پرایا دھن


ہنسی مذاق میں‘ احمقانہ گفت گو یا حرکت چل جاتی ہے لیکن سنجیدہ اور دکھ سکھ کے معاملات میں‘ احمقانہ گفت گو یا حرکت کی‘ سرے سے گنجائش نہیں ہوتی۔ بخشو کے بیٹے کا‘ اس کی سگی سالی کی بیٹی سے نکاح ہونے جا رہا تھا۔ شوکے کی ماں اور بہنیں‘ مختلف نوعیت کے شگن کر رہی تھیں۔ وہ سب خوش تھیں۔ بذات خود شوکا بڑا ہی خوش تھا۔ بخشو بھی‘ خوشی خوشی جملہ معاملات انجام دے رہا تھا۔ جوں ہی شوکا سہرہ باندھے‘ گلے میں مالا ڈالے‘ سجی پھبی گھوڑی پر بیٹھنے لگا‘ بخشو نے نیا ہی تماشا کھڑا کر دیا۔ اس نے شوکے کو گلے لگا لیا اور زاروقطار رونے لگا۔ یہ بالکل الگ سے بات تھی اور سمجھ سے بالاتر تھی۔ لوگ بیٹوں کی شادی پر خوشیاں مناتے‘ یہ احمق رو رہا تھا۔

پہاگاں حسب سابق اور حسب عادت آپے سے باہر ہو گئی۔ اس دن کچھ زیادہ ہی ہو گئی۔ اس نے بخشو کی بہہ بہہ کرا دی۔ بخشو کے لیے‘ یہ کوئی نئی اور الگ سے بات نہ تھی۔ برداشت کر گیا۔ برداشت کیوں نہ کرتا‘ جھوٹا تھا‘ سب فٹکیں دے رہے تھے۔ خوشیاں غم و غصہ میں بدل گئیں۔ وہ تو خیر ہوئی‘ چاچا فضلو ساتھ تھا۔ اس نے بیچ میں پڑ کر‘ بچ بچاؤ کا رستہ نکال لیا‘ ورنہ جنگ عظیم چہارم کا آغاز تو ہو ہی گیا تھا۔

تمام رسمیں ہوئیں۔ شوکے اور گھر والوں نے‘ جعلی ہنسی اور خوشی میں سب نبھایا۔ ہاں البتہ براتیوں کی ہنسی اور قہقہے قطعی جعلی نہ تھے۔ بخشو نے حرکت ہی ایسی کی تھی‘ آج تک دیکھنے سننے میں نہ آئی تھی۔ دوسری طرف لوگ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ بخشو نے ایسا کیا‘ تو کیوں کیا۔ بخشو پاگل نہیں‘ سیانا بیانا اور چار بندوں میں بیٹھنے والا تھا۔ معاملات میں لوگ اس سے مشاورت کرتے تھے۔ اس دن پتا نہیں اسے کیا ہو گیا تھا۔

سب خاموشی اور حیرت میں‘ تمام ہوا۔ دلہن گھر لے آئے۔ شوکے کی ماں اور بہنوں نے نئے جی کے گھر آنے کی خوشیاں منائیں۔ رات دیر گیے تک‘ بخشو پلا جھاڑتا رہا۔ جیب ڈھیلی رکھنے کے باوجود‘ چھبتی اور زہرناک نگاہوں کا شکار رہا۔ روٹی پانی تو دور کی بات‘ کسی نے اس کی طرف دیکھنا تک گوارا نہ کیا۔ اس نے بھی خود کو‘ بری طرح نظرانداز کیا۔ سگریٹ پہ سگریٹ پیتا رہا اور دیر تک چارپائی پر کروٹیں لیتا رہا۔

دھوم کا ولیمہ ہوا۔ اچھے خاصے لوگ بلائے گیے تھے۔ خوب وصولیاں ہوئیں۔ کھتونی کے کئی کورے پنے کالے ہوئے۔ تمام خرچے بخشو کی گرہ سے ہوئے‘ لیکن ہر قسم کی وصولیاں‘ پہگاں کے پلے بندھیں۔ اس روز بھی اسے کسی نے پوچھا تک نہیں۔ اس کی حیثیت‘ گرہ دار موئے کتے سے زیادہ نہ رہی تھی۔

شادی گزر گئی‘ لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گیے۔ صاف ظاہر ہے‘ بخشو کے ساتھ بری ہوئی ہو گی۔ یہ واقعہ دوستوں یاروں میں کئی دن‘ باطور مذاق چلتا رہا اور پھر گزرے دنوں کی یاد سے زیادہ نہ رہا۔ ہر کوئی فکر معاش میں گرفتار ہے‘ کون معاملے کی کھوج میں پڑتا۔

ایک دن بخشو دوستوں میں بیٹھا ہوا تھا۔ اچھو نے شرارتا اور مذاقا پوچھ ہی لیا۔
یار بخشو تمہیں کیا سوجھی کہ بیٹے کی شادی پر‘ خوش ہونے کی بجائے‘ اس گلے لگا کر باں باں کرنے لگے۔ کتنے احمق ہو تم بھی۔

بخشو جذباتی سا ہو گیا اور کہنے لگا: آج تک سنتے آئے ہیں‘ بیٹیاں پرایا دھن ہیں۔ میں کہتا ہوں یہ غلط ہے‘ بیٹیاں نہیں‘ بیٹے پرایا دھن ہیں۔ میری اماں نے‘ ابا کے ماں باپ بہن بھائی‘ سب چھڑا دیے۔ یہ ہی تائی اماں اور ممانی نے کیا۔ خیر ان کو چھوڑو‘ تم سب بھائی‘ الگ ہو گیے ہو۔ تمہارے بڈھا بڈھی بےچارگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کچھ دینا لینا تو دور کی بات‘ زبانی کلامی نہیں پوچھتے ہو۔ شوکا بھی دوسرے ہفتے ہی ہمیں چھوڑ گیا۔ کہاں گیا ماں کا پیار اور ماں کی ممتا۔ وہاں شوکے کی ساس کا آرڈر چلتا ہے۔ ہر جگہ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ میں بھی‘ چوری چھپے اماں ابا سے ملنے جاتا تھا۔ تم سب اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھو‘ کتنے کو اپنے مائی باپ کے فرماں بردار ہو۔ بہن بھائیوں سے‘ کتنی اور کس سطع کی قربت رکھتے ہو۔ میں کہتا ہوں‘ بیٹیاں نہیں‘ بیٹے پرایا دھن ہیں۔ میرا بیٹا دور ہو رہا تھا‘ کیوں نہ روتا۔

بخشو کی کھری کھری سن کر‘ سب کو چپ سی لگ گئی۔ ایک کرکے سب اٹھ گیے۔ بخشو اکیلا ہی رہ گیا۔ یہ معلوم نہ ہو سکا‘ کہ سچ کی کڑواہٹ برداشت نہ کر سکے یا ندامت کا گھیراؤ کچھ زیادہ ہی گہرا ہو گیا تھا۔