دُوربین
مئی 4 ، 2016


نیک فاحشہ

وہ بہت بُری تھی ۔ بُری کیوں نا ہوتی ۔ آخر تھی جو محلے کی بدنام زمانہ فاحشہ ۔ لیکن اب ہمیں اس کی بُرائی کے بجائے اس کے نیکی کے جذبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے ۔ لیکن کیا کریں جب اس پر نظر پڑتی ہے تو منہ لاحول ولا قوۃ نکلتا ہے ۔ یعنی اب فاحشہ اپنی کمائی سے مسجد بنائے گی ۔ یا یوں سمجھیں قحبہ خانہ کو مسجد کا نام دے کر وہاں نماز پڑھنی شروع کردی جائے ۔ دل ہے کہ مانتا نہی ۔ فاحشہ کی کمائی سے بنی مسجد کسی کو بھی قبول نہی ۔ہاں اگر عوام کے چندے سے وہ فاحشہ ہو یا زانی آوارہ شخص۔ عوام کے حلال چندے سے مسجد بنائے یا اسپتال ۔ وہ پھر بھی قابل قبول ہوگا۔

اب یہ فاحشہ اپنے مطلب کے لئے نیک پروین بن رہی ہے ۔ یہ وہ والی نیکی نہی جو کرکے دریا میں ڈالی جاتی ہے ۔ یہ تو وہ نیکی ہے جسے کرنے والا جھولی پھیلائے بیٹھا ہے کہ نیکی کا پھل جلدی سے اس کی جھولی میں آگرے۔۔

بڑے بڑے چور ڈاکو، جواری ، زانی لٹیرے اکٹھے ہو گئے ہیں چوری ڈاکوں کے خلاف۔ سب نے یک زبان ہوکر سوال کیا ہے
وزیراعظم نے ملک سے باہر گھر کیسے خریدے
لیکن پوچھنے والا یہ بتانے کو تیار نہی کہ سرے محل کیسے خریدا گیا
وزیراعظم بتائے کہ آف شور اکاونٹ جو کہ ان کے بچوں کا ہے پیسا کہاں سے آیا
لیکن پوچھنے والا یہ بتانے کو تیار نہی کہ سوئیز اکاونٹ میں 60 ملین ڈالر کہاں سے آئے
وہ پوچھتے ہیں کہ جلاوطن ہونے کے بعد سعودی عرب میں گزارا کیسے کیا۔ کس نے خرچہ اٹھایا۔۔
لیکن پوچھنے والا یہی بتا دے کہ عمران یتیم کو جہانگیر اور علیم خان نے کفالت میں لیا ہوا ہے ۔

اے فاحشہ ۔ پہلے اپنے گریبان میں تو جھانک لے ۔ غلاضت سے بھرا ہے ۔ اور تو ایک داغ پر آسمان سر پر اٹھائے ہوئے ہے ۔ کیا یہ کھلا تعضاد نہی ۔
سندھ کو دیکھو۔ یا دیکھو خیبر پخون کو۔ جہاں احتساب کمیشن بند پڑا ہے ۔ اس لئے نہی کہ وہاں کرپشن ختم ہوچکی ہے ۔ اس لئے کہ کرپشن پکڑے جانے کا خطرہ ہی موجود نہ رہے ۔
نہ رہے بانس نہ بجے بانسری ۔

اور ادُھر وردی والی نائیکہ بھی اپنے اندر سے دو چار فاحشاوں کو نکال کر حاجن بنی بیٹھی ہے ۔

کیا اسے بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی سمجھ لیا جائے ۔اگر نہی تو پھر پڑھئیے ان کی مسجد میں نماز انہی کی امامت میں ۔ اور نماز کے بعد اللہ سے دعا کریں کہ وہ برائی سے بچائے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔