سچی بات یہ ہے

کچھ میسر آ جانے کی صورت میں انسان تکبر کی کرسی پر بیٹھتا ہے تو اسے اپنے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کا کہا اور کیا ہی درست ہے‘ اس کے سوا کچھ بھی درست نہیں۔ ہمارے ہاں ایک صاحب درجہ چہارم کے ملازم تھے۔ اتفاق سے یا پھر معقول جھڑنے کی وجہ سے‘ جونیئر کلرک کی کرسی پر جا بیٹھے۔ پھر کیا تھا وہ‘ وہ نہ رہے۔ جی حضور کرنے والا منہ‘ سائلوں کو جھڑکنے کے لیے مخصوص ہو گیا۔ چہرے پر تمکنت نمودار ہو گئی۔ کوئی ایک بھی نہ رہا جو اسے اس کی اوقات یاد دلاتا۔ ایک بار بڑا کھانا ہوا درجہ چہارم اور بڑے کلرک کے سوا‘ کھان پین کے لیے برابر کی جگہ دی گئی۔ اس نے احتجاجا کھا پی لینے کے بعد اس کا بائی کاٹ کیا کہ درجہ چہارم کے ملازمین اور کلریکل سٹاف کو ایک جگہ بٹھانا‘ کلرکوں کی کھلی توہین کے مترادف ہے۔ کچھ نے بعد میں اس کا ساتھ دیا اور کچھ نے زبانی کلامی اس کے کہے اور کیے کو درست قرار دیا۔ یہ معاملہ کئی دنوں تک موضوع بحث رہا۔
اس کے برعکس‘ فقر کا یا دنیا کا درجہ میسر آجانے پر‘ عجز اور انکسار کے کوچے میں بسیرا کرنے والوں کو‘ احمق قرار دیا جاتا ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ آتے وقتوں میں انہیں سلام و پرنام کیا جاتا ہے۔ فقیر پر یہ کھل جاتا ہے کہ حکم اور ملکیت تو اللہ ہی کو زیبا ہے۔ اس کے پاس جو کچھ بھی ہے اس کا نہیں‘ اللہ کا ہی ہے۔ اقتداری انکسار والے لوگ انسان کی قدر کرنے لگتے ہیں۔ وہ اپنے اقتدار کو زوال پذیر سمجھتے ہیں اور ہے بھی۔ وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ ان ہی کے لیے اقتداری کرسی پر بیٹھا ہے لہذا ان سے اچھا سلوک ہونا چاہیے۔
ہمارے ہاں ایک صاحب ہوا کرتے تھے۔ عجب نیچر کے مالک تھے۔ اقتداری کرسی ملنے سے پہلے بھی عجیب طور رکھتے تھے۔ درجہ چہارم کے ملازمین سے بھی عجز اور انکساری سے ملتے تھے۔ قریبا ہم پلہ اور بڑے ان سے نالاں رہتے تھے۔ بات تو حماقت والی تھی۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے۔ گپ شپ لگاتے اور دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرتے۔ اگر کوئی درجہ چہارم کا ملازم بھی ان کے گھر آ جاتا تو پروٹوکول دیتے۔ دروازے تک الودع کہنے چلے آتے۔ تقریبا برابر یا کسی بڑے سے ملتے‘ عجز انکسار تو ہوتا ہی لیکن نارمل سا ہوتا۔ یہ ہی خیال کیا جانے لگا کہ کمی کمین تھے‘ عہدہ مل گیا لیکن چھوٹےپن کا طور عادت کا حصہ رہا۔ تب ہی تو چھوٹے لوگوں کے ساتھ یوں گھل جاتے ہیں کہ وہ ان ہی میں سے ہیں۔
وقت گزر گیا۔ وہ ریٹائر ہو گئے۔ سابقہ افسر تو تھے ہی‘ جو ملتا احترام اور عزت سے ملتا۔ ایک روز میں ان کے ہاں گیا‘ بڑی محبت اور تپاک سے ملے۔ میں نے جھجھکتے ہوئے کہا: جناب آپ کے اس طور سے سب بڑے نالاں تھے کہ آپ افسر شاہی کے ماتھے کا کلنک ہیں۔ آخر آپ چھوٹے لوگوں سے اس طرح کیوں ملتے ہیں۔ مسکرائے اور کہنے لگے: بڑے تکبر کی دنیا کے باسی ہیں۔ اپنا کیا اور کہا ہی درست سجھتے ہیں۔ انہوں نے کیا اچھا کرنا اور کہنا ہے۔ دعائیں اور اچھی کرنی ان کے نصیب میں کہاں۔ میں ان کا اور ان کی شخصیت کا ستیاناس مار کر رکھ دیتی ہے۔ جن کو آپ چھوٹا کہہ رہے ہیں یہ کب چھوٹے ہیں۔ مانتا ہوں بدحالی ان پر گرفت کیے رکھتی ہے۔ اعلی اور بڑھیا کھانا میسر نہیں آتا۔ ممکن ہے ان میں سے کوئی ماں کی دعا لے کر نکلا ہو۔ بیٹی کی دعا سے لبریز مسکراہٹ میسر آ گئی ہو۔ کسی ضرورت مند کی حاجت پوری کر آیا ہو۔ رستے سے کیلے کا چھلکا ہی ہٹا دیا ہو۔ کسی ایسے سے مصافحہ کر آیا ہو جو ماں کی دعا لے کر آیا ہو یا کوئی اچھی کرنی اس کے مقدر کا حصہ بن گئی ہو۔ بڑے تو ذات کے خول سے باہر نہیں آتے۔ وہ کسی کے کیا کام آئیں گے۔ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہیں۔ اچھی کے لوگ ختم نہیں ہوئے۔ اگر اچھے ختم ہو گئے تو قیامت آ جائے گی۔
میں دیر تک اس کا اس قسم کا لیکچر سنتا رہا۔ مجھے کبھی وہ خبطی اور کبھی صوفی لگتا۔ بڑھاپا بھی تو مت مار کر رکھ دیتا ہے۔ کیا کریں‘ اس کا موجودہ اور سابقہ عملی طور‘ اس کے برعکس نہیں رہا۔ سچی بات یہ ہے کہ مجھے اچھا بھی لگا۔ شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ میں خود درجہ چہارم سے تعلق رکھتا ہوں۔ جو سہی‘ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ وہ ہم چھوٹوں میں‘ آج بھی نئے اور پرانوں میں مقبول ہے۔ بڑوں کے رویوں اور اطوار سے نالاں سب ہی اس کو باطور حوالہ کوڈ کرتے ہیں۔ حالاں کہ اس کو کرسی چھوڑے ایک عرصہ گزر گیا ہے۔