All Pakistani Dramas Lists
Latest Episodes of Dramas - Latest Politics Shows - Latest Politics Discussions

Thread: شاعر اور غزل

      
   
  1. #1
    dr maqsood hasni is offline Expert Member
    Edit>
     
    Join Date
    May 2009
    Posts
    5,472
    Quoted
    13 Post(s)

    شاعر اور غزل




    شاعر اور غزل


    چاند کی کرنوں سے غزل کی بھیک مانگی
    اس نے کاسے میں دو بوندیں نچوڑ دیں
    کہ غزل آنکھوں کی ٹھنڈک ہو جائے
    سیپ نے مروارید دیئے
    کہ دل اس کا پرسکون ہو جائے
    قوس قزح نے سرخی بخشی
    کہ رخ مثل یاقوت ہو جائے
    طبلے کی تھاپ نے
    گھنگھرو کی جھنکار نے
    مایوس نہیں کیا
    نسیم سحر سے بھی دست سوال دراز کیا
    قبروں کے کتبوں سے بھی
    غزل کی بھیک مانگ کے لایا
    سورج سے تھوڑی حدت مانگ لی
    سیماب سے بےقراری لے لی
    لہر نے بغاوت دے دی
    گلاب کے پاس بھی گیا
    اس نے کاسے کو بوسہ دیا
    اور اپنی اک پنکھڑی رکھ دی
    خوش تھا کہ
    آج محنت رنگ لائے گی
    وہ مری ہو جائے گی
    دامن مرا خوشیوں سے بھر جائے گا
    غزل کے چہرے پر
    حسین سا عنوان لکھ دے گی
    خلوص کی طشتری میں رکھ کر
    جب غزل میں نے پیش کی
    جسارت پہ مری وہ بپھر گئی
    ضبط کی پٹڑی سے اتر گئی
    کاسے میں تھوک دیا
    بولی
    بھکاری! اپنا خون جگر نچوڑ کے لاؤ
    غزل سے زندگی کی خوش بو آئے
    راحتوں کے لیے
    لہو کی اک بوند کافی ہے
    پھر اس نے
    چھاتی سے جدا کرکے
    اپنی بچی مری گود میں رکھ دی
    ممتا کی باہوں میں غزل تھی
    ممتا کی نگاہوں میں غزل تھی
    بچی کے لبوں پر
    بچی کی انگلیوں میں
    بچی کی سانسوں میں
    مگر بچی تو سراپا غزل تھی
    میں مشاہدے میں ہی تھا کہ
    اس نے بچی مجھ سے لے لی
    مری آغوش میں شرمندگی رکھ دی
    درماندگی رکھ دی
    اپنی اور مانگے کی چیز میں
    کتنا فرق ہوتا ہے
    وہ لائق صد افتخار تھی
    پروقار تھی
    میں تنکے سے بھی حقیر تھا
    اس کا سر تنا ہوا تھا
    مرا سر جھکا ہوا تھا
    کہ غزل کے چہرے پر
    بھیک کا پیوند لگا ہوا تھا
    غزل کا بدن زیر عتاب تھا
    میں بھی تو ہار گیا تھا
    مری شاعری کی کائنات پر رعشہ تھا
    وہ مسکرا رہی تھی
    غزل سٹپٹا رہی تھی
    اجتہاد کا در وا ہوا
    روایت کا دیا بجھ گیا
    حقیقیت سےپردہ اٹھ گیا
    شاعر نہیں‘ میں تو بھکاری تھا
    خورشید ضعیف ہو گیا
    مہتاب زرد پڑ گیا
    گلاب مرجھا گیا
    طبلے کا پول کھل گیا
    جھنکار تھم گئی
    سمندر ندامت پی گئی
    کاسہ دو لخت ہوا
    جو جس کا تھا لے گیا
    ابلیس کرچیاں چننے لگا
    بھکاری مر گیا
    قبروں کو اپنا دیا مل گیا
    پھر شاعر جاگا
    ذات میں کھو گیا
    خامشی چھا گئی
    ذات میں انقلاب آ گیا
    اندر کا لاوا ابلنے لگا
    حد سے گزرنے لگا
    ابلیس کے قہقہوں کا سلسلہ رک گیا
    اب ذات تھی
    شاعر تھا
    آنکھوں میں لہو کی بوندیں
    ہاتھ میں قلم
    کاغذ پر جگر تھا

  2. #2
    nhacaiso1vn is offline Member
    Edit>
     
    Join Date
    Jul 2016
    Posts
    1
    Quoted
    0 Post(s)
    Quote Originally Posted by dr maqsood hasni View Post
    شاعر اور غزل چاند کی کرنوں سے غزل کی بھیک مانگی اس نے کاسے میں دو بوندیں نچوڑ دیں کہ غزل آنکھوں کی ٹھنڈک ہو جائے سیپ نے مروارید دیئے کہ دل اس کا پرسکون ہو جائے قوس قزح نے سرخی بخشی کہ رخ مثل یاقوت ہو جائے طبلے کی تھاپ نے گھنگھرو کی جھنکار نے مایوس نہیں کیا نسیم سحر سے بھی دست سوال دراز کیا قبروں کے کتبوں سے بھی غزل کی بھیک مانگ کے لایا سورج سے تھوڑی حدت مانگ لی سیماب سے بےقراری لے لی لہر نے بغاوت دے دی گلاب کے پاس بھی گیا اس نے کاسے کو بوسہ دیا اور اپنی اک پنکھڑی رکھ دی خوش تھا کہ آج محنت رنگ لائے گی وہ مری ہو جائے گی دامن مرا خوشیوں سے بھر جائے گا غزل کے چہرے پر حسین سا عنوان لکھ دے گی خلوص کی طشتری میں رکھ کر جب غزل میں نے پیش کی جسارت پہ مری وہ بپھر گئی ضبط کی پٹڑی سے اتر گئی کاسے میں تھوک دیا بولی بھکاری! اپنا خون جگر نچوڑ کے لاؤ غزل سے زندگی کی خوش بو آئے راحتوں کے لیے لہو کی اک بوند کافی ہے پھر اس نے چھاتی سے جدا کرکے اپنی بچی مری گود میں رکھ دی ممتا کی باہوں میں غزل تھی ممتا کی نگاہوں میں غزل تھی بچی کے لبوں پر بچی کی انگلیوں میں بچی کی سانسوں میں مگر بچی تو سراپا غزل تھی میں مشاہدے میں ہی تھا کہ اس نے بچی مجھ سے لے لی مری آغوش میں شرمندگی رکھ دی درماندگی رکھ دی اپنی اور مانگے کی چیز میں کتنا فرق ہوتا ہے وہ لائق صد افتخار تھی پروقار تھی میں تنکے سے بھی حقیر تھا اس کا سر تنا ہوا تھا مرا سر جھکا ہوا تھا کہ غزل کے چہرے پر بھیک کا پیوند لگا ہوا تھا غزل کا بدن زیر عتاب تھا میں بھی تو ہار گیا تھا مری شاعری کی کائنات پر رعشہ تھا وہ مسکرا رہی تھی غزل سٹپٹا رہی تھی اجتہاد کا در وا ہوا روایت کا دیا بجھ گیا حقیقیت سےپردہ اٹھ گیا شاعر نہیں‘ میں تو بھکاری تھا خورشید ضعیف ہو گیا مہتاب زرد پڑ گیا گلاب مرجھا گیا طبلے کا پول کھل گیا جھنکار تھم گئی سمندر ندامت پی گئی کاسہ دو لخت ہوا جو جس کا تھا لے گیا ابلیس کرچیاں چننے لگا بھکاری مر گیا قبروں کو اپنا دیا مل گیا پھر شاعر جاگا ذات میں کھو گیا خامشی چھا گئی ذات میں انقلاب آ گیا اندر کا لاوا ابلنے لگا حد سے گزرنے لگا ابلیس کے قہقہوں کا سلسلہ رک گیا اب ذات تھی شاعر تھا آنکھوں میں لہو کی بوندیں ہاتھ میں قلم کاغذ پر جگر تھا
    Chúc bro mua may bán đắt nhé

  3. #3
    dr maqsood hasni is offline Expert Member
    Edit>
     
    Join Date
    May 2009
    Posts
    5,472
    Quoted
    13 Post(s)

    Re: شاعر اور غزل

    • Chúc bro mua may bán đắt nhé

      yah zoban mairi samjh se bala tar hai is liay jawab na dainay par mazrat'kha hoon





  4. #4
    Christena421 is offline Junior Member
    Edit>
     
    Join Date
    May 2016
    Posts
    110
    Quoted
    1 Post(s)

    Re: شاعر اور غزل

    Heheeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeee mujai bhi smjh nahi aaie

      • Chúc bro mua may bán đắt nhé iski



Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  

Log in