دیکھتے جاؤ‘ سوچتے جاؤ

زندگی ایسی سادہ اور آسان چیز نہیں‘ اس کے اطوار کو سمجھنا بڑا ہی دقیق کام ہے۔ ہر لمحہ‘ اس کا چہرا ہی بدل کر رکھ دیتا ہے۔ تھوڑی دیر پہلے‘ آدمی ملا تھا‘ پتا چلا چل بسا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ چنگا بھلا تو تھا‘ یہ اچانک اسے کیا ہو گیا۔

اسی طرح اس کے انداز رویے‘ ایک ہی وقت میں‘ مختلف ہوتے ہیں۔ ایک رو رہا ہے‘ تو دوسرا ہنس رہا ہے۔ ہنسے والے کو رونے والے پر اور رونے والے کو ہنسے والے پر‘ اعتراض کی اجازت نہیں۔ اگر اعتراض کریں گے‘ تو فساد کا دروازہ کھل جائے گا۔ یہ فساد‘ لمحوں کا بھی ہو سکتا ہے‘ اس کے اثرات نسلوں تک بھی جا سکتے ہیں۔

اس نے پوچھا: کیسے ہو
اللہ کے فضل سے ٹھیک ہو
اس نے سر ہلایا اور منہ میں کچھ بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔
وہ اس بڑبڑاہٹ کا مفہوم نہ سمجھ سکا۔ اس کا مفہوم یہ تھا‘ کہ اب دیکھتا ہوں‘ ٹھیک ہو یا نہیں۔ تھوڑی ہی دیر میں‘ پلس آ گئی اور اسے پکڑ کر لے گئی۔
پھر وہ تھانے پہنچا اور پوچھا کیسے ہو۔
اس نے جوابا کہا: مصیبت میں ہوں۔
اب آئے نا اصل ٹھکانے پر
جی کیا کہا
کچھ نہیں
فکر نہ کرو‘ ضمانت کروا لیتے ہیں۔ تم جانتے ہو‘ خرچا پانی تو لگتا ہی ہے۔
میں گریب آدمی ہوں‘ خرچا پانی کدھر سے آئے گا۔
اپنی اوقات میں رہتے‘ غلط کام کیوں کرتے ہو۔
مجھے نہیں پتا‘ میں نے کیا کیا ہے۔
سارے مجرم اس طرح ہی کہتے ہیں۔
تم غریب لوگ بھی بڑے عجیب ہوتے ہو۔ کہا تھا‘ بہن کو ہمارے ہاں کام کے لیے بھیج دیا کرو۔ تمہاری غیرت نے گوارا نہ کیا۔ اب بھگتو۔
آیا بڑا غیرت مند

یہ ہی زندگی ہے۔ متضاد رویے متوازی چل رہے ہیں۔ یہ بات آج ہی سے تعلق نہیں کرتی‘ زندگی شروع ہی سے ایسی ہے۔ پوچھنے والے‘ خود اسی مرض میں مبتلا ہیں۔ ان حالات میں بھی لوگ زندگی کر رہے ہیں‘ کرتے رہیں گے۔

اس نے پی سی ایس میں کامیابی حاصل کی۔ ہنسنے کی بجائے‘ اس کے آنسو نکل گئے۔
بیٹا مرا‘ دھاڑیں مار کر رونے کی بجائے‘ چپ لگ گئی اور سب کی طرف‘ بٹر بٹر دیکھنے لگا۔
باپ مرا‘ ذہنی توازن ہی کھو بیٹھا۔
بیٹی پیدا ہوئی‘ بیوی کو طلاق دے دی‘ جیسے تخلیق کار اس کی بیوی تھی۔

خاوند مرا بڑا ہی صدمہ ہوا۔ پچاس عورتوں میں اس قسم کے بیانات جاری کرنے لگی۔
ہائے میں مر گئی۔ زندگی بھر دکھ دیتے رہے۔ ایک لمحہ بھی سکھ نہ دے سکے۔ زندگی بھر غیروں کی محتاج رہی۔ تم پر رہتی تو گھر ویران رہتا۔ اب مر کر دکھ دے گئے ہو کہ غیروں کی ہی محتاج رہوں۔
نشہ پانی سے ہمیشہ منع کرتی رہی‘ تم نے میری ایک نہ سنی‘ اگر مان جاتے تو یہ دن تو نہ دیکھنا پڑتا۔
جوئے نے تمہیں برباد کیا‘ پیسے بچاتے تو کفن دفن کا سامان ہی لے آتی۔ آج میرے پاس پھوٹی کوڑی تک نہیں۔
میرے نصیب ہی سڑ گئے‘ جو تایا نے کچھ نہ دیکھا اور رشتہ دے دیا۔
ہائے میں مر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ لوکو میں لٹی گئی۔

یہاں جسے دیکھو‘ امریکہ کے خلاف باتیں کر رہا ہے۔ اگر کوئی پیشاب سے بھی تلک پڑتا ہے‘ الزام امریکہ پر رکھتا ہے۔ اسے اس میں امریکہ کی‘ کسی ناکسی سطع پر‘ سازش محسوس ہوتی ہے۔ دوسری طرف اگر امریکہ کا ویزا عام ہو جائے تو میرے سوا‘ میں اس لیے نہیں کہ بیمار اور بوڑھا ہو چکا ہوں‘ امریکہ کا ویزا حاصل کرنے کے لیے‘ مرنے مارنے پر اتر آئے گا۔ شاید اس لیے کہ کالیاں یا تقریبا کالیاں‘ دیکھ دیکھ کر‘ صاحب اخگر اکتا سے گئے ہیں۔ سنا ہے‘ وہاں لکیر کی فقیری نہیں کرنا پڑتی‘ بل کہ لکیر مضبوط صاحبان اخگر کی فقیری کرتی ہیں۔ ڈالر کماؤ چٹیاں اڑاؤ‘ نہ کوئی روک نہ کوئی ٹوک۔

مذہبی مین کا رویہ بھی‘ معاشرت سے الگ تر نہیں رہا۔
ایک مذہبی مین سے کسی بی بی نے کہا: مجھے کسی سے پیار ہو گیا ہے۔
جوابا مذہبی مین نے کہا: وہ کون جہنمی ہے۔
بی بی نے جواب دیا: آپ سے۔
مذہبی مین فورا بول اٹھا: چل جھوٹی۔

اسی قماش کا ایک اور لطیفہ معروف ہے۔ مذہبی مین بیٹھے ہوئے تھے۔ طے ہوا عورت کو دیکھنا بھی نہیں اور اس کی بات بھی نہیں ہو گی۔ کچھ ہی دیر بعد ایک مذہبی مین بولا لڑکی۔۔۔۔۔
سب ایک آواز میں پکار اٹھے کہاں ہے‘ کہاں ہے۔

مذہبی مین کے متعلق ایک اور کہاوت مشہور ہے۔
کسی بی بی نے پوچھا: اگر میں وزیر اعظم سے پیار کرنے لگوں تو
سیدھی دوزخ میں جاؤ گی۔
وزیر اعلی سے پیار کروں تو
تو بھی دوزخ ٹھکانہ ہو گا۔
اگر آپ سے
بڑی سیانی ہو‘ جنت جانے کا پروگرام ہے۔

چھوٹے والی روزانہ طعنہ دیتی تھی‘ نیچے سے کھاتا ہے۔ میں نے تنگ آ کر‘ دس اکتوبر ٢٠١٠ سے روٹی کھانا ہی چھوڑ دی۔ اب سوچتا ہوں‘ کتنی بڑی غلطی کی تھی۔ آدم علیہ اسلام نے‘ گندم کا دانہ کھایا‘ جنت بدر ہوئے۔ اگر میں روٹی نہ چھوڑتا تو شاید‘ میں بھی جہنم بدر ہو جاتا۔ روٹی بھی تو گندم سے ہی تیار ہوتی ہے۔ اگر گندم کا دانہ لکیر کا استعارہ ہے‘ تو یہ الگ بات ہے۔ اب اللہ ہی جانتا ہے‘ وہ دانہ گندم کا تھا یا اس سے مراد لکیر تھی۔

طاقت ہی‘ زندگی کا سب سے بڑا سچ رہا ہے۔ ابراہیم لودھی‘ کیسا تھا‘ کوئی نہیں جانتا۔ اس کا اور اس کی ماں کے ساتھ بابر نے کیا کیا‘ کوئی نہیں جانتا۔ بابر تاریخ میں ہیرو ہے۔ لوگ فخر سے‘ اپنے بچوں کے نام بابر رکھتے ہیں۔
بابر کا قول ہے: بابر عیش کوش کہ دنیا دوبارہ نیست۔ بابر نے خون سے گلی بازار رنگ دئے‘ کوئی نہیں جانتا‘ بابر فاتح ٹھہرا‘ اس لیے ہمارا ہیرو ہے۔

ہمایوں کے بھائی سازشیں کرتے رہے‘ وہ معاف کرتا رہا۔ پوتے نے‘ تخت و تاج کے لیے بھائی تو بھائی‘ ان کی الادیں بھی ذبح کر دیں۔ اپنی لاڈلی بیگم کا مقبرہ تاج محل‘ بنایا تاریخ میں زندہ ہے اور بڑا نام رکھتا ہے۔

تاریخ کے نبی قریب بادشاہ اورنگ زیب نے‘ بھائی تو بھائی‘ باپ کو بھی نہ بخشا۔ بہن جس نے مخبری کرکے‘ اس کی جان بچائی تھی‘ کو بھی قید کیے رکھا‘ کیوں‘ کوئی نہیں جانتا۔ تاریخ ہی نہ لکھنے دی۔ خانی خاں نے بھی چوری چھپے لکھی۔

ہندوستان مسلم ریاست نہ تھی۔ مسلمان محض چند فی صد تھے۔ اسلام کا ماما بن کر‘ سرمد جیسے بندہءخدا کو شہید کر دیا۔ اصل معاملہ کوئی اور تھا‘ جو آج تک کھل نہیں سکا۔ سوال پیدا ہوتا ہے‘ بہن کو کیوں نظر بند کیے رکھا۔ وہ قاضی اور جلاد نہ تھا‘ جو خود ہی فیصلہ کیا اور سرمد کو اپنے ہاتھوں سے‘ قتل کر دیا۔ مقتدرہ قوت تھا‘ تاریخ میں زندہ ہے۔

حسین ابن علی مفتوح تھے‘ زندہ ہیں اور اپنے لاکھوں دیوانے رکھتے ہیں۔
یزید ابن معاویہ کو جنتی اور حسین ابن علی کو باغی کہنے والے بھی موجود ہیں۔ حجت اللہ‘ اس کے رسول اور الامر کی اطاعت کو پیش کرتے ہیں۔ گویا دسترخوان پر ایک طرف کھیر‘ اس کے ساتھ حلوہ اور اس سے آگے گوبر رکھ دو۔ کون کھائے گا۔ کوئی دسترخوان پر بیٹھنا بھی پسند نہیں کرے گا۔ اس حساب سے‘ نمررد‘ شداد اور فرعون درست تھے۔

حیرت انگیز بات یہ کہ ٹیپو مفتوح ہے‘ لیکن بڑا نام رکھتا ہے۔ کیوں
اپنے تاج و تخت کے لیے لڑا تھا۔ کیوں زندہ ہے‘ بہت بڑا سوالیہ ہے۔

سوچتے جاؤ‘ دیکھتے جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھوں کے روبرو چیز سمجھ میں نہ آ سکے گی کیوں کہ زندگی بڑی پچیدہ اور الجھی ہوئی گھتی ہے‘ جسے سمجھنا آسان کام نہیں۔