متحدہ اپوزیشن کا احتجاج: ’یہ الیکشن تمام دھاندلی زدہ الیکشنز کی ماں ہے‘




پاکستان میں حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر پانچ جماعتوں پر مشتمل اتحاد کے رہنماؤں اور ان جماعتوں کے کارکنوں نے بدھ کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کیا ہے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے ان انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے ان کے نتائج کو ماننے سے انکار کیا ہے اور پارلیمانی انکوائری کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔


پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ہونے والے انتخابات صاف، شفاف نہیں تھے۔


ان کا کہنا تھا کہ 'یہ الیکشن تمام دھاندلی زدہ الیکشنز کی ماں ہے اور پاکستان کی تمام پارٹیاں ان انتخابات کو نہیں مانتیں اور تمام مظاہرین سراپا احتجاج ہیں۔ دنیا کو سمجھ آگئی ہے کہ یہ فری اینڈ فئیر الیکشن نہیں تھے۔'


اسی احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عوام پر دھاندلی زدہ وزیراعظم مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف ان کی جماعت کی جدوجہد جاری رہے گی۔


احسن اقبال نے کہا کہ ’پاکستان مسلم لیگ ن انتقامی سیاست کو مسترد کرتی ہے اور نیب کے ذریعے ہمارے خلاف جو انتقامی کارروائی جاری ہے ہم اسے بھی مسترد کرتے ہیں۔‘


ان کا کہنا تھا کہ ’ہم عوام کے ووٹ کی عزت کو بحال کریں گے‘۔


پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم دھاندلی کی قیادت کو بے نقاب کریں گے۔


انھوں نے کہا کہ سکولوں اور کچرے کے ڈھیروں سے بیلٹ پیر برآمد ہو رہے ہیں اور وہ اپنے مقصد کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔


مسلم لیگ نواز کے سینیئر رہنما راجہ ظفر الحق نے بھی کہا کہ ان کی پارٹی ان الیکشن کو مسترد کرتی ہے اور ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔


'اگر الیکشن میں اسی طرح دھاندلی کی گئی تو یہ قوم کا نقصان ہوگا اور جن لوگوں نے یہ زیادتی کی ہے ان کو بھی اس بات کا احساس ہوگا اور اس سے پوری قوم متاثر ہوگی۔'


انھوں نے اعادہ کیا کہ وہ پوری دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی 22 کروڑ عوام ان انتخابات کو مسترد کرتی ہے۔


'جن لوگوں نے ووٹ کو عزت نہیں دی انھوں نے پاکستان کا نقصان کیا ہے، انھوں نے سب اداروں کا نقصان کیا ہے۔'


جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ان انتخابات میں عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔


واضح رہے کہ اس احتجاج میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف شرکت نہ کر سکے اور اس بارے میں پارٹی کی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا کہ وہ موسم کی خرابی کی وجہ سے اسلام آباد سفر کرنے سے قاصر رہے۔


خیال رہے کہ 25 جولائی کو ہونے والے ان انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف پارلیمان میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے تاہم اسے حکومت سازی کے لیے اپنے طور پر سادہ اکثریت حاصل نہیں اور وہ اتحادیوں سے مل کر حکومت بنانے کی تیاریوں میں ہے۔


پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی، مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل، عوامی نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی نے تحریکِ انصاف کی مجوزہ حکومت کے خلاف متحدہ اپوزیشن اتحاد بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔


احتجاجی مظاہرے کے پیش نظر ریڈ زون میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور شاہراہ دستور کو بند کر کے الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر خاردار تاریں لگا دی گئیں۔


واضح رہے کہ 28 جولائی کو جماعت مسلم لیگ نون کے حالیہ انتخابات میں شکست کے بعد بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی جماعتوں نے 25 جولائی کے انتخابات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔


اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں جمعیت علما اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ’تمام سیاسی جماعتیں پورے اتفاق رائے کے ساتھ منعقدہ انتخابات کو مسترد کرتی ہیں، کیونکہ یہ عوام کا مینڈیٹ نہیں بلکہ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ہے۔‘


ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اُن (پاکستان تحریک انصاف) کی اکثریت کے دعوے کو تسلیم نہیں کرتے، اسے چیلنج کرتے ہیں‘۔


جمیعت علما اسلام (ف) خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سڑکوں پر
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بدھ کو جمعیت علما اسلام (ف) کی اپیل پر احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور مختلف مقامات پر شہروں کے درمیان اہم شاہراہوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔


مولانا ا فضل الرحمان کے اپنے حلقہ انتخاب ڈیرہ اسماعیل خان خیبر پختونخوا کو پنجاب سے ملانے والی شاہرہ کو قریشی موڑ کے قریب بلاک کر دیا گیا تھا۔


نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اگرچہ مظاہرے میں کوئی زیادہ لوگ شامل نہیں تھے لیکن سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کیا گیا تھا۔


اسی طرح درہ پیزو کے مقام پر بھی سڑک پر ٹائر جلا کر ڈیرہ اسماعیل خان کا خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع سے رابطہ منقطع کر دیا گیا۔ درہ پیزو میں ٹانک اور لکی مروت سے بھی جماعت کے کارکن پہنچے تھے۔


کرک میں انڈس ہائی وے کو ٹائر جلا کر بند کر دیا گیا تھا۔ اس مظاہرے میں مقامی لوگوں کے علاوہ زیادہ تر دینی مدارس کے طالب علم شریک تھے۔ اس کے علاوہ بنوں اور دیگر اضلاع میں بھی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔


دوسری جانب بلوچستان میں بھی تمام ہائی ویز کو جمیعت العلما اسلام (ف) کے کارکنوں نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف بطور احتجاج بند کیا۔


نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق جے یو آئی (ف) کی جانب سے صبح آٹھ بجے سے دن دو بجے تک ہائی ویز کو بند کرنے کی کال دی گئی تھی۔


اس کال کے باعث بلوچستان بھر میں کوئٹہ چمن، کوئٹہ ژوب، کوئٹہ کراچی، کوئٹہ سبی اور کوئٹہ تفتان ہائی ویز کو جے یو آئی کے کارکنوں نے بند کر دیا۔


تاہم بعض علاقوں میں انتظامیہ نے کارروائی کرکے دو بجے سے پہلے ہائی ویز سے رکاوٹوں کو ہٹا دیا۔ مختلف علاقوں میں ہائی ویز کی بندش سے لوگوں کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔


https://www.bbc.com/urdu/pakistan-45107642