ملائشین لاپتہ طیارہ بحر ہند میں نہیں بلکہ افغانستان میں ہے اور تمام مسافر زندہ ہیں، روسی ویب سائٹ کا دعویٰ۔ فوٹو: فائل

بیجنگ: بحر ہند کے پانیوں میں ملائیشین طیارے کی تلاش میں مصروف چینی جہاز نے بلیک باکس کے سگنل موصول ہونے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ دوسری جانب ایک روسی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ طیارہ افغانستان کے صوبے قندھار میں کھڑا ہے جس کے بعد اس کی تلاش ایک معمہ بن کررہ گئی ہے۔ چین کے سرکاری نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ملائیشین ایئر لائنز کے لاپتہ طیارے کے بیلک باکس کی تلاش کے کام میں مصروف بین الاقوامی ٹیمیں اپنی سرگرمیوں میں مزید تیزی لے آئی ہیں، سرچ آپریشن میں 13 طیارے اور 11 بحری جہاز جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جنوبی بحر ہند میں لاپتہ طیارے کا ممکنہ ملبہ تلاش کرنے میں مصروف ہیں، سرچ آپریشن کے دوران لاپتہ ملائیشین مسافربردار طیارے کی تلاش میں مصروف چینی جہاز کے ماہرین کو بلیک با کس کے سنگنل موصول ہوئے ہیں جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ سگنل اسی طیارے کے بلیک با کس کے ہیں تاہم اب تک ماہرین نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔
دوسری جانب سے روسی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملائشین لاپتہ طیارہ بحر ہند میں نہیں بلکہ افغانستان کے صوبے قندھار کے دیہی علاقے میں کھڑاہے اور خدشہ ہے کہ اسے ہائی جیک کرلیا گیا جبکہ طیارے میں سوار تمام مسافر زندہ ہیں اور انہیں کچے گھروں میں رکھا گیا ہے، روسی ویب سائٹ کی جانب سے جاری ہونے والی چونکا دینے والی رپورٹ کے بعد لاپتہ ملائشین طیارے کی تلاش معمہ بن کر رہ گئی ہے۔
واضح رہے کہ 8 مارچ کو ملائیشین ایئر لائن کا بوئنگ 777 طیارہ 239 مسافروں لے کر کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہوگیا تھا جس کا تاحال کوئی پتہ نہیں چل سکا، ماہرین کا کہنا ہے کہ طیارے کا بلیک باکس ایک ماہ تک سگنل بھیجتا رہتا ہے اگر اس دوران اسے تلاش نہ کیا جاسکا تو طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی وجہ شائد کبھی معلوم نہ ہوسکے۔