنے ہاتھ کی گرم گرم روٹیاں اس وقت پکا کر دیتی ہیں. جب میں یونورسٹی سے تھکی ہاری آتی ہوں. اور اتنی ہمت بھی نہیں ہوتی کہ اپنا کپڑے ہی تبدیل کرسکوں . پر میری والدہ سارے دن کی تھکی ہاری چہرے پر بھر پور مسکراہٹ لئے میرا انتظار کر رہی ہوتی ہیں . میرے والد کی نظریں دروازے پر ہوتی ہیں جب تک میں گھر میں داخل نا ہو جاؤں . ذرا دیر ہو جائے تو مجھے فون کر کے میری خیریت لیتے ہیں . ایسی محبت مجھے اور کون دے گا . کوئی نہیں .

    اگر زندگی کی اس چہل پہل کے ہوتے ہوۓ ہم کبھی یہ تصور کریں کہ . الله نہ کرے . پر زندگی میں کبھی ایسا وقت آیا کے میری آنکھوں کے سامنے سے یہ تمام منظر اوجھل ہو جائے ، یہ پرانے گھسے پٹے گانوں کی آوازیں رک جایئں . مجھے کسی کے آگے جواب دہ نہ ہونا پڑے . جینے کا مقصد اور بے فکری ختم ہو جائے . مجھ پر روک ٹوک ختم ہو ،مجھے پھر اپنی زندگی خود لے کر آگے چلنا پڑے، گو کے میں چل سکتی ہوں. کیوں کے مجھے میرے والدین نے ایسا بنا دیا ہے کہ میں کسی کی محتاج نہیں رہونگی کبھی بھی. یہ بھی تو انکا ہی احسان ہے مجھ پر . سوچو یہ سب کچھ میری زندگی سے ختم ہو جائے . پھر کیا رہ گیا.

    ہائے اس سوچ سے میری تو ایک دم جان نکل گئی . میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے یہ سوچ کر کہ اگر . میرے امی ابو کی آوازیں کبھی میرے کانوں میں نہیں پڑیں گی . جب کوئی ایسے گھسے پٹے گانے نہیں سنے گا. تو کیسی خاموشی ہوگی . اس سوچ نے میرے دل کو موم کر دیا . میری آنکھوں میں اپنی والدہ کی مسکراہٹ . اور اپنے والد کی شفقت ایک تصویر کی طرح چلنے لگی .میرے والد کا میرے سر پر ہاتھ پھرنا اور میرا اس سوچ سے بے فکر ہو جانا کے ابو ہیں نا ، سب کر لیں گے . یہ سوچ مجھے نڈھال کر گئی کے اگر یہ سب نہ ہوا تو میرا کیا ہوگا.

    پھر مجھے شدت سے احساس ہوا کہ میرے پرانے والدین پرانے بزرگوں میں جو باتیں مجھے شدید نا پسند تھیں . وہ اصل میں نا پسندیدہ باتیں نہیں تھیں. بلکہ انکی محبت کے جذبے ہیں . ایسے جذبے جس سے میں محروم ہوں. یہ میرے لئے اپنی جان پر کھیل کر کچھ بھی کر سکتے ہیں. اور مجھے ان کی جانوں تک کی فکر نہیں . یہ میرے لئے سب قربان کرتے آئے ہیں. اور آج مجھے ان کے لئے کچھ کرنا اپنا بہت کچھ قربان کرنا لگتا ہے . مجھے کیا ہو گیا تھا. اپنی جدید سوچ کے ساتھ اس محبت کا گلا گھونٹتی جا رہی تھی. میں تو سب کھو دیتی . اپنا دل خالی کر لیتی جدت کے شوق میں محبت تباہ کر کے. پرنانی سوچ چھوڑنے کے لئے میں تو محبت ہی چھوڑ رہی تھی. میں تو اپنی شخصیت خود با خود اپنے ہاتھوں سے اپنی سوچ کی وجہ سے تبدیل کرتی جا رہی تھی. پر الله پاک کا شکر ہے کہ میرے الله پاک نے مجھے بچا لیا . صرف ایک احساس دلا کر. اب مجھے ان گانوں سے پیار ہے جو میرے ابو کی پسند ہیں. اب جب یہ الفاظ گھر میں گونجھتے ہیں

    گھر آیا میرا پردیسی پیاس بجھی میری انکھیان کی

    تو مجھے یہ گانے برے نہیں لگتے. بلکے اپنے والد کی محبت سے اور انکی جدائی کے خوف سے میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں. اب یہ آوازیں ، یہ چہل پہل ، پرانے خیالات اور بنیادوں سے جڑے رہنے کی سوچ مجھے گھسی پٹی نہیں لگتی بلکہ مجھے اب ان سب سے شدید محبت ہے. اب میرا دل محبت سے شرسار ہے. میں کبھی بھی کھونا نہیں چاہتی اس محبت کو.اپنے ابو کے ہاتھوں کی ہتھیلیوں اور اپنی ماں کی گود کی گرمائش مجھے اپنے دل میں محسوس ہوتی ہے. یہ ہی سب میری طاقت ہے .الله پاک میرے والدین کا سایا میرے سر پر سلامت رکھنا .آمین .

  2. #2
    BDunc's Avatar
    BDunc is offline Expert Member
    "Allah's way is the
    best"
     
    Join Date
    Mar 2012
    Posts
    18,540
    Blog Entries
    7
    Quoted
    707 Post(s)

    Re: محبت

    Masha Allah umda bitya ji


  3. #3
    Khaak~e~taYeba's Avatar
    Khaak~e~taYeba is offline khäwäjä kï dëëwänï
    لا حول ولا قوة
    الا بالله
     
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    Allah ki panah me
    Posts
    6,824
    Blog Entries
    2
    Quoted
    282 Post(s)

    Re: محبت

    Assalamualeikum !

    ap ne puraney khayalat ka zikr sirf parents ki had tk kiya he , lekin jin parents ka ap ne zikar kiya he wo jiddat k is qadar mukhalif nazar nhi atey , q k agr wo jiddadt k mukhalif hotey tu " writer" ko jadeed taleem na dilwatey , han agr wo jadeed saholiyaat se ziyada faida nhi uthana chahtey tu ye un ki saadgi or qanat pasandi he .
    jadeed taleem tu hamari zaroorat he , mgr is k sath sath saadgi or qanat pasandi me hamara imaan chupa huwa he jo hm upne buzurgon se seekhtey hain .
    hamein upney buzurgon ki iqdar Aziz hain or ham in ki hifazat krein ge .

    bohut achi tehreer he , behteri ki gunjaish hamesha rehti he ........
    keep it up sister

  4. #4
    Savi Abbas's Avatar
    Savi Abbas is offline Expert Member
    have to love you since love to
    have you
     
    Join Date
    Nov 2008
    Location
    UK
    Posts
    10,498
    Quoted
    709 Post(s)

    Re: محبت

    Superbbbb thoughts!!!!! Dear Ruby aap hamesha hi acha likhti hain magar yeh tehreer bohattttt ziyada dil ko choo lene wali hai .... sach hai ke parents aur buzragon ki unconditional mohaabat aur way of love waqayee anmol hai...hum chahe kuch bhi karien hum kabhi bhi unn ke love ka care ka return naheen kar sakte ..yahi humari janatien hain agar samjh sakien tou!!!its really touched my heart !!! jhahn tak baat hai jiddat pasandi aur age of technology ki main bas yahi sochti hoon ke waqt ke sath har cheez badalti hai jo kabhi naheen badla woh hai humare buzrogon ki mohabbat ka andaz!!!jo hmesha aisa hi rahe ga!!!! Allah saien Sab ke Parents ka buzrongon ka saya unn ke saron par salamat rakhe ameen!! very beautiful dedication!!! thanks alot for sharing honey!!!!God bless youuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuu

    ​​​​


    کترنیں روح کی آؤ کے ,سمیٹیں فرخ
    کیا خبر ، لوٹ کے آجاے رفو کا موسم







Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  

Log in