دُوربین
بروز ہفتہ اپریل30 ۔2016

سیاسی کتے بلے

دیکھیں دُور سے یا نذدیک سے ۔ ماضی کو دیکھیں ہیں یا حال کو۔ یا آنے والے کل کو۔ کیا اب بھی نظر نہی آرہا؟ لیکن کسے نظر نہی آرہا؟ اسے جو اپنے مطلب کی نظر لئے ہوئے ہے ۔ وہ جسے صرف اور صرف اپنی غرض ہے ۔ وہ اپنے مطلب کے لئے اندھا ہوا جاتا ہے ۔ اسے کیا فکر حقیقت کو دیکھنے کی ۔ اس کی حقیقت تو صرف اس کی خواہش کے مکمل ہونے تک میں ہے ۔

آہ پاکستان ۔ اور پاکستان کی جاہل عوام۔ وہ جو چلی ہے نیا پاکستان بنانے ۔ جہاں سچ ہوگا۔ حق ہوگا۔ انصاف ہوگا۔ دوربین سے دیکھنے کی ضرورت نہی ہے ۔ نا ہی باریک بینی سے دیکھنے کی ۔ سامنے صاف اجھلا ہوا نظر آرہا ہے کہ یہ نیا پاکستان بنانے والے کون لوگ ہیں۔ پچھلے چند سالوں کے عمل سے ان کا تعارف خود کرلیجئے ۔ یا ان کا ماضی دیکھ لیجئے ۔ لیکن کیا ماضی دیکھیں گے ہم۔ یہ تو اپنے حال میں غلاضت سے تر ہیں۔ یا شاید اب عوام ہی اتنی غلیض ہوچکی کہ غلاضت کا حصہ بن چکنے کے بعد تمیز کرنے سے قاصر ہے ۔

زرداری کو گالیاں دینے والے ۔ ایم کیوایم کو قاتل کرپٹ پاکستان دشمن کہنے والے ۔ اب ایسا لگتا ہے ۔ سارے کتے بلے اپنی سیاسی موت کو سامنے دیکھتے ہوئے ایک ہی مطلب غرض کی خاطر ہاتھ میں ہاتھ تھامے کھڑے ہیں۔ لیکن وہ عوام کہاں کھڑی ہے جو تبدیلی کی امید لگائے بیٹھی تھی ۔ کوئی شرم ؟ کوئی حیا ؟ کوئی ندامت؟ کوئی شرمندگی ؟

کل تک زرداری کو کرپٹ چور ڈاکو اور کتا تک کہا گیا۔۔۔ آج اسی کو گلے سے لگا لیا ۔۔ اے تبدیلی والی عوام۔ اب تو کہاں کھڑی ہے ۔ اب کیا تمہارا لیڈر اتنی ہمت کرسکتا ہے کہ زرداری کو کرپٹ چور ڈاکو کہہ کر دکھا سکے ۔ ہے اس میں اتنی ہمت جرت ؟ کہ وہ سندھ جانے سے ڈر گیا۔۔۔ کہ وہاں اب جا کر وہ کس کے خلاف بات کرے گا؟

فرض کریں ۔ یہ حکومت گر جاتی ہے ۔ میرے عزیز ہم وطنوں جو کہ یہی چاہتے ہیں اور اسی انتظار میں مرے جارہے ہیں۔ آمریت کا مردہ جو کہ جمہوریت میں ترقی کرتے پاکستان میں اپنی موت مرا جارہا تھا ۔ اس کے باوجود کہ خارجہ پالیسی اور دفائی امور پر فوجی کنٹرول ہے ۔ لیکن پھر بھی پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہو جائے ۔ یہ قبول نہی۔ زرداری کی طرح بغیر کچھ کئے پانچ سال پورے کرلو۔ کوئی شکایت نہی ۔

حکومت گر گئی ۔ نئے انتخاب کا اعلان ہوگیا۔ حاصل کیا ہوا؟ پاکستان کہا ں کھڑا ہوگا؟ اور نتیجہ ایسا نکلتا ہے کہ یہی سیاسی کتے بلے اتحاد بنا کر عوام پر حکومت کریں۔ کیوں نہ کریں گے ۔ جب حکومت گرانے کے لئے ایک ہوا جاسکتا ہے ۔ تو پھر حکومت بنانے کے لئے کیوں نہی ۔

حکومت کو اپنی ٹرم پوری کرنے کے لئے صرف ڈیڑھ سال کا عرصہ رہ گیا ہے ۔ لیکن قلیل عرصہ برداشت سے باہر ہے ۔ کیوں کر؟ کہ شاید اگلے الیکشن تک بجلی کا مسلہ حل نہ ہوجائے ۔ کہ شاید اگلے الیکشن تک بڑے منصوبے پایہ تکمیل نہ ہوجائیں۔ یہی فکر فوج کو بھی کھائے جارہی ہے ۔ اور یہی فکر سیاست کے لگڑ بگڑوں کو بھی ۔۔

میری دعا ہے ۔ پاکستان عوامی رائے سے اپنی منز ل کی طرف محو سفر رہے ۔ آمین