چوتھے کی چوتھی

ہمارے گھر سے خالہ کا گھر کوئی بیس پچیس منٹ پیدل فاصلے کا رستہ تھا۔ دونوں گھروں کے مراسم بھی خوش گوار تھے۔ ہم ایک دوسرے کے ہاں بلا کسی ٹوک آتے جاتے رہتے تھے۔

دونوں گھروں کا ماحول عادات رویے طور و اطوار معاشی حالات ایک جیسے تھے۔ مثلا میری خالہ‘ خالو کی عزت نہیں کرتی تھی ہماری اماں بھی ابا کی دن میں دو چار بار بےعزتی ضرور کرتی تھی۔ ان کی معاشی حالت درمیانی تھی ہمارا گھرانہ بھی کھاتا پیتا نہ تھا۔ وہ تین بہنیں اور تین بھائی تھے جب کہ تعدادی اعتبار سے ہم بھی اتنے ہی تھے۔ جیا کا گھر میں چوتھا نمبر تھا میرا بھی چوتھا نمبر تھا۔ جیا کے ابا پرلے درجے کے جھوٹے تھے جب کہ سچ میرے ابا کے بھی قریب سے نہ گزرا تھا۔

خالہ دیوار کے اس پار کی ہمسائی سے دو دو گھنٹے کھڑی ہو کر باتیں کرتی تھی۔ میری ماں بھی یہ ہی طور رکھتی تھی۔ گھر میں آئی ہمسائی کے ساتھ گھنٹوں باتیں کر لینے کے بعد بھی اماں دروازے پر آ کر اس سے دیر تک مکالمہ کرتی خالہ بھی اس عادت سے دور نہ تھی۔ کہیں جا رہے ہوتے رستہ میں اگر کوئی مل جاتی اماں اسے گلے ملتی جیسے صدیوں بعد ملاقات ہوئی ہو اور پھر وہاں کھڑے ہو کر دیر تک ان کی بیت بازی ہوتی اور ہم سب ان کی باتوں کے اختتام کا انتظار کرتے۔ خالہ بھی اس ملنساری کے طور سے بہرہ ور تھی۔

بجلی کے جانے آنے کے اوقات ایک سے تھے۔ بجلی خراب ہو جاتی تو بلاوصولی نہ ادھر نہ ادھر بجلی والے آتے تھے۔

سردیوں میں دونوں طرف گیس کا کرفیو لگ جاتا۔ عمومی اطوار ایک طرف میرے اور جیا کے شخصی اطوار بھی ایک سے تھے مثلا بھوک وہ برداشت نہ کرتی تھی بھوک کے معاملہ میں میں بھی بڑا کم زور واقع ہوا تھا۔ لگ پیس اسے خوش آتے تھے لگ پیس میری بھی کم زوری تھی۔ کسی کی جیب سے کھانا ہمیں اچھا لگتا تھا۔ جیا سیر سپاٹے کی بڑی شوقین تھی پھرنا ٹرنا مجھے بھی اچھا لگتا تھا۔ جیا بڑی کام چور تھی اس معاملے میں میں اس سے پیچھے نہ تھا۔

عادات اطوار ایک سے ہونے کی وجہ سے میرا خیال تھا کہ ہماری جوڑی خوب جمے گی۔ خالہ منتیں ترلے کروانے کی عادی تھی اسی لیے اڑی ہوئی تھی۔ میری ماں بھی اس کی بری بہن تھی۔ ہر دوسرے ان کے ہاں چلی جاتی۔ خوب بول بلارا کرکے آتی اور ہر بار دوبارہ سے نہ آنے کا کہہ کر چلی آتی۔ آخر خالہ کو ہتھیار ڈالنا پڑے اور ہماری شادی ہو ہی گئی۔

اتنا قریب ہو کر بھی میں جیا کے باطن کو نہ پڑھ سکا‘ شادی کے بعد جیا‘ جیا وہ نہ رہی۔ حد درجہ کی ہٹ دھرم تھی۔ میری ماں کا بول بلارے میں چار سو ڈنکا بجتا تھا لیکن جیا کے سامنے بھیڑ ہو گئی۔ کسکتی بھی نہ تھی۔ ہمہ وقت کی قربت کے بعد معلوم پڑا کہ ہمارا ظاہر ایک سا کنورپن میں ضرور تھا لیکن شادی کے بعد باطن تو باطن‘ ظاہر میں بھی زمین آسمان کا فرق تھا۔

وہ کھانے‘ سونے اور لڑنے میں اپنی مثال آپ تھی۔ ہر اچھی چیز ماں کے گھر بھجوا دیتی اور پھر ہے نا کی گردان پڑھنا شروع کر دیتی۔ ہم میں سے کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ پہلی کا تذکرہ بھی کر پاتا۔ وہ ہی چیز دوبارہ سے لانا پڑتی۔


جنسی معاملات میں بھی کچھ کم نہ تھی۔ اسے تو لوہے کا مرد چاہیے تھا۔ ہمارا ظاہر باطن تو ایک ثابت نہ ہوا ہاں البتہ بچوں کے حوالہ سے ہم اپنی ماؤں پر ضرور گئے۔ ہمارے بھی گنتی میں چھے بچے ہوئے۔ مماثلت میں ایک ان ہونی ضرور ہوئی۔ ہمارا چوتھا اپنی خالہ کی بیٹی کا دیوانہ ہو گیا۔ میرے سمجھانے پر بھی نہ سمجھا۔ وہ مجھے کھپتا خیال کرتا تھا۔ اس کی ماں نے میری ماں کا سا کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ آخر ان کی شادی ہو گئی۔ ہاں البتہ جیا اور چوتھے کی چوتھی میں یہ فرق باقی رہا کہ وہ دس دن بعد ہی ہم سے الگ ہو گئے۔ جیا اپنی خالہ کی بےعزتی کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا خیال بھی رکھتی تھی۔ زندگی بھر ساس سسر کے ہاں ہی رہی۔ یہ تو آدھا مہینہ بھی ہمارے ساتھ نہ رہے۔








ہمارے گھر سے خالہ کا گھر کوئی بیس پچیس منٹ پیدل فاصلے کا رستہ تھا۔ دونوں گھروں کے مراسم بھی خوش گوار تھے۔ ہم ایک دوسرے کے ہاں بلا کسی ٹوک آتے جاتے رہتے تھے۔

دونوں گھروں کا ماحول عادات رویے طور و اطوار معاشی حالات ایک جیسے تھے۔ مثلا میری خالہ‘ خالو کی عزت نہیں کرتی تھی ہماری اماں بھی ابا کی دن میں دو چار بار بےعزتی ضرور کرتی تھی۔ ان کی معاشی حالت درمیانی تھی ہمارا گھرانہ بھی کھاتا پیتا نہ تھا۔ وہ تین بہنیں اور تین بھائی تھے جب کہ تعدادی اعتبار سے ہم بھی اتنے ہی تھے۔ جیا کا گھر میں چوتھا نمبر تھا میرا بھی چوتھا نمبر تھا۔ جیا کے ابا پرلے درجے کے جھوٹے تھے جب کہ سچ میرے ابا کے بھی قریب سے نہ گزرا تھا۔

خالہ دیوار کے اس پار کی ہمسائی سے دو دو گھنٹے کھڑی ہو کر باتیں کرتی تھی۔ میری ماں بھی یہ ہی طور رکھتی تھی۔ گھر میں آئی ہمسائی کے ساتھ گھنٹوں باتیں کر لینے کے بعد بھی اماں دروازے پر آ کر اس سے دیر تک مکالمہ کرتی خالہ بھی اس عادت سے دور نہ تھی۔ کہیں جا رہے ہوتے رستہ میں اگر کوئی مل جاتی اماں اسے گلے ملتی جیسے صدیوں بعد ملاقات ہوئی ہو اور پھر وہاں کھڑے ہو کر دیر تک ان کی بیت بازی ہوتی اور ہم سب ان کی باتوں کے اختتام کا انتظار کرتے۔ خالہ بھی اس ملنساری کے طور سے بہرہ ور تھی۔

بجلی کے جانے آنے کے اوقات ایک سے تھے۔ بجلی خراب ہو جاتی تو بلاوصولی نہ ادھر نہ ادھر بجلی والے آتے تھے۔

سردیوں میں دونوں طرف گیس کا کرفیو لگ جاتا۔ عمومی اطوار ایک طرف میرے اور جیا کے شخصی اطوار بھی ایک سے تھے مثلا بھوک وہ برداشت نہ کرتی تھی بھوک کے معاملہ میں میں بھی بڑا کم زور واقع ہوا تھا۔ لگ پیس اسے خوش آتے تھے لگ پیس میری بھی کم زوری تھی۔ کسی کی جیب سے کھانا ہمیں اچھا لگتا تھا۔ جیا سیر سپاٹے کی بڑی شوقین تھی پھرنا ٹرنا مجھے بھی اچھا لگتا تھا۔ جیا بڑی کام چور تھی اس معاملے میں میں اس سے پیچھے نہ تھا۔

عادات اطوار ایک سے ہونے کی وجہ سے میرا خیال تھا کہ ہماری جوڑی خوب جمے گی۔ خالہ منتیں ترلے کروانے کی عادی تھی اسی لیے اڑی ہوئی تھی۔ میری ماں بھی اس کی بری بہن تھی۔ ہر دوسرے ان کے ہاں چلی جاتی۔ خوب بول بلارا کرکے آتی اور ہر بار دوبارہ سے نہ آنے کا کہہ کر چلی آتی۔ آخر خالہ کو ہتھیار ڈالنا پڑے اور ہماری شادی ہو ہی گئی۔

اتنا قریب ہو کر بھی میں جیا کے باطن کو نہ پڑھ سکا‘ شادی کے بعد جیا‘ جیا وہ نہ رہی۔ حد درجہ کی ہٹ دھرم تھی۔ میری ماں کا بول بلارے میں چار سو ڈنکا بجتا تھا لیکن جیا کے سامنے بھیڑ ہو گئی۔ کسکتی بھی نہ تھی۔ ہمہ وقت کی قربت کے بعد معلوم پڑا کہ ہمارا ظاہر ایک سا کنورپن میں ضرور تھا لیکن شادی کے بعد باطن تو باطن‘ ظاہر میں بھی زمین آسمان کا فرق تھا۔

وہ کھانے‘ سونے اور لڑنے میں اپنی مثال آپ تھی۔ ہر اچھی چیز ماں کے گھر بھجوا دیتی اور پھر ہے نا کی گردان پڑھنا شروع کر دیتی۔ ہم میں سے کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ پہلی کا تذکرہ بھی کر پاتا۔ وہ ہی چیز دوبارہ سے لانا پڑتی۔


جنسی معاملات میں بھی کچھ کم نہ تھی۔ اسے تو لوہے کا مرد چاہیے تھا۔ ہمارا ظاہر باطن تو ایک ثابت نہ ہوا ہاں البتہ بچوں کے حوالہ سے ہم اپنی ماؤں پر ضرور گئے۔ ہمارے بھی گنتی میں چھے بچے ہوئے۔ مماثلت میں ایک ان ہونی ضرور ہوئی۔ ہمارا چوتھا اپنی خالہ کی بیٹی کا دیوانہ ہو گیا۔ میرے سمجھانے پر بھی نہ سمجھا۔ وہ مجھے کھپتا خیال کرتا تھا۔ اس کی ماں نے میری ماں کا سا کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ آخر ان کی شادی ہو گئی۔ ہاں البتہ جیا اور چوتھے کی چوتھی میں یہ فرق باقی رہا کہ وہ دس دن بعد ہی ہم سے الگ ہو گئے۔ جیا اپنی خالہ کی بےعزتی کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا خیال بھی رکھتی تھی۔ زندگی بھر ساس سسر کے ہاں ہی رہی۔ یہ تو آدھا مہینہ بھی ہمارے ساتھ نہ رہے۔