حکومت سمجھ گئی‘ اصغر خان کیس ایک پنگا ہے






نجانے اصغر خان کیس کا پیچھا ہم کیوں نہیں چھوڑتے۔ اُس وقت ایسا کیا انوکھا کام ہواکہ جس کی ہماری تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ سچ پوچھیں تو جو الزام اُس وقت کی اسٹیبلشمنٹ پر لگا وہ مبینہ طور پر پاکستان میں بار بار دہرایا گیا اور شاید ہی ہماری تاریخ میں کوئی انتخابات ایسے گزرے ہوں جن پر اثر انداز ہونے یا من پسند نتائج حاصل کرنے کے الزامات نہ لگے ہوں۔ یہ تو جنرل (ر) اسلم بیگ اور جنرل (ر) اسد درانی کی مہربانی ہے کہ انہوں نے تسلیم کیا کہ اُس وقت کے انتخابات میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے اور پی پی پی کو ہرانے کے لیے (ان کے موقف کے مطابق) مختلف سیاسی رہنمائوں اور سیاسی جماعتوں کو پیسہ دیا گیا۔ اصغر خان کیس کا تعلق 1990ء کے الیکشن سے تھا۔ اس کے بعد ہونے والے الیکشنز کے حوالے سے جو عام فہم تاثر پایا جاتا ہے وہ اُس سے کافی سنگین اور کہیں زیادہ ہے، جس کا ہم اصغر خان کیس میں رونا روتے ہیں۔ 1990ء کے انتخابات میں اگر یہ کام ہوا تو کچھ چھپ چھپا کے ہوتا رہا مگر بعد میں جس طرح کی خبریں ملتی رہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ ہم بحیثیت قوم یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ہماری تاریخ میں بس ایک اصغر خان کیس ہی ایسا تھا جس میں ایک مخصوص پارٹی کو ہرانے کے لیے من پسند سیا ستد ا نوں اور سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کر کے مبینہ طور پر اُن پر پیسہ خرچ کیا گیا۔ ہاں! اس کیس کی اہمیت اس لحاظ سے ضرور ہے کہ سیاستدانوں کو تو قصور، بے قصور پھانسی بھی دی گئی، اُنہیں جلا وطن بھی کیا گیا، جیلوں میں بھی ڈالا گیا لیکن ایک ایسے کیس میں جہاں دو سابق جرنیلوں نے اپنا جرم تسلیم کیا، وہاں سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود اُن کے خلاف‘ کسی حکومت کو جرات نہ ہوئی کہ ایکشن لیا جائے۔


2012-13ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں اصغر خان کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے حکومت کو دونوں سابق جنرلز کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جبکہ ایف آئی اے کو ہدایت دی گئی کہ انکوائری کرے کہ کیا واقعی اصغر خان کیس میں شامل سیاستدانوں نے پیسہ وصو ل کیا یا نہیں۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے فوری بعد پی پی پی کی حکومت نے تو ہاتھ اٹھا لیے اور کہا کہ وہ اس معاملہ میں کچھ کارروائی نہیں کریں گے بلکہ یہ واضح کیا کہ دونوں ریٹائرڈ جرنیلوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا۔ پی پی پی کے ایک وزیر صاحب نے تو پاکستان کی زمینی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا تھا کہ ہم سکت نہیں رکھتے کہ ریٹائرڈ جرنیلوں کے خلاف کوئی کارروائی کریں۔ بعد میں اقتدار حاصل کرنے والی (ن) لیگ نے شروع شروع میں تو کہا کہ اصغر خان کیس کو حتمی نتیجے تک پہنچایا جائے گا لیکن بعد میں مسلم لیگ (ن) کو بھی سمجھ آ گئی کہ اُس کی اصل حیثیت کیا ہے۔ موجودہ تحریک انصاف کی حکومت نے سمجھداری کا کام کیا اور یہ فیصلہ اپنے اقتدار کے شروع کے چند مہینوں میں کر لیا کہ اس کیس سے ہی جان چھڑائی جائے۔ کوئی پنگا لیا تو حکومت کو پتا ہے کہ اس کا کیا حال ہو گا۔ ریٹائرڈ جنرلز چاہے وہ جنرل پرویز مشرف ہوں، جنرل اسلم بیگ، جنرل درانی ہوں یا کوئی دوسرا سابق جنرل، جس کو نیب کی کسی انکوائری کا سامنا ہو، وہ سب احتساب سے بالاتر ہیں۔ اُن کے متعلق سیاسی بیان کی حد تک تو بات ٹھیک ہے لیکن اُنہیں عدالتوں میں گھسیٹنا، ہتھکڑیاں پہنانا یا جیل میں ڈالنے کا محض خواب ہی دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ حقیقت میں نہ ایسا ممکن ہے اور نہ ہی اسے ممکن بنانے کے لیے کوئی کوشش کی جانی چاہئے کیونکہ اس کا سیدھا سیدھا مطلب ہو گا سیاسی خودکشی اور اپنی حکومت کا خاتمہ۔ یہ سبق عمران خان کی حکومت اور نیب کے چیئرمین نے پاکستان کی تاریخ سے حاصل کیا ہے اور اسی لیے اس پر من و عن عمل کر کے کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ویسے جو لوگ اصغر خان کیس کو چند افراد کی جزا و سزا کے تناظر میں دیکھتے ہیں، اُن سے میری درخواست ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ضرور پڑھیں کیونکہ اگر فیصلے پر عملد درآمد ہو جائے تو پھر ہمیں وہ سب کچھ بار بار نہ دیکھنا پڑے جس کا ہم اصغر کیس میں رونا روتے رہتے ہیں۔ اس کیس میں انٹیلی جنس ایجنسیوں میں سیاسی سیل کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ کوئی فرد یا افراد، اپنے ذاتی و سیاسی مقاصد یا پسند و ناپسندیدگی کی بنیاد پر قومی یا انٹیلی جنس اداروں کو اپنی مرضی کے انتخابی نتائج کے حصول، حکومتوں کو بنانے، گرانے اور سیاسی جماعتوں کو جوڑنے توڑنے کے لیے کبھی نہ استعمال کر سکیں کیونکہ یہ ادارے ملک و قوم کے تحفظ اور سلامتی کے لیے بنائے گئے ہیں۔حرفِ آخر: ایک سافٹ ڈرنک کے ٹی وی اشتہار میں انتہائی نازیبا، بازاری بلکہ گھٹیا زبان استعمال کی گئی ہے جس پر میری اطلاعات کے مطابق پیمرا نے معمول کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ میرا مطالبہ ہے کہ اس سنگین خلاف ورزی پر متعلقہ ذمہ داران پر مکمل بین لگایا جائے تاکہ آئندہ ایسی غلطی دہرائی نہ جا سکے۔




https://jang.com.pk/news/592702-ansa...umn-31-12-2018