اس نے سر ہاتھوں میں گرا لیا اور سوچنے کی کوشش کی کہ وہ اتنا بے سکون کیوں ہے؟مگر اگلے ہی لمحے چونکا۔ ’’اسکرین‘‘ ! اسکرین میں سکون کب اور کس کو ملا تھا‘ جو اسے ملے گا؟ بھلے وہ ٹی وی اسکرین ہو ‘ کمپیوٹر اسکرین ہو یا موبائل اسکرین۔ اسکرین سستی ‘ بے سکونی اور بے زاری عنایت کرتی ہے اگر یہ الله کے ذکر سے خالی ہو! وہ اٹھا اورباتھ روم چلا گیا۔ کچھ دیر بعد گیلے ہاتھ پیر اور چہرے کے ساتھ باہر نکلا اور اپنا قرآن لے کر اسٹڈی ٹیبل پہ آ بیٹھا۔

" ’پتہ ہے کیا الله تعالیٰ‘ اس اسکرین کی نماز اور قرآن کے ساتھ ہمیشہ ایک جنگ چھڑی رہتی ہے ۔ جتنی زیادہ ہمارے زندگیوں میں ’’اسکرین ‘‘ آتی ہے ‘ اتنی ہماری نماز کم ہوتی ہے۔ اور جتنی نماز آ تی ہے ‘ اتنی ہی اسکرین خود بخود جانے لگتی ہے۔ ہم بیک وقت دو دل نہیں رکھ سکتے۔ حیا سے عاری دل، اور مومن کا دل، یہ ایک
سینے میں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ "




(نمل-نمرہ احمد )